74

جرگہ

قبائیلی علاقوں میں ہر یا اور قبیلے کی ایک نمائندہ مجلس یاپنچایت جرگہ کہلاتی ہے ۔ قبائیلی جرگہ کے علاوہ علاقائی جرگہ بھی ہوتا ہے جو عموماً مختلف قبائل کے درمیان تنازع کو طہ کرانے کے لئے مصالحت کروانے والے قبائل فریقین کا جرگہ بلاواتے ہیں اور اس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں ۔ یہ علاقائی جرگہ ہوتا ہے ۔ قبائیلی علاقہ میں پولیٹکل احکام بھی بلواتے ہیں ۔اس طرح مفرور ، شورش پسند اور بغاوت کے مرتب افراد کے خلاف تعزیاتی کاروائیاں اور علاقہ بدر کیا جاتا ہے ۔ اس طرح جرگہ کی بدولت حکومت قبائیلی معملات میں دخل دیئے بغیر باآسانی ناپسندہ افراد کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے ۔ اس لیے ان جرگوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں ۔
پشتون قبائل سخت انفرادیت پسندی ، خود پسندی اور شورش پسند ہونے کی وجہ سے ان پر حکم چلانا ممکنات میں شامل نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے یہ ایک سردار کے ماتحت میں نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ اپنے معتبر خود منتخب کرتے ہیں جو کوئی خاص اختیارات کے مالک نہیں ہوتے ہیں ۔ انہیں بھی فیصلے کرنے کااختیار نہیں ہوتا ہے ۔ اس لئے انہیں اپنے فیصلے منوانے کے لئے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ ان میں اثر و رسوخ ، سازش ، پشت پناہی اور مال و دولت کا استعمال شامل ہے اور جرگہ کے ذریعے قبائیلی عمائدین کو مٹھی میں رکھا جاتا ہے ۔ دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری کو محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ اس طرح جرگہ کے فیصلے بھی عموماً طاقت کے توازن کے مطابق ہوتے ہیں ۔ 
ایک عام جرگہ کے فیصلے عموماً تین طرح سے نافذ کئے جاتے ہیں ۔ یہ فیصلے دوغہ کہلاتے ہیں ۔ 
(1) نیکہ = یہ عموماً قتل یا تور (بدنامی) کے بدلے جرگہ کے فیصلہ سے مجرم سے ایک بھاری رقم لیجاتی ہے ۔ لیکن مدعی خلاف ورزی کرے تو رقم واپس کردی جاتی ہے ۔ 
(2) سورہ = اس کے معنی بدلے کی لڑکی کے ہیں ۔ یہ عموماً کسی لڑکی کے اغوا یا مرضی کی شادی ہونے کی صورت میں بدلے میں لڑکی لی جاتی ہے ۔ 
(3) شڑونے = یہ کلمہ شڑل جس کے معنی بھگانا ، دھتکارنا ، دیس سے نکال نا اور شہر بدر کرنے کے ہیں اور شڑونے کے معنی نکلنے والے کے ہیں اور یہ کلمہ قندھار کے علاقہ میں کشندہ یا کشنوندہ بھی کہلاتا ہے ۔ 
افغانستان میں لوئی جرگہ جو طالبان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے اتحادیوں نے بلوایا تھا ۔ لوئی کے معنی بزرگ کے ہیں اس طرح لوئی کے معنی بزرگ جرگہ کے ہیں ۔ یہ سب سے پہلے احمد شاہ ابدالی نے اس لئے بلوایا تھا کہ افغانوں کو ایک علحیدہ ملک اور حکومت کے تحت منظم کیا جائے ۔ اس جرگہ نے احمد شاہ ابدالی کو افغانستان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا ۔ پاکستان کی آزادی کے وقت ایک قبائیلی جرگہ نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا ۔
جرگہ کی راویت صرف پٹھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب کے قبائیل میں بھی ہے ۔ آزادی سے پہلے قلات کا شاہی جرگہ ہوا تھا جس نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا ۔ 
جرگہ کا طریقہ کار صرف پتھانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا ہے ، بلکہ اس کا رواج وسط ایشیا اور منگولوں میں بھی تھا ۔ چنگیز خان نے منگولوں کی قیادت سمھالنے سے پہلے منگولوں کی ایک نماندہ مجلس بلائی تھی جس نے اسے باقیدہ خان منتخب کیا ۔ اس طرح تیمور کو امیر منتخب ایک قبائیلی مجلس نے کیا تھا جس میں قبائیلی سردار ، عمائدین اور علماء شریک تھے ۔ 
چنگیز خان اور تیمور منتخب ہونے سے پہلے طاقت ور ہوچکے تھے اور دور دور تک ان کا کوئی مد ،قابل نہیں تھا ۔ مگر انہوں نے باقیدہ ایک اجلاس بلا کر خود کو منتخب کرا یا ۔ یہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جرگہ ان کی قدیم روایت میں سے ہے اور اس کی منظوری کے بغیر ان کا تقرر قانونی نہیں ہوتا ہے ۔ غرض جرگہ کی روایات کی جڑیں قدیم زمانے سے آریاؤں اور وسط ایشیاء میں ملتی ہیں ، اگرچہ اس وسیع پیمانے پر مقبولیت اور طاقت حاصل نہیں کرسکی ، جس قدر پٹھانوں میں ہے ۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جرگہ کو جہاں یا جس علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی وہاں جنگل کا قانون کے علاوہ کسی اور قانون کی عملدراری نہیں رہی ہے ، اور اس کو روکنے کا موثر طریقہ جرگہ ہی ثابت ہوا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں