88

خر

طبقات ناصری اور دوسری کتابوں میں جہاں سلطنت غوری اور مغلوں کے ابتدائی خروج کا ذکر کیا گیا ہے وہاں ایسے بہت سے کلمے ایسے آئے ہیں جن کے شروع میں خر آتا ہے ۔ مثلاً خرمیل ، خرنک ، خر زرد ، خرچم ، خرپوست وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اس خاندان کی اہم جنگی شخصیتیں اور ادارے ہیں ۔ ابن اثیر نے غوریوں کے زمانے کے واقعات میں ابن خر میل کا بار بار نام لیا ہے کہ وہ بہت دنوں تک ہرات کا حکمران رہا تھا ۔ ابن اثیر نے سپہ سالار خروش اور خرنک کے نام بھی لکھے ہیں ۔ جو سلطان شہاب الدین کے معاصر تھے ۔

راوڑٹی نے بھی ان ناموں کے رنگ و آہنگ کی وحدت پر توجہ کی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ غور کے ملوک و مشاہیر کے کثر ناموں میں خر ہوتا تھا ۔ جیسے خرچم ِ خرنک یا خرنگ ، خر زور ، خرپوست وغیرہ ۔

جن لوگوں نے تاریخ باخترکا مطالع کیا ہے ان کے علم میں ہے کہ باختر کے لوگ گھوڑے (اسپ) کی نسبت کو کیسا سمجھتے تھے ۔ اوستا اور دوسری کتابوں میں ایسے کلہ ہیں جن میں اسپ کا لفظ ہے ۔ مثلاً لہراسپ ، زرسپہ ، وغیرہ ۔ شاید یہ انتساب بعد میں خر میں تبدیل ہوگیا اور اکثر مشہور لوگوں کے ناموں کے نام میں شامل ہے ۔ پشتو کے بعض لوگوں اور قوموں کے ناموں میں یہ کلمہ آیا ہے ، مثلاً خرشبون اور خروٹی ۔

اس تاریخی مطالع سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حیوانات میں مثلاً گائے (گاؤ) ، گھوڑا (اسپ) ، خر (گدھا) وغیرہ کی طرف یہ انتساب برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور انسانی ناموں میں یہ کلمات شامل ہوتے تھے ۔ لیکن شیوع اسلام کے بعد یہ رواج ختم ہوگیا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے یہ کلمہ ’خر‘ ’غر‘ کی تصحیف ہو جس کے معنی پہاڑ کے ہیں اور اس طرح ’خ‘ ’غ‘ سے بدل گئی ہو ۔ فارسی میں خر کا کلمہ بزرگی کے معنوں میں آتا ہے ۔

خر اوستا میں بھی گدھے کے معنوں میں آیا ہے ۔ جب کہ ہند آریائی میں یہ کلمہ ’کھر‘ آیا ہے ۔ یہ کھر کے علاوہ دوسری شکلوں میں قوموں یا قبیلوں کے ناموں میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً کھر ، کھرل ، کھکر ، کھوکر ، کہیریا کھوریا وغیرہ ۔ قدیم آریائی قوموں کی خصوصیت تھی وہ اپنا انتساب کسی خاص جانور سے کرتے تھے ۔ یہ ان جانوروں کی پوجا کے علاوہ اسے اپنا جد امجد بھی تصور کرتے تھے ۔ ان جانوروں میں گوسفند (بھیڑ) سانپ یا ناگ ، مور ، ہنومان (بندر) گنیش (ہاتھی) ، مرغ ، ورک (بھیڑیا) ، کورم (کچھوا) مگر (مگر مچھ) گاؤ (گائے) اسپ ، اشو (گھوڑا) ، خر (گدھا ) اور بزدار (بکری) وغیرہ شامل ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

طبقات ناصری اور دوسری کتابوں میں جہاں سلطنت غوری اور مغلوں کے ابتدائی خروج کا ذکر کیا گیا ہے وہاں ایسے بہت سے کلمے ایسے آئے ہیں جن کے شروع میں خر آتا ہے ۔ مثلاً خرمیل ، خرنک ، خر زرد ، خرچم ، خرپوست وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اس خاندان کی اہم جنگی شخصیتیں اور ادارے ہیں ۔ ابن اثیر نے غوریوں کے زمانے کے واقعات میں ابن خر میل کا بار بار نام لیا ہے کہ وہ بہت دنوں تک ہرات کا حکمران رہا تھا ۔ ابن اثیر نے سپہ سالار خروش اور خرنک کے نام بھی لکھے ہیں ۔ جو سلطان شہاب الدین کے معاصر تھے ۔

راوڑٹی نے بھی ان ناموں کے رنگ و آہنگ کی وحدت پر توجہ کی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ غور کے ملوک و مشاہیر کے کثر ناموں میں خر ہوتا تھا ۔ جیسے خرچم ِ خرنک یا خرنگ ، خر زور ، خرپوست وغیرہ ۔

جن لوگوں نے تاریخ باخترکا مطالع کیا ہے ان کے علم میں ہے کہ باختر کے لوگ گھوڑے (اسپ) کی نسبت کو کیسا سمجھتے تھے ۔ اوستا اور دوسری کتابوں میں ایسے کلہ ہیں جن میں اسپ کا لفظ ہے ۔ مثلاً لہراسپ ، زرسپہ ، وغیرہ ۔ شاید یہ انتساب بعد میں خر میں تبدیل ہوگیا اور اکثر مشہور لوگوں کے ناموں کے نام میں شامل ہے ۔ پشتو کے بعض لوگوں اور قوموں کے ناموں میں یہ کلمہ آیا ہے ، مثلاً خرشبون اور خروٹی ۔

اس تاریخی مطالع سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حیوانات میں مثلاً گائے (گاؤ) ، گھوڑا (اسپ) ، خر (گدھا) وغیرہ کی طرف یہ انتساب برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور انسانی ناموں میں یہ کلمات شامل ہوتے تھے ۔ لیکن شیوع اسلام کے بعد یہ رواج ختم ہوگیا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے یہ کلمہ ’خر‘ ’غر‘ کی تصحیف ہو جس کے معنی پہاڑ کے ہیں اور اس طرح ’خ‘ ’غ‘ سے بدل گئی ہو ۔ فارسی میں خر کا کلمہ بزرگی کے معنوں میں آتا ہے ۔

خر اوستا میں بھی گدھے کے معنوں میں آیا ہے ۔ جب کہ ہند آریائی میں یہ کلمہ ’کھر‘ آیا ہے ۔ یہ کھر کے علاوہ دوسری شکلوں میں قوموں یا قبیلوں کے ناموں میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً کھر ، کھرل ، کھکر ، کھوکر ، کہیریا کھوریا وغیرہ ۔ قدیم آریائی قوموں کی خصوصیت تھی وہ اپنا انتساب کسی خاص جانور سے کرتے تھے ۔ یہ ان جانوروں کی پوجا کے علاوہ اسے اپنا جد امجد بھی تصور کرتے تھے ۔ ان جانوروں میں گوسفند (بھیڑ) سانپ یا ناگ ، مور ، ہنومان (بندر) گنیش (ہاتھی) ، مرغ ، ورک (بھیڑیا) ، کورم (کچھوا) مگر (مگر مچھ) گاؤ (گائے) اسپ ، اشو (گھوڑا) ، خر (گدھا ) اور بزدار (بکری) وغیرہ شامل ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں