82

خروٹی

نعمت اللہ ہروی نے خروٹی قوم کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ شیر محمد گنڈاپور کا کہنا ہے کہ یہ قوم خود کو غلزئی کی ایک شاخ بتاتی ہے ۔ مگر غلزئی قوم کو اس دعویٰ سے انکار ہے ۔ غلزئی قوم اس خروٹی قوم کی کہانی اس طرح بیان کرتی ہے کہ غلزئی قوم کو کے دو فرد سہاک اور مجیب ایک دن ایک راستہ پر جارہے تھے کہ راستہ میں انہیں بوجھ سے لدھا ہوا ایک گدھا ملا جس کا مالک کوئی نہیں تھا ۔ ابھی یہ گدھے کا پاس پہنچے تھے کہ مجیب نے کہا گدھا میرا ہے ۔ سہاک نے چوں کہ گدھا تم نے لے لیا ہے اس لئے گدھے پر جو سامان ہوگا وہ میرا ہوگا ۔ جب دونوں گدھے کے پاس پہنچے تو اس کے ایک طرف جو کی روٹیاں تھیں اور دوسری طرف ایک شیر خوار بچہ تھا ۔ لہذا سہاک شرط کے مطابق بچے کو گھر لے گیا اور بلحاظ نان بار خر اور نان کی شمولیت سے جس کو پشتو میں روٹہ کہتے ہیں ، اس بچے کا نام خورٹہ رکھ دیا گیا ۔

یہ کہانی بعد کی پیداوار ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ خروٹی سیتھیوں کے اخلاف ہیں اور کلمہ ’خر‘ (گدھا) افغانستان کے علاقہ میں عہد قدیم اور اسلام کے بعد تک ناموں میں عام استعمال ہوتا رہا ہے ۔ بہت سے افغان و برصغیر بہت سے قبیلے اس کلمہ سے بنے ہیں ۔ خر اوستا کا کلمہ ہے اور یہ ہند آریائی میں کھر آیا ہے ۔

قدیم قوموں خاص کر آریاؤں کی خصوصیت تھی کہ وہ اپنا انتساب کسی خاص جانور سے کرتے تھے ۔ وہ اس کی پوجا کرتے اور اس کو اپنا جد امجد تسلیم کرتے تھے ۔ اور اسے مقدس سمجھتے تھے ۔ خر اسی عہد کی یادگار ہے ۔ کلمہ خر پٹھانوں کے بہت سے قبیلوں کے ناموں میں شامل ہے ۔ یہ بھی اسی عہد کی یادگار ہے جب یہ خر (گدھے) کی پوجاکرتے تھے ۔ (دیکھے خر)

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں