50

تدفین

آریاؤں میں موت کے بعد دوسری زندگی کا تصور نہ تھا مگر اس کے ساتھ دنیا میں کیے گئے اعمال کا صلہ بھی وابستہ تھا ۔ نیک لوگ باپوں کی دنیا میں جائیں گے اور برے لوگ مٹی کے گھروں میں جائیں گے جس پر وارن دیوتا کا راج تھا ۔ یعنی برے حال میں ہوں گے ۔ اگر اچھے لوگ اپنے باپوں کے پاس ہوں گے ۔ اگرچہ ویدوں کے زمانے میں آرواگون کا ذکر نہیں ملتا ہے لیکن کہیں کہیں مبہم اشارے ملتے ہیں کہ مرنے والے نے کسی پودے یا درخت میں دوبارہ جنم لیا ۔  
رگ وید کے بھجنوں میں اس عہد کی ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے ۔ ان میں ایک اہم ترین منزل موت ہے ۔ کیوں کہ ہم بظاہر اسی کے لیے دنیا میں آئے ہیں ۔ موت کے متعلق عقائد اور رسومات اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ اسی سے قوم کے اعلیٰ یا ادنی ہونے کا فیصلہ یعنی ان میں مردوں کا کیا اعزاز ہوتا ہے ؟ مردے کی لاش کے ساتھ وہ کیا سلوک کرتے اور کن رسوم کے ساتھ وہ لاش کو دفن کرتے ہیں ؟ اگر اس معیار کو دیکھا جائے تجہیر و تکفین کی بہت کم اقوام آریوں کا مقابلہ کرسکتیں ہیں اور انہیں وید میں بیان کیا گیا ہے ۔ رگ وید کی دسویں جلد میں کئی ایسے بھجن ملتے ۔ اگرچہ یہ منڈل (جلد) بعد کے زمانہ کی ہے مگر ان بھجنوں کا خیال نہایت قدیم ہے ۔ کیوں کہ مابعدالموت کے متعلق ہر قوم کے تخیلات نہایت قدیم ہوتے ہیں ۔ تجہر و تکفین کے ان بھجنوں پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سپت سندھو (پنجاب) کے آریا اور ان کے اخلاف زندگی سے محبت رکھتے تھے اور آرزو رکھتے تھے کہ ان کی اولاد کی صدیوں زندہ رہے ۔ گو وہ مردوں کا احترام کرتے تھے اور انہیں محبت سے یاد کرتے تھے ۔ مگر وہ موت سے ڈرتے نہیں تھے اور یاس و ناامیدی کے ساتھ مردوں کا ماتم نہ کرتے تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے والے اپنے آبا و اجداد اور بزرگوں کے ساتھ خوشی و خرمی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کے آنے کے منتظر رہتے ہیں ۔ آریوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگنی مردوں کو اپنے آتشیں پردوں میں یاما کی مملکت میں لے جاتا ہے ۔ اگرچہ آگ سے انسان کا صرف ظاہری جسم جلتا ہے ۔ 
دفن
تجہرو تکفین بعد کے زمانے کا طریقہ ہے جو ہندوؤں میں اب تک رائج ہے ۔ لاش کو جلانے کے بجائے دفن کے دستور کے بارے میں دسویں منڈل کے اٹھارویں اشلوک موجود ہیں اور جو اشلوک دفن کے بارے میں ہیں ان کی تمیز دوسرے اشلوکوں سے آسانی سے تمیز ہوسکتی ہے ۔ اس بھجن سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں میں ابتداً میں تدفین کا رواج تھا اور پہلے لاش کسی متبرک مقام پر زمین پر رکھتے تھے ۔ متوفی کی کمان اس کے ہاتھ میں ہوتی تھی ۔ اس کی بیوی اس کے قریب بیٹھی ہوتی اور اعزا و اقربا ایک وسیع حلقے میں کھڑے رہتے تھے ۔ پجاری لاش سے کچھ دور اس حلقے میں ایک پتھر رکھ دیتا ۔ یہ پتھر حد فاصل تھا جس اس طرف زندہ لوگ جاسکتے تھے اور مرمرت یو (موت) سے بھی التجا کی جاتی تھی کہ اس کے آگے نہ آئے اور پجاری کہتا ہے ۔
’’چلی جا اے موت ! اپنی راہ چلی جا جو دیوتاؤں کی راہ سے دور ہے ۔ میں تجھ سے کہہ رہا ہوں ، تو آنکھیں رکھتی ہے ، کان رکھتی ہے ، نہ ہمارے بچوں کو اذیت پہنچا نہ ہمارے آدمیوں کو’’۔
اس کے بعد ماتم کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوکر کہتا ہے ۔  
’’اے موت کے نقش قدم پر آنے والوں ! تم زندگی رکھتے ہو ، تمہاری دولت زیادہ ہو ، اولاد بڑھے ، تم پاکباز اور پاک باطن ہو’’۔
’’مردے زندوں سے الگ ہوگئے ہیں ہماری قربانی قبول ہوگئی ہے ۔ ہم یہاں سے چل کر رقص و سرور میں مصروف ہوں گے ۔ کیوں کہ ابھی تک زندگی ہمارا ساتھ دے رہی’’۔
’’میں حد فاصل قائم کرتا ہوں ۔ زندوں میں سے کوئی ادہر آنے میں عجلت نہ کرے ، ان کی عمر صد سالہ ہو ، یہ پتھر موت کو ان سے دور رکھے ، جیسے کہ دن کے بعد یکے بعد دیگر آتے ہیں اور موسم کے موسم اور ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس کے پہلے وہ نہیں آتی ، اس طرح اے خالق تو زندگی کا قائم کر’’۔ 
تم میں سے جتنے یہاں موجود ہیں سب اپنی زندگی کے دن پورے کریں ، بڑھاپے تک جی کر اپنے انجام کو پہنچیں اور توشتار جو ہوشیار صانع ہے تمہیں طویل زندگی دے’’۔
زندوں کو برکت کی یہ دعا دینے کے بعد تدفین کی اصل رسم شروع ہوتی تھیں اور عورتیں اس متبرک مقام میں داخل ہوکہ لاش پر تیل اور گھی ڈالتیں اور پجاری یہ اشعار پڑھتا ۔
’’ٰیہ عورتین بیوہ نہیں ہیں بلکہ معزز شوہروں کی بیویاں ہیں انہیں پہلے تیل اور گھی ملے کر آنے دو ۔ ان بے آنسو ، بے غم والیوں کو جو لباس فاخرہ سے مزین ہیں موت کے مسکن میں جائیں گے’’۔ 
اس کے بعد متوفی کا بھائی بہ حثیت اس کے جانشین کے یا اگر بھائی نہ تو متنبے بیٹا یا شاگر یا نوکر بیوہ کا ہاتھ پکڑتا اور کہتا ۔
’’اٹھ ! اے عورت ! عالم حیات کو دیکھ ! جس کے پاس تو بیٹھی ہے اور جس نے تیرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر تجھ سے بیاہ کیا تھا وہ مرچکا ہے ، تیرا بیاہ کا رشتہ جو اس سے ہوا تھا اب ٹوٹ گیا’’۔  
ان اشعار سے ثابت ہوتا ہے کہ ویدوں میں بیوہ عورتوں کو جلانے کی نہ کوئی نظیر ہے نہ کوئی حکم ۔ 
پھر وہی شخص بے جان ہاتھوں سے کمان لے کر کہتا ہے ۔
’’مرنے والے کے ہاتھ سے میں نے کمان لے لی ہے تاکہ اس سے ہمیں مدد ملے اور ہمیں قوت و شہرت حاصل ہو ۔ تم یہیں ٹہرے رہو ۔ ہم بہادر لوگ جنگ میں دشمن کو زیر کریں گے’’۔ 
اس کے بعد تدفین شروع کرتے ۔ لاش زمین میں رکھ دی جاتی اور اس پر مٹی ڈھیر کرکے ایک تودہ بنا دیتے ۔ جسے موت کا مسکن کہتے ۔ ان رسوم کو ادا کرنے کے بعد پجاری یہ بھجن کے اشعار پڑھتا جاتا ۔
’’زمین کی طرف تو جلد جا جو ماں ہے ، وسیع اور بابرکت زمین (کی طرف جا) ۔ مرد صالح کے لیے وہ ایک دوشیرہ ہے جو ان کی طرح نرم ہے’’۔
’’کھل جا ! اے زمین اور اس پر جبر نہ کر ، اس پر مہربان ہو ، اسے اے زمین پناہ دے اور چھپالے جیسے کہ ماں بچے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے’’۔
’’اب مٹی کا گھر جس کے ایک ہزار ستون میں مظبوطی کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس ہمیشہ گھی چھڑکا جائے اور اس کا ہمیشہ کے لیے مامن رہے’’۔
’’میں نے تیرے چاروں طرف مٹی کا ڈھیر کردیا ۔ مٹی کے ڈھیلوں سے تجھے چوٹ نہ لگے جو میں تجھ پر رکھتا ہوں ۔ آبا قوم اس گھر کی نگرانی کریں اور یاما تیرے لیے دوسری دنیا میں مکان بنائے’’۔
مرووں کو صبر و استقلال کے ساتھ ساتھ بغیر بہودہ گریہ و زاری کے رخصت کرنے کی یہ رسم جس میں محبت کا شائبہ اور حسن عقیدت کا اظہار بھی ہوتا تھا نہایت قدیم تھی ۔ کیوں کہ اس کے تخیلات میں فلسفیانہ اثر نہیں ہے ۔ مردوں کو جلانے کی رسم جب جاری ہوئی تو اس کے ساتھ دوسری رسوم کو بھی بدلنے اور دوسری عبارتوں کی تلاش کی ضرورت ہوئی اور یہ سب رگ وید کی دسویں جلد میں موجود ہیں اور قدر صاف ہیں کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے ۔ مگر اس کتاب کا اٹھارواں بھجن اس قدر قدیم اور مقدس تھا کہ اسے نظر انداز نہ کرسکتے تھے ۔ اس لیے اس کے کئی حصے کردیے گئے ۔ جن میں سے بعض جلانے کے وقت یا اس سے پہلے پڑھے جاتے تھے اور دسواں اور اس کے بعد کے اشعار ہڈیوں کو جمع کرنے اور دفن کرنے کے وقت پڑھے جاتے تھے ۔ اش ولاینا کے گیر ہیا سترا (تمدنی قوانین) میں بعد کی رسوم کو اس طریقے پر بتایا گیا ہے ۔ یہ مجموعہ قوانین ویدک ادبیات کا ایک جزو خیال کیا جاتا ہے اور تجہیر و تکفین کی جو رسوم اس میں مقرر کی گئی ہیں وہ رگ وید کی عبارتوں سے اس قدر مشابہ ہیں کہ ہم بلا تامل قیاس کرسکتے ہیں کہ بعد کے ویدک آریوں میں یہ رسوم جاری تھیں ۔ کم از کم گنگا اور جمنا کے کناروں پر پہنچے ۔ جہاں ویدک تمدن کے بعد برہمنوں کے تمدن کا آغاز ہوتا ہے ۔ 
تذر آتش
امکانات سے دور چند خاص ہدایات کے مطابق ایک مقام منتخب کیا جاتا جہاں متوفی کے اعزا اس کی مقدس آگ اور اس کے قربانی اوزار اور برتن لے جاتے اور آگے آگے کوئی جانور عموماً سیاہ بکر ہوتا ۔ جب تمام لوگ اس مقام پر پہنچ جاتے پجاری اس کا طواف کرتے اور اس پر متبرک پانی ڈال کر ذیل کے اشعار پڑھتے تاکہ خبیث ارواح وور ہوجائیں ۔
’’یہاں سے دور رہو ، دفع ہو ، چلے جاؤ ۔ پتریوں (آبا و اجداد) نے اس کے لیے ایک برکت کی جگہ بنالی ہے ۔ یاما نے اس کے لیے ایک آرام دہ مکان بنالیا ہے جہاں برکتیں دن رات ندیوں کی طرح بہتی ہیں’’۔ (رگ وید دہم ۱۴،۹)
اس کے بعد تین قسم کی آگ جلائی جاتی ہے اور اس پر ایندھن رکھا جاتا ہے اور ایک سیاہ بارہ سنگھے کی کھال چتا پر بچھائی جاتی ہے اور جس پر قربانی کی گھاس پھیلائی جاتی ہے اور کھال کے اوپر لاش رکھی جاتی ہے اور متوفی کی بیوی اس کے سرہانے بیٹھتی ہے ۔ اس کے بعد پجاری کتاب دہم کا آٹھواں اشلوک پڑھتے ہیں اور بیوہ چتا پر سے اتار دی جاتی ہے اور پھر کمان متوفی کے ہاتھ سے لے لی جاتی ہے اور پجاری نواں اشلوک بڑھتے ہیں ۔ اس کے بعد ایک عجیب رسم ہوتی ہے ۔ یعنی قربانی کی ضروری اشیاء (جو برخلاف کمان کے متوفی کی ذاتی ہوتی ہیں اور مرنے کے بعد بھی الگ نہیں ہوسکتیں) کوئی سر پر کوئی ہاتھ پر کوئی سینے وغیرہ جن اشیاء میں جوف ہوتا ہے ۔ مثلاً چمچ ، رکابیاں وغیرہ رکھی جاتیں اور ان میں گھی بھر دیا جاتا ہے ۔ بکری کو ذبیح کرکے اس کی کھال اتار لی جاتی ہے اور پھر اسے لاش پر اس طرح رکھ دیا جاتا ہے کہ بکری کا ہر عضو متوفی کے اسی عضو پر ٹھیک بیٹھ جائے ۔ اس کے بعد لاش بکری کی کھال سے ڈھانپ دی جاتی ہے ۔ اس طویل رسم کے دوران دہم کا ۱۴ اشلوک پڑھا جاتا ہے جو حسب ذیل ہے ۔
’’اپنی سیدھی راہ پر چلے جاؤ ، دونوں ابلق اور چار آنکھ والے کتوں کے پرے جو سراما کے بیٹے ہیں ، جاؤ جہاں برکتیں دینے والے آبا و اجداد یاما کے ساتھ شاداں و فرحاں رہتے ہیں’’۔
کئی دفعہ نذریں چڑھانے کے بعد پجاری حکم دیتا ہے کہ آگوں کو مشتعل کیا جائے ۔ آگوں کو چتا اور جسم تک تیزی یا آہستگی سے پہنچے اور کسی آگ کا وہاں تک جلد تک پہنچنے سے متوفی کی آئندہ کی حالت کے متعلق شگون لیے جاتے ہیں ۔ تینوں آگوں کا جسم تک وقت واحد تک پہنچ جانا نہایت نیک شگون خیال کیا جاتا ہے ۔ جلانے کی رسم کے دوران کئی بھجن یا بھجنوں کے ٹکڑے پڑھتا ہے جو مناسب موقع ہوں ۔ ان میں سے ذیل کا بھجن (دہم ۱۲) بہترین ہے ۔ 
’’شاہ یاما وی دس وت کو نذر چڑھاؤ جس نے اونچے پہاڑوں کو پہلے طے کیا اور دوسروں کے لیے راستہ تلاش کیا ۔ یاما پہلا شخص تھا جن نے اس مکان کا راستہ تلاش کیا جو ہم سے چھن نہیں سکتا ۔ اب جو لوگ پیدا ہوتے ہیں اپنی اپنی راہ سے اس مقام پر جاتے ہیں جہاں ہمارے آبا و اجداد گئے ہیں’’۔
(متوفی کو مخاطب کرکے) تم بھی اسی قدیم راہ سے چلے جاؤ جو ہمارے آبا و اجداد نے اختیار کی تھی ۔ وہاں تم دو بادشاہوں کو دیکھو گے وارن  اور یاما جو بابرکت زندگی بسر کرتے ہیں ۔ تم بھی یاما اور آبا و اجداد کے ساتھ شریک ہوجانا ۔ اس اعلیٰ ترین آسمان میں تمام خواہشیں پوری ہوتی ہیں ۔ اپنے اس مکان میں عیوب سے پاک ہو کو ایک نئے اور درخشاں جسم کے ساتھ داخل ہو ۔۔۔ (یاما کو مخاطب کرکے) اپنے دونوں چار آنکھ والے کتوں کو جو اس راہ کے محافظ ہیں حکم دے کہ اس شخص کی حفاظت کریں ، اس کو فلاح و برکت دے ، اس کو تکلیف اور بیماری سے نجات دے ۔ یاما کے دونوں بھورے چوڑے سے نتھنے والے قاصد جن کی پیاس کبھی بجھتی نہیں ۔ انسانوں میں پھر کر ان روحیں قبض کرتے ہیں ، کاش وہ عرصہ دراز تک آفتاب دیکھنے دیں اور اس شخص کو نئی اور خوشی کی زندگی دیں’’۔
اس کے بعد اگنی سے دعا کی جاتی ہے کہ متوفی کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے ۔ (دہم ۱۶)  
’’اے اگنی ! دیکھ ! اسے جھلسانا نہیں ، جلانا نہیں ، نہ اس کھال یا اعضا کو پھاڑنا ۔ جب تو اسے پختہ کرے تو اسے آبا و اجداد کے پاس لے جا ۔۔۔ (متوفی کو مخاطب کرکے) تیری آنکھیں سوریا کے پاس جائیں ، تیری سانسیں وایو (ہوا) کے پاس اور باقی ماندہ اعضا آسمان یا زمین اور پودوں یا پانی میں جیسا کہ مناسب ہو ۔ یہ بکری اے اگنی تیری ہے ، اپنی گرمی اور شعلوں سے اسے جلا دے ۔ مگر اس کے اس حصے کو جو پیدا نہیں ہوا ہے ، اپنی مبارک ترین شکل میں پاکباز لوگوں کے مسکن میں لے جا’’۔
’’وہ حصہ جو پیدا نہیں ہوا ، (کیا روح کے لئے اس سے بہتر کوئی استعارہ ہوسکتا ہے) مردوں کے لیے ایک خاص رہبر بھی ہے یعنی پوشن جو راہگیروں کا محافظ ہے ۔ (دہم ۱۷)
’’کاش پوشن جو تمام عالم کا چرواہا ہے یہاں سے تیری رہبری کرے ۔۔۔ پوشن آسمان و زمین دونوں میں پیدا ہوا ہے ، دونوں کا چکر لگایا کرتا ہے ، مسرت و شادمانی کے جملہ مساکین کو وہ جانتا ہے’’۔ 
’’جس شخص کے جلانے کی رسم وہ شخص ادا کرتا جو ان جملہ رسوم سے واقف ہے ۔ سیدھا بہشت (سُورن پوک) کو دھوئیں کے ساتھ چلا جاتا ہے ۔ گرہیا ستر کا مصنف الفاظ منقولہ بالا میں ان مقدس اور متبرک رسوم کی ادائی پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے ۔
پوشن کے لقب راہ کا مالک روحانی مطلب صاف ظاہر ہوتا ہے اور فطرت کے لحاظ سے اس کی تاویل میں کوئی دقت نہیں ۔ راہ سے مراد اس راہ سے ہے جو اس عالم سے عالم بالا کو گئی ہے اور راہ گیر مردے ہیں جن کو عالم بالا میں لیجانا ہے ۔
جسم کے خاکستر ہونے سے کچھ قبل پجاری (دہم ۱۸) کا تیسرا شلوک پڑھتا ہے اور اس کے بعد سب لوگ اس مقام سے چلے جاتے ہیں اور مڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے ۔ راستے میں وہ صاف پانی میں نہاتے ہیں اور صاف کپڑے پہن کر شام تک وہیں بیٹھے رہتے ہیں ۔ پھر اپنے گھروں کا راستہ لیتے ہیں اور ستاروں کے نکلنے کے بعد یا جب آفتاب کچھ کچھ نظر آئے گھروں میں داخل ہوتے ۔ متوفی کے اعزا جلی ہوئی ہڈیوں کے جمع کرنے اور دفن کرنے تک اپنے گھروں میں رہتے ہیں ۔ یہ رسم قریب اس روز کے بعد کسی مبارک دن ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ہڈیوں پر مٹی ڈالی جاتی ہے اور اس پر سنگ لوح رکھ دیا جاتا ہے اور ان رسوم کے دوران دہم ۱۸ کی دسویں سے لے کر تیرہ تک سب اشلوک پڑھتے جاتے ہیں ۔ نہا کر سب گھر آتے ہیں اور پہلی شرادھ کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔ یعنی متوفی کو نذریں چڑھائی جاتی ہیں جن کا شمار باضابطہ طور پر پتریوں میں ہونے لگتا ہے اور اس کا اعزاز وہی ہوتا ہے جو اس معزز جماعت کا ہوتا ہے ۔ شرادھ جس کے معنی عقیدے کے ہیں ۔ متوفی کے لیے جو رسم ادا کی جائے اس سے اظہار عقیدت ہوتی ہے ۔ کیوں کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ رسم زندوں اور مردوں دونوں کے لیے مفید ہے ۔ 
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ویدک عہد کے آریا مرنے کے بعد دائمی زندگی پر اعتقاد رکھتے تھے یا نہیں ؟ مگر جو کچھ بیان ہوچکا ہے اس پر مزید بحث کرنا فضول ہے ۔ البتہ دائمی زندگی کیا تھی ؟ اور کس صورت میں تھی ؟ اس کے متعلق ان کے اعتقادات کا یقین کرنا دشوار ہے ۔ اس کے متعلق آریاؤں کا سکوت کمال گویائی ہے ۔ کیوں کہ دائمی زندگی پر انہیں پورا اعتقاد تھا اور موت کو وہ ختم کرنے والا کہتے تھے ۔ مگر اس سے مراد صرف دنیاوی زندگی کے ختم کرنے والے سے تھی ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ انسان میں ایک جزو ہے ۔ جو نہ پیدا ہوتا ہے نہ مرتا ہے اور یہ جزو مطہر کرنے والے شعلوں سے جسم خاکی سے الگ ہوکر اپنے اصلی مسکن کو چلا جاتا ہے اور ان دوستوں کے ساتھ مل کر جو اس سے پہلے وہاں گئے ہیں حیات ابدی حاصل کرکے شادمانی کی زندگی بسر کرتا ہے ۔ ان کا عقیدہ بالمختصر یہی تھا ۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دائمی زندگی کیسی تھی ؟ اس کے حالات کیا تھے ؟ وہاں لوگ کن مشاغل میں مصروف رہتے تھے ؟ اس کا جواب صرف مبہم تخیلات میں ملتا ہے ۔ یعنی بابرکت مردے دونوں راجاؤں یعنی وارن اور یاما کی عظمت کا ذکر کرتے ہیں اور خوبصورت پتے والے درختوں کے نیچے یا اوپر بیٹھے مزے مزے کے کھانا کھاتے اور سوما پیتے ہیں ۔ سوما کی دعوتوں میں وہ شریک رہتے ہیں ۔ کیوں کہ متوفی آبا و اجداد کو سوما پسند کرنے والوں کے لقب سے اکثر یاد کیا گیا ہے ۔ جس سے مراد یہ ہے کہ ربھو کی طرح انہیں حیات ابدی حاصل ہوچکی تھی ۔ مگر یہ جملہ امور مبہم ہیں ۔ مادیت کے صرف ایک عقیدے کا صاف اور صریح ذکر ہے ۔ یعنی زندگی بعد موت بھی مبہم ہے ۔ حالانکہ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جسم کے جملہ اجزا بعد تجریہ عناصر میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پجاری ایک طرف تو مردے سے یہ کہتا ہے تیری آنکھ سوریا کو جائے وغیرہ وغیرہ اور یہ بھی کہتا ہے کہ اپنے آسمانی مسکن میں نئے اور درخشاں جسم میں عیوب سے پاک ہوکر جا اور پھر اس کے بعد کہتا ہے ۔
’’اگنی اس شخص کو جو تیرے پاس نذروں کے ساتھ جاتا ہے آبا و اجداد کو واپس کردے ۔ اسے اپنی جسم سے ملنے دے ۔ تیرے جسم کے جس حصے کو کسی کالی چڑیا یا چیونٹی یا سانپ یا درندے نے کاٹا ہے ۔ اگنی اسے درست کردے اور سوما جو کہ برہمنوں میں داخل ہوگیا ہے’’۔
ایک امر واضح نظر آتا ہے یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جس نئے جسم میں متوفی میں داخل ہوتا ہے وہ غالباً غیر مادی تھا ۔ کیا یہ زمانہ حال کے تصوف کا روحانی جسم ہے ؟ مگر رگ وید کے منقولہ ذیل عبارتوں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آریاؤں کا خیال تھا کہ مردوں روحیں فضا میں نور کے سمندر میں ادھر اُدھر اڑتی رہتی ہیں ۔
’’سوریا درخشاں اشاس کے تعاقب میں مثل ایک عاشق کے جو کسی دوشیزہ کا تعاقب کرتا ہوا وہاں جاتا ہے جہاں خدا ترس لوگ زمانہ دراز سے برکت کی زندگی بسر کرتے ہیں’’۔ (یکم ۱۱۵)     
’’سب کے بیچ کے آسمان میں وہ برکت کی زندگی بسر کرتے ہیں’’۔ (دہم ۱۵)
’’کاش میں وشنو کے بابرکت مسکن میں داخل ہوتا جہاں خدا ترس لوگ مسرت کے ساتھ رہتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ اس زبردست چلنے والے (وشنو) کے دوست ہیں اور وشنو کے اعلیٰ ترین مسکن میں مزے سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ یہ آسمانی مسکن نور سے روشن ہے’’۔ (یکم ۱۵۴) نویں جلد میں بھی بھجن ۱۱۳ سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے ۔
خدا ترس لوگوں کا تو یہ صلہ تھا ، اب سوال یہ ہے کہ دوسروں کا کیا حشر ہوتا تھا ۔ ان کے لیے بھی دائمی زندگی تھی یا نہیں اور ابتدائی عہد میں آریاؤں کا ان کے متعلق کیا عقیدہ تھا ؟ اس کا جواب دشوار ہے ۔ کیوں کہ گناگاروں کے حشر کے متعلق آریوں کے خیالات حد درجہ مبہم ہیں ۔ آریاؤں کے یہاں ہر چیز میں دوئی تھی ۔ وارن اور دوسرے ادتیا گناہگاروں کو سزا دینے والے ہیں اور وہ لوگوں کو جو اپنے گناہوں سے تائب نہ ہوں غار میں ڈال دیتے ہیں ۔ جس سے آریا اسی قدر ڈرتے تھے جتنا کہ ادیتاؤں کی تین زنجیروں یا پھندوں یعنی تاریکی ، بیماری اور موت سے ۔
’’ریت (قانون) کا محافظ دہوکہ میں نہیں آسکتا ۔ وہ عقل سے دور ہے ، ہر چیز کو دیکھتا ہے ، جن لوگوں سے وہ ناراض ہے ۔ یعنی ناخدا ترسوں کو کو غار میں ڈال دیتا ہے’’۔ (دوم ۲۶ ، ۸)
’’اے دیوتاؤں (ادیتا) اپنے پھندوں کو اٹھاؤ ، میرے گناہوں کو دور کردو ، مجھ اس طرح نہ پکڑو ، گویا میں گھونسلے میں رہنے والی چڑیا ہوں ، اے قابل پرستش ہستیوں ! آج میرے ساتھ رہو ، میں کانپتا ہوا تمہارے سینے سے لپٹ جاؤں گا ۔ اے دیوتاؤں ہمیں نکل جانے والے بھیڑیے سے بچاؤ اور غار میں گرنے سے’’۔ (دوم ۲۹ ، ۶)
’’اندر ان لوگوں کا عزیز نہیں ہے جو سوما کی کشید نہیں کرتے ، وہ نہ اس کا دوست ہے نہ بھائی ، جن لوگوں کا وہ دوست نہیں انہیں وہ غاروں میں ڈال دیتا ہے ۔ (چہام ۲۵ ، ۶) 
ایک رشی اندر سے التجا کرتا ہے ’’ہمارے دشمنوں کو عمیق ترین غار میں ڈال دے’’۔
حیات مستقبل کے متعلق بعد کے زمانہ یعنی برہمنوں کے عہد میں تغیر واقع نہ ہوتا تو آریوں کے عقائد کی روحانیت اور مبہم ہونے پر زیادہ بحث کی ضرورت نہ ہوتی ۔ کیوں کہ خود اتھرون وید میں بہشت و ذوزخ کا ذکر وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ بابرکت لوگوں کے لیے عیش و عشرت کے سب سامان مہیا ہیں اور بدکردار لوگوں پر کیا کیا عذاب ہوں گے ۔ عقائد مذکوہ فقرات بالا یعنی متوفی اشخاص کا یاما اور وارن کے ساتھ خوبصورت پتوں والے درخت (آسمان اور ستارے) کے نیچے رہنے کی یہ مادی تعبیر کی گئی ہے کہ ہر نیک کردار متوفی شخص کے پاس خوبصورت چمکیلی اور سیدھی گائیں آتی ہیں ، جن کا دودھ فوراً نکالا جاسکتا ہے ، گھی کے تالاب میں شہد کے نالے ہیں ، دودھ اور دہی کی ندیاں ہیں ۔ نہ کوئی امیر نہ کوئی ظالم ہے ، نہ ظالم ہے نہ مظلوم ۔ جلد نہم ۱۱۳ میں چند لطیف اشعار ہیں ۔ ’’جہاں مسرت و شادمانی ہے ، جو عیش و عشرت کا مسکن ہے ، جہاں ہماری دلی آرووئیں پوری ہوتی ہیں’’۔ اس کی تاویل میں دنیاوی عیش و عشرت کا ذکر کیا گیا ہے اور لطف بڑھانے کے لیے دلفریب حسین عورتوں (اپسرا) کو بھی شارحین وجود میں لائے ہیں ۔ اس کے برعکس اس کے عمیق ترین تاریک غار کو شارحین نے ذوزخ بنا دیا ہے ۔ جس میں گناہگار خون کی ندی کا پانی پیتے ہوئے بال کھاتے ہیں ۔ مظلوموں کے آنسو اور مردوں کے غسل کا پانی پیتے ہیں ۔ یاما جو شادماں ارواح کا نیک دل اور درخشاں راجہ ہے اور لوگ اس سے ڈرتے تھے تو صرف اس لیے کہ موت سے انسان ہر صورت میں ڈرتا ہے مختلف ذوزخوں کا درشت مزاج حاکم اور عذاب دہندہ بن جاتا ہے ۔ جس میں شیاطین کے تمام عیوب موجود ہیں ۔ اتھرون وید میں یہ افراط و تفریط نہیں ہے ۔ مگر اس میں بھی یاما موت مجسم (مامرپتوا) بن کر ایک ڈروانی اور بھیانک شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں