79

جہد اور دعا

ہماری جہد اور کوشش ہمارے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے ۔ جب کہ دعا ہمیں اعتماد بخشتی ہے ۔ یعنی پہلے عمل اور کوشش اور دعا بعد میں ۔ ہمارے بنی ﷺ مکہ کے کافروں سے بدر کے میدان میں ہتھیار باندھ کر پہنچے اور جنگ سے پہلے یہ دعا مانگی اے اللہ تو نے آج ہماری مدد نہ کی تو یہ مٹھی بھر بندے فنا ہوجائیں گے اور تیرا دین مٹ جائے ۔ آپ نے یہ دعا نہیں مانگی کہ اے اللہ تو ہمارے دشمنوں کا لڑائی سے پہلے فنا کردے ۔ بلکہ اللہ سے استدعا کی تھی اور نہ آپ نے مدینہ میں بیٹھ کر دشمنوں کو فنا یا مٹانے کی دعائیں نہیں مانگیں تھیں ۔ جیسا کہ آج ہمارے مولوی اور وعظ دعاؤں کے ذریعہ دشمنوں پر فتح پانے اور ہر کام کے لیے دعاؤں کی تلفین کرتے ہیں ۔ اہم بات یہ آپ ﷺ ہر نماز میں دعا نہیں مانگتے نہیں تھے اور اس کے لیے اس کے لیے کسی خاص اہتمام کرتے اور جب ضرورت محسوس کرتے تھے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ لیا کرتے تھے ۔ جب کہ ہمارے یہاں اس کے برعکس ہر نماز اور ہر مذہبی تقریب کے آخر میں دعائیں لازمی مانگی جاتی ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ دعاؤں کے لیے مذہبی تقریب منقد کی جاتی ہیں اور یہ پارسیوں کا اثر ہے ۔ جن میں دعا پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔ جب کہ چڑھائے اور منت کا ہندوئوں کا اثر ہے ۔ جہاں عبادت کا تصور یہی ہے کہ اس کے بدلے ہمیں دولت ، اولاد اور صحت دی جائے اور اس طرح کسی خاص کام پورا ہونے کی صورت میں اپنے دیوی یا دیوتا کو یہ لالچ دیا جاتا ہے کہ چڑھاوے چڑھائیں گے ۔ یہی کام اب مسلمان پارسیوں کی پیروی میں دعائوں پر ہمارے ہر کام کا انحصار ہونا لگا یا ہندوئوں کی پیروی میں منتوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

قران کی ایک آیت ہے ‘ان اللہ ما الصبرین‘ اس آیت کے طغرے آپ نے جگہ جگہ دیکھے ہوں گے ۔ ان طغروں میں اس آیت کے ساتھ اس کا غلط ترجمہ بھی درج ہوتا ہے کہ ’اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ’ ہے ۔ ہمارے یہاں صبر کے معنیٰ ایثار کے بتائے جاتے ہیں ۔ اس کی تشریح اس طرح کی جاتی ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جاؤ اور اللہ کو منظور ہوگا تو یہ کام ہوجائے گا ۔ حالانکہ یہ ترجمہ غلط ہے جو ہمارے یہاں قران کریم کے اردو ترجموں میں مروج ہے ۔ یہ آیت جہاں بھی آئی ہے وہاں مجاہدین کا ذکر ہے ۔ عربی میں صابر کے معنی اپنے معاملے میں ڈٹے رہنے کے ہیں ، یعنی لگاتار جہد اور کوشش کے ہیں ۔ اس طرح اس آیت کا درست ترجمہ یوں ہوگا ’اللہ جدوجہد اور کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہے’ ۔ اس آیات میں جدو جہد اور کوشش کی تعلیم دی گئی ہے نہ کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قسمت پر تکیہ کرنے کی ۔

سورۃ الم کی پہلی آیات میں قران کے متعلق آیا ہے کہ یہ تقویٰ والوں کے لیے ہدایت کی کتاب ہے ۔ یعنی جو لوگ برائیوں سے بچتے ہیں ۔ مگر ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ ہر وقت عبادت گزار ہی متقی پرہیزگار ہے ۔

قران کریم کے متعلق ہمارے ذہنوں میں یہ بیٹھایا جاتا ہے کہ قران کو سمجھنا بہت مشکل ہے اور اس کو تاویل و تفسیر کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ قران کریم میں ہی آیا ہے کہ ہم نے ہر بات کو آسان کرکے بیان کیا گیا ہے ۔

یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ برصغیر کے ترجمہ القران میں اس آیات اور دوسری کئی آیات کا ترجمہ غلط کیوں کیا گیا ۔
قران کریم کا پہلا ترجمہ شیخ سعدی نے فارسی میں کیا تھا اور برصغیر میں اسی ترجمہ میں کچھ ترامیم کے ساتھ شاہ ولی اللہ فارسی میں پیش کیا ۔ اس کے بعد برصغیر میں جو اردو ترجمے کئے گئے ان میں شاہ ولی اللہ کے اسی ترجمہ کی پیروی کی گئی ۔ کیوں کہ برصغیر میں جو بھی مذہبی مکتبہ فکر ہیں وہ اپنا سلسلہ شاولی اللہ سے جوڑتے ہیں ۔ البتہ چند جگہوں پر معمولی اختلاف ضرور ہیں ۔ اس وجہ یہ ہے ترجمہ کرنے والوں نے ترجمہ کرتے وقت اس میں اپنے مکتبہ فکر کو بھی مد نظر رکھا اور اس کی زبان کو آسان بنانے کی کوشش کی ۔ ورنہ صرف شاہ ولی اللہ کے ترجمہ کی پیروی کی گئی ہے ۔
ٍ اصل میں اسلام کو ایک طرف وضع حدیثوں سے اور قران کی تفسیر و تاویل اور اس کے غلط ترجمہ اور تشریح سے اسلام کو ایک گورکھ دھندہ بنا دیا گیا ہے ۔ جس کے ہمارے معاشرے پر نہایت غلط اثرات پڑے ۔ اس سے ہمارے معاشرے میں جہد اور کوشش کے بجائے قسمت پر شاکر ہونے کی خو آگئی اور کسی ناکامی پر یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کو منظور ہی نہیں تھا ۔ حالانکہ دعائیں بہت مانگیں تھیں ۔ ہم اپنی ناکامی پر غور و فکر نہیں کرتے ہیں اور اپنی ناکامی کو اللہ کی مرضی کہنے لگے ہیں ۔ اس سوچ نے مسلم معاشرے میں بگاڑ پیدا کردیا اور لوگ اپنے کاموں میں جہد اور کوشش کے بجائے دعائوں کے طلب گار ہوگئے ۔ تصوف کا پرچار بڑھ گیا ، حقائق سے زیادہ مانوق الفطرت فسانوں پر توجہ دینے لگے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ہر ذلیل و خوار ہونے لگے اور ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھادیا گیا کہ امام مہدی پیدا ہوں گے جو کفار کے خلاف جہاد کرکے ان قتل کریں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ آسمان سے اتر کر ان کافروں کے خلاف جہاد کریں گے اور اس سے پہلے تک تم یوں ہی ذلیل و خوار ہوتے رہو گے ۔ یہی تمہاری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔
حقیقت میں اگر ہمیں ذلت سے نکلنا ہے تو علم و فنون کی طرف توجہ کرنی ہوں گیں ۔ ہم دعا سے ہر چیز حاصل کرنے کے بجائے محنت اور جدوجہد کریں ۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی کہ دعا تقدیر کو پلٹ دیتی ہے ، موت کو واپس لوٹ پر جانے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت کرنے کے بجائے خدا سے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں یا کسی بزرگ سے دعائیں منگوائیں یا مذہبی محفلیں منقد کروا کر وہاں دعائیں مانگیں یا کسی مزار پر جاکر منت مانگیں اور قبول نہ ہونے پر کہا جاتا ہے اب ہماری دعائوں میں سوز نہیں رہا ہے ۔ اس لیے اب دعائوں میں اثر نہیں رہا ۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ اگر دعائوں سے سب کچھ ہوسکتا تو ہر سال خانہ کعبہ میں لاکھوں مسلمان قبلہ اول اور کشمیر کی آزادی کی دعا مانگتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے وہ اب تک آزاد نہیں ہوئے ۔ جب پاکستان بنا تھا اس وقت ہمارے ملک میں عمر کا اوسط 28 سال تھا اور اب یہ اوسط چھپن سال ہے ۔ کیا پہلے زندگی کے لیے دعائیں نہیں مانگی جاتی تھیں ۔ ہم یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ انسان بشر ہیں اور ان سے گناہ ہوتے اور ہر گناہ کی معافی کے خیرات دیا کرو اور بزرگوں سے دعائیں کروائو تو تم پاک ہوجائو گے ۔ اس سے ہمارے ذہنوں میں یہ بیٹھ گیا ہے کہ ہم جائز ناجائز کام کرنے کے چکر میں رہتے ہیں اس سے ہماری زندگیوں میں دوغلا پن آگیا ہے ۔ بظاہر ہم بہت پارسائی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جہاں موقع پڑتا ہے تو فائدہ اٹھانے سے گریز کرنے کو برا نہیں سمجھتے ہیں ۔ جس کی عمدہ مثال رمضان میں قیمتوں کا بڑھانا ۔ ہمیں ترقی کرنے ہے اور ذلت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو دعائوں کے سہارے کے بجائے محنت اور جہد پر یقین رکھنا ہو گا ۔ ہمیں اپنی زندگیوں سے دوغلا پن ختم کرنا ہوگا ۔
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں