khondi 79

خوندی

نعمت اللہ ہروی لکھتا ہے کہ دانی بن غرغشت بن قیس کا لڑکا داوی قندھار گیا جہاں اسے ایک عورت اپنے بیٹے سیّد حسن افغان کے ہمراہ ملی ۔ اس کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ خجند سے قحط کے سبب آئی تھی اور اپنی بہن کے پاس ملتان جارہی تھی ۔ داوی اس عورت کی تنہائی کے سبب اس کے ساتھ ملتان گیا ۔ جہاں اس عورت نے داوی سے نکاح کرلیا اور اس کے ہمراہ داوی کے وطن آگئی ۔ دادی بھی قیس سے چند پشتوں کا فاصلہ ہے ۔

اس عورت کا لڑکا جو اس کے ہمراہ تھا بڑا ہوکر چوری اور ڈاکے ڈالنے لگا ۔ ایک مدت کے بعد اسے اپنے گناہوں کا احساس ہوا اور وہ سچے دل سے توبہ کرکے غوث العالم بہاؤالدین ذکریاؒ ملتانی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک مدت تک ان کی خدمت میں رہا اور مختلف ریاضتیں کیں ۔ پھر حضرت بہاؤالدین کے حکم سے واپس وطن آگیا اور زندگی بھر مخلوق خدا کو احکام خداوندی دعوت دیتا رہا ۔

 حسن افغان دراصل خجند کا رہنے والا تھا ، لیکن خوندی مشہور ہوگیا ۔ اس کا شجرہ نسب اس طرح ہے ۔ خوندی بن ابو محمد بن سیّد علی بن سیّد جعفر بن سیّد محمد بن سیّد موسیٰ بن سیّد ابراہیم اضغر بن موسیٰ کاظمؒ بن حضرت امام جعفر صادقؒ بن محمد باقرؒ بن حضرت امام زین العابدینؒ بن حضرت امام حسینؓ بن حضرت علیؓ کرم وجہہ ۔

نعمت اللہ ہروی کا بالاالذکر بیان جس کا ہم نے خلاصہ پیش کیا ہے ۔ اس میں وہی لے پالک کی داستان ہے جس میں بہت سے حقائق کو مد نظر نہیں رکھا گیا ۔ مثلاً قیس جو حضرت علیؓ کا ہم عصر بتایا جاتا ہے اور حسن افغان ان کی بارویں پشت پر بتایاگیا ہے ۔ دوسری طرف داوی کو قیس کی چوتھی پشت پر بتایا گیا ہے جو ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے شیر محمد گنڈا پور نے اس سقم کو محسوس کرتے ہوئے اس نے حسن افغان کو خجندی قبیلے سے بتایا ہے ،لیکن اسے خجندی قبیلے کا بانی نہیں بتایا ہے اور نہ ہی اس نے حسن افغان یا خوندی سیّد کا شجرہ دیا ہے ۔

شیر محمد گنڈا پور لکھتا ہے کہ معتبر تاریخوں میں اس قوم کو سیّد لکھا گیا ہے اور یہ نو سیّد قوموں میں گنے جاتے ہیں جو کہ افغان مشہور ہیں اور یہ غور غشت کے قبیلے دانی سے ملحق ہیں ۔ سیّد افغان سیّد حسن افغان جو حضرت بہاؤالدین ذکریا ملتانی کے مریدوں اور خلفاء میں سے تھے اور وہ خوندی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس قبیلے کا ساداتی قصہ اور ان کا شجرہ نسب مراۃ افغانہ اور دوسری کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ لفظ خوندی دراصل خجندی ہے اور کثرت سے استعمال کی وجہ سے مخفف ہو کے خوندی ہوگیا ہے ۔ چونکہ اس قبیلے کے بزرگ خجند سے افغانستان آئے تھے اس لئے انہیں سیّد خجندی کہتے تھے جو رفتہ رفتہ خوندی ہوگیا ۔

جب کہ تصوف کی کتابوں میں لکھاہے کہ شیخ حسن افغان حضرت بہاؤالدینؒ ذکریا ملتانی کے مرید اور خلفاء میں سے تھے اور کوہستان کہ رہنے والے تھے جس کو کوہ سلیمان کہتے ہیں ۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کہتے ہیں کہ آپ ان پڑھ بلکہ حروف آشنا بھی نہیں تھے ۔ مگر لوح محفوظ نے ان پر اثر ڈالا ہوا تھا ۔ فوائدالفوئد میں حضرت نظام الدینؒ اولیا سے منقول شیخ حسن افغان کے مناقب اور واقعات درج ہیں ۔

شیخ حسن افغان حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ ملتانی کے مقبول خلفاء میں اور سلسلہ سہروردی کے مشہور ترین شیوخ تھے اور کوہ سلیمان کے رہنے والے تھے جس میں افغان رہتے ہیں ۔ خزینتہ الاصفیاء میں ہے وہ اپنے زہد و عبادت ، ذوق و شوق اور عشق و محبت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ علم ظاہری سے امی تھے ۔ حروف تہجی کی شناخت نہیں تھی ۔ لیکن علم باطنی کی اعلیٰ منزل پر فائز تھے ۔ گویا لوح محفوظ کا علم ان کے سینے پر منقش ہے ۔ حسن افغان نے ۶۸۹ ہجری میں وفات پائی۔ ان کا مزار پرانوار حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ ملتانی کے روضہ مبارک کے عقب میں واقع ہے ۔ حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ ملتانی ان کے متعلق فرماتے ہیں اگر قیامت کے روز حق اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ تو کیا لے کر آیا ہے تو میں عرض کروں گا کہ حسن افغان کو لے کر آیا ہوں ۔

تصوف کی کتابوں میں حسن افغان کا ذکر بڑی عزت و احترام سے آیا ہے ، مگر کسی تذکرے سے ان کے سیّد ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی ہے ، البتہ شیخ کے سابقہ سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ سیّد النسل نہیں تھے اور یہ کوہ سیلمان کے رہنے والے تھے ۔ ان کا مرقد ملتان میں حضرت بہاؤالدین ذکریاؒ ملتانی کے روضہ کے عقب میں واقع ہے ، اس سے بھی نعمت اللہ ہروی کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ حسن افغان واپس کوہ سلیمان چلے گئے تھے ۔

افغانوں کے بیابات میں خوندی قبیلہ کے سیّد النسل ہونے کے دعوے تاریخی اور عقلی معیار پر نہیں اترتے ہیں اور بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سیّد النسل نہیں ہیں اور ان کا تعلق ماقبل اسلام کسی تقدس آمیز خاندان سے ہے جو اسلام لانے کے باوجود بھی تقدس کے حامل رہے اور اسی تقدس نے رفتہ رفتہ انہیں سیّد کا چولا پہنادیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں