101

جمشید

اوستا کے مطابق انسانوں میں تہذیب کا بانی اور اہورا کا بانی اور برگزیدہ انسان ۔ دیگر ماخذ کے مطابق مشہور آریائی بادشاہ اس نے دنیا کو آباد کیا اور بہت سی اصلاحات کیں اور قاعدے مرتب کئے ۔ اس نے قاعدے ، تنظیم ، پیشے ، علوم ، و تجارت کو فروغ دیا ، نیز بہت سی ایجادات کیں ۔ یہاں تک شیطان نے اسے گمرہ کردیا ۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور اپنی پوجا کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی ۔ یہاں تک کہ شام کے بادشاہ ضحاک تازی نے حملہ کرکے اسے شکست سی ۔ انگوری شراب کی ایجاد اس سے منسوب کی جاتی ہے ۔
جمشید کا اوستا میں نام یہنہ آیا ہے اور اس کے باپ کا نام دیوہونت ۔ اوستا میں یمنہ کے معنی جڑواں اور ہمزاد کے ہیں اور یہ نام رگ وید میں بھی آیاہے ۔ برہمنی کتابوں میں یم اور اس کی بہن ہمنی بمنزلہ آدم و حوا کے ہیں ۔ شید اوستا میں اس کے نام کا جز نہیں ہے ۔ لیکن دوسرے خطات میں خشت اس کے نام کا جزو ہے ۔ مسلمان مورخوں نے جمشید کی تفصیل لکھی ہے ۔ ابوالفدا لکھتا ہے جم بمعنی چاند شید بمعنی شعائیں ، یعنی شعاع قمر ۔ ابن اثیر ، ابن مسکویہ اور صاحب مجمل اس بادشاہ کی نیکی کے متعرف ہیں ، مجمل میں ہے کہ وہ اپنی نیکی اور اچھائی کی وجہ سے جمشید کہلاتا تھا ۔ دوسری جگہ لکھاہے کہ جم شید بمعنی سورج کے ہے ۔ شاید خشت اوستائی لفظ مرور زمانہ سے شید بن گیا ہو ۔شمالی ہند کے بہت سے مسلم قبائل جمشید کو اپنا مورث اعلیٰ قرار دینے لگے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں