81

جاجی

نعمت اللہ ہروی نے اس قبیلہ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ جب کہ شیر محمد گنڈا پور نے اسے خوگیانی کا بیٹا بتایا ہے ۔ لہذا اس کا شمار کڑلانی قبائیل میں ہوتا ہے ۔ جاجی زازی کے نام سے بھی مشہور ہیں ۔ کیوں کی پشتو کی مشرقی بولی کے ’ز‘ کی جگہ مغربی بولی میں ’ج‘ استعمال ہوتا ہے۔

ویمرے کا کہنا ہے کہ اسلامی دور سے پہلے دریائے سیحون کے شمالی کناروں پر الروشنا کے آگے جاجی کی خود مختار ریاست تھی جس پر ترکوں کی حکومت تھی ۔ عربوں کے زمانے میں ساسانیوں کے وقت اس کا بخارا سے الحاق ہوگیا تھا ۔ سلجوقی دور میں یہ آزاد ہوگئی تھی ۔ جس کا خان بہت طاقتور تھا ۔ منگولوں کے حملے کے بعد یہ علاقہ مغرب میں خوازمیوں اور مشرق میں جوغروں کے درمیان تنازعہ کا باعث رہا ۔ چنگیز خان کے بعد قدر خان اور اس کے جانشینوں نے چغتائیوں سے بہت عرصہ تک اس علاقہ کے لئے خانہ جنگی کی ۔ تیمور نے اس علاقہ کو جیحوں کے ملک میں شامل کیا ۔ مگر اس کو اس کے لئے جنوب مشرقی اور شمالی قبائیل سے خون ریز لڑائیاں لڑنی پڑیں ۔ یہ لڑائیاں اس کی وفات کے بعد بھی اکثر اوقات اکثر شدد سے ہوتی رہیں ہیں ۔ بعد میں اس علاقے کو ماوارالنہر کہا جاتا تھا ۔

یہ قبیلہ غالباً جاجی کے علاقہ یعنی ماوارالنہر کے علاقے سے آئے تھے اور غالباً یہ سیتھی یا ترک النسل تھے اور اس علاقہ کی نسبت سے جاجی کہلاتے تھے ۔ رفتہ رفتہ یہ بھول گئے کہ جاجی کسی علاقہ کا نام ہے اور وہ اس کو شخصیت تصور کرے اسے شجرہ نسب میں شامل کرلیا ۔ اڑیسہ کے علاقہ میں ایک شہر جاج نگر تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں