55

ثنونیت

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ایرانی ساسانی عہد میں چار خداؤں زوان ، مزد ، اناہتا اور متھرا کی پرستش کرتے تھے ۔ مگر اس کے علاوہ ایک خدا اور تھا ۔ وہ انگرامنو Angra Mainyu یا اہر من Ahriman بدی کا خدا تھا ۔ اگرچہ اس کی پرستش نہیں کی جاتی تھی مگر یہ بھی زروان کا بیٹا تھا اور مزد کا بھائی جو اس کی طرح طاقت ور اور تخلیق پر قادر تھا ۔ ہورا اور مزد کے درمیان جسے برائی اور بھلائی کی کشمش کہا گیا جاری تھی ۔ خود زرتشت بھی ان دو طاقتوں میں الجھ گیا اور اوستا میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کہ شر و خیر کے درمیان یہ کشاکش بلا ارادہ ہے یا اہورا کے ارادے کے مطابق ۔ غالبا یہ تصادم زروانیت کے عقیدے کے مطابق بلا ارادہ ہے اور اسی کے اندر کائنات کے وجود و عدم وجود (انسان کی حیات و ممات) اور خیر و شر کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔ انسان کی دو مختلف کیفیات کو سامنے رکھ کر زرتشت نے انسانوں سے مطالبعہ کیا ہے کہ وہ ہورا کی مثبت صفات کی طرف قدم بڑھائے ۔  

گاتھا کے یشتوں مزد کے ساتھ ایک دوسری طاقت کا ذکر آیا اور اس کے لیے زرتشت کو ان دونوں کیفیات متضاد کے لیے دو مختلف علتیں یا طاقتیں بیان کیں اور ان میں سے ایک طاقت کو اعلی و ادنیٰ اور خالق الکل قائم کرنے کے لیے دونوں کو یک جان و دو قالب بتایا ہے اور یہ دونوں یعنی نیکی و بدی ہم عمر اور توام ہیں ۔ لہذا اگر ان میں سے ایک کو قدیم بتائیں گے تو لازماً دوسرے کو بھی قدیم ماننا پڑے گا ۔ چنانچہ (یسنا ۳۰) میں ہے کہ ازل میں دو توام طاقتیں تھیں ۔ ایک مجسم نیکی اور دوسری مجسم بدی ۔ ان دونوں سے مل کر ہست و نیست پیدا ہوئے اور ہست خالق خیرہوا اور نیست خالق شر ۔ ایک نور ہوا تو دوسرا ظلمت ۔ انسان ان دونوں میں سے جس طرف راغب ہوجائے اس کی نسبت سے اس میں غالب ہوجائے گی ۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک فرد واحد ان دونوں متضاد طاقتوں کا ہوکر رہے ۔ پس عقل سے کام لو اور راستی کی طرف چلو اور وہ راستی خدا ہے ۔ غرض جو طاقت ہستی سے تعبیر کی جاتیں ہے وہ ہمہ خوبی ، ہمہ نیکی ، ہمہ پاکیزگی ہے اور جو نیستی کہی جاتی ہے وہ اس کے برعکس ۔ یہی دو علتیں ازل سے موجود تھیں اور ابد تک دنیا میں سرگرمی سے کام کرتی رہیں گیں ۔

زرتشتی تعلیمات میں تصاد یا دونوں پہلوں کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ زرتشت نے جب چاہا کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں اور مزد سے اس کا اظہار کیا تو ہورا مزد نے اپنے عجر کا اظہار کیا کہ ایسی صورت میں براترکیش بھی ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ یعنی تصاد کے بغیر مزد بھی کوئی ہستی پیدا کرنے سے قاصر تھا ۔ حتیٰ زرتشت کی دشمن ان کی پیدائش سے موت تک وہی رہے اور زرتش کا قاتل ان کی پیدائش کے فوراً بعد سے ان کی جان کے درپے تھا اور آخر اس نے زرتشت قتل کیا مگر خود بھی ان ہاتھوں مارا گیا ۔ یہ وہ تصور ہے کہ نیکی اور برائی دونوں کا رہنا لازم اور ملزوم ہیں اور اس سے کائنات کبھی خالی نہیں رہی ہے ۔

اوستا میں یزدان (ملائکہ) کے مقابلے میں دیوا (ارواح خبیثہ) کا ذکر کیا گیاہے ۔ دور حاضر میں زرتشتی ثنویت یعنی دو خداؤں کے قائل ہیں ۔ ان کے عقیدے کے مطابق اہورا ہرمن دو ازلی ہستیاں ہیں ۔ ایک خیر کا منشاد اور مصدر ہے اور دوسرا شر کا ۔ نیز تمام اشاسہندان (صفتیں) اہورا سے علحیدہ اور مستقل ہستیاں ہیں ۔ ان کی حثیت ارواح مجرد یا فرشتگان مقرب کی ہے اور یہ یزدان سے بلند مرتبے پر فائز ہیں ۔ اہورا ان تمام ہستیوں کا محتاج ہے اور ان کی مدد سے وہ اہرمن اور اس کے ساتھی کماریکان و دیوائے کے خلاف جنگ کرتا ہے ۔ نیز یہ جنگ بلا قصد ہے اور اس میں اہورا کے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہے ، دوسرے الفاظ میں تکوین کشمکش لازمی ہے اور اس کا سلسلہ لامتناہی ہے ۔ آخر اہورا کو اہرمن پر مکمل فتح ہو جائے گی اور وہی قیامت کا دن ہوگا ۔ زرتشت کے پیروکار ان تمام ہستیوں کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں ۔

اوستا میں آیا ہے کہ جب اہرمن تمہارے درمیان آئے اور تم میں اختلاف اور عناد پیدا کرے تو نیک نیتی اور خلوص دل کے ذریعے اسے سزا دے سکتے ہو اور ان لوگوں بھی سزا دے سکتے ہو جو وعدہ کرتے ہیں لیکن اسے پورا نہیں کرتے ۔ تمہاری زندگی ایسی ہونی چاہیے جو تمہاری آئندہ زندگی کے لیے ممد و معاون ثابت ہوسکے ۔ آدمی عقل و خرد کے مقام پر احتیاط ہی کی بدولت قائم رہ سکتا ہے ۔ کیوں کہ عقل دروغ سے بچاتی ہے اور بدی نابود کرتی ہے ۔ کامل اشیا اس کے فرشتوں سے متعلق ہیں جو بہترین موجوداد ہیں ۔ لہذا یہ احکام اہورا مزد نے دیے ہیں اور تمہارے لیے بھیجے گئے ہیں ان پرعمل کرو ۔ دروغ گوؤں (اہرمن پرستوں) کے لیے یہ احکام بڑے صدمے کا حکم رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے جو جو درست عقیدے کی حقیقت جان گئے ہیں آسودگی اور بہبودی کا سبب ہیں ۔

اس طرح زرتشت نے خدا کے ساتھ ایک اور ہستی یعنی اہرمن کو منوایا ہے اور اسے اہورا مزد کے برابر کا درجہ دیا ۔ جس کی ذات کو بھی اہورا کی طرح قدیم سمجھا جاتا ہے اور وہ عالم کون و فساد میں دو طاقتیں کام کر رہی ہیں ۔ ایک اہورا ہرمزد خالق خیر اور دوسرا اہرمن خالق شر اور یہ ان کا قدیم عقیدہ ہے ۔

اس طرح ایرانیوں کے مذہبی تصورات مسلمانوں کی آمد سے پہلے تک ایک طرف چار خدائے خیر پرستش کے لائق تھے ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اہرمن جو خدائے شر تھا مانتے تھے ۔ اگرچہ وہ اس کی پرستش نہیں کرتے تھے ۔ گویا اس لحاظ سے اس عالم میں کون و فساد میں ان کے اعتقاد کی رو سے دو متضاد طاقتیں کام کررہی ہیں ۔ ایک ہرمزد (خالق خیر) اور دوسرا اہرمن (خالق شر) ۔ گویا ان کے مذہب تثنیہ عہد قدیم سے پایا جاتا ہے اور اسی پر ہی ان کے عقائد کا مدار ہے اور بعد میں ایران میں آنے والا ہر مذہب اسی عقیدہ کے گرد گھومتا ہے ۔ یعنی خداون خیر و شر کے گرد چکر کھانے لگے ۔ مگر مسلمانوں آمد کے زرتشتیوں نے دوسرے خداؤں کو خارج کرکے اپنے مذہب کو ان دونوں یعنی ہرمزد اور ہرمن تک محدود کردیا گیا ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں