62

جوزف عاشق


جوزف نام عرف دولارے صاحب تخلص عاشقؔ تھا۔ ان کے والد کا نام مانوک اور فرانسسی نژاد اور بھوپال میں کپتان تھے۔ عاشق بھوپال میں 1271ہجری میں پیدا ہوئے۔ وفات کا سال معلوم نہ ہوسکا اتنا معلوم ہے کہ 104 ہجری میں زندہ تھے، بھوپال کے مقبول شاعر تھے اور گھر گھر ان کے چرچے تھے۔ بیگم صاحبہ بھوپال کی جانب سے جو مشاعرے منعقد کرائے جاتے تھے عاشق ان میں شریک ہوکر داد وصول کرتے تھے۔ عالم گیر محمد خان نمودؔ، عنایت محمد راسخؔ، عاقل محمد خان عاقلؔ، محمد عزیز اللہ خان عزیزؔ، شیخ منیر الدین تمیزؔ، شیخ نور الحسن اخلاصؔ، محمد شاہ میر خان عیشؔ اور سید ممتاز علی حافظؔ سے دن رات کی صحبت تھی جس کی وجہ سے عاشق کا شعر و سخن کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ نمونہ کلام یہ ہے۔

محو نظارہ ہوا کس کی نظر کے تیر کا
طائر دل پر گمان ہے طائر تصویر کا
آج میخانہ پہ واعظ بن کے پیتے ہیں شراب
شیخ جی قائل ہوں میں اس آپ کی تدبیر کا
مصحف رخ کے تصور میں یہ دل سے پارہ ہے
میں بھی حافظ ہوں اسی قران کی تفسیر کا
صورت فرہاد عاشقؔ پھوڑے پتھر سے سر
سنگ سے بھی سخت ہے دل اس بت بے پیر کا
اشک کا ہر ایک ہے سمندر کا جواب
ابر نیساں کب ہے میرے دیدہ تر کا جواب
نوک مژگاں دئے ہی ہیں تیر و نشتر کا جنواب
دونوں ابرو ہیں ترے شمشیر و خنجر کا جواب
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں