59

تبت میں دریائے سندھ

کیلاش کے قریب سنگی کباب سے دریائے سندھ کا سفر شروع ہوتا ہے تو یہاں دور دور تک چاروں طرف بھورے ٹیلے اور سفید پہاڑ آسمانوں کو چھو رہے ہوتے ہیں ۔ درمیان میں دریائے سندھ نیلے اور اٹھلے پھیلاؤ کے ساتھ بہہ رہا ہوتا ہے ۔ ایک بدھ خانقاء کی سنہری چھتیں مٹی کے چند گھروندوں کے درمیان اپنی نوکیں نکالی کھڑی ہوئی ہے ۔ میدان میں شوخ گھاس پر بھیڑ بکریاں اور گول خیمہ نظر آرہے ہوتے ہیں ۔ اس کا ایک دھارا جو جنوبی سرچشمہ ہے ۔ کیلاش کے جنوبی نشیب کے کنارے کنارے بہتی ہے اور گارٹک Gartol اور گیاتیما کے سامنے جو مغربی تبت کے صوبے کے دارلحکومت ہیں گزرتی ہے اور دوسری یعنی شمالی شاخ جو اس سلسلے کے شمال میں سے نکلتی ہے میلوں تک ان مقامات میں بہتی ہے جہاں سونا نکلتا ہے اور ان میں تہوک جالنگ Jalung سب سے زیادہ مشہور ہے ۔ پھر اپنی جنوبی بہن کے ساتھ مل کر اور گلجیٹ کے قریب سے گزرتی ہے ۔ ان بلائی وادیوں میں دریائے سندھ کا پہلا معاون دریا گارتنگ ملتا ہے ۔ گارتنگ دریا سندھ کے برابر ہی ہے اور ایک کھلی وادی جگہ بہتا ہوا آتا ہے ۔ جس کے کنارے مغربی تبت کے صوبہ گارتنگ کا دالحکومت گارتنگ واقع ہے ۔ جب کہ دریائے سندھ اپنے منبع کی وجہ سے پہاڑوں میں چکر لگانے پر مجبور ہے ۔ یہاں دونوں دریا مل یا گارتنگ سندھ میں ارتصال کے بعد دریائے سندھ دس ہزار فٹ کی بلندی پر بہتا ہے اور سفر کرتا ہوا لداخ کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے ۔

یہاں کا نظارا ناقابل فراموش ہے ۔ سندھ کے اٹھلے پانی کے اطراف میں ہلکے پیلے میدان ہیں ۔ جن میں موسم بہار کی سبزہ بکھرا ہوا ہے اور پس منظر میں پہاڑوں کی سفید چوٹیاں سر نکالے کھڑی ہوئی ہیں ۔ یہاں دریا سندھ کا رخ آہستہ آہستہ شمال مغرب کی طرف سے لداخ کا رخ کرتا ہے ۔ یہاں تاشی گانگ جو تبت کا آخری گائوں ہے ۔ یہاں پہلے پتھریلے راستہ پر دعائیہ جھنڈے اور مقبرے بنے ہوئے ۔ بے تراشیدہ پتھر اور لکڑی کے شہتیروں کے بنے مکانات دریائے سندھ کے ساتھ بنی ایک خانقاہ کے پس منظر میں دب جاتا ہے اور دیکھنے والوں صرف یہ خانقاہ ہی نظر آتی ہے ۔ یہاں تیرتی بطخیں اور کبھی کبھی لومڑی بھی نظر آتی ہے ۔

دریائے سندھ کے اس راستے پر ایسے گاؤں کم ہیں جو کہ سارا سال آباد رہتے ہیں ۔ یہ ایک دوسرے سے پانچ میل سے پچیس میل کے فاصلے پر واقع ہیں ۔ یہ غیر تراشہ پتھروں اور لکڑیوں کی مدد سے بنے ہوئے اور دیکھنے میں پس مظر کا ایک ہی حصہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ یہ دیہات عموماً دریائے سندھ کی معاون ندیوں کے کنارے زمین کے چھوٹے چھوٹے قابل کاشت ٹکروں پر آباد ہیں ۔ یہ دیہات یہاں سے گزرنے والے تاجروں کو خوراک ، رہاہش اور ان کے جانوروں کو چارہ بھی فراہم کرتے تھے ۔ ان کی ادائیگی کچھ رقم یا کوئی چیز دے کر کی جاتی تھی ۔ یہ دیہات منڈیوں کا کردار بھی ادا کرتے تھے ۔ جہاں ہندوستان ، وسط ایشاء کے تاجر ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے اور اشیائے تجارت کا تبادلہ کرتے تھے ۔ اگرچہ اب تجارتی طور و طریقوں میں بہت تبدیلی واقع ہوگئی ہے ۔ لیکن آج بھی یہاں قدیم طرز پر تبادلہ ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اس طرح سفر کی تکلیف اور اجازت ناموں کا مسلہ پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ سنگی کباب (دریائے سندھ) چل کر سطح مرتفع تبت کے مغرب میں واقع بلند و بالا وادیوں میں سفر کرتا ہوا شمال مغرب پھر مغرب کا رخ کرتا ہے اور اس نقشے میں دیکھیں تو اس کی شکل وہاں درانتی کا طرح یا ہلال کی شکل بناتا ہے ۔ لہذا اس دریا ابتدائی سفر مغربی تبت میں ہوتا ہے ۔ ان وادیوں میں قیمتی دھاتوں اور تیل کے امکانات بہت زیادہ ہیں ۔ دریائے سندھ مغربی تبت کو چراہگاہیں مہیا کرتا ہوا کشمیر کا رخ کرتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں