61

جدید ہندو دھرم میں برہمن کا عروج

ارتھ شاستر میں خزانہ کی کمی کو پورا کرنے کے جو طریقے بتائے گئے تھے ان میں نئے نئے طریقہ پوجا کے اختیار کئے جائیں ، چاہے وہ ناگوں سے تعلق رکھتی ہو یا بھوت پریتوں سے اس طرح جاہل عوام کو بے وقوف بنا کر نئے نئے طریقے ایجاد کیے جائیں اور وہ پیسہ خاموشی سے خزانہ میں چلا جائے ۔ کوٹیلہ کا برہمن ہو کر اس طرح کی تجویز کرنا کچھ عجیب لگتا ہے ۔ تیسری صدی تک بہت سے برہمن اسے توہمات کہتے اور حقارت سے دیکھتے تھے ۔ دیا کرن کا ماہر پاتنجلی سرسری طور پر ذکر کرتا ہے کہ موریوں نے پیسہ کی خاطر اس طرح کے طریقے ایجاد کیے تھے ۔ اشوک کے بعد ریاست نے ایک کام طبقات کی باہمی مفاہمت ۔ جس کا ارتھ شاشتر میں تصور نہیں ہے ۔ ارضی صفائی ، اراضی کی آبادکاری اور سخت جکڑی تجارت کی جو حکمت عملی مگد نے اختیار کی تھی اس میں اندر ہی اندر طبقات بڑھتے جارہے تھے ۔ اس کاروائی میں ایک مفہاتی نئے معنوں میں دہم تھا ۔ جلد ہی اس کا معنی مذہب ہوگئے ۔ لیکن یہ کسی طرح بھی وہ مذہب نہیں تھا جس کا پیروکار اشوک تھا ، اس کے بعد یہ روایت بن گئی کہ آئندہ برصغیر کی نمایاں طریقوں کو دھم کا گمراہ کن غلاف پہنا دیا جائے ۔ اس اصلاحات نے پرانی آریائی قبیلوں کے پروہتائی برہمن کو ایک دم تبدیل کردیا ۔ قدیم برہمن کے مظبوط بنیاد پنجاب کے قبیلوں کی بنیاد چوپانی اور یگیہ پر تھی ۔ پہلے سکندر کے حملے پھر مگد کی فتوحات نے توڑ ڈالا ۔ مگدھ کی زراعت و فلسفہ اور بدھ ، جین اور آجیوک جیسے فرقوں نے اہنسا کی تلفین کرنے والوں کو ویدک رسموں کو وادی گنگا میں پھیلے سے روک دیا اور صرف چھٹی صدی عیسوی تک چند سادہ لوہ راجاؤں نے یگیہ کی رسم ادا کی تھی ۔

کرشن پوجا ویدوں کے ذوال کا مظہر تھی ۔ اس پوجا کی بدولت ایک اہم طبقہ روایتی قبائلی بندھنوں اور ویدک رسموں سے آزاد ہوگیا ۔ قدیم ہندوستانی سماج میں برہمنوں کا ہی ایک طبقہ تھا جس کے لیے تعلیم حاصل کرنا لازمی تھا ۔ یہ برہمن کسی آشرم میں تنہایوں میں گرو کی خدمت بیٹھ کر وید اس طرح یاد کرتے تھے کہ لفظوں کے تلفظ ، لب و لہجہ کی ذرا سی غلطی نہ ہوجائے ۔ ، کیوں کہ اس وقت تک وید کو حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا تھا ۔ اشوک اور اس کے جانشینوں نے برہمنوں کے لیے احترام کا اظہار کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تعلیم ، ثقافت ، سماج میں ایک طبقاتی ڈھانچے کا قیام ، ناقابل مفاہمت جماعتوں کے باہمی امتزاج و اتحاد اور زرعی سماج کی عام توسیع میں ذات پات نے ایک ایسا کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا جس سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ۔

سنسکرت میں بھی ایک زندہ زبان کی حثیت سے اس میں تنوع نظر آنے لگا ۔ کیوں کہ سنسکرت میں مقامی بولیوں کے الفاظ قبول کرنے کی وجہ سے اس الفاظ اور محاوروں میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔ سنسکرت تیزی سے اونچے طبقہ کی زبان بن گئی جس صرف تعلیم یافتہ آدمی سمجھ سکتے تھے اور اس زبان کی کی رسمی تعلیم برہمنوں کے ہاتھ میں رہی ۔ چوتھی صدی کے بعد یہ زبان خطوط ، احکامات ، عام اطلاعات ، عدالتی فیصلوں میں بھی استعمال ہونے لگی ۔ سنسکرت میں افعال کے جو عجیب و غریب دعائیہ فقرے پائے جاتے ہیں اس لیے اس پر ہمیشیہ ایک پروہتی زبان کی چھاپ لگی رہی ۔ اس میں روز مرہ کے استعمال کے سادہ فعل اور مستقبل کا بھی فقدان ہے ۔ برہمنوں کے حریف قدیم قوموں کے پجاری تھے ۔ جن میں ہر ایک اپنے قبائلی گروہ تک محدود تھا ۔ ان قبائلی پروہتوں میں اکثر کو ان کے توہم پرستانہ علم و عقائد کے ساتھ برہمن دھرم میں جذب کرلیا ۔ بعض اوقات کسی کسی پیشہ ورانہ ذات یا قبائلی ذات کی پروہتائی کے کان کو بھی برہمنوں نے سمبھال لیا اور ان میں اپنے پوجا پاٹ کے طریقوں کا اضافہ کردیتا ہے اور قدیم مذہبی رسوم کو یا تو خارج کر دیتا ہے یا انہیں معتدل بنا دیتا ۔ برہمنوں نے ولادت ، شادی ، شاگرد سازی ، متبرک رسوم کی ادائیگی برہمن کرنے لگے تھے ، وہ بیج بونے کے وقت فضلوں کو برکت دیتا تھا ۔ نجس ستاروں کو مہربان و سازگار بنا سکتا تھا ناخوش دیوتاؤں کو خوش کرسکتا تھا ۔ جنم پتری بناتا تھا اور اس سے پیشگوئی بھی کرتا تھا ۔ اس طرح ویدک رسوم بھلائی جانے لگیں ، نئی مذہبی رسوم جو زرعی و تجارتی سماج کے لیے کی جاتی تھیں برہمن ذات پات سے قطع نظر یہ رسم ادا کرتے تھے ۔ لیکن ایک معقول فیس لے کر اور اس شرط پر کہ برہمنوں کے رواج و دستور کا احترام کیا جائے گا ۔ معلوم ہوتا ہے تیسری ق م میں ہی گہ پتی کا مفہوم زمین کا مالک کسان یا دولت مند ویش ہوگیا ، ایک بڑے کنبہ کے سربراہ کو مہشال کہتے تھے ۔ خواہ وہ گہ پتی ہو کہ نہیں ۔        

قبائلی اور پیشہ ورانہ ذاتوں میں برہمن رفتہ رفتہ گھس آئے اور یہ عمل اب تک جاری ہے ۔ اس کے معنی تھے کہ نئے دیوتاؤں کی پرستش جس میں کرشن بھی شامل تھا اور جس نے سکندر کے حملے سے پہلے اندر کو پنجاب کے میدانوں سے نکال باہر کیا تھا ۔ قبائلی رسوم و مذہب کی نوعیت میں فرق آگیا تھا ۔ کیوں کہ قبائلی دیوتاؤں کو اور برہمنوں کے دیوتاؤں کو ایک بنادیا گیا گیا یا نئے صحیفے لکھے گئے ۔ جن میں ان دیوتاؤں کو قابل احترام بنا دیا گیا ۔ یہ نئے دیوتا یا وہ مختلف دیوتا جن کو حال ہی میں ایک بنا دیا گیا تھا اپنے ساتھ نئی رسوم عبادت لے کر آئے تھے اور خصوصی تقریبات کے لیے قمری کلینڈر کی خاص تاریخیں اور سفر و زیارت کے نئے مقدس مقامات وجود میں آئے ۔ جن کو زیادہ قابل احترام بنانے کے لیے اساطیری داستانیں پیش کی گئیں ۔ حالانکہ یہ مقامات تھے جو برہمنوں سے پہلے وحشیوں کے مرکز تھے ۔ مہابھارت ، رامائن خاص کر پرانوں میں اس قسم کا مواد بھرا ہوا ہے ۔ غیر قوموں کو جذب کرنے کا طریقہ کار خاصہ دلچسپ ہے ۔ نہ صرف کرشن بلکہ بدھ اور قدیم قبائلی نشان والے دیوتا جن میں مچھلی ، کچھوا اور سور شامل ہیں ۔ وشنو نارائن کے اوتار بنا دیے گئے ۔ ہنومان جو زراعت پیشہ لوگوں میں مقبول تھا اور اس کی پوجا کی جاتی تھی وہ وشنو کے ایک اوتار رام کا خدمت گار ساتھی بن گیا ۔ زمین کو سر پر اٹھانے والا عظیم ناگ کو وشنو نارائن سمندر میں سوتے وقت اپنے چھتر دھاری بستر کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ ناگ شیو کا ہار اور گنیش کا ہتھیار ہے ۔ ہاتھی کے سر والا گنیش دیو شیو یا شیو کی بیوی کا بیٹا ہے ۔ خود بھوتوں اور راکشوں کا حاکم اعلیٰ ہے ۔ جن میں دیتال جیسے بہت سے اور قدیم دیوتا جن کی دیہاتوں پوجا ہوتی ہے شامل ہیں ۔ شیو کا سانڈ نندی جس ک جنوبی ہند میں جدید حجری دور میں پوجا جاتا تھا ۔ لیکن اس پر سواری کوئی نہیں کرتا تھا اور موہجوڈارو کی لاتعداد مہروں میں یہ اکیلا ہے ۔ اس طرح اختلافی اجرا کا مرکب مسلسل ڈھیر ہوتا رہا ۔ ان تمام داستانوں کو یکجا کرنے سے ایک بے ہنگم ، متناقص اور منتشر مواد وجود میں آیا ، لیکن اس عمل کی اہمیت کم نہیں کرتا ہے ۔ نئے جذب کردہ قدیم دیوتاؤں کی پوجا باہمی ثقافت کو ثقافتی نظام کا ایک حصہ تھی ۔ یعنی ایک طرح کا لین دین ۔ مثلاً ناگ کو پوجنے والے شیو کے سامنے سر جھکانے کے ساتھ ناگ دیوتا کی پوجا ہوجاتی تھی اور شیو کے پوجا کرنے والے شیو کے ساتھ ناگ کو بھی خراج تحسین پیش کردیا کرتے تھے ۔ مادری برتربی و اقتدار کا اصول ماننے والوں کے لیے دیوی ماں کسی دیوتا کی بیوی مان لی گئی ، مثلاً درگا و پاروتی جن کے اور بھی نام ہوسکتے ہیں جیسے نکائی یا کالو بائی شیو کی بیوی تھی اور لکشمی وشنو کی ۔ مخلوط و مرکب دیوتائی خانوں نے مختلف مذہبی فرقوں کو ایک مرکز پر لانے کا عمل جاری رکھا ۔ کارٹیکا اور گنیش شیو کے بیٹے ہوگئے اور تمام دیوتاؤں کو ایک مرکز پر لانے کا عمل ایک قسم کے شہنشاہی دربار کی شکل میں جمع کر دیا ۔ دیوتاؤں کی شادیاں ظاہر کرتی ہیں کہ شادی ایک مسلمہ رواج بن چکا تھا ۔ اور مختلف دیوتاؤں کو پوجنے والے جو ایک دوسرے کے دشمن تھے اب ایک سماج میں ضم ہوگئے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر یہ دیوتاؤں کی شادیاں ناممکن ہوتیں ۔ نئی جاتیوں کو وہ مرتبہ ملا جو مشترکہ سماج میں ان کی اقتصادی حالت کے مطابق تھا ۔ انہوں نے اپنی ذاتوں میں شادی اور ایک دوسرے کے ساتھ کھانے کے طریقہ جو ان میں مروج تھے بغیر کسی تبدیلی کے قبول کرلیے گئے ۔ اس حثیت سے تحفظ کی ضمانت وہ احترام جو ان دیوتاؤں کو مجموعی طور پر پورے سماج حاصل تھا اور وہ خود بھی اپنے بدلے ہوئے دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ نئے دیوتاؤں کی پوجا کرکے نئے سماج کا ایک اہم ترکیبی جزو بن گئے ۔

اس باہمی ثقافت پزیری کے ساتھ نیا طبقاتی ڈھانچہ وجود میں آیا ۔ بعد کے دور کے برہمن گرنتھ چانکیہ کی طرح اس پر زور دیتے تھے کہ سماجی نظام کی بقا کے لیے لازمی ہے کہ راجہ کو طاقت اور قانون عصائے دراز (ڈنڈینتی) کا استعمال ضروری ہے ۔ قبائلی نسل کے بہت سے راجاؤں نے رحم زریں (برہنہ گربھ) کی رسم منانے کا فخریہ دعویٰ کیا ۔ بعض پرانوں میں اس کی تفصیل دی گئی ہے ۔ سونے کا ایک بڑا برتن تیار کیا جاتا تھا جس میں راجہ کو دوہرا ٹھونس دیا جاتا تھا کہ جیسے رحم مادر میں بچہ رہتا ہے ۔ پھر اجرت پر بلائے گئے پروہت حمل و ولادت کے مخصوص منتر پڑھتے اور اس کے بعد راجہ حمل ذریں سے اس طرح برآمد ہوتا گویا دوبارہ پیدا ہوا ہے ۔ دوبارہ پیدا ہونا ہی نہیں ہوا بلکہ اس کو ایک نئی ذات مل جاتی تھی ۔ یہ ذات عموماً کشتری ذات ہوتی تھی اور پروہت برہمن کا گوتر اس کا بن جاتا تھا ۔ بہت سے دوسری بار پیدا ہونے والے عہد وسطیٰ کے راجے سات راہن گوتم پتر کی طرح یک قت برہمن اور کشتری ذات کے مدعی ہوجاتے تھے ۔ سونے کا برتن برہمن کو دکشنا کے طور پر مل جاتا تھا ۔ اس طرح ہر شخص خوش ہوجاتا تھا ۔ بعد کے کچھ بدھ راجہ بھی طبقاتی نظام کی حمایت کرتے تھے ۔ حالانکہ ان میں سے بعض کا دعویٰ تھا کہ وہ ناگ قبائلیوں یا مہابھارت کے نیم ناگ اشو تھامن یا رامائن کے کسی بوزنے کی اولاد ہیں ۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ ویشہ اور شودروں کی نو ساختہ جماعت برہمنوں کی عظمت اور کشتریوں کے آگے ہتھیاروں کے ذریعے انہیں زیر کیا جائے ۔ سردار قبیلہ چند امرا کی حمایت سے جو قبائلی قانون سے آزاد ہوچکے ہوتے اپنے سابق قبیلے کا حکمران بن جاتا ۔ جب کہ عام قبائیلی کسانوں کی نوساختہ جماعت میں ضم ہوجاتے ۔ بعض اوقات برہمن سرادر کے لیے پرانوں یا رزم ناموں میں سے اہل باعزت شخص تلاش کرتے  اور اس حسب و نسب کو باقیدہ یاداشتوں میں درج کرکے ایک قدم آگے بڑھایا جاتا ۔ یعنی برہمن اس قبیلہ میں شادی کرلیتا اور اس سے نئے  مخلوط برہمن پیدا ہوتے ۔ جیسا کہ چھٹی صدی عیسوی میں ہوا مخلوط نسل کے یہ اخلاف قبیلے پر حکومت کرنے لگے ۔ بعد کے زمانے میں بنگال کا راجہ لوک ناتھ فخریہ کہتا ہے کہ اس کا باپ برہمن تھا اور ماں قبائلی سرادر (گوتر دیوی) تھی ۔ مالا بار میں ایک ذات نار تھی اس کی مائیں برسر اقتدار طبقہ سے تعلق رکھتی تھیں اور باپ نمبودری ذات کے برہمن ۔ یہ دونوں گروہ جداگانہ رواج قائم رکھے ہوئے ہیں ۔

قبائیلیوں کا انتشار اور ان کا زرعی سماج میں ضم ہوجانا صرف سردار قبیلہ کو اور اس کے چند بڑے بڑے ارکان کو ہم نوا بنانے سے ممکن نہیں ہوسکتا تھا ۔ عوام اپنی روزانہ ضروریات کو جس طریقہ سے پورا کرتے تھے اس کا تبدیل کرنا بھی ذات پات کے ڈھانچے کی کار کردگی کے لیے ضروری تھا ۔ قبیلہ مجموعی طور پر اپنے نئے کسانی جاتی میں تبدیل ہوگیا اور عام طور پر ان کا درجہ شودروں کا رہا اور انہوں نے جس قدر ممکن تھا پرانے رواجوں کو قائم رکھا ۔ جس میں اس قبیلے کے اندر شادی کا رواج بھی شامل تھا ۔ برہمنوں کو زمینوں کے عطیات کے علاوہ بھی ہر گاؤں میں ایک خطہ زمین اور زرعی فضل کا ایک حصہ پوجا کے کاموں میں صرف کے کاموں اور پروہتوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا ۔

برہمن ہر جاتی یا قبائل کی رسوم و قدیم روایات کو کسی خاص تریم شدہ شکل میں محفوظ رکھتا تھا ۔ اس لیے ضروری تھا ان رسومات کو جائز ثابت کرنے کے لیے مقدس کتابوں سند ملے ہو ، عہد وسطیٰ کا عام قائدہ تھا کہ کسی جاتی کو راجہ کے منصف اس کا فیصلہ استواب رائے سے کرتے تھے ۔ اب بھی یہ روایات پنچایت کی شکل میں برقرار ہے ۔ کسی اعلیٰ قانون سے پہل کرنے کا موقع اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انفرادی حقوق کا ارتقاء ہوچکا ہوتا ہے یا مختلف جماعتوں کے اراکین مقدمہ بازی میں پھنسے ہوں ۔ ارتھ شاستر کا سخت عدالتی نظام جو ہر رواج سے بالاتر تھا موریہ خاندان کے ساتھ ختم ہوچکا تھا ۔ اس طرح ہندوستانی سماج بہت سے متناقص سے مل کر کم سے کم تشدد کا استعمال کرتے ہوئے تشکیل پاسکے ۔ اس طریقہ نے ثقافت کی ترقی کو ایک خاص سطح سے بلند ہونے سے روک دیا ۔ توہم پرستی پر زور دینے سے بے معنی رسوم کو فروغ حاصل ہوا ، عہد وسطیٰ کے برہمن وزرا نے ریاست نے مقدس کتابوں سے انتظامی پر جو دو مجموعہ قانون مرتب کیے وہ ارتھ شاستر سے متعضاد ہیں ۔ یہ دو کتابیں کرتیہ کلب ترد بھٹ لکشمی (۱۱۷۵) اور چتر ورگ چنتا منی (۱۲۷۵) کی ہیں ۔ ان پہلا راجہ گوندچندر گاہدوال والی قنوج کا ایک بلند مرتبہ وزیر اور دوسرا دکن کے یادو راجہ رام چندر والی دولت آباد کا وزیر اعظم تھا ۔ یہ دونوں کتابیں ہر موقع اور ہر تاریخ کی خصوصی عبارتی رسوم کے اصولوں سے بھری ہوئی ہیں ۔ ان کتابوں کو شائع کیا جائے تو ہر ایک موٹی موٹی بارا جلدوں پر مشتمل ہوگی ۔ ان کے بشتر حصہ یاترہ کے اور کفارہ ادا کرنے طریقے ، مردوں کی خصوصی رسموں ، تزکیہ نفس کی مہارتوں کا بیان ہے ۔ ان کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران کو ان رسموں اور کفارہ میں جکڑ دیا جائے اور توہم پرستی کے ذریعے اپنی حکومت مسلط کردی جائے ۔ ان کتابوں میں انتظامی امور کے بارے میں کچھ نہیں ہے ۔ انصاف کو محدود کرکے ہر گروہ کے اپنے غیر مضبط قوانین کی اجازت ہونی چاہیے ۔ آگ ، گرم لوہے اور زہر وغیرہ کے ذریعے جسمانی اذیت دے کر جھوٹ سچ کے امتحان کی اس وقت اجازت تھی کہ جب پیش کردہ شہادت کی بنا پر فیصلہ نہ کرسکے ۔ لیکن یہ اذیت زبردستی اقبال جرم کرانے کے لیے نہیں ہوتی تھی ۔ یہ دونوں ریاستیں پچیس سال کے اندر مسلم حملہ آوروں کے ہاتھوں ڈھیر ہوگئیں ۔

برہمن ذات پات کے جن قوانین کے محافظ تھے ان کو مضبط اور شائع کرانے کی زحمت کبھی انہوں نے نہیں کی ۔ ایک وسیع قانون کی بنیاد ہی قائم ہوگئی جو مساوات کے اصولوں پر قائم ہو ۔ جس کے نتیجے میں جرم اور گناہ ایک دوسرے میں غلط ملط ہوگئے ۔ انصاف کے اصول مذہبی حکایات میں دفن ہوکر ہر احمقانہ رسم و رواج کے لیے مضکحہ خیر جواز پیش کردیتی ہیں ۔ پیشہ ورانہ انجمنیں اور شہروں کے جو محفوظات جو پورے عہد وسطہ میں موجود رہے انہیں کبھی مطالعہ اور تجزیہ کے لائق سمجھا ہی نہیں گیا ۔ بے شمار قبائیلی جماعتیں و خاندانی ، پیشہ ورانہ انجمن کی بدولت جو شاید اس ترقی میں اضافہ کرسکتی تھیں جو ہندوستانی ثقافت نے کھو دیا تھا ۔ ذات پات کے بندھنوں کو کی سختی اور ذاتوں کی علحیدیگی پسندیگی نے طبقہ ، پیشہ ، ذات اور مذہب سے قطع نظر عدل و انصاف کی بنیاد ہی نہ رہی ۔

برہمنوں کی پیش کردہ منظق میں حقیقت سے گریز کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ شنکر (۸۰۰ٌ) کے فلسفہ میں نظر آتا ہے ، جو کہتا ہے کہ کوئی شے الف ہے یا لا الیف اور یہ رائے قائم کی گئی کہ کائنات کئی سطحوں پر مابعد الطبیاتی درجوں میں تقسیم ہے اور انسان کائنات کے بنیادی عناصر پر غور فکر کرے ان کے ساتھ وصل ہوجائے ۔ مادی حقیقت کا کوئی وجود نہیں ہے ، اس طرح یہ فلسفی اگر عبادتی رسوم کی سطح پر لوگوں میں شامل ہوجاتا تو اس پر اعتراض نہیں ہوتا تھا ۔ بدھ مت کے بعد برہمنوں کو اہنسا کی تلفین کرنی پڑی تھی ۔ اس کے پہلو بہ پہلو جانوروں کی قربانی والے ویدک یگیہ کے لیے زبانی ہمدردی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ سمرتی کی مقدس کتابوں میں نباتات خوری کو بھی لازمی قرار دیا گیا اور اس کے ساتھ مختلف قسم کے گوشت کی ایک فہرست درج ہے جو برہمن مہمانوں کو کھلایا شرادھ پر کھلایا جاتا تھا جو کہ مردہ اجداد کی خاطرکی جاتی تھی ۔ منطقی تصادات کو ہضم کرنے کی صلاحیت ہندوستان پر چھاپ لگی ہے ۔ منطقی استدلال کا عدم دنیاوی حقیقت کی تحقیر ادنیٰ کاموں کو کرنے سے معذوری ، بنیادی اصولوں کو سمجھے رٹ لینے پر زور دینا اور اس کی تفسیر کا کام کسی گرو پر چھوڑ دینا ۔ روایات کا احترام کرنا خواہ وہ کتنے ہی احمقانہ کیوں نہ ہو اور ان سب کی پشت پر جعلی قدیم اسناد کی طاقت یہ ایسی باتیں ہیں جس کا ہندوستانی معاشرے پر تباہ کن اثر پڑا ۔ برہمنوں کے پاس یاترا کی مقامات کی لمبی فہرست تھی جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے بلکہ سرحد کے پار مصر میں بھی تھے ۔ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن کی شناخت ہی نہ ہوسکی ۔ کیوں کہ سفر کا کوئی تفصیلی بیان اور درست محل وقوع کہیں دیا نہیں گیا ہے ۔ قدیم مقامات اور کھنڈروں کی شناخت کے لیے یونانی ، عربوں اور چینی زائرین پر بھروسہ کرنا پڑتاہے ۔ [

انجام کار یہ ہوگیا کہ دیہاتی برہمن کو کسی دور دراز مقام پر بارہ سال تک ویدوں کا مطالعہ کرتا درکنار وہ لکھنے پڑھنے سے دور رہتا ہے ۔ اس کا جو دائمی حقوق اور فضیلت جو کہ ذات کے حوالے ملے ہیں وہ ان سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ۔ یہاں تک برہمن ٹیکس دینے کی نسبت برت رکھ کر دان دینا زیادہ پسند کرتا ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جعلی تامبے کے پتر ملتے ہیں جس کے لیے یونانیوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔ برہمنیت کی یہ ناکامی و معذوری اصل میں بے حس ، فی الواقع ، خود کفیل ، خود مکتفی غیر مسلح گاؤں کی فتح ہے ۔ جسے چانکیہ نے ریاست کی طاقت اور راجہ کے خزانے کی بنیادی پیداوار کہا تھا ۔ توہم پرستی کے غیر محدود فروغ نے حکمران طبقہ نے ان قبول کرنے پر مجبور ہوگئے کہ مذہب کے ذریعہ سماج پر قابو پایا جائے ۔

ساتواہن خاندان نے عروج پاکر چاروں ذاتوں کے سماج پر حکمران بن گئے ۔ بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا وہ ایک برہمن بیوہ سے ہیں ، جس کی قدیمی ناگ نسل کے ایک شخص نے گواردی کے ایک تالاب پر عصمت دری کی تھی ۔ افزائش نسل کی قدیم رسمیں مثلاً تانترک پھر نمودار ہوگئیں ، جنہیں برہمنوں نے بلکہ بدھ اور جین مت نے بھی داخل مذہب کرلیں ۔ مذہب کے عقائد کے ساتھ فروغات کی اتنی بھرمار ہوئی کہ مذہب پس پشت چلا گیا ۔ قدیم زہد و ریاضت بعض صورتوں میں قائم رہا ۔ برہمنوں نے جن دیوتا کو پرانوں میں لکھ لیا وہ کسانوں اور قبائل میں پوجے جاتے تھے ۔ ایک مثال کشمیر کے ناگ نلمت کی ہے ۔ جس کی پوجا بدھ مت کی وجہ سے متروک ہوگئی تھی ۔ لیکن نلمت پران کی وجہ سے دوبارہ زندہ ہوگئی ۔ جسے برہمنوں نے خود لکھا اور خود بھی اس کے سہارے زندہ ہوگئے ۔ بدھ مت اور اسلام کبھی اس معنون میں ریاست کا مذہب رہا ہے اور نہ انہوں نے کبھی حریف عقیدے کو دبایا ۔ بدھ مت کے آغاز سے ہی برہمن بدھ سنگھ میں شامل رہے اور انہوں نے اپنی ذہنی روایات کو زندہ رکھا ۔ انہون نے تازہ مروجہ برہمنی تصورات کو جو مذہبی پوجا پاٹ کو بے دلیل تسلیم کرلیا ۔ اس طرح برہمنوں نے ماس کھانا چھوڑ دیا اور جانوروں کو نہ مارنے (اہنسا) کو اپنے خاص عقیدہ تسلیم کرلیا ۔ برہمنیت کا فلسفہ اپنی ماہیت میں دنیا کی حقیقت کو نہیں مانتا تھا ۔ موریا خاندان کے بعد جو راجہ آئے انہوں نے برہمنوں پر عنایتیں کیں ۔ پہلے شنگ راجہ نے گھوڑے کی قربانی یگیہ کی صورت میں منائی ۔ چوتھی صدی عیسوی میں برہمنوں کو ارضیات عطیات میں دیتے وقت اپنے فرمانوں میں مہابھارت کے الفاظ نمایاں طور پر لکھے جاتے تھے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں