126

جٹ اور راجپوت

ابسن لکھتا ہے کہ پنجاب میں جٹوں اور راجپوتوں کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہے بلکہ قریباً قریباً ناممکن ہے ۔ ان کی روایات بنیادی طور پر ہندوانہ ہیں اور دیگر سماجی ریتیں مثلاً شادی وغیرہ ۔ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں عملی طور پر فرق کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ بعض انہیں الگ الگ ماخذ سے خیال کرتے ہیں اور بعض انہیں مختلف ادوار میں ہجرتوں کے نمائندے ۔ مگر دونوں کو اکثر نے ایک ہی نسلی ماخذ سے تسلیم کیا ہے ۔ مگر یہ قطعی ہے کہ جٹ اور راجپوتوں میں کچھ قدیمی نسل کے باشندے بھی شامل ہیں ۔ کیوں کہ پنجاب کے بہت سے جٹ قبائل میں ایسی بعض ایسی روایات ہیں جو ان کے غیر آریائی ماخذ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ جٹ قبائل مثلاً مان ، ہیر اور بھلر کبھی بھی راجپوت ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں ۔
پنجاب کے میدانوں میں اسلام کی عطا کردہ آزادی نے ذات کو پشت پر ڈال دیا اور سماجی حثیت بڑی اکائی تسلیم کی جاتی جاتی ہے اور ایسے خاندان بھی ملتے ہیں جو چند پشت پہلے جاٹ تھے مگر اب راجپوت کہلاتے ہیں ۔ بڑے طاقت ور قبائل سیال ، گونڈل ، ٹوانہ کو عملاً راجپوت اور ان کی چھوٹی برادریاں جٹ کہلاتی ہیں ۔ حتیٰ کوئی قبیلہ ایک جگہ راجپوت ہے تو دوسری جگہ وہ جٹ کہلاتا ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کوہستان نمک میں جب کوئی قبیلہ عرب یا مغل نہ ہو تو راجپوت ہے ۔ جب کہ راجپوت کی قابلیت کو نہ پہنچنے والے تمام قبائل جٹ ہیں ۔ جہاں کوئی راجوں کی روایات نہیں وہاں راجپوت نہیں ہوسکتے ہیں ۔ سکھوں کے دور میں جٹ غالب رہے ۔ مگر اس وقت تک سیاسی یا سماجی میدان میں راجپوت ہمیں کہیں نظر نہیں آتا ۔ گو یہاں کے جٹ بھی راجپوتوں کی طرح مختلف نسلی ماخذ کا دعویٰ کرتے ہیں ۔  
پنجاب میں جٹ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس نے تعداد کے معاملے میں راجپوتوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ سیاسی طور پر اس نے پنجاب پر خالصہ کی صورت میں حکومت کی ۔ حالانکہ سماجی طور پر جٹ کی حثیت میں روڑ ، گوجر اور آہیر حصہ دار ہیں ۔ یہ چاروں مل کر کھاتے پیتے ہیں اور تمباکو نوشی کرتے ہیں ۔ یقناً راجپوتوں کے مقابلے میں کہیں پست مانا جاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ اپنی بیواؤں کی شادی کر دیتا ہے ۔ اس علاقہ کے ایک ماہیے میں وہ اپنے بیوہ بیٹی کو کہتا ہے آ میری بیٹی شادی کر ، تیرا خاوند مرگیا تو کیا ہوا اور بھی بہت سے ہیں ۔ اس طرح وہ بیوہ کی شادی کرنے میں سب سے آگے ہے ۔ 
پنجاب میں راجپوتوں کی روایات جمنا کہ پار راجپوتوں سے نہیں ملتی ہیں ۔ کیوں کہ وہاں کے راجپوت جٹوں سے الگ ماخذ کے دعوے دار ہیں ۔ پنجاب کے جٹ اور راجپوت دونوں ایک مشترکہ                   نسلی ماخذ کو مانتے ہیں اور ان کی روایات بھی ایک مشترک ماخذ کی نشادہی کرتی ہیں اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ یہ فرق نسلی نہیں سماجی ہے ۔ اس مشترک ماخذ کے خاندان جن میں قسمت نے سرفرازی عطا کی وہ راجپوت بن گئے اور ان کی اولادوں نے اسے حاصل کرنے کے بعد نہایت کٹر پن کے ساتھ قوانین کی پیروی کی صورت میں باقی رکھا ۔ جس کے ذریعہ درجہ بندی کے ہندو پیمانے میں اعلیٰ و بالا ذاتیں خود کو نیچ و پست ذاتوں سے خود کو ممتاز رکھتی ہیں ۔ ان میں کمتر سماجی رتبہ والوں سے شادی سے انکار ، اپنے خون کا خالص پن محفوظ رکھتی ہیں ۔ ان قوانین سے رد گرادنی کرنے والا سماجی رتبہ سے گرجاتا ہے اور وہ راجپوت نہیں رہتا ہے ۔ جب کہ ایسے خاندان جنہوں نے علاقہ میں ایک ممتاز حثیت حاصل کرکے سماجی کم اور قوانین کی پیروی کی اور وہ نہ صرف راجہ بلکہ راجپوت یعنی راجوں کے پوت بن گئے ۔ 
انگریزوں کی آمد کے بعد بہت سے راجپوت قریشی ، عباسی یا مغل نسل کا دعویٰ کرنے لگے ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کسی طرح تقدس اور سماجی رتبہ کی وجہ سے چند پیڑیوں میں کوئی خاندان سید بن جاتا ہے ۔ جب کہ پہاڑی علاقوں میں ہندوؤں میں راجپوت بنے کا عمل بھی جاری رہا ۔ اس کے برعکس جمنا کے پار راجپوتوں میں تنزلی ہوکر جاٹ بنے کا عمل بھی جاری رہا ۔ کوئی راجپوت خاندان بیوائوں کی شادی کرے ، برہمنیت کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کردے یا تنگ دستی سے کھیتی باڑی شروع کر دے تو اس کا مرتبہ راجپوت سے گر کر جٹ کا ہوجاتا ہے اور ایسے بہت سے خاندان تھے جو پہلے راجپوت تھے مگر اب جٹ بن چکے ہیں ۔ خاص کر بیوائوں کی شادی کی وجہ سے یا زراعت کا پیشہ اپنانے کی وجہ سے ۔ 
سندھ ، بلوچستان خیبر پختون خواہ میں راجپوتوں کو کوئی نہیں جانتا ہے ۔ اگرچہ سندھ کی بہت سی ایسی ذاتیں ہیں جو راجپوتوں کے چھتیس کلی (شاہی خاندان) میں شامل ہیں ۔ مگر وہ اپنے کو سماٹ یا جٹ بتلاتے ہیں ۔ وہاں جٹ قبائل کے ایک ایسے گروہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کہ بلوچ ، بروہی یا سید نہیں ہیں ۔ اگرچہ ان میں مذہب اسلام ، زراعتی پیشے اور ان کی ماتحتی کے کے علاوہ کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔ وہاں راجپوت اور جٹ کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔ پنجاب میں راجپوت کی اصطلاح عملاً ان قبیلوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہوں نے سیاسی برتری حاصل کرلی ہے اور مغلوب ہونے انہیں ماتحت کیا یا انہیں وسطیٰ علاقہ کے صحراؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا ۔ انہیں اکثر و بشتر جٹوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ کوہستان نمک کے علاقہ جٹ کی اصلاح پنجابی میں چراہے ، گلہ بان کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ جاتکی میں بھی جٹ کے بجائے جت یعنی نرم آواز میں گلہ بان اور اونٹ چرانے والے کے ہیں اور خود کو جٹوں سے الگ اپنا ماخذ بتاتے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں