59

حکومتی سرمایاکاری

پروفیسر نرکسے Prf Essor Nurkse اپنی تصنیف کم ترقی پذیر ممالک میں تخلیق سرمایا کے مسائل ‘Problems of Capital Formation in Uderderdeveloped Countries میں لکھتے ہیں کہ ‘‘جاپان پر نظر ڈالو ترقی کے ابتدائی دور میں بالخصوص ۱۸۷۰ ؁ء سے ۱۸۹۰؁ء کے زمانے میں حکومت نے ترقی کے لئے سرمایاکی فراہمی میں نمایاں حصہ لیا ۔ آخر ان کاموں کے لئے سرمایاکس طرح حاصل کیا گیا ؟ سخت محصول نافذ کرکے ، خصوصیت سے زراعت پیشہ آبادی پر ، کبھی کبھی جبری قرضوں سے ، جو شہری آبادی کے متوسط سرمایاکاروں سے وصول کئے جاتے تھے اور توسیع زر سے ، لیکن یہ توسع زر اس پیمانے پر نہیں ہوتی تھی کہ افراط زر کا خطرہ پیداہوجاتا ، کیوں کہ یہ توسیع ملک میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ روپیہ کی فراہمی کی ضرورت پوری کرتی تھی‘‘۔   
ڈبلیو آرتھر لیوس W Arthur Lewis نے ’اقتصادی ترقی کا نظریہ‘ Theory of Ecnomic Growth میں لکھا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی قومی آمدنی 4 یا 5 فیصد ہے ۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ اخراجات قومی آمدنی کے 12 سے 13 فیصد تک ہوتے ہیں ۔ مجموعی سرمایاکاری میں 20 فیصدمیں ٹوٹ پھوٹ کے اخراجات اخراجات 7 یا 8 فی صد ہوتے ہیں ۔ کیوںکہ کسی ملک کی پیداوار کا انحصار اس ملک میں موجود سرمایاکاری پر ہوتا ہے ۔ اس لئے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کی پیداوار میں دن بدن فرق بڑھتا جارہا ہے ۔ ،جس کا متیجہ یہ ہے کہ ترقی پزیر ممالک کی ترقی یافتہ ممالک کے برابر آنے کی امیدیں دن بدن کم ہوتی جارہی ہے ۔ ترقی کے موجودہ فرق ہی کو کم از کم برقرار رکھنے کے لئے ترقی پذیرممالک کو اپنی بچت یعنی تخلیق سرمایا کو 5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصدکرنا ہوگا ۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اور یہ صرف حکومت ہی پورا کرسکتی ہے کہ سرمایاکاری کے شعبہ میں کمی کوپورا کرسکے ۔ کیوں کہ نجی سرمایادار کسی تجویز کو نفع بخش ہونے کی صورت میں اپنائیںگے ، نہ کہ اقتصادی ترقی ضرورت محسوس کرکے ۔ 
جب کوئی ملک اس قدر ترقی کرلے کہ تخلیق سرمایا کی زیادہ گنجائش نہ رہے اور اس کے لئے ترقی کی کم شرح کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ سرمایاکاری کے خاکہ میں مثال کے طور پر 3 فیصد ہو تو اس قسم کی معیشت میں مزدوری زیادہ ہو تی ہے اور شرح منافع کم ۔ تاکہ مزدور پیشہ قومی آمدنی کا نسبتاً زیادہ حصہ ضروریات پر خرچ کرسکیں اور ترقی کی کم شرح کو برقرار رکھ سکیں ۔ اس طرح کساد بازاری دور کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ کیوں کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ وہ اپنی آمدنی صرف پر خرچ کرلیتے ہیں ۔ 
۲۹ تا ۱۹۳۳ء کی عالمی کساد بازاری کے زمانے سے جب حکومت کی مداخلت کو نہ پسند کرنے والے ممالک خالص پرانے سرمایادارانہ Laissez Faire طریقوںپر عمل پیرا ہوکر ترقی کرنے کے بعدشدید کساد بازاری اور عام بے روزگاری Unemplyment  کے جان لیوا درد میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ حکومت کے اس حق کو مان لیا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کی رہنمائی کرسکتی ہے یا ان کے اقتصادی معالات میں مداخلت کرسکتی ہے ۔ یہ کساد بازاری تجارتی مدو جزر کا ایک مظہر تھی ، جو حکومت کی مداخلت سے مبرا سرمایادارانہ نظام معیشت کاجز و لاینفک ہے ۔ جس کا وقوع اس دور میں ہوا جب کہ اقتصادی معاملات میں حکومت کی مداخلت شجر ممنوع کی حیثیت رکھتی تھی ۔ لیکن اس مرتبہ کساد بازاری اتنی شدید تھی کہ سرمایادارانہ ممالک کو اپنا نقطہ نظر بدلنا پڑا اور حکومت کو ملک کے اقتصادی معاملات میں مداخلت کا حق منظور کیا اور دنیابھر کے ترقی یافتہ ممالک نے اس کے لئے قوانین مرتب کئے ۔
ماہرین معاشیات نے ریاضیاتی زائچہ کے ذریعے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچادی ہے کہ تعمیر عامہ یا سرمایا کاری کے ابتدائی اضافہ شدہ بڑھتی ہوئی قومی آمدنی کی وجہ سے طلب اشیائے ضروریات میں 10 فیصدی کو قائم رکھنے کے لئے مجموعی ثانوی سرمایا کاری میں 100 فیصدی اضافہ کرنا ضروری ہے ۔ اس لئے وہ کہ نجی سرمایا کاروں کے مقابلہ خود بخود سرمایا کاری کے عمل یعنی حکومت کے وسیلہ سے سرمایاکاری کی حمایت کرتے ہیں ۔ کیوں کہ نجی ادارے نفع کے چکر میں پڑ کر ثانوی سرمایاکاری میں یکساں شرح کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں ۔ جہاں تک حکومت کی ابتدائی سرمایا کاری کا تعلق ہے اور کینز Keynes اس کے لئے رفع عامہ کے شعبے میں سرمایاکاری کی سفارش کرتا ہے ۔    
کینز Keynes کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کے زمانے میں جب حکومت سرمایا کاری پر روپیہ لگاتی ہے تو وہ مزدور جنہیں روزگارEmplyment  ملتا ہے اپنی آمدنی سے اشیائے ضرورت پر خرچ کرتے ہیں ، اس لیے اشیائے ضروریات کی طلب بڑھتی ہے ۔ تاجر کارخانوں کو آڈر دیتے ہیں ۔ کارخانہ دار اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ، اس لیے وہ اپنی مجموعی پیدا وار میں اضافہ کردیتے ہیں ۔ اس مقصد کی خا طر وہ زیادہ مزدور لگادیتے ہیں اور زیادہ مشینری کا آڈر دیتے ہیں ۔ مشینیں تیار کرنے والے کارخانے بھی زیادہ مشینیں بنانے لگتے ہیں ۔ جس کے لیے انہیں زیادہ مزدور لگانے پڑتے ہیں اس طرح روزگار میں ہر طرف اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور نتیجاً قومی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ کینز Keynes اس حاصل ضرب کو جو قومی آمدنی کے تغیر اور ابتدائی خرچ کے تغیر کا تناسب ہے (یہاں مراد اس خرچ سے ہے جو حکومت کی سرمایاکاری کے متعلق ہے) مضروب فیہ Multiplier کہتا ہے ۔ اس تناسب کی دائمی بقا یعنی قومی آمدنی یا سطح روزگار کے استقلال کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بچت کو جو اضافہ شدہ آمدنی سے حاصل ہو دوبارہ سرمایاکاری پر لگایا جائے یا دوسرے الفاظ میں ابتدائی خرچ جو سرمایاکاری پر خرچ ہوا ہو کی وجہ سے طلب اشیائے ضروریات میں جو بیشی ہوئی اس کو برقرار رکھنے کے لیے ثانوی سرمایاکاری ضروری ہے ۔
بے روز گاری جو قدیم مکتب کا لازمی نقص ہے اس کو دور کرنے کے لیے ریاست کی مداخلت ضروری ہے کہ وہ سرمایا کاری یعنی تعمیرات عامہ کے پروگراموں کو اختیار کریں ۔ اس مکتبہ خیال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب کوئی فرد نفع و نقصان کی تحریک سے محرک ہو کر قوم کی اقتصادی سعی میں حصہ لیتا ہے تب فرد کا فائدہ قوم سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور یہ کہ ان دونوں میں قدرتی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے ۔ آدم اسمتھ Adem Smith نے اس کو قدرتی حرکت کہا ہے ۔ لیکن کینز Keynes نے اس کو غلط ثابت کردیاہے ۔ اس کا کہنا ہے جب کوئی شخص بچت کرتا ہے تو یہ بچت اس کی اپنی ذات کے مفید ہو سکتی ہے ، لیکن جب تمام معاشرہ ضروریات اور سرمایا کاری کی مدوں سے بچانا شروع کردے تو قومی آمدنی اور نتیجاً جیسا کہ کینز Keynes نے مساوات آمدنی کے ذریعے ظاہر کیا ہے کہ مجموعی قومی بچت گرجاتی ہے ۔ 
قدیم معاشیات دانوں کا یہ خیال تھا کہ تعمیرات عامہ مثلاً سڑکوں اور پلوںکی تعمیر تجارتی اشیاء کی قیمت میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے ۔ کیوں کہ کرایا بار برداری کم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح غریب سے غریب اشخاص بھی یہ چیزیں حاصل کرسکتے ہیں اور اس طرح ان کا معیار زندگی بہتر ہوجا تا ہے ۔ لیکن کینزKeynes نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس علاوہ یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ سرمایا کاری قومی دولت میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے اور ملک میں مکمل روزگار کے مواقع پیدا کر دیتی ہے ۔ 
پروفیسر ہن سن Pro Hansen اپنی کتاب ’مالی نظریہ اور مالیاتی پالیسی‘ Monetary Theory and Fiscal Policy میں لکھتا ہے کہ ’’ان لوگوں نے جو عوامی قرضے کی مسلسل تخفیف کے بارے میںنہایت چرب زبانی سے گفتگو کرتے ہیں ۔ مقدار زر سے تعلق کی حکمت عملی کی پیچیدگیوں پر غور کئے بغیر حقائق کو نظر انداز کردیا ہے ۔ ایک پھولتی ہوئی مشیت کے لیے کثیر زر کی ضرورت ہوتی  ہے ۔ تجارت کے مروجہ مالی رواج بہ شمول رائج شدہ مالی و بینکاری اداروں کے مد نظر جیسا تجربہ بناتا ہے ۔ اب ہم اس مسئلہ کے فیصلہ کن مراحل پر پہنچ گئے ہیں جب آپ زیادہ قومی آمدنی اور کامل روزگار کے خیال سے اپنی معیشت کی ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ تب آپ کو رسد زر یا مقدار زر میں اضافہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔
ایک وقت میں معاشرے کے اخراجات اور ضروریات تقریباً بندھے ہوتے ہیں ۔ اس لیے جو کچھ بچت یا ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے وہ سرمایاکاری کی مدمیں ہوتی ہے ۔ اس بچت کو سرمایا کاری میں لگانے کے لیے (اور اگر روزگار Emplyment  کامل کے مقاصد کے لیے سرمایاکاری بڑھانے کی ضرورت بھی ہو تو اس کے لیے بھی) کینز   Keynes سرکاری سرمایا کاری تعمیر عامہ میں کرنے کی سفارش کرتا ہے ۔
کم ترقی یافتہ ملکوں میں سرمایا کاری ، نفس کشی اور رضاء کارانہ بچت کے اقدامات زیادہ نہیں ہوتے ہیں اور چوںکہ سماجی پیداوار اضافے کے لیے حکومتی سرمایا کاری ضروری ہے ۔ اس کے لیے ترقی کی رفتاربڑھانے کے لیے حکومت خسارے کی سرمایا کاری کرتی ہے ۔ یہ اقدام طلبی دباؤ اور رسدی سکراؤ دونوں ہی افراد زر کا باعث بنتے ہیں ۔ کیوں کہ اس کے حصول کے لیے زرکی اضافی شرحوں پر اندرونی قرضوں اوربھاری پر بیرونی قرضہ جات سے پورے کئے جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں افراط زر ناقابل برداشت ہو جاتا ہے ۔ قومی قرض میں غیر ملکوں کو واجب الادا رقوم زیادہ پریشان کن حالات کی حامل ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ اس پر سود کی ادائیگی زرمبادلہ میں ادا کرنی پڑتی ہے اور بیرونی کرنسیوں کی قدر کاانحصار کھلی منڈی پر ہو تا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں