133

تیسرا لوک

لیکن تاہم ایک اور پرلوک ہے جس کا ذکر ہندوستان کے قدیمی مذہب میں پایا جاتا ہے ۔ سوائے دیو لوک اور پتری لوک کے ایک اور لوگ بھی ہے ۔ جس کے بغیر ہندوستان کا قدیمی ویدک مذہب موجودہ حالت میں نہ ہوتا ۔ تیسرے پرلوک کا نام رشی لوگوں نے رت (یعنی سیدھا مارگ) رکھا تھا ۔ جس کے معنی میری رائے میں سیدھی لکیر کے ہیں ۔ اس کا اطلاق قانون قدرت (سرشٹی نیم) کے تمام نیم پوردک کاموں مثلاً وہ نیم جن سے کہ موسمیں اپنے نیم انوسار آتی ہیں ۔ وہ نیم جس سے انو سار روزانہ گردش دن و رات یا سورج کی ہوتی ہے ۔ ہم اسے سرشٹی نیم کے نام سے پکارتے ہیں اور جب اس کا اطلاق اخلاقی دنیا پر کرتے ہیں تو اس کے لیے اخلاقی قانون کا ذکر کرنا پڑتا ہے ۔ جس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے ۔ یعنی ست اور یکئی (ترک) کا اٹل نیم یا جس سے کہ انسان باطنی اور بیرونی اوستہا میں نیک بن جاتا ہے ۔ جس طرح سوچ و چار کی نگاہ کرنے سے پہلے چمکیلے دیوتوں کا خیال پیدا ہوا اور آخر کار پرماتما کا خیال گزرا ۔ ٹھیک جس طرح ہمارے والدین کی محبت رحم میں تبدیل ہوئی ۔ اس طرح سچائی کا خیال انسان کی بیرونی اور اندرونی اوستہا میں پایا جاتا ہے ۔ یہ گویا کہ ضمیر کی آواز ہے جو انسان کو ہمیشہ نیکی کی طرف مائل کرتی ہے ۔ یہ تینوں قسم کے پرلوک کے خیالات قدیم زمانہ کے تین الہام ہیں ویدوں کے دریافت ہونے سے ہی ہم انیسویں صدی میں دہرم اور خیالات کی ان ابتدائی حالتوں کو دیکھتے ہیں ۔ جو کہ دوسری زبانوں کے شروع ہونے سے پہلے گزر چکے تھے ۔ ویدوں نے ہمارے سامنے ایک پرانے شہر کو نکلا ہے جو تمام دیگر مذہبوں کی تاریخ میں ردیات فضلات سے پر ہے اور کاریگری کے نئے مصالحہ سے تیار کیا گیا ہے ۔ ہمارے زمانہ دراز کے بچپن کے نہایت ہی ابتدائی اور سبق سکھلانے والے نظارے پھر از سر نو ہماری یاداشت کے افق پر اٹھے ہیں ۔ جو کہ اب بالکل مفقود ہوچکے تھے ۔ اب میں مختصر الفاظ میں بتلاؤں گا کہ کس طرح ہندوستان میں مذہبی عروج کے پہلو بہ پہلو فلسفہ کے خیالات بھی نشو و نما نے پائی ہے بڑی خوبی ہم ہندوستان کے علم و ادب میں دیکھتے ہیں کہ فلسفہ ہندوؤں کے دھرم کو مکمل کرتی ہے ۔ فلسفہ اور دہرم پہلو بہ پہلو چلتے ہیں ایک دوسرے کے دردہ نہیں ہیں ۔ یہ دھرم کا سب سے اعلیٰ (اتم انگ) جزو ہے ۔ نہایت قدیمی فلسفہ کا نام ویدانت ہے ، یعنی ویدوں کا سب سے اعلیٰ مدعا یا ویدوں کا انت ۔ ایک پنڈت جو پانسو قبل مسیح گزرا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میرے زمانہ سے پہلے جس قدر دیوتا گزرے ہیں ان میں تین قسم کے ہی اتم ہیں ۔ یعنی پرتھوی ، وایوں اور آسمان کے دیوتا جو مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں اور لکھتا ہے کہ حقیقت میں ایک ہی خدا ہے لیکن وہ اس کو پرماتما ، خالق ، حکم اور تمام چیزوں کی رکھشا کرنے والا نہیں پکارتا ۔ بلکہ وہ اسے آتما کے نام سے منسوب کرتا ہے ۔ اس لیے اس ایک آتما کی بہت سادھنوں سے استتی کی جاتی ہے ۔ دوسرے دیوتا اس آتما کے انگ ہیں ۔ اس لیے رشیوں نے قدرت کے بیشمار نظاروں کو دیکھ کر ان کے مطابق استوترگائن کئے ہیں ۔ 
یہ کلمہ ایشور سے مختلف ہے جو دیو سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ لیکن یونانی اور رومن دیوتاؤں کے خیالات کو ان معنوں میں ممکن نہیں جو ویدک آئے ہیں ۔ دیو کے لغوی معنی چمکنے کے ہیں اور یہ لفظ آسمان ، ستاروں ، سورج ، دن ، صبح شفق ، موسم بہار ، دریاؤں اور زمین کے لیے آیا ہے اور جب کوئی رشی انہیں پکارتا تو وہ ان کو دیو کہتا ۔ اس طرح دیو کے معنوں میں وہ تمام صفات شامل ہوگئیں جو آسمان ، آفتاب اور صبح میں پائی جاتی ہیں ۔ یعنی اس طرح دیو کے معنی چمکنے سے بدل کر آسمان ، مہربان ، طاقتور ، نہ دیکھائی دینے والا اور فانی کے ہوگئے اور یہاں یہ معنی یونانیوں کے دیوس اور روما ے ڈائی کی طرح ہوگئے ۔ اس طرح ویدوں کے قدیم مذہب میں زمین اور آسمان سے ہٹ کر ایک اور لوک (عالم) بن گیا جس میں دیو ، سروسو اور آدیتہ آباد ہیں اور یہ نام چمکیلے ، آسمان ، فطرت ، موسم ، دنوں کی تبدیلیوں یا طاقتوں کے ہیں ۔ اس میں اندھیری رات ، سیاہ بادلوں ، موسموں کی شدد وغیرہ یعنی نقصان دہ طاقتیں بھی شامل ہیں اور وہ ان مخالف طاقتوں کو مغلوب یا منانے کوشش کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ان رشیوں نے دیکھا یہ طاقتیں انہیں نفع و نقصان پہنچانے والی ہیں ۔
ہر نام کے کچھ معنی رکھتا اور اکثر ان سے مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے اور ویدک دیوتا بھی اس وجود کو ظاہر کرتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے ہیں ۔ بلکہ ہم محصوص یا خیال کرتے ہیں اور وہ اس کی تشریح بھی نہیں کرسکتے تھے ۔ مثلاً لامحدود ، پرماتما ، ہر جگہ موجود اور ایشور وغیرہ اور اس لیے انہیں ہستیاں ماننے پر مجبور ہوئے اور اس کی ہستی منوانے کے لیے (کتھائیں) داستانیں لکھیں ۔ یعنی کیوں ان کی بنیاد کتھاؤں پر رکھی گئی اور یہ سلسلہ اب جاری ہے ۔ اس لیے قدیم زمانے میں تمام مذہب کی بنیاد یہی کھتائیں تھیں اور آریاؤں میں یہ کھتائیں اس وقت بھی مروج تھیں جب کہ قدیم زمانے میں جب وہ اپنے قدیم وطن میں رہتے تھے ۔ ویک جب لکھی نہیں گئی تھی ۔ یہ وجہ ہے قدیم آریاؤں سے لے موجودہ دور تک کسی ایک دیوتا کی خدائی دائمی نہ رہی اور یہ وقت گزرنے کے ساتھ نئے ناموں کی صورت میں آتے رہے ہیں ۔ ویدی دیوتاؤں کا سلسلہ دیاؤس پر شروع ہوا اور اندر پر ختم ہوا ۔ اس کے بعد برہمنی دیوتاؤں کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے عروج و ذوال کا سلسلہ جو وید سے شروع ہوا اور پرانوں میں اس کے لیے نئی نئی کتھائیں لکھی جاتی رہیں ہیں ۔
 یہی وجہ ہے رگ وید میں کسی بڑے دیوتا کی صفات کو بعد میں کسی دوسرے دیوتا میں بیان کیں گئیں ۔ اس کے لیے میکس ملر نے توحید ناقص Henotheism کہا ہے ۔ اصل یہ دیوتا مختلف قبائل یا علاقوں یا زمانوں کے دیوتا ہوں گے ۔ جہاں جس کا زور زیادہ ہوگا اس کے پروہتوں نے اپنے دیوتا کا رتبہ بڑھا دیا ۔ پھر جب طاقت کا توازن تبدیل ہوا تو دوسرے دیوتا کو وہی رتبہ دے دیا گیا ۔ یہ متفرق قبائل کے ایک قوم میں ضم ہونے سے پہلے کا مرحلہ ہے ۔ 
یہ دیوتا اپنی اہمیت اور اپنے کاموں کے لحاظ سے بہت ناموں سے مشہور ہیں ۔ یاسک منی نے ویدوں کے دیوتاؤں کی تقسیم خاکی ، ہوائی اور آسمانی میں کی ۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ یہ تقسیم تمام دیوتاؤں پر عائد نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس لیے وہ لکھتا ہے کہ تمام دیوتا الگ اپنا وجود رکھتے ہیں اور جو پراتھنا ان سے کی جاتی ہیں وہ بھی مختلف ہیں اور ان میں اختلاف بھی ہے ۔ ان کے مختلف ناموں کا مقصد بھی یہی ہے کہ قدرت کی طاقتوں اور مظہروں کو الگ نام ، خصوصیت اور شخصیت دی جائے ۔ بعض رشییوں و منیوں اور فلسفیوں کا خیال ہے یہ وجود فرضی ہیں اور یہ سب ایک ہی پرماتما کے روپ ہیں جنہیں الگ الگ نام دیا گیا ہے ۔ مذہب کا یہ عجیب پہلو ہے جو ویدوں میں ملتا ہے کہ پرماتما کو مختلف روپوں الگ الگ فرائض کے ساتھ دیوتاؤں کو شریک کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کی ترتیب خیال نہیں رکھا گیا ہے کہ کہ ان کی خصوصیات اور کار کی بدولت ان کی درجہ بندی کی جائے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں