73

خانقاہیں

بدھ مذہب کا آغاز ترک دنیا سے ہوا تھا ۔ اس لیے بدھ مت کے بانی گوتم نے ابتدا میں رہبانہ زندگی گزرنے والے اپنے پیروکاروں کے لیے ایک انجن بنائی تھی جو سنگھ کے نام سے موسوم تھی ۔ اس کے اراکین کو بھکشو کہا جاتا تھا ۔ جو کہ ترک دنیا کرکے ریاضت میں مصروف رہتے تھے ۔ مگر جلد ہی گوتم نے محسوس کیا کہ ہر شخص تارک دنیا نہیں ہوسکتا ہے اور مذہب کو محض راہبوں تک محدود کرنا درست نہیں ہے ۔ لہذا اس نے اپنے پیروکاروں کو دو حصوں راہبوں اور دنیا داروں میں تقسیم کردیا ۔ بھکشوؤں کے لیے شرائط اور احکام وضع کیے گئے ۔ ان بھکشوں کی رہائش کے لیے وہار اور باغ تعمیر کیے گئے ۔ ابتدا میں ان سنگھوں میں کوئی عہدہ دار نہیں ہوتا تھا ، مگر وقت کے ساتھ ان میں عہدے دار ابھرنے لگے اور ان کا سربراہ مذہبی پیشواہ بن گیا ،

جیے جیسے بدھ مت میں ترقی ہوتی گئی بدھ خانقاہوں میں بھی ترقی ہوتی گئی ۔ ان خانقاہوں کو دھار کہا جاتا تھا ۔ اسلام میں آمد سے پہلے برصغیر اور وسط ایشیا میں کثرت سے وہار موجود تھے ۔ چینی سیاحوں فاہیان اور ہیونگ سانگ نے ان دھاروں کا ذکر کیا ہے ۔ فاہیان نے لکھا ہے کہ گھڑیال کی آواز سن کر تین ہزار بھکشو کھانے کے لیے جمع ہوجاتے تھے اور طعام خانے میں خاموشی و سنجیدیگی سے کھانے کے لیے جمع ہوجاتے اور ترتیب سے بیٹھ جاتے تھے ۔ یہ خادموں کو آواز نہیں دیتے دیتے تھے بلکہ اشاروں میں انہیں بلاتے تھے ۔  

کسی شخص کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ ساری عمر بھکشو بنا رہے بلکہ کچھ عرصہ کے لیے بھکشو بن کر ان خانقاہوں میں رہا جاتا تھا ۔ خود اشوک بھی کچھ عرصہ کے لیے بھکشو بن کر خانقا میں رہا تھا ۔ جہاں بھی بدھ مت نے قدم جمائے وہاں یہ خانقاہیں اب بھی قائم ہیں اور وہاں لوگ کچھ عرصہ تک بھکشو بن کر رہتے ہیں ۔

استوپ خاص گوتم کے مدفن کی علامت ہے اور وہاں گوتم اور دوسرے بدھ متی برگوں کے آثار کے لیے استوپ بنا رہتا ہے اور عموماً ہر استوپ کے ساتھ بھکشوؤں کے رہنے کے لیے دھار (خانقا) اور اس کے اجتماع کے لیے ایک چیتا (عبادت گاہ) بنی ہوتی ہے ۔ دھار کے بیچ میں صحن اور اس کے چاروں طرف کمرے اور کوٹھریاں جو صحن میں کھلتی تھیں ۔ بعد یہ ترمیم کی گئی کہ تین طرف کمرے اور ایک طرف ٹہلنے کے لیے لان ہوتا تھا ۔ بعد میں بننے والی ساری خانقاہیں اسی نقشے کی بنے لگیں ۔ یہ خانقاہیں چاہے عیسایوں کی ہوں یا مسلمانوں کی ۔

ابتدائی عیسائی پیروکار حضرت عیسیٰ کی پیروی میں مجرد زندگی گزارتے تھے اور تبلیغ دین کے لیے جگہ جگہ پھرتے رہتے تھے ۔ مگر ان کی مرکزیت یا خانقاہی نظام قائم نہیں تھا ۔ جلد ہی سات کلسیا کو مرکزیت یا اہمیت حاصل ہوگئی اور ان کلیسائوں میں راہبوں اور دوسرے عیسائیوں کے قیام کی جگہ ہوتی تھیں ۔ مگر پھر بھی ان میں عہدہ داروں کا تقرر نہیں ہوتا تھا اور سب برابر ہوتے تھے ۔ مگر عیسائی فرقوں نے اپنی سرگرمیاں ایران سے آگے وسط ایشیا میں بڑھائیں تو ان کا سامنا بدھ دھاروں سے ہوا ۔ جہاں بدھوں کی خانقاہیں تنظیمی بنیادوں پر قائم تھیں ۔ انہیں دیکھ کر عیسائی فرقوں نے اپنی مذہبی تنظیمیں قائم کیں اور مذہبی عہدے بھی قائم کیے اور ان کے اصول و ضوابط بھی مرتب کیے ۔

قسطنطنیہ میں جب رومی شہنشاہ کانسٹائین نے عیسائی مذہب قبول کیا تو رومی سلطنت کا سرکاری مذہب عیسائیت ہوگیا ۔ روم میں عیسائیوں کو مذہب آزادی ملی تو انہوں نے بھی اپنی مذہبی تنظیم قائم کی اور وہاں خانقاہی نظام کو منعظم کیا اور اس کا سربراہ بھی منتخب ہوگیا ۔ شہنشاہ نے بھی مذہبی تنظیم قائم کی اور خود اس کا سربراہ بن گیا ۔ روم کی عیسائی تنظیم نے شہنشاہ کانسٹائن کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا اور عیسائی مذہب کے دینوی تنظم کا دعویٰ اور اس کے سربراہ نے شہنشاہ سے بھی برتر ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اس کے جواز میں رومی تنظیم نے یہ دلیل پیش کی کہ یہاں سنٹ پطرس کا چرچ تھا اور وہ یہاں شہید ہوا تھا ۔ شہنشاہ نے رومی چرچ کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کیا ۔ مگر وہ رومن چرچ کے خلاف کچھ کاروائی نہیں کرسکا ۔ کیوں کہ اس وقت ہنوں کے حملے جاری تھے اور انہوں نے روم پر قبضہ کرلیا ۔  شاہنشاہ کانسٹائیں نے جب قسطنطنیہ کو اپنا دالحکومت بنایا تو وہاں ایک چرچ قائم یونانی کلسیا قائم کیا ۔ جس کا سربراہ وہ خود تھا اور یونی چرچ کا آج کل مرکز ماسکو ہے ۔ اس کے علاوہ مشرق میں کئی اور عیسائی کلسیا قائم ہیں جو کہ ان دونوں چرچوں کو نہیں مانتے ہیں ۔ جلد ہی ہنوں کے سربراہ نے پوپ کے ہاتھوں عیسائیت قبول کرلی اور اس سے رومن چرچ کی طاقت بڑھ گئی اور خانقاہی نظام بھی مظبوط ہوگیا اور اس میں ترقی ہوتی گئی ۔ اس کی طاقت میں مزید اضافہ صلیبی جنگوں کی وجہ سے ہوا ۔ کیوں کہ اس جنگ میں شریک ہونے والوں کو پوپ کے آگے حلف اتھانا پڑتا تھا ۔ جس سے پوپ کے زیر دست خانقاہی نطام کی بنیادیں مزید مظبوط ہوگئیں ۔ مگر یورپ پیداری پیدا ہوئی اور پوپ کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی اور یہ نظام ذوال پریز ہوگیا ۔ تاہم پوپ اثر خانقاہی نظام قائم رہا اور اس کی تنظیم میں بھی بدھوں کی طرح عہداروں کا تقرر ہوتا ہے ۔ جس میں بدھوں کی طرح عورتیں بھی نن یا راہبہ بن سکتی ہیں ۔

عیسائیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی خانقاہوں کا تصور بدھوں کی خانقاہوں سے آیا ہے ۔ وسط ایشیا میں صوفیوں کے مقبرے ماضی کے بدھ استوپوں پر واقع ہیں ۔ بخارا کے قریب شیخ بہاء الدین نقشبندی مدفون ہیں ۔ یہ بھی پہلے بدھ خانقاء اور استوپہ تھا اور بدھ زائرین کی زیارت کا مقدس مرکز تھا ۔ بعد میں شیخ بہاء الدین نقشبندی کے مدفن کی بدولت اس کا نام قیصر عرفان ہوگیا ۔ مسلمانوں میں شیخ شہاب الدین سہروردی نے ہی سب سے پہلے خانقاہی زندگی کے بارے میں مفصل قواعد مرتب کیے اور انہون نے اہل صفہ کے ساتھ اہل خانقا کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے خانقاء اور صوفیاکرام کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب عوارف المارف کے بارے لکھتے ہیں کہ تیرویں صدی جب سلاسل کی تنظیم شروع ہوئی تو سہروردیہ سلسلے کے علاوہ دیگر سلسلوں نے بھی اس کتاب کو اپنا لیا ۔ عوارف المارف کی یہ خوبی ہے کہ اس میں تصوف کے بنیادی اعتقادات ، خانقاہوں کی تنظیم ، مرید و شیوخ کے تعلقات اور دیگر مسائل پر نہایت وضاحت سے کتاب و سنت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے ۔ اس کتاب میں ایک طرف تو تصوف کا فلسفہ مدون کیا گیا اور دوسری طرف خانقاہی نظام پر بحث کی گئی ہے ۔

پیر و مرشد اس تنظیم کا مرکز ہوتا تھا اور وہ وراثاً جانشینی پاتا تھا ۔ پہلی صورت میں خلیفہ اور دوسری صورت میں سجادہ نشین کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اس کا فرض ہوتا تھا کہ وہ مریدوں کی روحانی تربیت کرے اور اس سلسلے کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائے ۔ ان اشفال کو جاری و ساری رکھے اور نئے مریدوں کو داخل کرے ۔ پیر و مرشد خانقاء میں سکونت رکھتا تھا ۔ فقیروں کی ایک جماعت بھی یہاں رہائش پزیر ہوتی تھی ۔ بالعموم یہ خالقاہیں سلسلے کے بانی بزرگ کے مزار کے پاس تعمیر کی جاتی تھیں یا مزار سے ملحق ہوتی تھیں ۔

منگولوں کے وسط ایشاء پر حملوں کی وجہ سے وہاں کے مسلمان دربدر ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ہندوستان کا رخ کیا ۔ یہاں انہیں خوش آمدید کہا گیا ۔ کیوں کہ یہاں کے ترک حکمرانوں کو اپنے استحکام کے لیے افرادی قوت کی شدید ضرورت تھی ۔ منگولوں کے حملے سے پہلے وسط ایشیا میں صوفیا اپنی تنظم استوار اور اس کے اصول مرتب کرچکے تھے ۔ مگر منگولوں کے حملوں سے صوفیا کی تنظیم بھی بکھر گئی اور ان کی ایک بڑی تعداد نے برصغیر کا رخ کیا ۔ ان صوفیا کو خانقاہوں کے لیے زمینیں اور دوسرے اوقاف مہیا کئے اور انہوں نے اپنی تنظیم کو نئے سرے پر استوار کیا ۔ غاندان غلامان اور بعد کے حکمران ان کے عقیدت مند تھے اس لیے ان کا اثر رسوخ عوام پر بھی قائم ہوا ۔ خصوصاً دہلی میں مختلف صوفی سلسوں کی خانقاہیں قائم ہوئیں ۔ ان میں سب سے زیادہ چشتی سلسلے کو عروج و رسوخ حاصل ہوا ۔ 

ہندوستانی صوفیوں کی خصوصیت یہ ہے انہوں نے تشریح و وضاحت کے لیے ہندو مذہب کی دیومالائی اقوال سے تعلیمات اخذ کیں ۔ اس طرح بدھ مت کا فلسفہ ترک دنیا ، مرتاضیت اور جنگلوں میں سیر و رییاضت کرتے صوفیا بھی نظر آتے ہیں ۔ صوفیا نے بدھ مت اور ہندو مت سے بہت سے تصورات اخذ کیے ۔ ان میں فنا ، معرفت ، جنس دم ، تصور شیخ وغیرہ نروان وغیرہ نروان، بدلنے اور بنے دھیان ، پرانام کی شکلیں ہیں جو کہ ہندو و بدھ مت رائج تھیں ۔ اس طرح ترک دنیا ، جنگلوں میں ریاضتیں ، صوفیا کے گیروے رنگ کے کپڑے ، تسبیح وغیرہ ان ہی مذاہب سے آئے ہیں ۔ مغل شہزادہ دارلشکوہ نے ان کی مشابہتوں کے بارے میں ایک کتاب مجمع البحرین لکھی ہے ۔ جس میں ان کے بارے میں تفصیل سے درج کیا ہے ۔

قدرتی بات یہ عوام کے ساتھ ساتھ صوفیا بھی ان کی ہیت ، نفس کشی کے طریقہ کار سے بہت مرغوب ہوئے ۔ بقول حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے یہ بھی اپنے طریقہ کار سے خالق حقیقی کو پوجتے ہیں اور ان پنتھوں کی بہت سی باتیں مثلاً ریاضت و مجاہدات ، خرفہ یا زرد لباس اور ان کے عقائد بھی عوام کے ساتھ صوفیا نے شامل کرلیے ۔ مسلمانوں میں بھی جو قلندر اپنے جسم کے سارے بال مونڈھ کر ان بھیک مانگ کر کھاتے ہیں ۔ بعض زنانہ لباس بلکہ خواجہ پیا کی دلہن بنتے ہیں وہ بھی رادھا پنیتھی کی نقل ہے ۔ اس طرح زرد یا گیرو کپڑے پہنا وغیرہ ہندوؤں کی نقل ہے ۔ ہندوؤں یہ رنگ ان کے مذہب اور بزرگی کا ہے اور بھارت کے جھنڈے میں یہ رنگ ہندوؤں کی نمائندیگی کرتا ہے ۔ اس طرح بہت سے واقعات جو کہ ریاضت اور مجاہدات کے متعلق ہیں اور وہ ہندوئوں کی کتابوں پرانوں اور دوسرے شاستروں میں درج ہیں مختلف صوفیا سے منسوب کردیئے گئے ۔ اس کی ایک مثال ہیونگ سانگ کا سفر نامہ ہے ۔ اس میں بدھ اور بدھستوائوں سے بہت سے معجزے درج کیے ہیں ۔ یہ معجزے اب مختلف صوفیا سے منسوب ہیں ۔ 

بدھ اور عیسائی خانقاہوں میں خانقاہ کا سربراہ مسلمانوں کی طرح مورثی نہیں ہوتا تھا ۔ کیوں کہ ان خانقاہوں میں رہنے والوں کے لیے مجرد زندگی گزارنا ضروری تھا اور ان خانقاہوں میں باقیدہ عہداروں کا ایک نظام تھا ۔ جس میں نچلے عہدے سے ترقی پاکر ہی خانقاہ کے سربراہ بنتے تھے ۔

مسلمانوں میں خانقاہ کی اہمیت اس شیخ کے گرد گھومتی تھی جو کہ اس خانقاہ کا پیر ہوتا تھا ۔ اس میں ترقی یا خلافت کا مستحق اس کی رضا اور مرضی پر منحصر ہوتا تھا ۔ اس خانقاہ کی متولیت اس بزرگ کے جانشین کا حق ہوتی تھی ۔ جو کہ عموماً اس کا بیٹا ہوتا تھا ۔ جتنا بڑا بزرگ ہوتا تھا اس خانقاہ کو اتنے ہی زیادہ نظرانے اور زمین وغیرہ ملتی تھی ۔ جس پر وہ لگان کی معافی کے حقدار ہوتے تھے ۔ ان خانقاہوں کے پیروں کا علاقہ میں اثر و رسوخ بے انتہا ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے انہیں بادشاہوں امیروں کے بڑے نذرانے ملا کرتے تھے ۔ یہ اثر و رسوخ ایک ایسے مذہبی پیشوائی میں بدل گیا جو کہ بڑے بڑے جاگیر دار ہیں ۔ ان پیروں نے 1857 اور عالمی جنگوں میں انگریزوں کی مدد کرکے مزید جاگیریں اور حاصل کیے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ۔ آزادی کے بعد ملکی سیاست میں ان کا اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اہم حصہ رہا ہے ۔

عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں