75

جنوبی ہند کی ذاتیں

جو آریائی اقوام جنوب کے علاقہ میں آئیں وہ غالباً تلنگا یعنی مدراس کے راستہ داخل ہوئیں تھیں نہ کہ بمبئی کے راستہ ۔ پہلے اس علاقہ کا نام آندھریا تھا ۔ کہ جاتا ہے اس علاقہ کا قدیم نام کُلنکا تھا یا ِکلنکا تھا ۔ یعنی کولوں کی سرزمین ۔ آجکل کے گوند غالباً کولوں کی باقیات معلوم ہوتے ہیں  ہندوؤں کے مذہب و نسل نے پوربی جزائر اپنا اثر ڈالا ہے ۔ وہ وہاں تلنگا کے راستہ سے گئے تھے ۔ ان جزیروں میں اور برمام کلنک یعنی کلنکا یا تلنگا کے باشندوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ ان علاقوں بہت امیر ہوگئے ۔ حالانکہ وہاں کی تجارت ایک ذات کومتی یا کومتیہ کے ہاتھ میں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم خالص دیشیا یعنی ویش ہیں جو کہ تیسرا ورن ہے اور شاستروں میں مشہور ہے ۔

تلنگا کے علاقہ سے جو چند لڈ خود کو راجپوت کہتے ہیں ۔ یہ دو ذاتیں ایلما عرف ویلما اور رتساور کہلاتے ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک تیسری ایک اور قدیم قوم ہے ۔ کہتے ہیں کہ اندرا یعنی اصل باسی تلنگا کے شمال اور پچھم کی جانب سے آئے ہیں ۔ یعنی دریائے گداوری اور وین گنگا کے کنارے کنارے ۔ ان کی اولاد شکل و صورت اور قد میں دکن اکثر باشندوں سے بہتر ہیں ۔

اوسطاً تلنگا مزارعے لاغر جسم والے ، سیاہ رنگ اور آرام طلب ہیں ۔ مدراس کی فوج میں  یہ سپاہی تھے اور کوئی شکایت ان کے بارے میں سننے میں آئی ہے ۔ نایک جو کہ فوج میں ایک عہدہ ہے ۔ یہ تلنگا کے علاقہ میں نمبردار کو کہا جاتا ہے ۔ 

اس علاقہ میں گاؤں یکجا ہوکر قلعہ کے طرح نہیں ہیں ۔ جیسا کہ ہندوستان اور مہارشترا میں دستور ہے ۔ بلکہ بنگال کی طرح کشادہ اور منتشر ہوتے ہیں ۔ یہاں کی پست ذاتیں وہیر اور بیدر ہیں ۔ ڈولی بردار تلنگانہ کے علاقہ سے تمام دکھن میں آباد ہیں ۔ شاید یہ بوئی ہیں اور مدارس میں ڈولی اٹھاتے تھے یعنی گنجم اور یہ لوگ مارشس ٹاپو تک جاتے تھے اور انہیں عام طور قلی پکارا جاتا تھا ۔

 بمبئی کا وہ علاقہ حیدرآباد سے متصل ہے وہاں اور میسور کے ساحلی علاقہ کے لوگ زیادہ تر لنگ پرست ہیں اور سباہ گر کا نام بھی لیتے ہیں ۔ یہاں بہت ذاتیں ہیں ۔ ان میں بانیبی فریبی اور مغرور ہیں ۔ اس ملک کے شمال میں ایک نہایت عمدہ زات ریدی جو بعض بعض امور میں جٹوں کی طرح ہیں ۔ اچھی شکل و صورت کے مالک محنتی کاشتکار خصوصاً کپاس کی کاشت کرتے ہیں ۔ یہ بیواؤں کی شادی کرتے ہیں ۔

دور جنوب میں ایک زراعت پیشہ دوکل یا اوکلگا آباد ہے ۔ کچھ مسلمان انہیں کونبھی کہتے ہیں اور ایک پادری دیواہ لکھتا ہے کہ یہ تامل ولالر ہیں ۔ دونوں غلط ہیں ۔ ووکل یا اولکگا کونبھی اور ولالر سے الگ قوم ہیں ۔ اس دیار میں نمبردار گودا کہلاتے ہیں ۔ دوکل اچھے سپاہی نہیں ہیں ۔ یہ گوشت خور ہیں اور ان کی گوتیں بہت سی ہیں ۔ ان میں ایک کا نام گنگا کارہ ہے ۔

ان علاوہ ساحلی علاقہ میں مختلف قومیں کاشت کاری کرتیں ہیں ۔ یہ غالباً قدیم قوموں کی باقیات ہیں ۔ مثلاً بیدر مالوہ یا پہاڑی وغیرہ میں یہ مکین یعنی بیگاری ذات ہولائیر کہلاتی ہیں ۔ جیسے کہ شمال میں وہیر اور جنوب میں پلی یا پلیر ہیں ۔ ٹہلایا یہاں کی زبان کا قدیم لفظ ہے ۔ قوم گولار یا گولاوادو یعنی گوالا کم بھی ہیں ۔ دہگر غالباً اہیر معلوم ہوتے ہیں ۔ ایک اور قدیم نسل اور چرواہ پیشہ کرنبر ہیں اور یہ بنجارے ہیں ۔ لمبدی نام کی ایک اور خانہ بدوش ذات درابی یا کھتو دورالی ہیں ۔ یہاں کے باشندے ایک زمانے تک ساحل پر آباد تھے اب یہ لنگ پرست ہیں ۔

تال کے علاقہ میں مزاروں سب سے عمدہ ولالر ہیں جو جٹوں کی طرح ہیں ۔ یہ اگرچہ اپنے مردوں کو جلاتے ہیں ۔ لیکن شادی اور دوسرے امور وغیرہ میں ہندو مذہب پر کم عمل کرتے ہیں ۔ گوؤ والے اداین کہلاتی ہیں اور ان میں سے ایک گوت علم داری یادَوَہ نام کی ہے ۔

ایامودلبار یا پلائی یا باینجاگہ جنوبی ہند میں دستکار گروہوں میں منقسم ہیں ۔ مثلاً ایک ایسا گروہ کو پنچلہ ہخم سبدھر کہتے ہیں ۔ جس میں ترکھان ، لوہار ، ٹھٹھیار ، معمار ، ایک اور ذات ہے ، کل پانچ ذاتیں شامل ہیں ۔ پست قوموں میں دو مشہور ہیں ۔ ایک پالی یا پالیر یعنی قوم دست راست دیگر پارباہ یعنی اقوام دست چپ اور کلار اور ماروار ہیں جن کا پہلے پیشہ چوری چکاری تھا ۔ اکثر رعایا اور راجا تندیمان زیادہ تر کلار ہیں ۔ 

کلار مارواڑ کی راموسی کے درمیان مشابہت ہے کہ یہ لوٹ و مار کا شوق رکھتی تھے ۔ جنوبی ہند میں عجیب طرح کا جھگڑا ہے ۔ دست راست اور دست چپ کے درمیان اکثر لڑتی رہتی تھے ۔

مالابار اور ٹرانکور میں قوم نیر بالادت آباد ہیں ۔ اسی طرح ساحلی علاقہ جو ان سے ہٹ کر ہے بونٹ اور کورگ آباد ہیں ۔ قوم نیر کا ایک رواج نہایت عجیب تھا کہ ہر عورت کے کئی شوہر ہوتے ہیں ۔ اس لیے باپ کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت عورت کے سلسلہ میں ہوتی ہے ۔ یعنی نواسہ اور بھانجہ وغیرہ بہ نسبت پوتا یا بھتیجا کے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔

ان کی شکل اور کردار اچھا ہے ۔ ان میں جو پڑھے لکھے ہیں وہ حساب کتاب میں ہوشیار ہیں ۔ اس ملک میں برہمن بھی بہت ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں کی اکثر عورتوں کا ایک خاوند برہمن ہوتا تھا ۔ چنانچہ برہمنوں کی آمزش بھی اس قوم میں ہے ۔ اس علاقہ میں ایک قدیم قوم پست چرار ہے اور ایک اور ذات ناگاوی اس سے بھی پست ہیں ۔

مالابار کے ساحلی علاقوں دو ذات تیر و شنار کے افراد کشرت سے آباد ہیں ۔ اس طرح میسور میں بھی قوم بلیارو اور ہلیاپیکا اسی طرح کی ہیں ۔ تیر کے معنی جزیرہ کے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ٹاپو مالدیب کے رہنے والے ان کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ نیر جن کا ذکر گزر چکا ہے ۔ اگرچہ وہ خود شودر ہیں اور تیر و شنار کو بالکل حقیر کہتے ہیں ۔ انگریزوں کی دور میں ان کے درمیان بڑا جھگڑا ہوا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شنار عورتیں پردہ کرتی ہیں ۔ تیر کے لوگ بہت عمدہ قوم ہیں ۔ صورت و شکل اچھی ، دولت اور لیاقت بھی بڑھی ہوئی ہے ۔ غالباً سراندیب کے باشندے ان کے ہم نسل ہیں ۔ 

جنوبی ہند میں عیسائی بکثرت سے ہیں اور یہ مختلف قوموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ممکن ہے یہ شنار ہوں گے ۔ قوم موپلہ بھی یہاں کثرت سے آباد ہے ۔ مالابار ملک کنارہ اور ٹراونکور کے علاقہ تنیولی میں ایک شاخ لبائی ہے ۔ کوئی بھی اجنبی موپلوں کے دو منزلہ چمکدار مکانات دیکھتا تو وہ ضرور کہہ گا کہ اس قوم کا تعلق ہند نہیں ہے ۔ ان کے گھر خانگی سہولتوں اور سکون میں لاثانی ہیں ۔ سستی جو دوسری جگہوں پر اہل ہند کی پہچان ہے یہاں نظر نہیں آتی ہے ۔ یہ مسلمان اور عرب سے آئے تھے جن میں مقامی غالباً تیروں کا میل ہوا ہے ۔   یہاں افریقی غلاموں کی اولادیں بھی آباد ہیں ۔ یہ مسلمان ہیں اور ان میں چند ایک عیسائی اور چند ایک ہندو اور چند ایک اپنے قدیمی مذہب پر کابند ہیں ۔

یہاں کے مسلمان انگریزوں سے مطمعین نہیں تھے ۔ اس علاقے میں بوہرہ بھی آباد ہیں اور یہ امن پرست اور تجارت کرتے ۔ یہ ایلچپور ، ناگپور ، اندور اور نصیرآباد وغیرہ میں بھی کثرت سے آباد ہیں ۔ ان کا گورا رنگ ہے اور اکثر باہر کا سامان فروخت کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہاں پارسی اور یہودیوں بھی آباد ہیں ۔ بوہروں میں مقامی آمزش بھی ہوئی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں