79

ترک

 ترکوں کا ذکر سب سے پہلے چھٹی صدی عیسوی میں ایک خانہ بدوش قوم کی صورت میں ملتا ہے ۔ انہوں نے ایک بہت طاقت ور سلطنت قائم کی تھی ، جو منگولیا Mangolia اور شمالی چین کی سرحد سے لے کر بحیرہ اسود تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اس خانہ بدوش سلطنت کا بانی جسے تومین Tumen اور ترکی کتبوں میں بومن Bumin تھا ۔ اس کا بھائی ستیمی Istami جسے چنیوں نے شتی می Shetiemi اور طبری نے سنجیو خاقان لکھا ہے ۔ اس نے مغربی جانب فتوحات ھاصل کیں ۔ گمان ہوتا ہے دونوں بھائی ایک دوسرے سے علحیدہ اور خود مختار تھے ۔ اس لئے چینیوں نے مزکورہ سلطنٹوں کو شمالی ترکوں اور مغربی ترکوں کی سلطنت کہہ کر ایک دوسرے سے ممتیز کرنے کی کوشش کی ہے ۔ 
ان قدیم ترکوں کا اپنے مشرقی اور مغربی خانہ بدوش پیشروں سے کیا تعلق ہے ؟ اس آراء کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پچھلی صدیوں میں ترک موجود تھے ، اگرچہ قدرتی طور پر ان کے نام مختلف تھے ۔ اس نظریہ کی وضاحت ان متفرق ترکی الفاظ سے مدد لی گئی ہے ، جو زمانہ قبل مسیح سے باقی چلے آئے ہیں ۔ 
سیتھائی اور دوسری اقوام کو بھی ترک النسل بتایا جاتا ہے ۔ جب کہ چینیوں نے ترکوں کو ہیونگ نوHiung nu کی اولاد یعنی ہن نژاد بتایا ہے اور یہ ہنوں کے مشرقی ہمسایہ تھے ، جنہوں نے ہنوںکو پہلی صدی عیسوی کے اواخر میں منگولیاسے نکال دیا تھا ۔ اگرچہ حتمی طور پر یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ ہن منگول تھے اور قدیم منگولیMangolieanes  اور ہن زبانوں میں بعض ترکی عناصر کا پتہ چلتا ہے کہ صوتی نقطہ نظر سے ارتقاء کی تقریباََ اس سطح پر ہے کہ جس پر قدیم ابتدائی التائی زبان تھی ۔
بقول تھامسن Thomsen کے ’ترک‘ کے معنی قوت و باس کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے یہ غالباََ ایک قبیلہ کا نام تھا ، بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ ایک حکمران خاندان کا نام تھا ۔ کتبوں میں ترک کا مفہوم بظاہر سیاسی ہے نہ کہ جنسی ، عبارت میرے ترک ، میرے ’لوگ‘ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ ترکوں کے ساتھ اوغوز یا توغوز اکثر آیا ہے ۔ یہ علیحدہ قبیلوں یا خاندانوں کی تعداد کے لحاظ کبھی ان کی حثیت ترکوں اور ان کے دشمنوں کی ہے اور بعض مرتبہ خان کی قوم کی حثیت سے آیا ہے ۔ 
شمالی سلطنت
چھٹی صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصہ میں چین میں سوئی Sui خاندان نے اقتدار حاصل کرلیا ۔ اس خاندان کے زیراثر 581ء میں دونوں سلطنتوں میں ایک آخری اور قظعی اقتراق پیدا ہوگیا اور ان دونوں سلطنتوں کو ٹانگ Tang خاندان کی برائے نام سیادت تسلیم کرنی پڑی ۔ پچاس سال کی محکومی کے بعد شمالی ترکی سلطنت نے (630ء تا 682ء کے لگ بھک) آزادی حاصل کرلی اور یہ سلطنت 744ء تک باقی رہی ۔
745ء کے لگ بھگ منگولیا کی حکومت اوغوز کے ہاتھوں سے نکل کر اویغوز کے ہاتھوں میں چلی گئی ۔ ایغوز کا ذکر پہلے پہل شمالی ترکوں کے صمن میں ملتا ہے ۔ گو صرف ایک ہی فقرہ ان کے متعلق ہے کہ ’وہ دریائے سلنگا Slanga کے کنارے آباد ہیں‘ ۔ ترکوں کے ان اوغوزی دشمنوں کو کا الگ خاغان تھا جو شہنشاہ چین کا باج گزار تھا ۔ 
یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اویغوز لوگ اوغوز کے قبائلی وفاق میں شامل تھے اور کلمات اویغوز اور اوغوز میں خفیف سا فرق ہے ، جیسا کہ لہجوں اور بولیوں میں ہوا کرتا ہے ۔ تھامسن Thomsen بھی اس خیال سے متفق ہے ۔ تاہم اورخون Orkhon کا وہ کتبہ جو رام شئٹ Ramsted نے شائع کیا ہے ، اس میں وہ خاغان جس نے 746ء تا 759ء تک حکومت کی ہے ، اپنے آپ کو اون ( 10 ) اویغوز اور قوقوز ( 9 ) اوغوز پر حکمران بتاتا ہے ۔ اگرچہ چینی ماخذوں کی رو سے اویغوز قبیلوں کی تعداد بھی نو تھی ۔
840ء میں قرغیزوں نے اویغوزوں کی سلظنت کا خاتمہ کردیا ۔ ان اویغوز نے جو نکالے گئے نویں صدی کے قریب دو نئی سلطنتوں کی بنیاد رکھی ۔ ان میں ایک کانجو میں اور دوسری بیش بلق اور تراخواجہ میں ۔ پلیٹ اورچارنس کے مطابق اس علاقہ کو جو اب چینی ترکستان کہلاتا ہے ترکی تہذیب میں ڈھال نے کا سب سے پہلے زیادہ تر اویغوز نے ہی انجان دیا ۔ تاہم یہ امر مشبہ ہے ، ممکن ہے یہ عمل ایغوز کے پیشتروں ہی کے زمانے میں متعمدبعہ ترقی کرچکا ہو ۔ کیوں کہ عرب کاشغر اور ان سب ممالک کو ابتدا ہی سے خالص ترکی علاقے سمجھتے رہے ہیں۔ 
مذکورہ بالا الذکر دو ترکی سلطنتوں میں ایک (کانجو Kan djou والی) پر 1028ء میں قبیلہ تنگت کا قبضہ ہوگیا ۔ جب کہ دوسری منگولی عہد تک باقی رہی ۔ 824ء میں کانجو کے اویغوزوں کے سامنے قتائی سلطنت کے بانی اپاؤکی Apaoki نے جس نے کچھ عرصہ قبل قرغیزوں کو منگولیا سے نکال باہر کیا تھا ، یہ تجویز پیش کی کہ وہ دریائے اورخون کے کنارے اپنے قدیم گھروں میں واپس آجائیں ۔ لیکن اویغوز اس وقت تک نئے وطن کے حالات و ماحول سے مانوس ہوچکے تھے اور دوبارہ خانہ بدوش نہیں بناچاہتے تھے ، اس لئے یہ پیشکش قبول نہیں کی ۔
قرقیزپر قتائی کی فتحیابی درحقیقت میں منگولیا میں ترکی حکومت کے خاتمہ اور منگولی عناصر کی حکومت کا آغاز تھا کی نشادہی کرتی ہے ۔ قرقیز ترکی النسل قوموں میں سے آخری قوم تھے جو منگولیا میں آباد تھے ، تنہا ایسے جن کی یادیں اب تک وہاں باقی رہی ہیں ۔ چنانچہ منگولیا عہد سے پہلے کی سب قبریں قرغیز قبریں کہلاتی ہیں ۔ 
مغربی سلطنت 
نوشیروان عادل (531 تا 579) ساسانی حکمران نوشیروان عادل نے مغربی ترکوں سے جن کا حکمران ایل خان تھا ، دوستانہ تعلقات قائم کریئے اور ان کی مدد سے افغانستان میں ہنوں کو شکست دی اور اس کے بعد اس نے خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کردیا ۔ اس سے بھی ترکوں کی طاقت میں خاطر اضافہ ہوا اور افغانستان میں ہنوںکے خالی کردہ علاقوں پر ترک برائے جمان ہوگئے ۔ یہی وجہ ہے تھی جس کے سبب ترکوں اور نوشیروان میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ ۵۶۷ء909 میں ترکوں کے سردار ویزابول Dizabul نے نوشیروان سے اتحاد کی کوشش کی اور نوشیرواں کے دربار میں اپنا ایک سفیر بھیجا ، لیکن نوشیروان نے یہ درخواست مسترد کردی اور سفیر کو زہر دے کر ہلاک کر وادیا ۔ اس واقع کے بعد ترکوں نے زورشور سے یلغار شروع کردی ، مگر نوشیروانی عہد ایرانی حکومت کے عروج کا عہد تھا ۔ لہذ انوشیروان نے بھی جوابی کاروائی کی اور ترکوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ ترکوںنے اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے رومی حکومت سے اتحاد کی کوشش کی ، مگر قیصر جسٹین Jasttain اس کے لئے راضی نہیں ہوا ۔ مگر چارسال کے بعد ۵۷۲ء میں ترکوں سے باضابطہ اتحاد کرلیا اور ترکوں نے ایرانی مملکت پر زور شور سے حملہ شروع کردیئے ۔ نوشیروان کے جانشین ہرمزد کے سپہ سالار بہرام چوبین نے ترکوں کو کئی جنگوں کے بعد انہیں سخت شکست دی ، مگر ترکوں کا ایرانی مملکت کے شمالی حصہ پر قبضہ بدستور برقرار رہا ۔
تانگ Tang خاندان نے افغانستان میں ترکوںکی مغربی سلطنت کے اقتدار کا خاتمہ کردیا اور اپنا اقتدار پامیر کے مغربی علاقوں تک قائم کرلیا ۔ تقریباََ سوسال (659ء؁ تا 751ء؁) تک ہندوکش کے شمال جنوب کی سولہ بادشاہیاں چینیوں کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتی تھیں ، جو حقیقی کے بجائے برائے نام تھا ۔
چین کے تانگ Tang خاندان کی ترکوں نے سیادت قبول کرلی تھی ۔ مگر مغربی ترکوں نے جلد ہی شمالی ترکوں کے بعد اپنی آزادی اور اقتدار دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور کچھ عرصہ (659ء تا 751ء) کے لئے شمالی ترکوں کے زیر نگر ہوگئے ۔ مگر شمالی ترک مغربی ترکوں کو مستقل مفتعاد بنا نہیں سکے ۔ مغربی ترک قبیلوں میں تیورگیش سب سے ممتاز تھے اور ان کے سرداروں نے آخر میں خانیت کے اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لئے تھے ۔ تیورگیش Turgesh سلطنت کا خاتمہ121ھ/739ء میں نصر بن سیار کی قیادت میں عربوں کے ہاتھوں ہوا ۔ 
 بوزنطنی ذرائع سے پتہ کرتا ہے کہ576ء میں ترکوںنے خاکنائے کریما Tauric Bosporus فتح کرلیا تھا ۔ 581ء؁ میں وہ خرسون Chersoneses کی دیواروں کے سامنے پہنچ گئے ، لیکن جزیرہ نما کریما Tauric Peninsula پر ان کی حکومت زیادہ نہیں رہی ۔ 590ء کے قریب وہاں بوزنطینی حکومت دوبارہ قائم ہوچکی تھی ۔ 568ء سے 598ء تک کے وقائع بوزنطنی ماخذ میں ملتے ہیں ۔ 568ء میں زمرخوس Zenarchos کی سردگی میں ترکوں کے پاس بوزنطی شفارت پھیجی گئی ، زمرخوس نے نہر اتل Atal (والگا Volga) کو غبور کیا اور مغڑبی ترکوں کے پاس قاغان کی قیام گاہ جو شہر کوچا Kuca کے شمال میں آق تاغ (سفید پہاڑوں) میں تھی ۔ ساسانیوں کے خلاف مشترکہ فوجی اقدام کے بارے میں گفت شنید ہوتی رہی ۔ مگر کوئی دیر پا اتحاد قائم نہیں ہوا ۔ چند سال کے بعد ترک بونطیوں اور ایرانیوں سے جنگ میں مصرف ہوگئے ۔  
جب ترکوں نے قوم آلان Alans کو فتح کیا تو ساسانی سلطنت کی حدودیں ترکی علاقہ سے نہ صرف وسطہ اشیاء بلکہ بحیرہ خزر سے آملیں ۔ غالباََ یہی ترک تھے جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں ۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا ۔ انہوں نے ساتویں صدی عیسویں میں بہت قوت حاصل کرلی تھی ۔ بحیرہ خزر کے مشرقی علاقوں میں ساسانیوں نے اپنے ترک ہمسایوں کے خلاف مدافعتی قلعے تعمیر کئے ۔ صوبہ جرجان کی حفاظت کے لئے آجری سد بنائی گئی ۔ لیکن یہ ترکوں کے فاتحانہ حملون کی روک تھام نہ کرسکیں ۔ جرجان اور طبرستان کے درمیانی سرحد پر ایک اور اس لئے دیوار تعمیر کی گئی تھی کہ صوبہ جرجان ہاتھ سے نکل گیا تھا ۔کتاب ال آغانی کے مطابق رود گرگان کے ترکوں نے ایرانیوں کی زبان اور مذہب اختیار کرلیا تھا ۔ اس لئے ساسانیوںکے زمانے میں غالباََ چھٹی صدی عیسوی میں ترک اس علاقہ کو فتح کرچکے ہوں گے ۔
ترکوں میں اشاعت اسلام
98ھ/716ء میں عربوںاور جرجان کے ترکوں کے درمیان جنگ ہوئی ۔ اس میں اگرچہ ترک کامیاب رہے ۔ اس زمانے میں ساسانی سرحدیں دریائے مرغاب تک تھیں اور آمو دریا کے کنارے جو محاربات ہوئے اس میں عموما َترک کامیاب رہے ، لیکن اس علاقے میں ترک جو اب ساسانیوں کے سرپرست ہوگئے تھے ۔ عربوں کے خلاف معرکہ آرائیوں میں اتنے زیادہ کامیاب نہیں رہے ۔ عربوں نے امن و آتشی کی مہمات بھی ترکوں کے پاس بھیجیں ۔ خلیفہ ہشام (105ھ/724ء تا 125ھ/743ء) نے ترکوں کے بادشاہ کو دعوت اسلام دی تھی ۔ 
 اگرچہ ہجرت کی پہلی صدیوں میںترکی حملہ آوروں کے خلاف دفاعی جنگ کے علاوہ ترکی علاقے فتح کرنے کے لئے فوج کشی بھی کی گئی ، تاہم مسلمانوں کی جنگی کامیابیوں کے قبول اسلام پر بہت کم اثر ہوا ۔ اس لئے جو اصول رسول اللہ ﷺ نے حبشیوں کے لئے وضع کیا تھا اس کا اطلاق ترکوں پر بھی کیا گیا ، یعنی جب تک وہ تم سے تعرزض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو ۔ 
کفار ترکوں کی آخری یورش 291ھ/904ء میں پسپا کر دی گئی ، بالاآخر ترکوں نے چوتھی ہجری / دسویں عیسوی میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا شروع کیا اور ۳۸۲ھ/۹۹۲ء میں مسلم ترک پہلی دفع بخارا میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔ اس سے بھی اہم سلجوقی ترکوں کے ہاتھوں پانچویں ہجری/گیارویں عیسویں میں ایشیائے کوچک کو فتح کیا گیا اور ایلک خانیہ یا آل افراسیاب کا قبول اسلام جو کہ ایک کثیر تعداد میں یعنی دو لاکھ ترک قوم کا قبول اسلام تھا اور یہ سلسلہ جاری رہا ۔ حتیٰ وسطہ ایشیاء میں اسلام کی اشاعت میں کفار قرہ ختائی سلطنت کی تاسیس سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ۔ یہ سلطنت بارویں صدی میں وجود میں آئی تھی ۔ اس وقت خان بلاساغون کی ریاست ان بلاد میں انتہائی شمالی علاقہ میں تھی ۔ جب اس سلطنت کے حصہ بخرے ہوگئے ، تو اس وقت بھی دریائے ایلی EYli کے شمال میں اسلامی سلطنتیں موجود تھیں ۔ 
سلطنت مغول
سلطنت مغول کا قیام بہ نسبت خود مغولوں کے ترکوں کے لئے بہت اہم ثابت ہوا ۔ بشتر مغول ترکوں میں ضم ہوگئے ، اس طرح نہ صرف ترکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ خصوصیت کے ساتھ سیاسی حثیت سے ان کے لئے تقویت کا باعث بن گئے ۔ چودویں صدی میں التون اردو Golden Horde کی تاسیس کو ترکوں کی سیاسی تاریخ میں خاص اہمیت حاصل ہوگئی اور اس سلطنت کے انحلال کے بعد جو سلطنتیں وجود میں آئیں ، جو اگرچہ تارتاری تھیں مگر اسلام اور ترکوں کے اثرات کے تحت تھیں ۔ سائبیریا میں دریائے ارتش Artish کے کنارے جدید شہر ٹوباسک Tobolsk کے پاس ایک نئی تارتاری سلطنت قائم ہوئی ۔ اب بجائے یلغمار کے یہ ملک اسلام کی سرحدی چوکی بن گیا ۔ کلمہ تارتار جو پہلے مغولوں کے لئے استعمال ہوتا تھا ، اب ترکی قوم کا نام ہوگیا اور ترکوں میں بالاآخر اسلام کا عمل پندرویں صدی میں مکمل ہوا اور سولویں صدی کے نصف اول میں جزیرہ نما بلقان اور بحیرہ اسود کے شمالی ساحل سے لے کر چینی سرحدوں تک کے تمام ممالک مسلم ترکوں کے زیر اثر تھے ۔ 
ترک قبائل 
ترکوں کے مختلف قبائل کے بارے میں یعنی ان کے نام عادات و رسوم کے بارے میں زیادہ تر حوالے مسلم جغرافیہ دانوں کے مرحوم منت ہیں ۔ اگرچہ ترکی کتبوں چینی سالناموں اور بوزنطی ذرائع اور ماخذ سے ان میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ ان کی عادات اطوار کے زیادہ تفصیلی حالات صرف تیسری صدی ہجری/نویں صدی عیسویں میں صرف عرب جغرافیہ نگاروں سے ملتے ہیں ۔ اس جغرافیائی ادب میں ترک نام محض ایک قبائل کے ایک گروہ یا زبانوں کی ایک شاخ کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اور خون کے کتبوں اور چینی تواریخ کی طرح ایک ہی قبیلے یا ایک ہی مملکت کے لئے ۔ ابوزیدالبلخی خصوصیت کے ساتھ پانچ قبیلوں کا ذکر کرتا ہے جو ایک ہی زبان بولتے تھے ۔ ان میں تغزغز ، خرخیز (تغیر غیز) ، کیماک ، غز (اغوز) اور قرلق Karluk (عربی خلخ) (فارسی خلج) ہیں ۔ ان میں تغزغز انتہائی شمال مشرق میں آباد تھے ۔ اویغوز اور قرلق بلاد اسلام کے نزدیک ترین ہمسائے تھے ۔ جب کہ اوغوز مسلم علاقوں سے مستصل علاقے میں آباد تھے ۔ یعنی فاراب اور اسیجاب کے علاقوں یعنی جرجان کے مسلم علاقے سے مستصل ۔ 
محمود کاشغری نے ترک قبائل کی تعداد بیس بتائی ہے ۔ جو دس دس قبیلوں کے دو گروہ میں تقسیم تھے ۔ ایک شمالی اور ایک جنوبی میں مستقیم تھے ۔ شمالی گروہ کے یہ قبائل بجناک ، قفجاق ، اعز ، یماک ، بشغرف ، بسمل ، قانی ، بیاقو ، تتار اور قرقز تھے ۔ جنوبی گروہ کے یہ قبائل جگل ، تخسی ، یغما، اعراق ، جرق ، جمل ، ایغر ، تنکت ،ختامی اور توغاج (ماچین) تھے ۔
شمالی قبائل میں قامی ، بیاقو اور بسمل کی اپنی زبانیں تھیں ۔ جنوبی گروہ کے دس قبائل جگل ، تخسی ، یغما، اعراق ، جرق ، جمل ، ایغر ، تنکت ،ختامی اور توغاج ان قبائل میں سے تھے ، جو ترکی زبان نہیں بولتے تھے ۔ گو وہ ترکی خوب اچھی طرح جانتے تھے ۔ قیر قیز، قفجاق ، اغوز ، تخسی ، یغما ، جگل ، اعراق اور جرق کی بولیاں خالص ترک تھیں ۔ یماک اور بشکر کی بولیاں ترکی کے قریب تھیں ۔ 
ترکوں کے لئے بلاد اسلام میں غالباََ اغوز کا کلمہ استعمال ہونے لگا تھا ۔ کیوں کہ اوغوز بلاد اسلام کے قریبی ہمسائے تھے ۔ بقول رشید الدین کے ان اغوز قبائل کی تعداد چوبیس تھی اور محمود کاشغری کے ہاں اکیس قبائل کے نام رشیدالدین کے ناموں میں مشترک ہیں ۔ لیکن محمود کاشغری ان قبائل کی تعداد اکیس مانتا ہے ۔ کاشغری کے بعد کے زمانے میں ترک اور ترکمان کی اصلاحات دو مختلف گروہ کے لئے استعمال ہونے لگیں ۔ کیوں کہ مغرب کی طرف ہجرت کرجانے کی وجہ سے ان کی مماثلت دوسرے ترکوں کے ساتھ بالکل معدوم ہوچکی تھی ۔ منگولوں کے عہد تک اوغوز نام کے بجائے ترکمان کا رواج نہیں ہوا تھا ۔ 
دور انحاط 
سولویں صدی عیسوی میں ترک ممالک کی اقتصادی زندگی سابقہ ادوار کے مقابلے میں ایک معتدیہ ذوال کی مظہر تھی ۔ بدوات نے زراعت اور خصوصاََ شہروں کے علمی الراغم ترقی کی تھی ۔ ان ملکوں کے مستقبل کو اس حقیقت سے بھی بہت نقصان پہنچا ، کہ دنیا کی تجارت نے اب اور راستہ اختیار کرلئے ۔ ترکوں میں نہ اقتصادی حثیت سے اس کی صلاحیت تھی اور نہ ہی ذہنی حثیت سے کہ وہ روس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرسکیں ۔ سترویں صدی میں روس نے یہ اصول وضع کرلیا تھا کہ شمالی اشیاء کے تمام ممالک روس اور چین کے درمیان ہونا چاہیے ۔ لیکن اس بندوبست کی تکمیل فروری 12 تا 25 1888ء میں سینٹ پیٹربرگ کے معاہدے سے ہوئی ۔ اس طرح وسطہ اشیاء میں روس نے غازان 1552ء میں اس کی ابتدا کی تھی اور انیسویں صدی کے وسط تک وہ وسطہ اشیاء پر مکمل قبضہ کرچکا تھا ۔ 
1917ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد اور خصوصاََ 1924ء سے جب قومیت کے اصول پر عمل شروع ہوا تو روس کی اشتراکی حکومت نے ترکی اقوام کی جمہورائیں اور خودمختیار علاقے تشکیل دیئے ۔ اس طرح ان کی قومی اور مسلم وحدت ختم کرکے انہیں نسلی اور لسانی گروہ میں رکھنے کی کوشش کی ۔ ترکوں نے انہیں بے دلی سے قبول کیا ۔ گو روس کو قابل ذکر کامیابی نہیں ہوئی ۔ اس کی نسبت انیسویں صدی میں ترکوں کو متحدہ کرنے میں عثمانی کہیں زیادہ کامیاب رہے ۔ اگر عثمانیوں کا دور انحاط نہیں ہوتا تو وہ باآسانی ترکوں کو منظم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ۔ مگر بین الاقوامی سازشوں کی بدولت عثمانیوں کو مکمل کامیابی نہیں ہوئی ، اگرچہ وہ ترکوں کو متحد کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے اور انہوں نے روسیوں اور اشتراکیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور ترکی نے روس میں اشتراکی انقلاب کے دوران اور اس سے پہلے ترکوں کے لئے اپنی سرحدیں کھولدیں اور ہزاروں ترک ہجرت کر کے ترکی میں آبسے ۔
1990ء میں روس میں اشترکییت کے ذوال کے بعد وہاں کی جمہوریائیں آزاد ہوئیں تو ترکی جمہوریائیں بھی آزاد ہوئیں ہیں ۔ وہ اگرچہ لادینیت پر کار بند ہیں ، لیکن وہاں مذہب جو اشتراکی دور میں شجر ممنوعہ تھا ، اب لوگوں کا وہاں مذہب کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے ، مگر حکومتی پابندیاں انہیں انتہا پسندی کی طرف لے جا رہی ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں