63

داسیو


دیسی باشندے جن کو آریا دراز سے داسیو کے نام سے موسوم کرتے تھے ، جو ایک سیاہ گہرے رنگ کی قوم تھی اور انہیں حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے ۔ کیوں کہ وہ کالے تھے ، ان کی ناک چپٹی تھیں ، وحشی تھے اور کچا اور ادھ کچا گوشت کھاتے تھے اور بھوتوں کی پرستش کرتے تھے ۔ آریا ان سے الگ تھلک رہتے اور مذہب اور پرستش کے معاملات میں خصوصاً ان سے دور بھاگتے ۔ غالباً اس نفاست پسندی اور وحشی اقوام سے علحیدہ رہنے کی خواہش سے انہوں نے اپنے آبائی مذہب کے بھجنوں اور مذہبی گیتوں کو جمع کرنا شروع کیا جو اس وقت تک منظوم صورت میں نہیں آئے تھے ۔ اس کام کو پانسو سال کے عرصہ میں مختلف موقعوں پر رشیوں نے انجام دیا جو شاعر تھے ۔ اس مجموعہ کا نام رگ وید یعنی حمدیہ مجموعوں کا وید ۔ 
داس کی جسمانی خصوصیات جو رگ وید میں بیان کی گئی ہیں ۔ ان میں کرشنَت واچ (کالے منہ والے یعنی کالے رنگ والے) ، اناس (بغیر ناک یعنی چپٹی ناک والے) اور مِرَ دَھراج (سخت منہ والے یعنی بد زبان) ۔ داسوں کے رویوں پر رگ وید میں ان پر جو اعتراض کیے اور صفات بتائی گئی ہیں وہ کچھ یوں ہیں ۔
اَکَرماں ۔ بے عمل ، یعنی مذہبی رسمیں ادا نہ کرنے والا ۔
اَیوایُو ۔ دیوتاؤں کے بغیر ، یعنی دیوتاؤں کی پروا نہ کرنے والا ۔ کیوں کہ وہ آریاؤں کے دیوتاؤں کی پوجا نہیں کرتے تھے ۔ 
اَبُرہمن ۔ برہمن کے بغیر یا برہمن کی عزت نہ کرنے والا ۔
اَیَجوَاناں ۔ یجیہ یا یگیہ یعنی قربانی نہیں کرنے والا ۔
اَوَرَت ۔ جس کا کوئی ورت (قانون) نہ ہو ۔ یعنی قانون نہ ماننے والا ۔
اَنیاوریت ۔ عجیب و غریب ریتوں (رواجوں) کو ماننے والا ۔ 
دیواپی یُوا ۔ دیوتاؤں کی توہین کرنے والا ۔
انیا دیوا ۔ عجیب و غریب دیوتاؤں کو ماننے والا ۔ 
شِشنا دیوا ۔ شَشنا دیوتا یعنی ناگ کی پوجا کرنے والا ۔
ایک جگہ رگ وید میں لکھا ہے بَرِبُو جو مقامی پنیوں اور ترکھان بلند مرتبہ تھا ۔ رشی بھرت واج نے اس کی سخاوت کی تعریف کی ہے (رگ وید ۶۔۴۵ ، ۳۔۳۳) رگ وید میں پنیوں کو اکثر کرائے کا قاتل ، دولت مند ، شرپسند ، مویشی چور لالچی اور آریاؤں کے دشمن بتایا گیا ہے اور انہی کے خزانے اندر نے لوٹے تھے ۔ (رگ وید ۲،۲۴،۶۔۷) مویشی آریاؤں کی بڑی دولت تھے وہ انہیں چرا کر بیچ کر آتے تھے ۔ اس لیے وہ آریاؤں کے دشمن قرار پائے ۔ ایک برہمن وِش اَشوی کو داس بادشاہوں بل بوتھ اور ترُکش نے سو انٹوں کا تحفہ دیا تھا ۔ 
آریاؤں اور مقامی قبائل میں فرق جسمانی ساخت کے علاوہ ثقافت اور طرز زندگی کا بھی تھا ۔ یہ فرق مادی اشیا میں بھی تھا اور رویوں کا بھی تھا ۔ آریا اور داس دونوں قبائل میں مستقیم تھے ۔ داس قبیلے کو وش کہتے تھے اور قلعہ بند شہروں میں رہتے تھے اور قلعہ بن شہر کو پور یا پورہ یا پُر کہتے تھے ۔ یہ پُر کچی اینٹوں ، مٹی ، لکڑیوں اور پتھر کے بنے ہوتے تھے ۔ رگ وید میں اگنی دیوتا سے التجا کی گئی ہے کہ ان پوروں کو جلا کر راکھ کردے ۔ (رگ وید ۲۔۲۸) داسوں کے مختلف موسموں میں رہنے قلعے تھے ۔ مثلاً ’شاردی’ (خزاں کے موسم کے قلعے) خزاں میں استعمال کئے جاتے ہوں گے ۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ داس شہری لوگ تھے اور کافی دولت مند ہوتے ہوں گے ۔ داسوں کی کئی خود مختیار ریاستیں تھیں جن پر مختلف قبائل حکمران تھے ۔ رگ وید میں ایسے کئی حکمرانوں کے نام آئے ہیں ۔ مثلاً چنڈال ، پر ناک ، سم یُو ، اَجَن ، شِکَروُ ، یکشوُ وغیرہ ۔ 
کوسمبی کا کہنا ہے کہ بہت سے براہمنوں کا مقامی نسل ہونا ثابت ہوتا ہے اور ان کے نام اپنی ماؤں پر ہیں ۔ جب کہ رگ وید آریاؤں کے نام باپوں کے حوالے سے لیتا ہے اور ماؤں کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ مثلاً دِیرگھٹَمسَ جس کو تِیریتن دکھ پہنچاتا ہے ممتا کا بیٹا ہے جو کہ ایک داسی عورت کا بیٹا ہے ۔ باپ کا نام کہیں اُرشج ہے اور کہیں اُچتھا ، کئی رشیوں پر داس عورتوں کے بیٹے ہونے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ یعنی مقامی باشندے تھے ، کوسمبی نے دو نمایاں گوتروں کے بانیوں اگستی اور وسِشتھ دونوں گھڑے سے پیدا ہوئے ۔ گھڑا ایک طرف رحم مادر کی علامت ہے اور دوسری طرف یہ آریاؤں سے پہلے کی دیوی ماں کی کوکھ کی علامت ہے ۔ یوں یہ قدیم نسل کے بعد میں برہمن تسلیم کرلیے گئے ۔  
آریاؤں کی اکثر لڑائیاں مقامی قبائل کے علاوہ آپس میں بھی پانی پر ہوتی تھیں ۔ یہ آریا مخلوط نسل کے ہوتے تھے ۔ رگ وید میں ایک رشی کا نام کرشن ہے اور کرشن کے معنی سیاہ کے ہیں ۔ رگ وید میں اندر کے ہاتھوں بہت سے قلعوں کو بعض اوقات کرشن گربھا کہا گیا ہے ۔ یعنی جس کی کوکھ میں کالے لوگ تھے ۔ رگ وید میں ایک جگہ اندر و کرشن کی لڑائی کا بھی ذکر ہے ۔ کرشن کو عموماً اندر کا دوست بتایا گیا ۔ مگر کبھی کبھی لڑائی بھی ہوجاتی تھی ۔ یہ کرشن غالباً مقامی تھا ۔ 
اس زمانہ کے حوالے کہیں کہیں رگ وید میں پائے جاتے ہیں ۔ اگرچہ بعد کے زمانہ میں اس میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہین ۔ مگر پھر اس زمانہ کے حالات و واقعات کو جاننے میں اس سے مدد ملتی ہے ۔ اس طرح دہرم شاستروں میں بھی کچھ اشاروں اور الفاظوں سے ویدک زمانے کے حالات جاننے مدد ملتی ۔ یہ دھر شاستروں میں کچھ نثر (سوتر) میں اور کچھ نہایت قدیمی چھندوں میں جنہیں گاتھا کہتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

`

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں