تثلث 67

تثلث

حضرت عیسیٰ ؑنے کسی نے نئے مذہب کی بنیاد نہیں رکھی تھی اور ان کی تعلیمات یہودیت کا تسلسل تھیں ۔ عیسایت کو حضرت عیسیؑ کی زندگی میں یہودیوں کا ایک فرقہ سمجھا جاتا رہا اور عرصہ تک عیسیٰؑ کی تعلیمات کچھ لوگوں تک محدود رہی ۔ عیسایت نے عروج اس وقت تک حاصل نہ ہوا جب تک اس نے نئے عقائد نہیں اپنا لیے ۔

 تثلث کا عقیدہ جو قدیم زمانے میں مشرقی وسطیٰ بت پرستوں کا مقبول ترین عقیدہ تھا ۔ یہ عقیدہ سب سے پہلے مصر میں پیدا ہوا اور اس عقیدے کی مقبولیت مشرقی وسطیٰ اور وہاں سے یہ یونان و روم پہنچا اور وہاں بھی اسے بہت مقبولیت ہوئی ۔ اس عقدے کا مختصر احوال یہ ہے کہ افزائیش کا دیوتا جو ایک کنواری کے بطن سے پیدا تھا ۔ اس کو اس کا بعض روایتوں میں بھائی ، بعض میں حاسد دیوتا جو موت کا دیوتا ہے مار دیتا ہے ۔ اس بہن جو اس کی بیوی بھی ہے اس کی موت پر بین کرتی ہے ۔ ادھر اس دیوتا کی موت کی وجہ سے دنیا میں پیدائش کا عمل رک جاتا ہے ، ہر طرف تاریکی اور مایوسی پھیل جاتی ہے اور لوگ دیوتاؤں کو قربانی دینا چھوڑ دیے ۔ اس لیے سب دیوتا مل کر دیوتاؤں کے سردار کے پاس جاتے ہیں اور اس داد و فریاد کرتے ہیں ۔ افزئش کے دیوتا کو مارنے والا دیوتا موت کا دیوتا نہایت طاقت ور ہوتا ۔ اس لیے دیوتاؤں کا سردار بھی اس سے گھبراتا ہے ۔ مگر دیوتاؤں کے مجبور کرنے پر وہ موت کے دیوتا کے پاس جاکر اسے اس پر راضی کرلیتا ہے کہ افزائش کے دیوتا کو چھ ماہ کے لیے زمین پر اور چھ ماہ پاتال میں رہے گا ۔ یعنیٰ چھ ماہ زندہ اور چھ ماہ مرے گا ۔ اس ترکیب میں جزویات الگ ہیں تاہم ان کا عقیدہ تثلث پر مبنیٰ تھا ۔

جب پال نے عیسائیت اختیار کی اس نے عیسائیت کی تنظیم نو کی اور یہودیت کی تعلیمات کو چھوڑ کر بت پرستوں کے عقائد مثلاً عیسیٰ کی کنواری سے پیدائش ، خدا کا بیٹا بنانا اور اس کی الوہیت ، اس کی موت اور دوبار دائمی زندگی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس نے آدم کے گناہ اپنے سر لیے ہیں ۔ عقادئد کی تبدیلی کو برستوں میں مقبولیت حاصل ہوئی اور کثرت سے عیسایت کو پرست قوموں نے مقبولیت ہوئی ۔  

 رفتہ رفتہ عیسائی مذہب کو اس کے مطابق پورا ڈھال دیا گیا ۔ حالانکہ انجیلوں میں تفصیلات اس سے مختلف تھیں ۔ مثلاً انجیلوں میں عیسیٰؑ کے والد کا نام یوسف بتایا گیا اور اس کے بہن بھائی بھی تھے مگر ان سے انکار کیا گیا اور اس کے برعکس عیسیٰ کی پیدائش کنواری عورت سے بتائی گئی ۔ عیسیٰؑ کی پیدا گرمی کے موسم ہوئی تھی ۔ جیسا کہ انجیل میں آیا ہے کہ چراوہے کھلے میدانوں میں تھے ۔ جب کے دسمبر کے مہینے میں اس علاقہ میں شدید سردی ہوتی ہے اور اس موسم میں وہاں چرواہے کھلے میدانوں میں نہیں رہ سکتے ہیں ۔ مگر مقامی عقیدے کے مطابق ان کی پیدائش کا دن پچیس دسمبر مقرر کیا گیا جو کہ سورج کی پیدائیش کا دن ہے اور بت پرستوں کے عقیدے کے مطابق اس دن نیا سورج پیدا ہوتا ہے ۔ بت پرست قوموں میں یہ دن بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس دن خوشی و موج اور مستی کا تہوار منایا جاتا تھا ۔ اس طرح اس کا قتل ، اس کا ماتم کیا جانا اور یہاں تک اس کا دوبارہ زندہ ہوجاتا ۔ عیسائیوں نے بھی عیسیٰؑ کا صلیب پر چڑھنا اور مر کر دوبارہ زندہ ہونا ۔ دوبارہ زندہ ہونا اصل میں بہار کی آمد کا اعلان تھا اور یہ تہوار تمام بت پرست قوموں منایا جاتا تھا ۔ خود ہمارے یہاں بھی یہ بسنت اور ایران میں نوبہار صورت منایا جاتا ہے اور برصغیر میں بسنت و ہولی کی شکل میں منایا جاتا ۔ عیسائی بھی یہ تہوار عین بہار یعنی اپریل میں مناتے ہیں ۔ 

اس طرح تثلث کا قدیمی عقیدہ کو اپنایا ۔ جس کی ترکیب میں باپ ، بیٹا اور کہیں اختوم یعنی باپ پیٹا ملنے کے بعد جو صورت وجود میں آئی اور کہیں ماں یعنی مریم کی صورت میں تثلث وجود میں آتی ہے ۔ اس تثلث کی مختلف شکلیں ہیں اور عیسایوں میں جتنے بھی فرقہ پیدا ہوئے وہ اس کی تعبیر اور شکل کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوئے اور کوئی فرقہ بھی فرقہ عیسائیت میں تثلث سے ہت کر وجود میں نہیں آیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں