62

تجارتی چکر


بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک معاشی ماہرین تجارتی چکروں Trade Cycle کے قائل تھے ۔ ان کے مطابق تجارتی اور معاشی حالات ایک جیسے نہیں رہتے ہیں ، کبھی تو خوش حالی کا دور دورہ ہوتا اور تجارت زوروں پر ہوتی اور سرمایاکاری سے زیادہ منافع کمایا جاتا ۔ لیکن کبھی اس کے برعکس ملک معاشی بحران کا شکار ہو جاتا ہے ۔ تجارت تبا ہ، بے روزگاری میں اضافہ اور سرمایا داری میں کمی ہوجاتی ۔ اس طرح معاشی خوشحالی کے بعد معاشی بحران اور تجارت میں سرد بازاری کے بعد گرم بازاری کے دور آتے رہتے ہیں ۔ اس کو تجارتی چکر Trade Cycle کہا جاتا تھا ۔ تجارتی چکر عام طور پر آٹھ یا دس سال عرصے میںپورے ہوتے تھے ۔ 
کینزKeynes نے تجارتی چکروں کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ ’’تجارتی چکر Trade Cycle ان ادوار پر مشتمل ہوتا ہے ۔ خوشحالی تجارت ، چڑھتی ہوئی قیمتیں اور کم بے روزگاری ، پھر سرد بازاری گرتی ہوئی قیمتیں اور بہت زیاہ بے روز گاری‘‘۔ 
تجارتی چکروں Trade Cycleکے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں ، جو درج ذیل میں ۔
مالیاتی نظریہ = یہ نظریہ ہارٹ رے Hart Ray نے پیش کیا تھا ۔ اس کے مطابق تجارتی چکر Trade Cycle محض مالیاتی مسئلہ ہے ۔ زر کی مقدار میں تبدیلی ہی معاشی حالات میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے ۔ جب زر کی طلب زیادہ ہوگی ، اشیاء کی طلب کم ہوجائے گی ، اس لئے پیدا وار کی مقدار گھٹادی جائے گی ۔ قیمتوں کے کم ہونے کی وجہ سے منافع کی شرح بھی کم ہوجائے گی اور لوگ سرمایا کاری کی رفتار کم کر دیں گے اور لوگ مستقبل سے مایوس ہو جائیں گے ۔ اس کے برعکس جب کاروبار میں منافع کے مواقع نظر آتے ہیں تو زر کی رسد بڑھتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ روپیہ کاروبارمیںلگاتے ہیں ۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے منافع کی شرح بڑھ جاتی ہے اور اس طرح گرم بازاری کا دور دورہ ہوجاتا ہے ۔ چونکہ سردبازاری کے دوران بینک قرضوں کی مقدار کم کردیتے ہیں اور گرم بازاری کے دوران قرضوںمیں خاطر خواہ اضافہ کردیتے ہیں ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ تجارتی چکر Trade Cycle بینکوں کا اصل سبب بینکوں کا بدلتا ہوا روئیہ ہے ۔ 
بعض اوقات معاشین نے بینکوں ٍکے افزائش زر اختیا رات پر اعتراض کیاہے اور تجارتی بینکوں کو قومیانے کی پر زور تائید کی ہے ۔ کیوں کہ حکومت افزائش زر کرتی ہے تو وہ عوام کے فائدے کی عرض سے کرتی ہے ۔ لیکن بینک جب افزائش زر کرتا ہے تو ان کے پیش نظر اپنا مفاد ہوتا ہے ۔  
بولڈنگ Boulding اپنی کتاب ’’معاشی تجزیہ ‘‘Economic میں لکھتا ہے کہ درحقیقت یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ گرم بازاری وہ زمانہ ہے جب گھٹیا اور ناقص اسکیموں پر پیسہ لگایا جاتا ہے اور بحران وہ زمانہ ہے جب یہ ناقص اسکیمیں فاش ہوجاتی ہیں ۔ دلائل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ بینکی قرضے کا اختراع ناقص کاروبار کے اجرا کا ذمہ دار ہیں ۔ کیوں کہ بینک ان کی مدت میں توسیع کرتا رہتا ہے ۔ جس میں ناقص کاروبار کو غیر محسوس طورپر جار ی رکھنے میں مدد ملتی ہے ۔
اس کا خیال تھا کہ بینکوں کے افزائش زر یا سود پر روپیہ چلانے کے اختیار نے بہت سی خرابیوں کو جنم دیاہے ۔ سود کی آمدنی کے لالچ میں آکر نرخوں میں معمولی چڑھاؤ کے زمانے میں بینک سرمایا کاروں کو روپیہ قرض دیدتے ہیں ۔ یہ روپیہ سرمایاکاری کے لئے نہیں بلکہ تجارتی منافع اندوزی کی خاطر قرض لیا جاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ ذخیرہ اندوزی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور قیمتوں میں شدید اضافہ ہو جا تا ہے ۔ جب بینکوں کو احساس ہوتا ہے کہ قیمتیں خوب چڑھ گئی ہیں یا یہ کہ انہوں نے بہت روپیہ قرض پر اٹھادیاہے تو وہ سرمایا کاروں سے روپیہ کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اس لئے سرمایا کار عجلت میں اپنا مال فروخت کرنے لگتے ہیں ۔ انجام کار اشیاء کی قیمتوں میں شدید کمی رونما ہو جاتی ہے اور اس طرح اشیاء کی طلب میں کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ کسادبازاری اور گرم بازاری کے مدو جزر جس کو تجارتی اصطلاح میں تجارتی چکر کہا جاتا ہے کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں تاوقتیکہ افزائش زر یا سود پر چلانے کا اختیار بینکوں کے ہاتھ میں ہے ۔ بعض اوقات یہ کسادبازاری اس قدر شدید اور سرمایاکار کی توقعات اس قدر افسردہ ہوجاتی ہیں کہ انسانیت مجبورأٔ ایک عالم گیر جنگ میں کود پڑتی ہے ۔ تاکہ سرمایاکاری کے لئے ایک روشن اور نفع آور پہلو پیدا ہوجائے ۔ 
افزائش زر کے اختیار کو بعض اوقات بینکوں نے ناجائز استعمال کیا ان کے بندھے ہوئے گاہک ہوتے ہیں ، جنہیں قرض حاصل کرنے کے لئے لا محدود سہولتیں ہوتی ہیں ۔ بینک کے یہ پٹھو تجارتی اشیاء کی منڈیوں میں سٹہ کی منڈیوں کی بنیاد ڈال دیتے ہیں اور اس طرح معاشی رد و بدل ا صولوں کے مطابق قیمتوں کو متعین نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ یہی طاقتور گروہ سیاست میں دخیل ہوجاتے ہیں اور اس طرح ملک کی سیاسی فضا کو گندہ کردیتے ہیں ۔
نفسیاتی نظریہ - اس نظریہ کے مطابق تجارتی چکر Trade Cycle لوگوں کے رجحانات کے مطابق پیدا ہوتا ہے ۔ سرمایاکار جب مستقبل سے پر امید ہوتا ہے تو وہ اپنے کاروبار میں توسیع کردیتا ہے ۔ اشیاء کی پیدا وار بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کی اجرتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خوشحالی کا دور دورہ ہوجاتا ہے ۔ لیکن اس کے بعد ایک ایسی حد آتی ہے کہ کاروبار اتنا وسیع ہوجاتا ہے کہ منافع کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں ۔ لوگوں میں مایوسی پھیل جاتی ہے اور وہ مستقبل کے امکانات سے مایوس ہوجاتے ہیں ، اس طرح ملک میں دوبارہ سرد بازاری کا دورہ ہوجاتا ہے ۔           
زائد سرمایا کاری کا نظریہ ۔ بعض معاشین کا خیال ہے کہ تجارتی چکرTrade Cycle زائد سرمایاکاری کی وجہ سے آتے ہیں ۔ کیوں کہ اشیاء کی پیداوار ضرورت کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور ان کو نفع آور قیمتوں پر فروخت کرنا ممکن نہیں رہتا ہے ۔ اس لئے پیداوار گھٹادی جاتی ہے مزدوروں کی تعداد میں کمی کر دی جاتی ہے ۔ اس طرح بے روزگاری بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور صنعتیں سردبازاری کا شکار ہوجاتی ہیں ۔  
کم تر خرچ کا نظریہ ۔ ہابسن Habsan کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زائد رقم بچالی جاتی ہے اور بہت کم اشیا پر صرف کی جا تی ہے ۔ لوگ چونکہ اپنی آمدنیوں کا بیشتر حصہ پس انداز کرلیتے ہیں ، اس لئے اشیاء کی طلب کم ہوجاتی ہے ۔ اس طرح سرمایہ کاری کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے اور معیشت سرد بازاری کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے ۔
موسمی حالات یا فصلوں کا نظریہ ۔ آب و ہوا میں تبدیلی اورفصلوں کی مقدار میں کمی وبیشی کو بھی تجارتی چکروں Trade Cycleکا سبب بتایا جاتا ہے ۔ جس سال موسم بہتر رہے اور فصلیں اچھی ہوجائیں تو کاشت کار کی آمدنیاں بڑھ جاتی ہیں اور اس طرح اشیاکی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے ، کاروبار میں منافع کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں اور اشیاء کی پیداوار بڑھ جاتی ہے ۔ ملک میں خوشحا لی کا دور دورہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے برعکس جب موسمی حالات ناموافق ہوں اورفصلیں اچھی نہ ہوں تو پوری معیشت اس کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اسے سورج کے دھبوں کا نظریہ بھی کہا جاتاہے ۔ 
کینزKeynes  کا نظریہ ۔ اس نظریہ کی رو سے تجارتی چکر Trade Cycle پیدا ہونے کی وجہ سرمایا کی استعداد مختتم میں تغیرات کا پیدا ہونا اور بچتوںاور سرمایا کاری کے درمیان فرق ہونا ہے ۔ گرم بازاری کے دوران سرمایا کاری کی استعداد مختتم بڑھ جاتی ہے اور سرمایا کاری کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ، اس لئے قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ لیکن یہ حالات ہمیشہ قائم نہیں رہتے ہیں ۔ کچھ عرصہ کے بعد اشیائے سرمایا کی طلب کم ہوجانے کی وجہ سے سرمایاکی استعداد کم ہوجاتی ہے اور بچتیں سرمایاکاری سے بڑھ جاتی ہیں ۔ منافع کی شرح کم ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہوجاتی ہیں اور ملک پھر سرد بازاری کاشکار ہوجاتا ہے ۔  
جدید نظریہ ۔ اس نظریہ کو پرفیسر ہکس Pro Hwkes نے پیش کیا ہے ۔ اس نظریہ میں ضارب Multiplier اور اسراع Lastcy کی وجہ سے جو تغیرات رونما ہوتے ہیں ان کو واضح کیا ہے ۔ اس کے مطابق جب سرمایا کاری میں اضافہ ہوتا ہے تو ضارب Multiplier کی وجہ سے قومی آمدنی میں اضافہ کئی گنا زیادہ کی نسبت سے ہوتا ہے اور اس کے بعد قومی آمدنی میں اضافہ کی وجہ سے جب اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہیں تو اسراع Lastcy کے مطابق سرمایا کاری Investment میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس طرح قومی آمدنی بہت حد تک بڑھ جاتی ہے ۔            
اس طرح جب سرمایا کاری کم ہونے لگتی ہے تو قومی آمدنی میںبہت زیادہ کمی ہوجاتی ہے ، اس طرح تجارتی چکر Trade Cycleکے پیدا ہونے کی بڑی وجہ سرمایاکاری میں کمی و بیشی اور ضارب Malty Pler و اسراع Lastcy کا اشتراک عمل ہے ۔
پروفیسر ہکس Pro Hwkesنے ثابت کیا ہے کہ کسی ملک کی قومی آمدنی ایک حد تک بڑھ سکتی ہے اور جب کسی ملک کے ذرائع کو پوری طرح استعمال کیا جانے لگتا ہے تو آمدنی میں مزید اضافہ ممکن نہیں رہتا ہے ۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک تو آمدنی کامل سطح پر قائم رہتی ہے ، لیکن پھر گرنے لگتی ہے ۔ کیوںکہ سرمایاکاری کم ہونا شروع ہو جاتی ہے مگر ضارب Multiplier اور اسراع Lastcy کے زیر اثر ایک حد تک قومی آمدنی کم ہو سکتی ہے ۔ اب اگر کسی وجہ سے سرمایا کاری میں دوبارہ اضافہ ہوجاتا ہے تو یہ دوبارہ قومی روزگار کی طرف گامزن ہوجاتی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی تغیرات اور قومی اتار چڑھاؤ ضارب Multiplier اور اسراع Lastcy کے اشتراک عمل کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں ۔
تجارتی چکروں Trade Cycleکی روک تھام کیلئے جو اقدامات کئے جاتے ہیں ان کا دارو مدار اس کے اسباب پر ہوتا ہے ۔ بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ ان حالات پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا ۔ مثلاً موسمی حالات کی وجہ سے فصل کا خراب ہونا ۔ اگر تجارتی چکرTrade Cycle اشیاء کی طلب اور رسد میں عدم توازن کی وجہ سے ہو تو مرکزی بینک بازار میں زر کی رسد گھٹاتا یا بڑھاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں