41

توشتار اور سوتیار

ایک عجیب و غریب اشلوک (رگ وید سوم ۵۵،۱۹) ہے جس میں دو نام ایک ساتھ آتے ہیں ۔ ’’توشتار ، سوتیار کئی شکلوں کے دیوتا (وش وَرُوپ) نے تمام مخلوقات کوپیدا کیا ہے اور ان کو روزی پہنچاتا ہے اور سب مخلوقات اسی کی ہیں ۔ اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کا ہے’’۔ 
اس شعر میں اور ایک دوسرے شعر میں جہاں دونوں نام اسی طرح ایک ساتھ آئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو ایک نام دوسرے کا لقب یا دونوں ایک ہی کے نام ہیں ۔ مگر دوسرے مقامات پر توشتار کا ذکر ایک علحیدہ دیوتا کے ہے ۔ مگر اس کے خصائل وضاحت سے بیان نہیں کیے گئے ہیں ۔ اس کو دیوتاؤں کا صناع کہا گیا ہے ۔ مگر یہ اس کا ایک پہلو ہے جو اس کے نام کے مطابق ہے ۔ جس کے لغوی معنی بنانے یا تیارنے کے ہیں ۔ بھجنوں میں اس کے نام کے ساتھ ہمیشہ ہنرمند ، یا ہوشیار صناع کے الفاظ آتے ہیں ۔ کیوں کہ توشتار ہی نے اندر کا برقی اعضا بنایا جو سنہرا تھا اور اس کی ایک ہزار نوکیں تھیں اور ایک سو پہلو تھے ۔ اسی نے ایک دوسرے دیوتا برہسنپتی کی کلہاڑی کو تیز کیا تھا ۔ وہی کئی شکلوں والا ہر چیز اور پیدا ہونے والے انسان اور جانوروں کی شکلیں بناتا ہے ۔ اس کو بہترین پیالے بنانے کا ہنر معلوم ہے ۔ جن میں دیوتا سوما پیتے ہیں ، خصوصاً ایک پیالہ اس نے ایسا بنایا تھا جس پر اسے ناز تھا کہ اور جس کا عجیب وغریب قصہ ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں