43

توشتار

توشتار ، شوتیا ، وش وَروپ (کئی شکلوں والا ، پیدا کرنے والا ، زندگی بخشنے والا) در اصل ایک ہی دیوتا ہے ۔ اس کے بعد جیسا کہ افسانیات میں اکثر ہوتا ہے ۔ تینوں خصائل سے تینوں مختلف دیوتا پیدا ہوگئے ۔ لوگ کبھی توشتار کو مخاطب کرتے اور کبھی سوتیار کو یہاں تک کہ ان کی اصلی وحدت زائل ہوگئی اور وش وروپ (کئی شکلوں والا) کا لقب گو دوسرے دیوتاؤں مثلاً اگنی ، سوما اور اندر کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا ۔ مگر اس نام کا ایک مستقل دیوتا ہوگیا ۔ جو توشتار کا بیٹا تھا جو اس کے مویشی چرایا کرتا تھا ۔ یہی اندر کا سخت دشمن تھا ۔ رگ وید سے تو یہی معلوم ہوتا ہے جس میں صرف دو ایسی عبارتیں ہیں جن میں یہ تینوں نام ایک ساتھ آئے ہیں اور جن سے ان کی یگانگی یا یاد تازہ ہوتی ہے ۔ یہ بھی ظن غالب ہے کہ توشتار سوتیار آسمان کا دیوتا تھا ۔ جس میں سے آفتاب کی کریما زندگی بخشنے والے خصائل تو سوتیار سے متعلق ہوگئے اور توشتار اس کا ضد ہوگیا ۔ یعنی نقصان رسانی خفگی اور درشتی اس سے متعلق ہوگئیں اور سوتیار سے اسے وہی نسبت ہوگئی تو رُورا کو وارُن سے ممکن ہے کہ قدیم ترین عہد میں یہ تینوں القاب کو آسمان کے قدیم دیوتا دیاؤس کے متعلق ہوں گے ۔ اس تشریح کے لحاظ سے یہ گمان غالب معلوم ہوتا ہے کہ توشتار آسمانی سوما کا تنگ دل اور بدمزاج محافظ ہے ۔ 
لیکن اندر صرف توشتار کے بیٹے ہی کا دشمن نہیں بلکہ خود اس کا بھی ۔ کیوں کہ توشتار آسمانی سوما کا تنگ دل محافظ ہے ۔ جس کہ خم کے خم اندر اڑا جاتا ہے ۔ اندر دیوتا کے لڑکپن اور ابتدائی کارناموں کے جو متفرق اور منتشر حالات موجود ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اس کی پسندیدہ شراب پر چیزہ دستی سے قبضہ کیا اور پھر جو قوت اس شراب کے پینے سے حاصل ہوئی اس اس نے توشتار پر آزمایا اور اس کو مغلوب کرکے اس کا ایک پاؤں پکڑ کر پٹک دیا ۔  
توشتار ہی اندر کا باپ ہے اس کا ثبوت نیچے دی گئی دو سے ظاہر ہوتا ہے ۔ 
’’توشتار نے اس کے لیے وہ برقی نیزہ بنایا تاکہ اندر اس کو لڑائیں میں استعمال کرے’’۔ (رگ وید اول ۱۶،۶)
’’وہ برقی نیزہ جو اس کے باپ نے چند روز قبل بنایا تھا اس کے دست و بازو کے لیے بالکل ٹھیک ہے’’۔ (رگ وید دوم ۱۷،۱۶)
’’اندر نے پیدا ہوتے ہی سب سے اونچے آسمان پر سوما پی لیا’’۔ (رگ وید سوم ۳۲،۱۰) اس کی ماں نے یہ شراب اس کے باپ کے گھر میں پلائی’’۔ (رگ وید سوم ۴۸،۲) ’’طاقت بخش شراب پیتے ہی اس بچے (اندر) کی قوت بڑھ جاتی ہے اور وہ نہایت طاقت ور فتح مند جِیُوٹ ہوگیا ۔ 
’’اس نے اپنے جسم کو اپنی قوت خیالی کے تابع کرلیا ۔ پیدا ہوتے ہی اس نے توشتار پر غلبہ حاصل کیا ۔ سوما چرا لیا اور خم کے خم پی گیا’’۔ (رگ وید سوم ۴۸،۴)
’’شاعر اس سے سوال کرتا ہے کہ تیری ماں کو بیوہ کس نے کردیا’’۔ (رگ وید چہارم ۱۸،۱۲) غالباً یہ خود اندر تھا جس نے اپنے باپ کو قتل کریا تھا ۔ 
دوسرا سوال یہ ہے کہ تجھے کون قتل کرنا چاہتا تھا ۔ جب تو آرام یا سفر کر رہا تھا ۔ یہ غالباً توشتار تھا جو سوما چھن جانے سے خفا ہوگیا تھا ۔ کون سا دیوتا تیری مدد کو آیا جب تو نے اپنے باپ کے پاؤں پکڑ کر اسے پٹک دیا ۔
یہ مکمل اور واضح افسانہ رگ وید میں مسلسل بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ بلکہ اس کے مختلف حصوں میں افسانے کے ٹکڑے منتشر ہیں اور یہ ضروری ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے ہم انہیں جمع کریں ۔ اس تمام بیان میں کوئی عبارت ایسی نہیں ہے جس سے اس قیاس کی تصدیق  ہوتی ہے کہ توشتار ایک خبیث دیوتا تھا ۔ اس کی جگہ ہندی آریاؤں کے دلوں میں جنگجو دیوتا (اندر) نے لے لی جس سے وہ مستفید ہوتے تھے ۔ اس افسانے کی تصدیق کے لیے اور بھی عبارتیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ مگر اس کے لیے اب کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے اور سب سے بڑا ثبوت یہ کہ برق اگر بیٹا ہوگا تو غضب ناک آسمان کا ، کیوں کہ جس دیوتا کے ہاتھ میں برق کا نیزہ ہو اس سے برق ہی سے مراد ہوسکتی ہے ۔
ہیلے برانٹ توشتار کے بارے میں کہتا ہے اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت سے افسانوں کا باقی ماندہ حصہ ہے ۔ جو رگ وید کے قبائل نہ تھے اور جس میں انہیں کوئی دلچسپی نہ ہوئی ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں