52

بے روزگاری

بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک معاشین کا خیال تھا کہ عام بے روزگاری ناممکنات میں سے ہے ۔ کلاسکی معاشین اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے رہے کہ ملک میں روزگارکی سطح کا تعین کس طرح ہوتا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے چند جگہوں پر بے روز گاری کے امکانات کو تسلیم کیا ہے ، مگر اس خوش فہمی کے ساتھ کہ عام کسادبازاری اور نتیجے کے طور پر عام بے روزگاری ایک ناممکن واقعہ ہے ۔ 
جے بی سے J B Say ایک فرانسیسی مفکر تھا ۔ اس کے مطابق عام کساد بازاری اور نتیجے کے طور پر عام بے روزگاری ایک ناممکن ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ کہ رسد خود اپنی طلب کی تخلیق کرتی ہے ۔ مگر وہ یہ تسلیم کرتا تھا کہ کسی ایک صنعت میں غلط فیصلے کے نتیجے میں وقتی طور پر رسد و طلب بگڑ سکتی ہے ، مگر عام کساد بازاری ناممکن ہے ۔ اس نظریہ کو بیشتر انگریز معاشین نے قبول کیا چنانچہ جیمزاسٹوارٹ مل نے لکھا کہ پیدا وار اور صرف بقائے باہمی کی نسبت ہے اور پیداوار ہی طلب کی اصل و جہ ہے ۔ اس کا دعویٰ تھا کہ سالانہ پیداوار خواہ کچھ بھی ہو وہ سالانہ طلب سے تجاور کبھی نہیں ہو سکتی ہے ۔ حتیٰ کہ ریکاڈو نے مالتھس سے خط وکتابت کے دوران یہ تسلیم کیا کہ ایک ملک کی حد تک رسدکبھی طلب سے تجاور نہیں ہوسکتی ہے ‘ ۔ 
جان اسٹوراٹ مل جو جیمزاسٹوارٹ مل کا لڑکا تھا ، اس نے تردید کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ وسائل ادائیگی کی وجہ سے یک وقت تمام اشیاء کی پیدا وار کم رہ جائے ؟ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ غالباً نہیں جانتے کہ اشیاء کی ادائیگی کا وسیلہ کیا ہے ؟ یہ وسیلہ بذات خود اشیاء ہیں ۔ ہر فرد کے پاس دوسرے افراد کی پیدا وار کو خریدنے کا جو ذریعہ ہوتا ہے ، وہ اشیاء ہی تو ہیں جو اس کے قبضے میں ہوتی ہیں اور تمام فرد بذات خود خریدار ہیں ۔ اگر ہم اچانک ملک کی قوت پیدا وار کو دوگنا کرسکیں تو ہم بازار میں اشیاء کی قیمت دوگنی کردیں گے اور اسی لمحے قوت خرید دوگنی ہوجائے گی ، کیوں کہ ہر فرد دوگنی رسد اور طلب کا حامل ہوگا اور ہر فرد دوگنی خریداری کرسکے گا ۔ کیوں کہ ہر فرد کے پاس تبادلہ میں دینے کو (اشیاء)کی دوگنی مقدار ہو گی ۔ یہ سوچنا لغو ہے کہ تمام اشیاء کی قدر میں تخفیف ہوجائے گی اور نتیجے کے طور ہر آجر کو کم معاوضہ ملے گا ۔ بعد کی تحریروں میں اس سے زیادہ صریحی دعویٰ تو نہیںکئے گئے ، مگریہ خیال کہ طلب کل رسد سے کم ہو سکتی ہے اور عام کسادبازاری کا سبب بن سکتی ہے ۔ 
جان اسٹوڑاٹ مل اور اس جیسے دوسرے معاشین کے نزدیک کسی چیز (الف) کی طلب وہی چیز ہے جو دوسری اشیاء (ب) اور (ج)کی رسد ۔ لہذا تمام اشیاء کی کل طلب تمام کل رسد کے برابر ہیں ۔ چنانچہ فاضل پیداوار کا امکان خار ج از بحث ہے ۔ اگر چہ اس نے یہ اعتراف کیا کہ عارضی طور پر ان کی طلب رسد تجاوز ہو سکتی ہے ، لیکن مگر ان سب کی مشترکہ رسد ان کی مشترکہ طلب سے تجاوز ہونا ایک ناممکن ہے ۔ حتیٰ کہ کسی ایک چیز کی فاضل پیداوار کلاسکی ماہرین کے خیال میں محض اس لیے واقع ہو سکتی ہے کہ اس کی قیمت بڑھ گئی ہو ۔ یعنی اس شے کی متوازن قیمت سے اونچی قیمت پر اس کی رسد طلب سے تجاوز ہونے کا امکان ہے ۔ لیکن جیسے ہی اس شے کی قیمت متوازن ہو فاضل رسد کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔ 
ان کلاسیکی معاشین کا خیال تھا کہ اگر کسی شے کی قیمت دوسری اشیاء کی نسبت زیادہ ہو اور اس کی رسد فاضل مقدار میں ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ متعلقہ میں مصارف پیداوار کم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ان حالات میں ان کی تجویز تھی کہ ایسی صنعت میں جو کسادبازاری کا شکار ہو وہاں کے مزدوروں کی اجرتیںگٹھادی جائیں ۔ اس طرح متعلقہ شے کی قیمت کم ہوجائے گی ۔ کیوں کہ جزوی تجزیہ میں فرض کیا جاتا ہے کہ کسادبازاری کا شکارہونے والی صنعت معیشت کا ایک معمولی جز ہے ۔ اس لیے اجرتوں میں تخفیف سے سابقہ حالت برقرار رہتی ہے اور طلب میں اضافہ ہو جانے سے رسد کے ہم آہنگ ہوجاتی ہے ۔ یہ تجزیہ اس حد تک تو صحیح ہے کہ واحد صنعت کی کساد بازاری کا مسئلہ ہو ، لیکن کلاسکی معاشین نے تمام معیشت پر اس کااطلاق کیا اور ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور فاضل پیداوار کے مسئلہ کا حل اجرتوں میں عام تخفیف ہے ۔ 
لیکن عام کساد بازاری کے مسائل کا مطالعہ جزوی توازن کے تجزیئے کی مدد سے کرنا موزوں نہیں ہے اور اجرتوں میں عام تخفیف عملی طور پر ایک غیر صحت مندانہ اقدام ہے ۔ عام بے روزگاری کے دور میں اجرتوں میں عام کمی طلب کو متاشر کئے بغیر نہیں رہ سکتی ہے ۔ کیوں کہ طلب جزوی طور پر اجرتوں کو خرچ کرنے پر مبنی ہوتی ہے ۔ لہذا اجرتوں میں کمی سے عام بیروزگاری ہوجائے گی ۔ اجرتوں میں کمی کرنا خود ایک مسئلہ ہے ، کیوںکہ زر کے متعلق یہ خیال پایاجاتا ہے کہ زر اشیاء کی نسبت ایک معین قوت رکھتا ہے اور عام خیال یہ ہے کہ روپیہ روپیہ ہے ۔ گویا زر کی قوت مستحکم ہے ۔ زر کے اس غلط تصور کی بناء پر اگر عام بے روزگاری کی وجہ واقعی یہ ہے کہ اجرتیں زیادہ ہیں تو زیاہ بہتر ہوگا کہ ان کی اجرتوں میں حقیقی تخفیف کی جائے ۔ بقول کینز کے مزدور اجرتوں میں تخفیف ہونے پر لڑ سکتے ہیں ، لیکن ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے مزدوری سے انکار کردیں ۔ یہ ضرور ہوتا ہے کہ مصارف زندگی کے اضافہ ہونے سے مزدوروں میں بے چینی پھیل جاتی ہے ۔ لیکن زر کی قدر میں کمی ہونے سے جو بے چینی پھیلے گی اس کے اثرات کم سنگین ہوں گے ۔ کیوںکہ مزدور یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ان کی اجرتوں میں کمی ہورہی ہے ، لیکن اس کی تخفیف کا شکار تمام لوگ ہورہے ہیں ، اس لئے وہ زیادہ فکرمند نہیں ہوتے ہیں ۔ ایک معیشت میں روزگار کا انحصار صرف اور سرمایاکاری پر خرچ کی جانے والی مقدار پر خرچ کی جانے والی مقدار زر پر ہوتا ہے ۔ ان صنعتوں کے آجروں کو اشیاء کے عوض زر حاصل ہوگا تبھی وہ محنت کو طلب کریں گے ۔ 
	1931ء میں لارڈ جے ایم کینز نے قدیم معاشین کی خوش فہمی کی تردید کی اور یہ ثابت کیا کہ عام بے روزگاری منطقی اعتبار سے ناممکن نہیں ہے اور توازن کی مختلف حالتوں میں مختلف درجے کی بے روزگاری کا وجود ہوتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ روزگار کامل کے مقاصد کے لیے سرمایاکاری بڑھانے کی ضرورت بھی ہوتی ہے وہ اس کے سرکاری سرمایا کاری تعمیر عامہ میں کرنے کی سفارش کرتا ہے ۔ کیوں کہ نجی ادارے نفع کے چکر میں پڑ کر ثانوی سرمایاکاری میں یکساں شرح کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں ۔ اس لیے کینز اس کے لئے رفع عامہ کے شعبے میں سرمایاکاری کی سفارش کرتا ہے ۔ اس نے ثابت کیا کہ اس علاوہ یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ سرمایا کاری قومی دولت میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے اور ملک میں مکمل روزگار کے مواقع پیدا کر دیتی ہے ۔ 
	کینز کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کے زمانے میں جب حکومت سرمایا کاری پر روپیہ لگاتی ہے تو وہ مزدور جنہیں روزگار ملتا ہے اپنی آمدنی سے اشیائے ضرورت پر خرچ کرتے ہیں ، اس لیے اشیائے ضروریات کی طلب بڑھتی ہے ۔ تاجر کارخانوں کو آڈر دیتے ہیں ۔ کارخانہ دار اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ، اس لیے وہ اپنی مجموعی پیدا وار میں اضافہ کردیتے ہیں ۔ اس مقصد کی خا طر وہ زیادہ مزدور لگادیتے ہیں اور زیادہ مشینری کا آڈر دیتے ہیں ۔ مشینیں تیار کرنے والے کارخانے بھی زیادہ مشینیں بنانے لگتے ہیں ۔ جس کے لیے انہیں زیادہ مزدور لگانے پڑتے ہیں اس طرح روزگار میں ہر طرف اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور نتیجتاً قومی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ 
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)



اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں