56

خسرو اول یا نوشیرواں عادل

Chosroes 1th or Noshirwan The Jists                 (531ء تا 579ء)
تخت نشینی 
خسرو جس کو عرب کسریٰ کہتے ہیں ، خاندان ساسان کا سب سے نامور بادشاہ گزرا ہے ۔ اس کے عہد میں عدل و انصاف کو عالمگیری شہرت حاصل ہوئی ۔ فتوحات اور سیاسی طاقت کے لحاظ سے بھی اس کے عہد کو اہمیت حاصل ہوئی ۔ طبری کی روایت کے مطابق قباد جب قید سے نکل کر ہنوںHuns  کے پاس جارہا تھا تو راستے میں ایک دہقانی لڑکی سے شادی کی تھی اس نوشیرواں پیدا ہوا تھا ۔ نوشیرواں بھائیوں سے چھوتا تھا مگر قباد کا منظور نظر تھا ۔ اس لیے قبادنے جانشین بنایا تھا پھر بھی قباد کے دو بیٹوں کاؤس Kaoses اور جام Zames نے تخت کا دعویٰ کیا مگر ان کو ناکامی کا منہ دیکھناپڑا ۔ نوشیرواں نے انہیں بلکہ خاندان کے اکثر شہزادوں کو قتل کرادیا تاکہ سلطنت کا اور کوئی دعویٰ دار باقی نہ رہے ۔ 
روم سے چپخلش 
داخلی خطرات سے نجات پانے کے بعد نوشیرواں نے رومی سلطنت کی طرف توجہ کی اور 533ء میں قیصر روم جسٹینین Justinion ایک معاہدہ کرلیا ۔ اس معاہدہ کے تحت رومی حکومت نے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا ، جس کے بدلے نوشیرواں نے دربند اور کوہ کاف کے دوسرے قلعوں کی حفاظت کی زمہ داری لی ۔ مگر چند سال کے بعد ہی نوشیرواں نے رومیوں سے جنگ چھیڑ دی ۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ قیصر جسٹینین نے مصلحت کے تحت صلح کی تھی ۔ وہ اس وقت افریقہ کی مہم میں الجھا ہوا تھا اس لئے ایران سے جنگ نہیں کر سکتا تھا اور صلح کرنے کے بعد اس نے پوری توجہ افریقہ کی مہم کی طرف مرکوز کردی اور چھ سال کے اندر عظیم انشان کامیابی حاصل کی ۔ نوشیرواں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جسٹینین افریقہ کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد ایران پر چڑہائی کرے گا ۔ اس پیش بندی کے طور پر خود ہی اس نے رومی علاقے پر حملہ کردیا ۔ بہر کیف وہ شام کے صوبوں اور رومی علاقے فتح کرتا ہوا انطاکیہ جا پہنچا ۔ راستہ کے اکثر شہر اس نے ویران کردیئے اور بے شمار شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اور ہزروں مکانات کو نذر آتش کردیا ۔ رومی حکومت ہنوز جنگ کیلئے تیار نہیں تھی ۔ چنانچہ اس نے تاوان جنگ اور بھاری خراج کی بھاری رقم پیش کرتے ہوئے صلح کرلی ۔ مگر یہ صلح بھی زیادہ دیر پا نہیں ہوئی اور لازیکا Lazica کے مسلئہ پر جنگ چھڑگئی ۔ 
نوشیرواں اور جسٹینین کے پہلے معاہدہ میں ایک شرط یہ تھی کہ لازیکا کی ریاست جو بحیرہ اسود کے کنارے واقع تھی رومیوںکے ماتحت رہے گی ۔ اس وقت رومی حکومت افریقہ میں الجھی ہوئی تھی ، اس لئے ریاست کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکی ۔ ۵۴۰ء میں اس نے وہاں کے حکمران سے خراج طلب کیا اور رومی فوج رکھنی چاہی ۔ لازیکا کے حکمرن نے نوشیرواں سے مدد طلب کی ۔ اس نے فوراََ لازیکا کی بندرگاہ پتر اPetra موجودہ باطوم پر قبضہ کرلیا اور لازیکا کی ریاست کو ایران میں شامل کرلیا ، اس طرح ایرانی سلطنت بحیرہ اسود تک پھیل گئی ۔ مگر لازیکا کے باشندے زیادہ تر عیسائی تھے ، وہ کسی قیمت پر رومیوں پر ایران کو ترجیع نہیں دے سکتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے شورشیں پرپاکردیں اور رومی حکومت سے مدد طلب کی ۔ رومیوں نے حامی دین ہونے کی ھثیت سے ان کی مدد کے لئے فوج بھیج دی ۔ اس طرح روم و ایران میں جنگ چھڑ گئی ۔ یہ جنگ 562ء میں ختم ہوئی ، آخر میں چند شرائط پر صلح ہوگئی ۔ یہ معاہدہ جو پجاس سال کے لئے ہوا تھا ، اس میں ایران نے لازیکا سے دستبرداری کا اعلان کیا اور روم نے اس کے عوض تیس ہزار اشرفیاں سالنہ دینے کا وعدہ کیا تھا ، نیز ایران نے یقین دلایا تھا کہ وہ عیسائیوں پر طلم نہیں کرے گا ۔ مگر یہ صلح بھی دیر تک قائم نہیں رہے سکی ۔ 
یمن 
یمن پر حبشہ Abyssinian کی حکومت تھی جس نے قبضہ کرلیا ۔ حبشی حاکم ابراہہ کے زمانے میں یہ تسلط مزید مستحکم ہوا ۔ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے صنعا کے مختلف مقامات پر کلسیے تعمیر ہوئے ۔ ۵۷۰ء میں ابرہہ ایک فوج لے کر نکلا کہ خانہ کعبہ مسمار کردے ، مگر بلا آسمانی نے اسے تباہ کردیا ۔ اس جارہانہ کاروئیوں سے عربوں کے اندر شدید بے چینی پھیل گئی ۔ اسی زمانے میں ایک حمیر Himyarte کا ایک شہزادہ جو یمن کے سابق خاندان سے تعلق رکھتا تھا ، ایران میں پناہ گزیں تھا ۔ چنانچہ عربوں نے حبشیوں کے خلاف نوشیرواں سے مدد طلب کی ۔ اس نے فوراََ عربوں کی حمایت کا اعلان کیا اور ایک بڑی فوج بھیج دی ۔ حبشی حکومت مقابلہ نہیں کرسکی اور یمن خالی کرنے پر مجبور ہوئی نوشیرواں نے حمیری شہزادے کو ایرانی مملکت کا حاکم مقرر کردیا کیا ۔ اس طرح یمن میں بھی ایران کا تسلط 576ء میں قائم ہوا ۔ مگر اس واقعہ کے تھوڑے عرصہ کے بعد حضور ﷺ کا ظہور ہوا اور یمن حلقہ بگوش اسلام ہوا نیز اسے اسلامی مملکت میں شامل کرلیا گیا ۔ 
ترک 
نوشیرواں کے عہد کا دوسرا اہم واقعہ ترکوں کے متعلق ہے ۔ ترک اصولاً منگولی تھے ۔ وہاں سے نکل کر کوہ یورال اور کوہ الطائی کے درمیان پھیل گئے تھے ۔ اس وقت مشرقی ترکوں کا سردار ایل خانIl Khan  تھا ۔ نوشیرواں نے ترکوں سے دوستانہ تعلقات قائم کئے اور اس کی مدد سے ہنوں پر حملے کئے ۔ اس مقابلے میں ہنوں کو شکست ہوئی اور ان کا سردار مارا گیا ۔ اس واقع کے بعد ایرانی سرحدیں دریائے جیحوں تک وسیع ہوگئیں اور اس کے بعد نوشیرواں نے خزر قبائل پر فوج کشی کی اور ان کی طاقت کو بھی پارا پارا کردیا ۔
ہنوں کی شکست کے بعد ترکوں کی طاقت میں خطر خوا اضافہ ہوا ۔ 567ء میں ترک سردار دیزا بول Dizabul نے نوشیرواں کے دربار میں اپنا ایک سفیر بھیجا اور ایرانی حکومت سے اتحاد کی خواہش کی ، مگر نوشیرواں نے یہ درخواست مسترد کردی اور سفیر کو زہر دے کر ہلاک کردیا ۔
سفیر کو زہر دے کر ہلاک کرنے اور دوستی کو ٹھکرانے کے اسباب صیح معلوم نہیں ہوسکے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترکوں نے اس اتحاد کی درخواست سے پہلے ہی ایرانی مملکت پر یورشیں شروع کردیں تھیں ۔ اس لئے نوشیرواں نے اس درخواست کو مکاری پر مجہول کیا ۔ اس واقع کے بعد ترکوں نے زورشور سے یلغار شروع کردی ، مگر نوشیروانی عہد ایرانی حکومت کے عروج کا عہد تھا ۔ اس نے بھی جوابی کاروائی کی اور ترکوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ ترکوں نے اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے رومی حکومت سے اتحاد کی کوشش کی ، مگر قیصر جسٹینین اس کے لئے راضی نہیں ہوا ۔ مگر چارسال کے بعد 572ء میں ترکوں سے باضابطہ اتحاد کرلیا ۔ 
رومیوں سے آخری جنگ اور وفات 
یمن کی مہم سرکرنے کے بعد روم سے تیسری جنگ کرنی پڑی ۔ اس جنگ کا اہم سبب ترکوں اور رومیوں کا اتحاد بتایا جاتا ہے ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ چار سال میں کے اندر کیا سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں کہ رومی حکومت نے ترکوں سے اتحاد کر کے ایران سے جنگ چھیڑ دی ۔ مورخین اس کے صیح اسباب نہیں بتاتے ہیں ، مگر صاف ظاہر ہے کہ اس واقع سے ایک سال پہلے یمن کے اندر حبشی حکومت نے ایران سے شکست کھائی اور یمن پر ایرانی تسلط ہوگیا ۔ حبشی حکومت رومیوں کے زیر اثر ہونے کے علاوہ ہم مذہب بھی تھی ۔ علاوہ ازیں یمن کو تجارتی اور سیاسی اہمیت بھی حاصل تھی ۔ اس سیاسی تبدیلی کی وجہ سے رومی حکومت میدان جنگ میں اتر آئی ۔ مگر جنگ میں انہیں سخت ہزمیت اٹھانی پڑی ۔ جسٹینین ان ناکامیوں کو برداشت نہ کرسکا اور تخت سے دست بردار ہوگیا ۔ اس کے جانشین طبرس Tiberus نے نوشیرواں سے صلح کرلی ۔ اس واقع کے چند ماہ بعد ایران کا یہ شہرہ آفاق بادشاہ 579ء میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ نوشیروانی عہد ساسانی دور کا انتہائی عروج کا دور تھا ۔ مگر اس دور کے بعد ایرانی حکومت نہایت تیزی سے ذوال کی طرف گامزن ہوئی اور کل چوہتر سال میں چودہ بادشاہ تخت نشین ہوئے اور بالاآخر 579ء میں ساسانی بلکہ ایرانی دور حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہوا ۔ 
انتظام مملکت 
نوشیروانی عہد میں مملکت کی ازسر نو تشکیل ہوئی اور سلطنت کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ جس کو ’پاؤگس‘ کہتے تھے ۔ ہر پاؤگس ایک ’پاؤگس بان‘ کے ماتحت تھا جو اس علاقہ کا حاکم اعلیٰ سمجھا جاتا تھا ۔ اس کی حثیت وائسرائے کی تھی ۔ ماتحت صوبوں کے احکام کو وہی مقرر کرتا تھا ۔ تمام مالی اور انتظامی امور اسی کے متعلق تھے ۔ وہ اپنے امور میں خود مختیار تھا اور امن و امان قائم رکھنے کے علاوہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے فوج بھی رکھتا تھا ۔ نوشیروانی عہد میں ایرانی مملکت چار اقلیم حسب ذیل تھے ۔ مثلاً یمن میں جب نوشیرواں کا قبضہ ہوا تو وہاں کا نظم و نسق ایک مزبان کے سپرد کیا گیا ۔ نوشیروانی دور میں حسب ذیل اقلیم تھے ۔
(۱) شمالی اقلیم ۔ باختر ۔ اس میں آرمینا اور آذربئجان کے علاقے شامل تھے ۔
(۲) جنوبی اقلیم ۔ نیمروز ۔ یہ فارس و خوزستان کے علاقوں پر مشتمل تھا ۔
(۳) جنوبی اقلیم ۔ خورسان یا خراسان ۔ اس میں خراسان و کرامان کے علاقے شامل تھے ۔
(۴) مغربی اقلیم ۔ خور دران یا خربُران ۔ یہ عیراق کے صوبوں پر مشتمل تھے ۔
ان چار علاقوں کے علاوہ کچھ سرحدی علاقے بھی تھے جو ’باگس بان‘ کے زیر حکومت نہ تھے بلکہ ان کا انتظام دوسرے احکام کے سپرد تھا ۔ جن کو فارسی میں ’مرزبان‘ کہتے تھے ۔    

مرکزی محکموں کو دیوان کہتے تھے ، ہر دیوان ایک صاحب دیوان کے ماتحت تھا ۔ حسب ذیل دیوانوں کا پتہ چلا ہے ۔
(۱) بزرگ فرماندار ۔ اس کی حثیت وزیر اعظم کی تھی ۔
(۲) موبذان موبذہ ۔ یہ مذہبی بیشواہ تھا ۔ عدالتیں اور مذہبی امور اس سے متعلق تھے ۔
(۳) ایران دبیر بذ ۔ اس کی حثیت متعمد عمومی کی تھی ۔ تمام دبیروں کا تعلق اسی حاکم سے تھا ۔
(۴) ایران سپہبذ ۔ یعنی سالار فوج ۔
نیم خود مختیار ریاستیں
مذکورہ اقلیم و مزبانی علاقوں کے علاوہ کچھ شہر اور حصے ایسے تھے جو نیم آزاد فرمانرؤں کے ماتحت تحت تھے اور ان کی حثیت دیسی ریاستوں کی سی تھی ۔ ایسی ریاستوں میں آرمینا اور جبرہ کا تذکرہ خاص طور پر ملتا ہے ۔ یہ ریاستیں داخلی امور میں کلیتًہ آذاد تھیں اور ایک طہ شدہ رقم بادشاہ کو بطور خراج ادا لرتی تھیں ۔ ایسے والیان ریاست کو ’شترتاران یا شہر واران‘ کہتے تھے ۔ اگر ان کا تعلق ساسانی خاندان سے ہوتا تھا تو ان کو ’شاہ‘ کا لقب دیا جاتا تھا ۔ ساسانی خاندان کے علاوہ سات ریاستیں ایسی تھیں جن کو عزت و عظمت حاصل تھی ۔ ان خاندانوں میں چار ایسے تھے جو اپنا سلسلہ اشکانی حکمرانوں سے جوڑتے تھے ۔ بقیہ تین بھی پارت کے معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان ہفت خانوادہ کو ’دیس پورانّ کہتے تھے ۔ یہ ملک کے بڑے جاگیر دار تھے ۔ ان کی جاگیریں مورثی تھیں اور نسلاً بعد نسل میں منتقل ہوتی رہتی تھیں ۔ مگر ان کو املاک بیچنے کا حق حاصل نہیں تھا ۔ ان سات خانوادوں کے مختلف القاب تھے اور ان کی جاگیریں مختلف مقامات پر تھیں ۔ مثلاً نہاوند میں قارن ، سیستان میں سورن ، رے میں اسپندیار ، گرگان میں اساسپہبذ اور پارس میں مہران جاگیردار تھے ۔ یہ شہانا کرد فر رہتے تھے اور ان کو بادشاہوں سی عزت حاصل تھی ۔ انہیں فوج رکھنے کا حق حاصل تھا اور بوقت ضرورت بادشاہ ان سے فوجیں طلب کرسکتا تھا ۔
مالیات
نوشیرواں نے اپنے عہد میں مالیات کی اصلاح کی گئی تھی اور زمین کی پیمائش کرانے کے بعد اس پر لگان مقرر کیا تھا ۔ سرکاری لگان جس کو ایرانی ’خراک‘ کہتے تھے جو عربی میں خراج بن گیا ہے ۔ یہ خراک پیداوار کا 6/1 تا 3/1 حصہ تک وصول کیا جاتا تھا ۔ اس کی وصولی میں بڑی سختی کی جاتی تھی اور اس سے رعایا بڑی تنگ تھی ۔ اس کے علاوہ قومی تہواروں پر رعایا سے نظرانہ وصول کیا جاتا تھا اس کی حثیت سرکاری محصول کی ہوگئی تھی ۔
عدالت و قوانین ۔ ساسانی عہد میں عدالتی نظام میں کچھ اصلاح ہوئی ۔ جیل خانے قائم کئے گئے اور مجرموں کو قید کی سزا دی جانے لگی ۔ نوشیروں نے قانونی چارہ جوئی کے لیے مزید سہولتیں بہم ہنچائیں اور مقدمات کی پیشی اور سماعت کے آسان طریقے وضع کئے نیز سزا کو جرمانے سے بدلنے اجازت دی پہلے جرم کے ارتکاب کی صورت میں عام طور پر موت کی سے روکا ۔ مگر سخت اور بہمانہ سزاؤں کے اندر کوئی ترمیم نہیں کی ۔
مذہب
نوشیرواں دین زرتشت پر کاربند تھا ۔ اس کے عہد تک مزدوکیت ملک کے اکثر حصوں تک پھیل گیا تھا ، اس نے ملک میں بے چینی پیدا کردی تھی ۔ نوشیرواں نے مذہبی رہنماؤں کو خوش کرنے کے خیال سے مزدوک اور اس کے ایک لاکھ پیروں کو قتل کرادیا ۔ اس کار خیز کے بدلے اس کے ہم مذہبوں نے اسے عادل یا داد گرJists کا خطاب دیا تھا ۔
زبان اور علمی کارنامے
نوشیر واں عہد میں پہلوی ہی سرکاری زبان تھی اور سکے اور کتبے اسی زبان کے دستاب ہوئے ہیں ۔ نوشیرواں نے اپنے عہد میں علم کی ترویج کی طرف خاطر خواہ توجہ دی تھی اور مختلف مقامات پر مدرسے قائم کروائے ۔ ان میں جند شاپور کا مدرسہ سب سے بڑا اور اہم تھا ۔
دارلحکومت
نوشیرانی عہد میں دارلحکومت تیسفون جس کو عربوں نے مدائین کہا ہے ۔ یہاں نوشیرواں کے بنائے ہوئے قیصر کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ یہ قیصر دریائے دجلہ کے کنارے تعمیر ہوا تھا اور ’کاخ سفید‘ کہلاتا تھا ۔ آج بھی یہ طاق کسریٰ یا ایوان مدائن کہلاتا ہے ۔ یہ عمارت بہت وسیع اور بلند تھی اور ایک بسیط میدان کے اندر جو دجلہ تک پہلا ہوا تھا واقع تھی ۔ اس میدان کے کنارے ایک ہلال نماء طاق یا محراب تھی جس کی بلندی ارتالیس میٹر تھی اور بہت دور سے نظر آتی تھی ۔ اس محراب کے دونوں طرف چار بڑے بڑے کمرے تھے جو ایک دوسرے سے متصل تھے اور ان میں سے ہر ایک کا دروازہ دوسرے کمرے کی طرف کھلتا تھا ۔ یہ عمارت اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے بھی بے مثال تھی ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں