55

تند خو دریا

دریائے سندھ کی وادی میں لہہ کے فوراً دریائے سندھ فائر بندی لائین کو غبور کرتا ہوا پاکستان کے علاقہ بلتستان میں داخل ہوجاتا ہے ۔ پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے کارگل کا علاقہ ہے ۔ اس شہر کے بہت قریب ہی پاکستان کے زیر کنٹرول علاقہ ہے ۔ لیکن سیاسی تبدیلیاں جغرافیائی خدو خال پر اثر انداز نہیں ہوتی ہیں ۔ یہاں بھی دریا بنجر اور عمودی کھائیوں میں نیچے کی طرف تیزی سے سفر کرتا ہے ۔ تنگ گھاٹیاں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی وادیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں ۔ جن میں تھوڑی بہت کھیتی باڑی نظر آتی ہے ۔ بتدریخ دونوں طرف پہاڑ بلند ہوتے ہوئے دریا کے قریب آجاتے ہیں ۔ قراقرم کے جنوب میں لداخ کا ڈھلوانی اور تنگ پہاڑی سلسلہ دریا کے دائیں کنارے پر ساتھ چلتا ہے ۔ جس کے پار دریائے شیوک سندھ کے متوازی بہتا ہوا ڈیڑھ سو میل کے بعد لداخ کا پہاڑی سلسلہ ختم ہوجاتا ہے تو دریائے سندھ میں آن ملتا ہے ۔ بیس میل کے بعد سکردو کے قریب قراقرم کی بلندیوں سے آنے والا ایک اور معاون دریا شگر بھی دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے ۔

شیوک ، شگر اور بیسوں چھوٹے چھوٹے دریا اپنی وادیوں میں رہنے والے باشندوں کے لیے بقاء کا سامان مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اکثر گاہے گاہے انہیں خطرات سے بھی دوچار کرتے رہتے ہیں ۔ ان پہاڑی ڈھلانوں میں سے اکثر گلیشر جنم لیتے ہیں جو کہ بہت وحشی اور خطرناک ہوتے ہیں اور وہ اکثر طوفان بھی اس علاقے میں برپا کرتے رہتے ہیں ۔ جب یہ طوفان اٹھتا ہے تو زندگی اور املاک کے لیے المناک حادثات کا باعث بنتا ہے ۔ یہاں پہاڑوں میں موجود کوئی بھی ڈھلوان اچانک گارے اور چٹانوں کی ایک بڑی اور خوفناک مقدار کو نیچے ڈھکیل دیتی ہے ۔ جو پھسلتے ہوئے اپنے راستے کی ہر شے کو ملیا میٹ کردیتی ہے ۔ کیوں کہ ان پہاڑوں پر کوئی جھاڑ جھنکار یا گھانس وغیرہ نہیں ہے جو ان کی مٹی کو پکڑسکے اور برف کے پگھلنے کے ساتھ مٹی کے یہ عظیم تودے بغیر کسی انتباہ کہ نیچے کی جانب پھسلتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہاں زلزلے بھی آتے ہیں مگر تباہ کن طوفانوں کا یہاں برپا ہونا معمول ہیں ۔ گزشتہ پانچ صدیوں سے بلتستان اور مغربی جانب اس کے ہمسایہ علاقوں میں اسلام کا غلبہ ہے ۔ لیکن یہاں کے رہنے والے اب بھی خدا کے ساتھ ساتھ بدروحوں ، چڑیلوں اور پریوں پر یقین رکھتے ہیں اور دریاؤں ، ہواؤں اور پہاڑوں پر حکومت کرنے والی طاقت ور اور متلون مزاج روحوں کو خوش کرنے کے لیے چڑھاوے بھی چڑھاتے رہتے ہیں ۔

دریائے سندھ کی بلند و بالا گھاٹیوں میں واقع گلشیر جو کہ قطبی کے علاقوں کے بعد سب سے بڑے گلیشر شمار ہوتے ہیں ۔ جو یہاں کے دریاؤں میں برف کے بڑے ٹکرے شامل کرتے رہتے ہیں ۔ بعض اوقات کوئی گلیشر وادی کے فرش سے پگھل کے آگے آجاتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والے دریا کو مہینوں کے لیے روک لیتا ہے ۔ بالآؒخر جب دریا کا پانی اسے ٹورتا ہے تو خدا کی پناہ ، یہ سمندر کی عظیم طوفانی لہر کی مانند گرجتا ہوا چلتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ ، دیہاتوں ، فضلوں اور درختوں کو ملیامیٹ صفحہ ہستی مٹا دیتا ہے ۔ ان میں دریائے شیوک خاص طور پر بہت خطرناک ہے ۔ اس کے بالائی حصہ میں ایک تنگ گھاٹی میں دو بڑے گلیشر واقع ہیں ۔ یہ گلیشر دریا کے آگے بار بار بند باندھ کر اسے روک دیتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں فٹ چوڑی اور کئی میل لمبی جھیل وجود میں آجاتی ہے ۔ جب یہ بند ٹوٹتا ہے تو نیچے کی جانب واقع وادی برف کے تودوں سے اٹ جاتی ہے جو مکانوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں اور سالوں میں جاکر پگھلتے ہیں ۔     

بعض اوقات موسم خزاں میں جب بلند و بالا پہاڑوں پر دریائوں کے منبوں اور معاون ندی نالے منجمد ہوجاتے ہیں اور یہ اپنے اندر پر فریب سکوت لیے ہوتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ شیوک کے کنارے رہتے ہیں وہ اس کے دھوکے میں نہیں آتے ہیں ۔ وہ اپنے دیہات پہاڑوں کے پہلوں میں کافی بلندی پر بناتے ہیں ۔ تاکہ برف کے روکے گئے پانی کے ان بلند ریلوں کی زرد میں نہ آسکیں جو ہر چند سالوں بعد ایک مرتبہ پھر ان کی وادیوں کو بہا کر لے جاتے ہیں ۔ قراقرم کا درہ جن دنوں کھلا ہوتا ہے اور اس وقت گرمیوں میں برف پگھلنے پر دریاے شیوک بھی طغیانی پر ہوتا ہے اور اسے غبور کرنا بھی اہم اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ اس دریا میں پانی کے ساتھ ساتھ برف کے بڑے بڑے ٹکرے سفر کر رہے ہوتے ہیں اور یہ ٹکرے جو منوں وزنی ہوتے ہیں ۔ یہ ٹکرے پانی کے نیچے پانچ سے پندہ میل کی رفتار سے چل رہے ہوتے ہیں ۔ یہاں دریا پار کرنے کے لیے تجربے سے زیادہ خوش قسمتی کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ کیوں کہ برف کا کوئی ٹکرا نہ صرف دریا پار کرنے والے کو زخمی کرسکتا ہے بلکہ بہاکر بھی لے جاسکتا ہے ۔ اس دریا کو پار کرنے والے قافلے صبح سویرے دریا کنارے پر جمع ہوجاتے ہیں اور دریا کے پایاب راستے کو تلاش کرنے کے لیے ایک قلی کو دریا میں اتارتے ہیں اور راستہ ملنے پر لوگ جانوروں کی دمیں پکڑ کر یا ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس تند خو دریا کو پار کرتے ۔ یہاں پانی کا تیز بہاؤ اور گہرائی کی وجہ سے دریا کو بالکل سیدھا پار کرنا ممکن نہیں ہے ۔ دریا کو پار کرنے والے دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ نیچے جاتے ہیں اور کوشش و جدوجہد کے بالآخر دوسرے کنارے پر پہنچ جاتے ہیں ۔

دریائے شگر شیوک سے کم تند خو اور یہ ایک چھوٹا دریا ہے ۔ اس کے بالائی حصوں پر اکثر پھسلنے والے گلیشر نہیں پائے جاتے ہیں ۔ یہ دریا جس وادی میں بہتا ہے اس کی ڈھلان دریائے سندھ کی جانب کم اور بتدیح ہے ۔ قراقرم کی برف پوش چوٹیوں میں اور بکھری چٹانوں میں گھری یہ وادی ڈھوپ میں چمکتی ہوئی نظر آتی ہے جس میں پاپولر اور بید مجنوں کے درخت ہیں ۔ موسم بہار میں یہ گندم ، مکئی اور جو کی فضلوں سے ہری بھری اور خزاں میں سنہری نظر آتی ہے ۔ یہاں خوبانی ، ٹماٹر اور خربوزے پیدا ہوتے ہیں اور دنیا کا بہترین شہد ملتا ہے ۔ تقسیم سے پہلے لداخ میں ان خشک میوؤں کی بہت مانگ تھی ۔ شگر کے زرخیز میدان قدرت کا تحفہ نہیں ہیں بلکہ بڑی بڑی چٹانوں کو دھکیل کر برفیلے پانی کی ندیوں کی تہہ میں لے جانے اور میلوں لمبے مٹی کے باریک پشتوں کی مسلسل دیکھ بھال اور مرمت کرتے رہنے والے کسانوں کی انتھک جدوجہد اور کمر ٹور محنت کا نتیجہ ہیں ۔ دریائے شگر سے نہ صرف کھیتی باڑی کے لیے آبپاشی بلکہ محدود پیمانے پر نقل و حرکت کا کام بھی لیا جاتا تھا ۔ یہاں اکا دکا لکڑی کی کشتی بھی نظر آتی ہیں جو کہ پرانے طرز کی چپتے پیندے اور اونچے کناروں والی کشتی ہیں ۔ لیکن دریا پر سفر کرنے کا روایتی سفر کرنے کا طریقہ جو اب سڑک کی تعمیر کے بعد متروک ہوچکا ہے ۔ اس میں بکری کی بہت سی کھالوں کو ہوا بھر کر ایک ساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور ان کی ٹانگیں اوپر رکھیں جاتی تھیں ۔ ڈنڈؤں کو باندھ کر ایک چوبی جال اوپر باندھ دیا جاتا تھا ۔ اس پر بہت سے آدمی ہاتھوں لمبے لمبے ڈنڈے لے کر میں اوپر بیٹھ جاتے تھے ۔ اس پر سکردو جانے والی سبزیاں اور پھل لاد دیئے جاتے تھے ۔ بکریوں کی کھال میں سے ہوا نکلتی رہتی تھی ۔ اس لیے ٹانگوں کے ذریعے مسلسل ان میں ہوا بھری جاتی تھی ۔ دریا کا بہاؤ بہت تیز ہوتا تھا اور ڈنڈوں اور چپوں کے مدد سے اسے بار بار روکنا پڑتا تھا ۔ سفر کے اختتام پر اس میں سے ہوا نکال کر اسے خشکی کے راستے واپس لاتے تھے ۔ لکڑیوں کی کشتیوں کو بھی واپسی کے لیے ریتیلے کنارے پر کھنچ کر لے جانا پڑتا تھا ۔ سڑکیں تعمیر کے بعد اب یہ سارے کھتراک ختم ہوچکے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں