63

حبشی اور ان کی انسانی خصوصیات

سترویں عیسوی صدی کے دوراں یورپی اقوام میں یہ خیال پیدا ہوا کہ حبشی ابتدائی قسم کے نیم انسان ہیں ۔ بعد میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے انہوں نے یہ اخذ کیا کہ حبشیوں کی قوم ایک نیم وحشی اور غیر متمدن قوم ہے ۔ ان کے خیال میں یہ انسانوں کی نسبت بندروں سے زیادہ قریب ہیں ۔ ان کے چہرے کا نچلہ حصہ زیادہ چوڑا ہونا اور ان کے رنگ کا سیاہ ہونا ان کے بندروں سے مشابہ کے ثبوت ہیں ۔ یہ خیال اس تیزی سے یورپی اقوام میں پھیل گیا اور ان کے بارے میں یہ باور کیا جانے لگا کہ یہ کبھی اعلی تہذیب تک نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔ اس کے بعد سیاہ فام غلاموں جو امریکہ میں کھیتوں میں کام کرنے کے لیے لائے گئے ان کے ساتھ نہایت برا اور نفرت انگیز سلوک کیا جانے لگا ۔
سترویں عیسوی سے پہلے تاریخ کی کسی دور میں حبشیوں کے ساتھ تعصب یا انہیں حقیر نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ ارسطو نے حبشیوں کے لیے کہا کہ وہ شریف ، خوبصورت اور قابل اعتبار انسان ہیں ۔ رومی ان میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی تفریق نہیں رکھتے تھے ۔ اہل مصر بھی ان عزت سے دیکھتے تھے اور فرعونوں کے کئی خاندان حبشی النسل گزرے ہیں ۔ اہل عرب بھی ان کو اپنے برابر کا سمجھتے تھے ۔ اسلامی دور میں ان میں دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا اور اکثر اہم عہدے انہوں نے حاصل کئے ۔ خود یورپ میں عہد وسطہ میں حبشیوں کو اٹلی ، ویانا اور سینٹ پیٹر برگ کے درباروں میں اہمیت اور عزت حاصل تھی ۔ غرض ان کے رنگ کی وجہ سے کہیں بھی انہیں نفرت یا تعصب سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔  
حبشیوں سے نفرت کا دور سترویں اور اٹھارویں صدی عیسویں میں بردوہ فروشی کے زمانے میں شروع ہوا کہ جب افریقہ سے حبشی غلام بنا کر امریکہ بھیجے جانے لگے ۔ حبشیوں کو حقیر اور تعصب پرتنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی ۔ لیکن سفید فاموں نے ڈارون کے نظریہ سے یہ نتیجہ نکلا کہ حبشیوں کی قوم ایک نیم وحشی قوم ہے جو انسانوں کی بہ نسبت جانوروں سے زیادہ قریب ہے ۔ یورپیوں نے حبشیوں سے تعصب کے لیے جواز پیدا کیا کہ ان کے بدن پر بالوں کا نہ ہونا ، ہڈیوں اور سر کے بالوں کی ایک مخصوص ساخت اور منہ کا آگے کا نکلا ہوا ہونا ۔ 
لیکن جب گزشتہ صدی کی ابتدا میں سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں یہ حیرت انگز انکشاف ہوا کہ اگرچہ حبشی سیاہ رنگت ، موٹے ہونٹ اور چوڑا دھانہ ہونے کے باوجود جسمانی حشیت سے فروتر اور جانوروں قریب تر ہونا تو درکنار وہ اور بہت سی نسلوں سے کہیں زیادہ مخصوص انسانی خد و خال رکھتے ہیں ۔ 
بنیادی چیز جو انسان کو بندروں سے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ وہ سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے اور چل سکتا ہے اور بڑی سی کھوپڑی کی مظبوط ہڈیوں میں اس کا دماغ محفوظ رہتا ہے جس سے وہ اپنا توازن بھی قائم رکھتا ہے ۔ اگر انسانی جسم میں توازن قائم رکھنے کی قابلیت نہیں ہوتی تو اس کا دماغ اتنا بڑا ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔ چنانچہ سیدھے کھڑے ہوکر جسم کے توازن کو قائم رکھنا انسان کی خاص صلاحت ہے جو کہ جانوروں میں نہیں ہوتی ہے ۔ یہ صلاحیت انسانی ڈھانچے میں دو خصوصیتوں پر منحصر ہے ۔ ایک تو ریڑھ کی ہڈی کا لوچ اور لچک دوسری ٹانگوں کے اوپری کے حصہ کا نچلے حصہ سے لمبا ہونا ۔ یہ نہیں ہوتیں تو چلنے میں اس سر اور پیٹھ ہر قدم پر زور زور سے ہلتے اور اس کا توازن قائم نہیں رہتا ۔ ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں کی یہ ساخت بندروں اور دوسرے دودھ پلانے والے جانوروں میں نہیں پائی جاتی ۔ یہی صلاحیت انسان کو دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور اسی کی بدولت انسان کے سیدھا کھڑا ہوا اور اس کے دماغ نے ترقی کی ۔  
انسانی جسم کی یہ خصوصیات دوسری انسانی نسلوں کے مقابلے میں حبشیوں میں زیادہ نمایاں ہیں ۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں قدرتی طور پر لچک ہوتی ہے اور ان کی ٹانگوں کا اوپری حصہ مقابلتاً بہت لمبا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے حبشی اپنی خوشنما چال اور دلکش ناچ کے لیے مشہور ہیں ۔ 
حبشیوں کے ہونٹوں کے بارے اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کے موٹے موٹے ہونٹ بندروں کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے جانوروں میں جن میں معمولی بندر اور انسان نما بندر بھی شامل ہیں ہونٹ نہیں ہوتے ہیں بلکہ معمولی کھال ہوتی ہے اور ان کے منہ کے گرد بس ایک کنارہ سا ہوتا ہے اور یہ حرکت بھی نہیں کرسکتا ہے ۔ جب کہ انسانی ہونٹوں دیکھیں تو یہ علحیدہ سے ہمارے جسم کا ایک عضو ہے جو کے باقیدہ حرکت کرسکتا ہے اور خاصہ حساس ہے ۔ یہ انسانی جسم کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔ اس حرکت کرنے سے بہت سے حروف صحیح اور حروف علت کے تلفظ میں مدد ملتی ہے ۔
اب ہم بالوں کو لیتے ہیں بال حبشیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ہیں اور یہ ان کی خاص پہچان ہیں ۔ جب انسانی بالوں کو بیج میں سے کاٹ کر خوربین سے کا معائنہ کیا گیا تو سفید فام ، زرد اور سیاہ فام یا حبشیوں کے بالوں کی جداگانہ شکلیں تھیں ۔ سفید فام لوگوں کے بال بیضوی شکل تھے ، منگولوں کے بال گول اور جب کہ ھبشیوں کے بال فیتہ کی شکل کے تھے ۔ اس طرح سفید فام لوگوں کے بال گوریلا اور چمپانری سے مشابہ تھے ۔ جب کہ منگولوں اور اس سے زیادہ حبشیوں کے بال زیادہ ترقی یافتہ ہیں ۔  
حبشیوں کی دوسری خصوصیات میں ان کی بھوؤں کا چھجا خاص طور پر چھوٹا ہوتا ہے ۔ جب کہ آسٹریلوی اور نیانڈر تھالی نسلوں میں بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ لیکن حبشیوں میں یہ یورپیوں سے بھی کم نمایا ہوتا ہے ۔ اس طرح حبشیوں کی ہڈیاں بھی خاص قسم کی اور زیادہ نرم ہوتی اور ان کی بناوٹ ہاتھی کے دانت سی ہوتی ہے 
انسان کے بدن پر بالوں کی کمی اس کی خاص خصوصیات میں ہے شامل جو کہ اسے انسان نما بندر سے ممتاز کرتی ہے اور حبشیوں کے بدن پر بال اور انسانی نسلوں کی نسبت بہت کم پائے جاتے ۔ ان سب خصوصیات کے باوجود حبشیوں کو بالکل ابتدائی انسان کہنا کہ بعض باتوں کے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ ہیں محض تعصب ہے جو کہ اس وقت مغربی اقوام میں پھیلا ہوا تھا ۔    
جسمانی حثیت سے ابتدائی چیز حبشیوں کے جسم میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے چہرے کا نچلا حصہ آگے کو نکلا ہوتاہے ۔ لیکن اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اس لیے کے اس سے دماغ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔ البتہ یہ ان کے ابتدائی ہونے کی دلیل ہے ۔
آؒخری دلیل یہ ہے کہ ان کا رنگ کالا ہے ۔ اس دلیل میں بھی کوئی حقیقت ہیں ہے ۔ ہیرن آئک اور بہت سے علم الانسان کے ماہروں کی رائے میں ابتدا میں انسانوں کا رنگ کالا تھا ۔ یہ تبدیلی برفانی عہد میں واقع ہوئی کہ جو لوگ شمالی یورپ میں رہتے تھے ان کا رنگ سیاہ سے سفید ہوگیا ۔ مگر یہ ارتقاء انسانی کا کوئی اہم مرحلہ نہیں ہے ۔ جلد کا رنگ تبدیل ہوجانے سے انسان کی کسی خاص قابلیت جن میں سیدھا کھڑا ہونا ، الفاظ کا تلفظ میں کمی یا بیشی نہیں ہوجاتی ہے ۔ مگر کیوں کہ سفید فام یا یورپیوں نے بہت سے ایسے ملکوں کو فتح کرلیا تھا جن میں سیاہ اور سانولے رنگ کے لوگ رہتے تھے اس لیے ان ملکوں میں گورا رنگ حکمران طبقہ کی نشانی سمجھا جانے لگا ۔ لیکن حقیقت میں سیاہ رنگ گرم ملکوں میں سورج کی صحت بخش شعائوں کو جذب کرنے صلاحیت گورا رنگ سے زیادہ رکھتا ہے ۔ جو یورپین تعصب نہیں رکھتے ہیں وہ کالے رنگ جو کہ زندگی اور سورج کے فیض کی علامت ہے گورے رنگ سے زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ کالا رنگ دھوپ کھانے اور کھلی آب و ہوا میں کھیلنے کودنے کا شوق کی علامت بھی ہے ۔  
اگر حبشی بالکل ابتدائی یعنی غیر متمدن ہوتے جیسا کے افریقہ کہ بعض حصوں سطحی نظر رکھنے والوں کو معلوم دیتے ہیں وہ ہر گز اتنی کامیابی حاصل نہیں کرتے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افریقہ کے اکثر حبشیوں کی تہذیب کا ابتدائی حالت میں ہونا ان کے کسی خلقی نقص کی وجہ سے نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ جب سے صحرائے اعظم کا علاقہ خشک اور اجاڑ ہوگیا وہ دنیا سے بے تعلق ہوگئے اور یہ حالت اس وقت تک رہی جب تک نوآباد یوپیوں اور بردہ فروشوں نے حبشیوں کی بعض قوموں کو دوسرے انسانوں سے ملنے جلنے کا موقع فراہم کیا ۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ افریقہ کے جن حصوں پر بیرونی اثرات پڑے وہاں کے حبشیوں نے اپنی تہذیب کو بہت کچھ ترقی دی ۔ اس کی مثال مشرقی افریقہ ، مصر ، سوڈان اور دوسری شہری ریاستوں کی ہیں ۔ اگر حبشی تہذیب کے لحاظ سے ابتدائی اور تمذنی و تخلقی کاموں کو انجام دینے کے قابل نہیں ہوتے تو زبردستی امریکا لائے جانے کے بعد اتنی تھوڑی مدت میں امریکی تہذیب کو جذب نہیں کرلیتے ۔ لوگوں کو شاید یہ نہیں معلوم ہے کہ امریکہ کے حبشیوں نے قلیل مدد میں کتنی زبردست ترقی کرلی ۔ جس کے لیے اعلیٰ ذہانت ، قوت عمل اور تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب حبشی امریکہ لائے گئے تو وہ غلام تھے اور انہیں موقعہ نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی تہذیب اور تمدن کو محفوظ رکھیں ۔ مختلف زبانیں بولنے والے یہ غلام مجبور تھے کہ آپس میں یورپی زبانوں میں باہم گفتگو کریں ۔ ان سب نے عیسوی مذہب اختیار کرلیا اور اس طرح اپنی رسوم اور روایات سے بالکل قطع تعلق ہوگئے ۔ یہ سب مشکلات اور نسلی تعصب کے باوجود ان حبشیوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے گوروں کے برابر آگئے ۔ انہیں تین سو سال سے بھی کم عرصہ میں بہت سی اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹیاں ، کالج ، سکول ، اسپتال ، تھیٹر ، زراعتی اور مالی ادارے قائم کرلیے اور امریکی کی تہذیب میں انہوں نے ادب ، موسیقی اور علوم و فنون میں قابل قدر اضافہ کیا ۔ ان کی زہانت کی اس سے بڑی کیا دلیل ہوسکتی ہے امریکہ پینٹ آفس میں جو ایجادیں درج ہوتی ہیں ان میں گوروں سے زیادہ کالوں کی ہوتی ہے ۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں مقامی ہندی جن کی زبان ، ثقافت اور روایات سب کچھ موجود تھا اور ان کو یورپیوں نے پوری طرح تباہ نہیں کیا تھا ۔ مگر یہ حبشیوں کے برابر ترقی نہیں کرسکے ، حالانکہ ان کی مدد امریکی حکومتوں نے بھی کی ۔    
اس طرح بعض حبشی قوموں کے دماغ کا چھوٹا ہوتا ہے اور یہ ان کے ابتدائی ہونے کی دلالت کرتا ہے ۔ ممکن ہے یہ انحاط کا نتیجہ ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے یہ تہذیب کی بعض باتوں سے دور رہے ۔ لیکن یہ بھی کسی فطری نقص کی بنا پر نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ ان کا مسکن وسطی افریقہ دنیا سے الگ تھلک واقع ہے ۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ صحرائے جہاں واقع ہے اس خطہ کے خشک اجاڑ ہونے کے بعد ان کا تعلق دنیا کے اور حصوں سے منطقع ہوگیا ہے ۔ یہ تاریخ کی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر قوم جو دوسری قوموں سے قطع تعلق کرلیتی ہے تو اس میں تہذیب اور تمذن میں انحطاط شروع ہوجاتا ہے ۔ اس کی بہت سی مثالوں میں آسٹریلیا کے اؑصلی باشندوں کی حالت اور دوسری مثال دیوار چین کی تعمیر کے بعد چینیوں میں تنزلی ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں