82

جمشید

مشہور آریائی بادشاہ ، اوستا کے مطابق اس نے دنیا کو آباد کیا اور بہت سی اصلاحات کیں اور قائدے مرتب کئے ۔ اس نے قائدے ، تنظیم ، پیشے ، علوم ، و تجارت کو فروغ دیا ، نیز بہت سی ایجادات کیں ۔ شاہنامہ کے مطابق شیطان نے اسے گمرہ کردیا ۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور اپنی پوجا کو حکم دیا ، لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی ۔ یہاں تک کہ شام کے بادشاہ ضحاک تازی نے حملہ کرکے اسے شکست سی ۔ انگوری شراب کی ایجاد اس سے منسوب کی جاتی ہے ۔ 
جمشید کا اوستا میں نام یہنہ آیا ہے اور اس کے باپ کا نام دیوہونت ۔ یمنہ کے معنی جڑواں اور ہمزاد کے ہیں ۔ یہ نام رگ وید میں بھی آیاہے ۔ برہمنی کتابوں میں یم اور اس کی بہن ہمنی بمنزلہ آدم و حوا کے ہیں ۔ شید اوستامیں اس کے نام کا جز نہیں ہے ، لیکن دوسرے خطعات میں خشت اس کے نام کا جزو ہے ۔ مسلمان مورخوں نے جمشید کی تفصیل لکھی ہے ۔ ابوالفدا لکھتا ہے جم بمعنی چاند شید بمعنی شعائیں ، یعنی شعاع قمر ۔ ابن اثیر ، ابن مسکویہ اور صاحب مجمل اس بادشاہ کی نیکی کے متعرف ہیں ، مجمل ہے کہ وہ اپنی نیکی اور اچھائی کی وجہ سے جمشید کہلاتا تھا ۔ دوسری جگہ لکھاہے کہ جم شید بمعنی سورج کے ہے ۔ شاید خشت اوتائی لفظ مرور زماننہ سے شید بن گیا ہو ۔ شمالی ہند کے بہت سے مسلم قبائل جمشید کو اپنا مورث اعلیٰ قرار دینے لگے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں