92

دریائے سندھ کا بحر عرب میں اختتام

بحیرہ عرب میں دریائے سندھ کا سفر تمام ہوا جو اس نے جو تبت میں سنگی کباب سے تن تنہا تبت کی بلند و چھت قراقرم کے پہاڑوں کے ایک پہاڑ کیلاش کے دامن میں ایک چشمہ سے شروع کیا تھا ۔ مگر اس کا وقار ، رفتار اور روانی دیکھ کر دوسرے دریا اور نالے اس میں اپنا پانی اس میں شامل کرتے گئے ۔ یہاں تک جب وہ بحیرہ عرب پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے دریاؤں اور نالوں کا پانی شامل ہوجاتا ہے ۔ اس کے سفر میں اس کی سرکشی اور اس کا پھپھرنا اس کا جاہ و جلال نمایاں رہتا ۔ یہ اپنی راہ کی ہر رکاوٹ کو غبور کرتا ہوا اپنا راستہ خود بناتا ہوا اپنا سفر طہ کرتا ہے ۔ یہ راہ کی کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا بلکہ اسے سرکشی سمجھتا ہے اور انہیں روندتا ہوا گزرتا ہے ۔

اس کی راہ میں آنے والے قراقرم ہمالیہ اور ہندو کش کے بلند و بالا بربت بھی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں اس کے عزم و حوصلہ کو ہماری بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی چوٹیاں بھی بالآخر اس کے آگے سجدہ رو ہونے پر پر مجبور ہوں گی اور یہ اپنا راستہ بنالے گا ۔ اس لیے پہاڑوں کے عظیم دیو بھی اس کے لیے اپنا دامن بچا کر اس کے لیے راہ چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے عزم و حوصلہ کو سلامی پیش کرتے رہتے ہیں ۔ پہاڑوں سے گزرتے ان کے پیچ میں سے اپنا رستہ بناتے ہوئے اس کی سرکشی ، روانی ، پھرتی اور جاہ و جلال قابل دید ہوتا ہے ۔ یہ اونچے و بلند و بلا پہاڑوں کے دامن ہیں جن کے جاہ و جلال سے ہر ایک خوفزدہ ہوتا ہے یہ وہاں بھی بڑے وقار اور اپنی پھرتی ، روانی سے انہیں نظر اندازہ کرتا ہوا اپنا سفر جارہی رکھتا ہے ۔

 مگر اس کا جاہ و جلال تو پہاڑوں سے زیادہ میدانوں میں نمایاں ہوتا ہے ۔ وہاں جب اسے پھیلنے کا موقع ملتا ہے تو یہ پھپرتا ہے تو اس کی وسعت قابل دید ہوتی کہ ایک کنارہ پر کھڑے ہونے والے کو دوسرا کنارہ نظر نہیں آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے دور آسمان اس سے گلے مل رہا ہے ۔ یہ میدانوں میں بھی پہاڑوں کی طرح کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا ہے اور ہر رکاوٹ کو اپنی وسعتوں میں سما کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے ۔

یہ لوگوں کی زندگیوں کا سامان پیدا کرتا ہے اور اپنے راہ میں آنے والوں پر رحم نہیں کھاتا ہے ان کو موت بھی بخشتا ہے ۔ یعنی اسی وجہ سے اس سرزمین پر اناج کی فضلیں لہراتی ہیں اور لوگوں کی زیست کا سامان بھی کرتی ہیں ۔ مگر جب اپنے جاہ و جلال پر آتا ہے تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ہے ۔ اس نے نہ صرف شہروں کو بلکہ تہذیبوں کو بھی ملیامیٹ کردیا ۔ یہی وجہ ہے اسے کہیں سمندر ، کہیں دیوتا ، کہیں کہیں یہ دریاؤں کا باپ ، کہیں سندھ ساگر ، اڈرو لال اور کہیں جھولے لال اور کہلاتا ہے ۔ اس نے اپنے میں صدیوں کے سفر میں بہت سے راز پہناں رکھے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک جب سمندر کے پاس پہنچتا ہے تو بھی اس کی سرکشی ختم نہیں ہوتی ہے ۔ یہ اپنی لائی مٹی سے سمندر سے زمین چھین کر سمندر کو پیچجے دھیل دیتا ہے اور سمندر میں اپنا راستہ بناتا ہوا بالآخر اس میں سماجاتا ہے ۔

درہائے سندھ کا سفر جو کہ اس نے تبت کہ سنگی کباب سے شروع کیا اور اٹھارہ سو میل کا سفر طہ کرکے بخیرہ عرب کے پانیوں میں اپنا اختتام کیا ۔ اس کا یہ سفر صدیوں سے جاری ہے اور صدیوں تک جارہی رہے اور یہ اپنا کام اچھی طرح جارہی رکھا ہوا ہے ، لوگوں کی زندگیوں کی بقا کا باعث بن رہا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں