71

تارن

کاکڑ بن غرغشت بن قیس کے چھ لڑکے تھے ۔ آخری یعنی چھٹا لڑکا تارن تھا ۔ کہتے ہیں کہ یہ لڑکا سیّد تھا ۔ شیر محمد گنڈاپور نے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ البتہ اس کا ذکر کا کڑ کے قبیلوں میں ذکر کیا ہے ۔ 

راوایات کے مطابق تارن طاہر آب شناس یا ابو طاہر کی اولاد ہیں جو سلطان محمود غزنوی کا ہم عصر تھا اور بخارا سے سبی کی تحصیل شاہرگ میں خوست کے مقام پر آباد ہوا تھا ۔ لیکن یہاں اپنا خاندان چھوڑ کر بخارا واپس چلا گیا اور وہیں فوت ہوا ۔ یہاں بہت سے نکات قابل غور ہیں مثلاً نعمت اللہ ہروی نے ان کے سیّد ہونے پر شبہ ظاہر کیا اور شیر محمد گنڈا پور نے سرے سے ہی ایسا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں اس علاقے میں نہ اسلام آیا تھا اور نہ ہی یہاں مسلمان آباد تھے ۔ ظاہر ہے طاہر کی اولاد اور اس کا ہم عصر ہونا بعد کی پیداوار ہیں ۔

اس میں شک نہیں ہے یہ مقامی باشندے ہیں اور کلمہ ٹارن کا ابتدائی لفظ ٹار ہے ۔ اس کے بارے میں جیمز ٹاڈ کہتا کہ اس کلمہ کو اپنانے والے جٹ ہیں اور شہر پوری جہاں ٹار کے درخت ہیں وہ ٹاڑ کے نام سے مشہور ہو گیا ہے ۔ ٹار یا ٹال لکڑی کو کہتے ہیں اور آپ نے لکڑی کی ٹال سنا ہوگا اور یہ عام ہے اور جہاں لکڑی فروخت ہوتی ہے اسے ٹال کہا جاتا ہے ۔ ٹار ٹال کا قدیمی تلفظ ہے کیوں کہ آریائی زبانوں میں ابتدامیں ’ل‘ استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کی جگہ ’ر‘ استعمال ہوتا تھا اور یہ یقنی جٹ ہیں کیوں کہ آریاؤں خاص کر جاٹ عموماً مظاہر فظرت اور جانورں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے اور یہ مقامی باشندے ہیں جنہوں نے بعد میں سیّد کا لبادہ اوڑھ لیا ۔


کوٹی سیّد
ایک شیر خوار معصوم النسب سیّد بچے کو شیخ بٹنی کے نواسے جس کا نام ابراہیم تھا پالا تھا ۔ وہ جب سن بلوغت کو پہنچ گیا تو اس کی شادی اپنے خاندان میں کردی ۔ اس کے دو لڑکے تھے اور یہ سیّد کوٹی قوم کہلاتی ہے اور طبقہ بٹنی میں داخل ہے ۔ نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ یہ ابراہیم بن اشپون بن بٹن کے ایک لے پالک جو سیّد تھا اور اس کا نام کوٹی تھا ۔
بٹن قیس کا لڑکا تھا اور ابراہیم اس کا پوتا یا نواسہ تھا ۔ اس طرح یہ عرصہ دوسو سال سے زیادہ نہیں بنتا ہے ۔ اس وقت تاریخی جوالے سے یہاں اسلام آیا ہی نہیں تھا اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے پہلے یہاں سیّد آگئے اور اپنی اولاد کو کسی کا لے پالک بنایا گیا ہو ۔ یہ بھی غالباً قدیم زمانے میں کوئی پچاری یا کوئی تقدس کے حامل خاندان تھا اور مسلمان ہونے کے بعد بھی یہ بدستور تقدس کے حامل رہے ۔ بعد ازں ان کے تقدس کے پیش نظر انہیں سیّد تصور کرلیا گیا ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں