74

دریائے سندھ میں آمد و رفت

میدانی علاقوں میں دریائے سندھ کی مسلسل راستہ تبدیل کرنے کی عادت جو کہ دریائے سندھ کا خاصہ ہے ۔ یہ آمد و رفت کے لیے استعمال کرنے والوں کے لیے ہمیشہ سر درد بنی رہی ۔ جب دریائے سندھ پہاڑوں سے گزرتا ہے وہاں کے لوگ چھوٹے فاصلوں کے لیے چپو والی کشتی یا بکریوں کی کھال میں ہوا پھر کر بنائی گئی کشتیاں استعمال کرتے تھے ۔ تاہم قدیم روایتی کشتیاں لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے قدیم زمانے سے استعمال کی جارہی ہیں ۔ ان میں دریا کو پار کرنے کے لیے گھاٹ پر اوپر باندھے تاروں سے یا یہ چپوؤں سے چلائی جاتی تھیں ۔ لیکن پہلے ہزار میل میں اس کا بہاؤ اس قدر تیز ہے اور اس کی تہہ میں اس قدر نوکدار چٹانیں کہ یہاں کشتیوں کی باقیدہ آمد و رفت تقریباً ناممکن ہے ۔ تاہم کالا باغ سے نیچے کی جانب جب دریا کو پھیلنے کی جگہ میسر آتی ہے تو اس میں آسانی سے کشتی رانی کی جاسکتی ہے ۔
اٹک سے کالا باغ سامان جن چبٹی تہہ کی کشیوں کا جایا کرتا تھا وہ ڈھکیاں کہلاتی تھیں اور یہ ڈھکیاں اپنے سفر کے اختام پر عموماً توڑ دی یا بیچ دی جاتی تھیں ۔ کیوں کہ ان کو دریا کے مخالف رخ پر لانے میں اخراجات لاگت سے سے زیادہ آتے تھے ۔ یہ ڈھلکیاں 45 فٹ لمبی اور دیودار کی بنی چپٹے پیندے کی ہوتی تھی ۔ جس کا ماتھا تھوڑا سا بلند اور دنبالہ قدر اٹھا ہوتا تھا ۔ جس پر پتوار تھامنے والا ایک اونچی بنچ پر پتوار کا دستہ سینہ سے لگائے بیٹھا رہتا تھا ۔ کشتی کے دونوں سرے چھت سے ڈھکے رہتے تھے ۔ دنبالہ مسافروں کے لیے اور اگلہ حصہ عملے باوچی کی کے لیے ہوتا تھا ۔ کشتی کو چلانے کے لیے دو بڑے چپو جس کے ساتھ مستطیل لکڑی کے ٹکرے کھجور کی پتوں کی رسی سے بندھے ہوتے تھے ۔ چپو میخوں کے ساتھ لگے کڑوں میں گزار کر کشتی کے کناروں پر لگے ہوتے تھے ۔ جب یہ کشتی اتھلے پانی میں سے گزر رہی ہوتی تھی تو گڑر گڑر کی آوازیں شور مچاتے ہوئے پانی کے ساتھ آتی تھیں ۔ یہ آوازیں دریا کہ تہہ میں چھوٹے چھوٹے پتھروں کے لڑھکنے کی ہوتی تھی ۔ عام طور پر کشتی خود ہی بہتی چلی جاتی تھی ۔ صرف ایک آدمی چپوں کے ذریعے کشتی کو کنٹرول کرتا رہتا تھا ۔ اچانک دریا خود بخود تیز موڑ کاٹتے ہوئے خطرناک لہریں اور گرداب پیدا کرتا تھا یا پھر کوئی چٹان دریا کے درمیان ابھری ہوئی نظر آتی تھی ۔
اگرچہ یہ دریائی راستہ کالا باغ کے بعد بھی بہت خطرناک تھا ۔ تاہم خطرے کی نوعیت بدل جاتی تھی ۔ حتیٰ کہ جن جگہوں پر دریا کے پانی کا دھارا کم و بیش مستحکم ہے اور پانی مختلف دھاروں کی صورت میں جزیروں کے درمیان گزرتا تھا ۔ لیکن یہ بڑا دھارا غیر متوقع طور پر اچانک کسی دوسرے دھارے میں شامل ہوجاتا تھا ۔ ریت کے ٹیلے بھی اچانک نئی جگہوں پر ابھر آتے ہیں یا آنے والے موسمی سیلاب میں بہہ کر صاف ہوجاتے تھے ۔ کناروں کی شکلیں اور جزیرے مسلسل بدلتے رہتے ہیں ۔ جب دریا میں کوئی جزیرہ ابھرتا ہے تو فطرتی طور پر دونوں جانب بسنے والے لوگ اس پر اپنا حق جتاتے ہیں ۔ دونوں جانب سے ایک کشتی سوار آدھا درجن مٹی کے گھڑے لے کر روانہ ہوتا تھا ۔ آدھا میل اوپر جاکر تمام گھڑے بیک وقت پانی میں چھوڑ دیئے جاتے ہیں ۔ جیسے جیسے یہ تیرتے ہوئے نیچے کی طرف آتے ہیں مقامی لوگ جزیرے کی پیش و رفت کو بڑے شوق و جوش سے دیکھتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ جزیرہ اس کنارے کے لوگوں کی ملکیت تسلیم کیا جاتا تھا جس سمت تیرنے والے برتنوں کی تعداد کم ہو ۔
دریا میں ہر سال ہونے والی ناگیز تبدیلوں کے پیش نظر کوئی ایسا چاٹ تیار کرنا ناممکن تھا کہ اس کا تجزیہ کچھ عرصہ بعد بھی درست ثابت ہو ۔ دریا کی گہرائی کے بارے میں اعداد ناقابل اعتماد ہوتے ہیں بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہوتے تھے ۔ کیوں کہ عملی طور پر ایک آدمی ایسے جدول پر نظر ڈالتا ہے جس میں دریا کی گہرائیاں درج کی گئی ہوں اور دیکھتا کہ کم از کم گہرائی بارہ فٹ دی گئی ہو تو وہ فطرتی طور پر یہ نتیجے اخذ کرے گا کہ ایک ایسی کشتی جس کا پیندا زیادہ سے زیادہ نو فٹ پانی میں دوبے وہ اس دریا میں سفر کرسکتی ہے ۔ لیکن یہ نتیجہ غلط ہوتا تھا اور یہ ہمیشہ رخ بدلتے دریائے سندھ پر لاگو نہیں کہا جاسکتا تھا ۔ اس کے علاوہ دریا کی جنوب میں بہنے کی رفتار سات ناٹ فی گھنٹہ ہوتی ہے ۔ حتیٰ کہ سردیوں میں یہ کئی جگہوں پر تین ناٹ فی میل کی رفتار سے تیز بہہ رہا ہوتا تھا اور اس سے متصل علاقوں میں بھی اس کی رفتار میں بہت تفادت پایا جاتا تھا ۔ ہر جگہ پانی میں ڈوبے ہوئے ریت کے ٹیلے ، بھنور اور غیر متوقع لہریں پیدا کر رہے ہوتے ہیں ۔
ان مشکلات کے باوجود دریائے سندھ کو قدیم زمانوں سے سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ دریائے سندھ کی ابتدائی تہذیب میں لوگ نرسل کی کشتیاں بنایا کرتے تھے ۔ جس پر ایک مستول اور بادبان باندھنے والا ڈنڈا بھی ہوتا تھا ۔ وہ لوگ جنہوں نے راوی سے لے کر دریائے سندھ کے دھانے تک شہر بسائے تھے ۔ یقینا وہ دریائوں کو آمد و رفت اور بھاری سامان مثلاً کپاس چاول ، لکڑی ، پتھروں وغیرہ کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے ہوں گے ۔ بعد میں جب آریا یہاں آئے ہم ان کی کشتیوں کے بارے میں کچھ نہیں جاتے ہیں کہ انہوں نے دریائے سندھ کو آمد و رفت کو آمد و رفت کے لیے کس طرح طرح استعمال کیا کرتے تھے ۔ کیوں کہ ہمارے پاس اس بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں ۔
چھٹی صدی ق م میں اسکائی لیکس نے دارا کے حکم پر نیچے کی جانب کشتی میں سفر کیا تھا ۔ لیکن ہمیں اس سٖفر کی کوئی تفصیل نہیں ملتی ہے ۔ دوسو سال بعد سکندر اعظم کے نیچے کی جانب کی تفصیل آرین کے ذریعے ملتی ہے کہ سکندر نے جہلم سے اس سفر کے آغاز میں باقیدہ قربانیاں دیں اور کشتی کے ماتھے پر طلائی پیالے میں شراب دیوتاؤں کی نذر کی اور پانی کے دیوتا سے مدد طلب کی تھی ۔ مگر سکندر کا یہ سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا ۔ کیوں کہ جہلم جہاں دریائے چناب سے ملتا ہے وہاں پانی نے سخت افراتفریخ مچائی اور راستہ میں اسے جگہ جگہ مقامی قبائل اور شہروں کو مغلوب بھی کرنا پڑا ۔ غالباً ملتان میں خود سکندر بری طرح زخمی ہوگیا تھا ۔ پجند کے مقام پر سکندر نے ایک شہر بسایا تھا ۔ اس کا خیال تھا یہ شہر مشہور مرکز بن جائے گا ۔ لیکن وہاں آج ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ آگے نیچے کے سفر میں بھی اسے جگہ جگہ لڑائیوں اور جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں یونانی فتح یاب ہوتے رہے ۔ اس طرح یونانی نو ماہ میں دریائے سندھ کے دھانے تک پہنچے تھے ۔
بعد کی صدیوں میں دریائے سندھ کے ذریعے نقل و حرکت کا عمل جاری رہا ہے ۔ سڑکیں ناقص اور باربرداری کی جانور مہنگے ہونے کی وجہ سے دریا کا سفر ایک آسان اور سستا ذریعہ تھا ۔ جس کی مدد سے شمال اور جنوب کے درمیان اشیاء تجارت کی نقل و حرکت ممکن تھی ۔ غالباً یہاں علاقائی ناخدا ہوا کرتے تھے جو اپنے علاقے کے مخصوص حصے میں دریائی راستے کی بھول بھلیاں سے بخوبی آگاہ ہوتے تھے ۔ جنوب کی جانب کا سفر لہروں کے دوش پر زیادہ مشقت طلب نہیں ہوتا تھا ۔ لیکن اوپر کی جانب کشتوں کو کھیچ کر لے جانا پڑتا تھا ۔ سوائے گرمیوں کے موسم میں جب جنوب کی سمت سے آنے والی ہوائیں اتنی تیز ہوتی ہے کہ ایک اچھی بادبانی کشتی کو سیلاب کے مخالف اوپر سمت سست رفتاری کے ساتھ دھیکیل کر لے جاسکیں ۔ لیکن دریا کے یہ راستہ اور تمام آمد و رفت بار بار آنے والے حملہ آوروں اور سندھ کے میدانوں میں قبضہ کے لیے لڑی جانی والی جنگوں کی وجہ سے ہمیشہ خطرات میں گھڑا رہتا تھا ۔ کوئی بھی تاجر اپنا سامان ان سست رفتار اور بے ڈھنگیوں کشتیوں کے رحم و کرم پر تیار نہیں ہوتا تھا ۔
چودویں صدی میں ابن بطوطہ نے دریائے سندھ میں کشتیوں کے ذریعہ سفر کیا تھا ۔ جو کہ اس وقت سندھ کے گورنر کی دعوت پر شاہانہ سفر تھا ۔ یہ سفر اس نے ملتان سے سندھ کے ڈیلتا تک علاقہ کا کیا تھا ۔ مغلوں کے دور میں دریا کو بڑے پیمانے پر سامان تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور جگہ جگہ محصول لینے کے مقام بنے ہوئے تھے ۔
بعد کے دور میں اس دریا پر یورپیوں نے ٹھٹھہ سے کلالا باغ تک کے سفر کئے اور اس بارے انہوں نے اپنے مشاہدات بھی لکھے ہیں ۔ ان میں پہلا نام سبطین مانریق تھا جو غیر عیسائیوں سے سخت تعصب رکھتا تھا ۔ اس نے یہ سفر1641ء میں ٹھٹھ سے لاہور تک کا سفر کیا تھا کہ چند گرجا گھروں کی تعمیر کی اجازت کیلے جو اسے مل گئی تھی ۔
مغلوں کا ذوال شروع ہوا اور برطانیوی اقتدار بڑھتا جا رہا تھا اور وہ دریائے سندھ کو بھی حریضانہ نظر سے دیکھ رہے تھے اور دریائے سندھ کے بارے میں انہیں زیادہ معلومات نہیں تھیں ۔ اس لیے سروے کے لیے 1831ء میں الگزینڈر بزنس کو مقرر کیا ۔ اس نے حیدرآباد سے لاہور کا دریا کے راستہ کا سفر کیا تھا ۔ پانچ سال کے دوبارہ سروے کے لیے اسے روانہ کیا گیا تو اس کے ساتھ ایک نائب لیفٹنٹ ووڈ تھا ۔ ووڈ نے ہی دریائے سندھ کے بارے میں زیادہ حقیقی اور تفصیلی رپوٹ دی ۔ اس نے لکھا تھا سیلاب کے موسم میں دریا کی اوسط گہرائی چوبیس فٹ اور سردیوں میں یہ گہرائی نو فٹ تک رہ جاتی ہے ۔
ڈیلٹا کے علاقہ میں جہاز رانی ہر جگہ پیچیدہ تھی ۔ کیوں کہ یہاں دریا کے بہت سے دھارے نظر آتے ہیں اور درست دھارے کا انتخاب ہمیشہ آسان نہیں ہے ۔ یہ بڑے غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے میں مدغم ہوتے رہتے ہیں اور اگر دھارا جس میں کوئی کشتی دریا میں سفر کر رہی ہو اور دھارا اپنا راستہ بدل رہا ہو تو اسے جیسے ہی گہرائی کی کمی احساس ہو نئے تشکیل پانے والے دھارے میں منتقل ہوجانا چاہیے ۔
کوئی بھی کشتی بغیر ناخدا کشتی کی رہنمائی کے بغیر دریا کے ڈیلٹا میں سفر کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا ۔ یہ چھوٹی سستی کشتیاں ہوتی تھیں جنہیں دو آدمی چلایا کرتے ہیں ۔ جن میں سے ایک ماتھے پر اونچی جگہ کھڑا ہوکر پانی کی گہرائی بتاتا ہے اور دوسرا دنبالے میں بیٹھ کر صرف ایک چپو کی مدد سے سمت متعین کرتا چلا جاتا تھا ۔ یہ ناخدا بہت مہنگے ہوتے تھے اور صرف اکیلی کشتیاں انہیں برداشت نہیں کرسکتی تھی اور یہ کشتیاں دریا میں نیچے کی جانب ٹولیوں کی صورت میں سفر کرتی تھیں ۔ اہم سامان جو ان مال بردار کشتیوں پر لاد جاتا تھا وہ غلہ تھا جو کہ خزاں کے بعد مختلف مقامات پر پہنچایا جاتا تھا اور اس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی تھی ۔ ایک شہر میں ووڈ نے سردیوں میں ایک بیڑہ دیکھا ۔ جس میں بیالیس مال بردار کشتیاں شامل تھیں ۔ وہ بیڑا دریائے سندھ میں نیچے کی سمت جارہا تھا ۔ انہیں ڈونڈھا کہا جاتا تھا اور یہ بھاری بھرکم ڈھگا کشتوں سے بڑی ہوتی تھیں جو کہ اٹک اور کالا باغ کے درمیانی پتھریلے اور خطرناک علاقے میں چلتی تھیں ۔ لیکن انہیں بنانے کا طریقہ ایک ہی تھا ۔ دونوں اطراف کے پہلو ہموار پیندے کے ساتھ دو بڑی بڑی ٹیرھی گلیلیوں کے ذریعے جوڑے گئے تھے ۔ ماتھے اور دنبالے کی سمت میں پیندے کے تختوں میں کوئی تیل وغیرہ لگا کر اور کئی دنوں تک ایک شکنجے میں دبا کر اوپر کی سمت اٹھا دیا جاتا تھا ۔
ڈونڈھا کے سینے کی چوڑائی جو پانی سے ٹکراتا تھا صرف پانچ فٹ ہوتی تھی اور اس کے پیندے میں تھوڑا سا خم بھنوروں اور تیز لہروں کے درمیان تیز لہروں میں تیرنے کی صالاحیت میں اضافہ کا باعث بنتا تھا ۔ اگرکسی ریت وغیرہ کے ٹیلے سے ٹکرا جائے تو اس کا عمودی ماتھا نہ صرف جھٹکے شدت کو کم کرتا تھا بلکہ محور بھی مہیا کرتا تھا اور بجائے چوڑی سمت میں بہاؤ کی جانب کرکے کھڑی ہوجانے کے گھوم جاتی تھی اور آسانی سے دوبارہ تیرائی جاتی تھی ۔ اس کا رخ موڑنا قدر مشکل ہوتا تھا اور یہ ٹھوس نہیں ہوتی تھی اس کے باوجود یہ یورپ کی روایتی ٹیکھے ماتھے والی کشی کی نسبت دریائے سندھ میں یہ بہت سود مند ثابت ہوتی تھی ۔ اگر ہوا موافق چل رہی ہوتی تھی تو کشتی کا عملہ ڈونڈوں کی پہلوں کی دیواروں پر مستول گاڑھ کر بڑے بڑے چوکور مربع شکل کے بادبان ان پر باندھ دیتا تھا ۔ اس وقت ساری کشتیاں ایک قطار میں چل رہی ہوتی تھیں ۔
اس علاقہ میں اچھی لکڑیاں کم دستیاب تھیں ۔ اس لیے اکثر کشتیاں چھوٹے چھوٹے لکڑی کے ٹکڑوں کو بانس کی میخوں سے جوڑ کر بنائی جاتی تھیں ۔ دوسری کشتیوں میں کاوٹیل شہتیر سے بنائی جاتی تھی ، زورخ کشتی ڈونڈھا کی نسبت ہلکی مال برادار کشتی اور اٹک کی ڈھگا کشتی ملتی جلتی تھی ۔ دونڈی ایک ہموار پیندے کی کشتی تھی جو زیادہ تر ڈیلٹا کے علاقے میں استعمال ہوتی تھی ۔ بعض کشتیاں 80 فٹ لمبی اور 60 ٹن وزنی ہوتی تھیں ۔ اس پر دو مستول ہوتے تھے ۔ پچھلے مستول پر مربع شکل کا بادبان اور اگلے مستول پر تکون شکل کا بادبان لگا کرتا تھا ۔ ان کے علاوہ کئی اور چھوٹی اور پتلی کشتیاں اس وقت دریائے سندھ میں تیر رہی ہوتی تھیں ۔ ان کے نام اور سائز بھی مختلف ہوا کرتے تھے ۔ کالا باغ سے اوپر کوئی کشتی رانی کی کوشش نہیں کرتا تھا ۔ نیچے کی جانب کشتیوں میں اتارے جانے والے بادبان اور چبو استعمال ہوتے تھے ۔ اگر اور نیچے آجائیں تو یہاں ہوا ایک اہم مدگار ثابت ہوتی تھی اور کشتیوں پر مستقل بادبان لگا دیئے جاتے تھے ۔ مجموعی طور پر تمام کشتیاں ایک جیسی ہوتی تھیں گول ماتھے والی ۔ لیکن کئی چورس ماتھے والی بھی ہوتی تھیں اور ان کے پتوار چوڑے بڑے بڑے اور بے ڈول ہوتے تھے ۔ اگرچہ یہ کشتیاں دریائے سندھ میں مجموعی فوائد کی حامل تھیں لیکن خراب موسم میں یہ موزوں ثابت نہیں ہوتی تھیں ۔ اس لیے اگر طوفان کی اطلاع بر وقت مل جاتی تھی تو یہ کشتیاں محفوظ مقام پر پہنچ جاتی تھیں تو نقصان سے بچا جایا سکتا تھا ۔ کیوں کہ دریائے سندھ ایک سمندر کی مانند ہے یہاں سمندر جیسے طوفان پرپا ہوتے تھے ۔
عام طور پر گرمیوں میں ہوا چھ مہینے جنوب کی جانب سے اور سردیوں میں شمال کی جانب سے دریا کے متوازی چلتی تھی ۔ شمالی ہوا بڑی تند و تیز ہوتی تھی اور اکثر ریت کے بادل اڑاتی ہے ۔ جیسے ہی فضا میں اندھرا چھانا شروع ہوتا تو کشتی بان کشتی کنارے لگا لیتے تھے ۔ ایسے موقوں پر گہرے پانی میں کھلے دریا کے درمیان ہوا کے تپھیڑوں کے رحم و کرم پر ہونا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اگر اس پر سامان لدا ہوا ہے یہ یہ ایک دم پانی بھر جاتا تھا اور کشتی نیچے چلی جاتی تھی ۔ اگر کشتی خالی ہوتی تھی تو تپھیڑے مارتا چھوٹا سمندر کشتی کے جوڑ کھول دیتا تھا ۔ جس میں فریم باہم پکڑ رکھنے کے لیے کوئی شہتیر وغیرہ استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ گرمیوں کی سیلابی لہروں کے مقابل تیز چلنے والی جنوبی ہوا خطرناک چھوٹی چھوٹی لہریں پیدا کرتی جو آسانی سے کشتی ڈبو سکتی تھی ۔ ہوا کے جھکڑ سارا سال جلتے رہتے تھے ۔ ہوا یا پانی کی لہر کشتی کو زور کے ساتھ دریا کے کسی کنارے کے ساتھ مار دے یا مٹی یا ریت کا کوئی تودہ گر کر کشتی کو دبو سکتا تھا ۔ تقریباً ہر سال چالیس پچاس ڈھونڈیاں دریا میں غرق ہوجاتی تھیں ۔ ایک برطانوی افسر نے لکھا کہ دریا نے ایک ساٹھ ہارس پاور کے ایک لوہے کے دخانی جہاز کو کنارے لا پھنکا تھا ۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے لیفٹنٹ ووڈ کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ اندازہ لگائے کیا دریائے سندھ میں دخانی جہاز چل سکتے ہیں یا نہیں ۔ ووڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہاں جہاز رانی کے خلاف ناقابل تسخیر رکاوٹیں کھڑی ہیں ۔ دریا پر جو جہاز بھی استعمال کئے جائیں وہ چھوٹے اور اتھلے ہوں اور ایندھن کے لیے انہیں لکڑیوں پر انحصار کرنا ہوگا یا اسے انگلینڈ کے کوئلہ لانا پڑے گا ۔ لیکن لکڑیاں لینے کے لیے اسے بار بار ساحل پر رکنا پڑے گا ۔ جو کہ ساحل سے ذرا دور ہٹ کر ہی دستیاب ہیں ۔ اس طرح ان کی رفتار سست پڑ سکتی ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے کنارے کے ساتھ تیرتے ایندھن کے ڈپو قائم کرنے پڑھیں گے ۔
جب ووڈ دریا کے بارے میں ایک آبی راستہ کے بارے میں غور کر رہا تھا تو برنس دی گئی ہدایات کے مطابق تجارت کے حوالے سے اس کی افادیت پر غور کر رہا تھا ۔ اس نے دریائے سندھ پر واقع مختلف شہروں کے مشرق اور مغرب جانے والے راستوں کے حوالے سے پرکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ڈیرہ اسماعیل خان بہترین مقام ہے جہاں ایک منڈی بن سکتی ہے ۔ ووڈ کے خیال میں دریائے سندھ پر کوئی علاقہ منتخب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مگر برنس کے حوصلے بلند تھے اور اس کا خیال تھا دریائے سندھ یقینا ایک مشکل دریا ہے لیکن یہاں جہاز رانی کا مناسب بندوست کر کے اور سامان تجارت پر ٹیکسوں میں کمی کرکے اسے ایشیا اور انگلینڈ کے درمیان تجارت کے لیے ایک کھلی شاہراہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ دنیا میں چند ہی دریا ہوں گے جہاں دخانی جہاز دریائے سندھ سے بہتر استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔
اس کے خلاف یہ دلیل دی گئی کہ دریائے سندھ صدیوں سے کھلا ہوا ہے اور تجارتی سرگرمیاں آسانی کے ساتھ اس کے آر پار اس اس کے ساتھ ساتھ جاری ہیں ۔ اس کے لیے کسی نئے بندوست کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیفٹنٹ ووڈ نے دریائے سندھ کے بارے میں جو سخت قسم کے حقائق اور اعداد پیش کئے وہ زیادہ عملی اور حقیقت سے قریب تر تھے ۔ جیسا کہ بعد میں آنے والی کمپنیوں کو اس کا تجربہ ہوا ۔ 1838ء میں بمبئی کے ایک ایرانی تاجر نے پہلی دفعہ ایک آٹھ ہارس پاور کی دخانی کشتی دریائے سندھ میں چلانے کی کوشش کی گئی ۔ اس کو حیدرآباد تک لے جانے کا فریضہ ووڈ کے سپرد ہوا ۔ مگر اس کے انجن اتنے طاقور نہیں تھے کہ وہ اکثر ساحل پر پھنس جاتا تھا ۔ اس کو نکالنے کے لیے عملہ بھرتی کیا گیا ۔ مگر یہ تجربہ ناکام ہوچکا تھا ۔ 1840ء میں دریائے سندھ کے زیریں علاقے میں چار فولادی دخانی جن پر برطانوی جھنڈے لہرا رہے تھے چلنا شروع ہوئے ۔ تاہم ان کی کار کردگی مایوس کن تھی ۔ کیوں کہ ان کو گہرے پانی کی ضرورت تھی اور ان کے انجن لہروں کے مقابلے میں بہت کمزور تھے ۔ سیلابی موسم میں یہ ٹھٹھ سے سکھر تک سفر آٹھ دن میں طہ کرتے تھے ۔ 1856ء میں اورنٹیل ان لینڈ سٹیم کمپنی نے دریائے سندھ جہاز رانی کے لیے حکومت سے مدد لی اور ووڈ کو اس کا منیجر مقرر کیا ۔ اس نے دریائے سندھ کے مخصوص حالات کے پیش نظر جہازوں کو چلانے کے لیے بہت سی تجاویز پیش کیں ۔ لیکن ان پر عمل نہ ہوا اور کمپنی تباہ ہوگئی ۔ بعد میں ووڈ نے ایک کمپنی میں شمولیت اختیار کی ۔ یہ کمپنی نیو سندھ ریلوے کے تعاون سے 1861ء تک کام کرتی رہی ۔ ایندھن کے حصول میں دیر ، انجنوں کی ٹوٹ پھوٹ اور مخالف لہروں کے درمیان اس کمپنی کے جہاز کسی نہ کسی طرح چلتے رہے ۔
برطانویوں نے جیسے ہی دریا کے ساتھ ریلوے لائین پچھانی شروع کی دریا میں کشتوں کی آمد رفت کم ہوگئی ۔ ٹرینیں کشتی کی نسبت سستی اور تیز رفتار اور محفوظ تھیں ۔ 1860ء کے عشرے میں ریلوے لائین کراچی سے شمال کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی ۔ کچھ کشتیاں دریا اور نہروں میں سامان وغیرہ لے کر جاتی رہیں ۔ لیکن صدی کے اختتام تک بنیادی طور پر دریائے سندھ اور پجند کے دریائوں سے بنیادی طور پر زمینیں سیراب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ پانی کا وہ ضیاء جو کشتی رانی کو جاری رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا اس کے فوائد بانسبت زمینوں کی سیرابی میں زیادہ تھے ۔ اس کے بعد دریائے سندھ اور پنجند کے دریاؤں میں کشتی رانی کا عمل مکمل تباہی کا شکار ہوگیا ۔ جس کو بچانے کی کوشش بے سود تھی ۔
آخر کار بڑے بیراجوں کی تعمیر نے دریا کے کسی قسم کی خیال کو ہی ختم کر کے رکھ دیا ۔ چھوٹی کشتیاں اب بھی چلتی ہیں مگر یہ محدود فاصلوں پر ہی چلتی ہیں ۔ اگرچہ یہ بیراج ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر ہیں ۔ مگر ریلوے اور سڑکوں کی تعمیر نے ان کشتیوں پر سفر اور مال برداری کے تصور کو ختم کرکے رکھ دیا ہے ۔ دریائے سندھ پر نظر آنے والی بیشتر کشتیاں یا تو مچھروں کی ہوتی ہیں یا کسی گھاٹ پر لوگوں دریا پار کرانے لیے ہوتی اور کچھ کشتیاں تفریح مقامات پر لوگوں کو دریا کی سیر کرانے والوں کی ہوتی ہیں ۔ لیکن وہ دن گئے جب دریائے سندھ کے سیلابی پانیوں میں بڑے بیڑے چلتے تھے ۔ جن پر مسافر اور سامان کی آمد و رفت ہوتی تھی ۔ البتہ کچھ عرصہ پہلے تک کہیں کہیں ایسی قدیم دخانی کشتیاں ضرور دریائے سندھ کے کنارے نظر آتی تھیں جو کبھی یہاں چلا کرتی تھیں ۔ مگر لوگوں نے ان کی لکڑی اور دوسرا آہنی سامان چوری کرکے بیچ دیا ۔ کیوں کہ نہ ان کے مالکان کا پتہ تھا اور نہ ہی ان کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں