79

دریائے سندھ کا ڈیلٹا اور نئی زمینوں کی تخلیق

عام طور پر ہمارا گمان ہے کہ دریا اپنے ڈیلٹا جاکر شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور راستہ میں صرف معمولی اور وقتی ذیلی گزرگاہیں پیدا ہوتی ہیں جو اصل دریا سے تقریباً ملحق رہتی ہیں ۔ دریائے سندھ کے اس تاثر کو ان بناتات سے زیادہ تقویت ملی ہے جو سکندر اعظم کے ہمراہیوں سے منسوب ہیں ۔ کیوں کہ دو ہزار سال بیشتر جب وہ لوگ دریائے سندھ سے گزرے تو انہوں نے اپنے بیانات میں ایسی تفصیلات پیش نہیں کیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دریا کا عمل حقیقت میں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ عرب جٖغرافیہ دانوں نے تحریر کیا تھا کہ اس زمانے میں دریا سندھ میدانی علاقوں میں دو حصوں میں تقسیم ہوکر خاصے بڑے علاقہ کو اپنے درمیان لیتا ہوا آگے ایک ہوجاتا تھا ۔ ہم ان قدرتی حالات کا بغور مطالعہ کریں جو ہمارے سامنے موجود ہیں تو ایسی تبدیلیاں عین ممکن نظر آئیں گیں ۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی شاخ جتنی طویل ہوں گی انتا ہی اور امکان کم ہوگا کہ دونوں میں بارہ ماہ پانی کا بہاؤ موجود رہے کا اور یہ بات مستقل ڈیلٹے کی شاخوں کے لیے یکساں درست ہے ۔ کیوں کہ آبی گزرگاہ کی لمبائی بڑھتی رہتی ہے اور یہ عمل دریا کی دونوں شاخوں کے دہانوں پر جاری ہے ۔ جیسے مٹی لانے والے دریا کا ڈیلٹا عموماً اس وقت نمود اختیار کرنا شروع کرتا ہے ۔ جب کہ سمندر کی سطح میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے ۔ 

اب ہم اس علاقہ کے بارے عرب جغرافیہ دانوں کے بیانات کے مطابق تو دیبل ایک بندگارہ تھی اور اس کا یقینا کچھ اور نام تھا ۔ کیوں کہ دیبل کے معنی مندر کے ہیں ۔ بلازری کے بیان کے مطابق یہ بندرگا ایک سمندری کھاری جہاں دریائے سندھ کی سب سے بڑی شاخ گرتی ہے واقع ہے ۔ المسودی کے بیان کے مطابق دریائے سندھ دو شاخوں میں منقسم ہوکر سمندر میں گرتا تھا اور دونوں شاخیں ایک دوسرے سے بہت فاصلہ پر واقع تھیں ۔ ایک دہانہ شہر لوہرانی Luharani کے پاس اور دوسری کچھ کی سرحد کے قریب ۔ جہاں یہ سندھ ساگر کے نام سے مشہور تھی ۔

چودھویں صدی کے وسط میں دریائے سندھ کی غربی شاخ دو حصوں میں منقسم تھی جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بہتی تھیں ۔ اس کا دایاں حصہ مکلی پہاڑیوں کے شمال میں موجودہ کلری کینال کے راستے بہتا ہوگا اور بگھاڑ کنال کی گزرگاہ کو اختیار کئے ہوئے تھا ۔ آگے چل کر دونوں حصہ متحد ہوکر ایک ہی شاخ بن جاتے تھے ۔ ان دونوں کے درمیان جزیرہ بن گیا تھا ہو تقریباً ایک سو مربع میل کے رقبہ پر مشتمل تھا اور اس میں پہاڑیوں کا ایک پورا سلسلہ موجود تھا ۔ یہاں تعلق آباد کا قلعہ ، ساموئی اور اس کے بعد ٹھٹھہ شہر تعمیر ہوئے ہیں ۔ دریائے سندھ کی کلری شاخ دو سو سال تک آبی نظام کا جزو بنی رہی اور 1519ء تک دریائے سندھ کا پانی اسی راستہ سے گزرتا تھا اس کے بعد بگھاڑ نے اہمیت حاصل کرلی ۔   

دریائی ڈیلٹاؤں کے تخلقی عمل کو دلچسپی اور توجہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ایک مخصوص وقت میں کتنی نئی زمین سمندر سے باہر آجائے گی ۔ دریائے سندھ میں سیلاب کے زمانے میں زیادہ سے زیادہ اخراج سالانہ چار لاکھ مکب فٹ فی سکینڈ ہے ۔ سیلابی زمانے میں اس پانی کے اندر ملی ہوئی مٹی کا پانی میں تناسب ایک اور دو سو سیتس ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ طغیانی کے ایک سو ایام مین تقریباً گیارہ کروڑ نوے لاکھ مکب گز مٹی سمندر تک لے جاتا ہے ۔ یہ مقدار ارتیس مربع زمین کے لیے کافی ہوتی ہے بشرطیکہ وہ ایک گز گہری ہو ۔ لیکن حقیقت میں بحیرہ عرب کا طاقت ور ردعمل مانسون کے زمانے میں اور دریائے سندھ کے سیلابی موسم میں اور بھی بڑھ جاتا ہے اور ڈیلٹا کی تخلق میں بڑی حد تک اعتدال پیدا کر دیتا ہے ۔ دریائے سندھ کے دیلٹائی جائزے جو ابھی شروع ہوئے ہیں اور ان کے تقابلی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ دس سال کے عرصہ میں دریا کے دہانے کے کنارے ایک میل بڑھے ہیں ۔ لیکن دریا کی شاخوں کے کناروں میں اضافہ جاری ہے ۔ واضح رہے وہ اتنا کم ہوا ہے کہ نہ ہونے کے برابر کہا جاسکتا ہے ۔

اس بات کی شہادت موجود ہے کہ نسبتاً تھوڑے زمانے میں زمین نے سمندر کے خاصے حصے پر قبضہ جمالیا ہے ۔ لیکن اس مخالف عمل کی کوئی شہادت نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ1873ء اور 1904ء کے درمیانی حصہ میں دریائے سندھ کے دھانے پر ستانوے مربع میل کا نیا علاقہ زمین میں شامل ہوا ہے اور اس اضافہ کا مرکزی حصہ وہ مرکزی جگہ ہے جو سمندر کے مقابل ہے ۔ یہاں بھی دریا کی وہ شاخیں سمندر میں گرتی ہیں جن سے دریا کے پانی کی بیشتر مقدار خارج ہوتی ہے ۔ گھارو اور کوری کریک کے درمیان یہ نئی زمین ڈیلٹا کے ساحلی نصف دائرے سے نمایاں طور پر آگے نکلی ہوئی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 1930ء میں سیلاب کے پانی کو روکنے کے لیے جو آخری پشتے دریائے سندھ پر تعمیر کئے گئے ان سے پشتوں کا طویل سلسلہ مکمل ہوگیا ۔ ہمیں معلوم ہے کہ دریا کے اخراج کے صدر دہانے ڈیلٹا کے اس مرکزی علاقہ میں ایک صدی سے چلے آرہے ہیں اور اس سے قبل وہ اندر شمال مغرب میں تھے ۔ ڈیلٹا کے جنوبی مشرقی حصہ میں دریا کی جو شاخیں ہیں ان سے کثیر مقدار میں پانی کا اخراج شاید دو سو سال پہلے ہوا تھا ۔ پھر بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سمندر نے اپنے جوابی عمل سے اس حصہ کی زمین میں کسی ٹکڑے پر قبضہ کیا ہو ۔ اس نتیجہ پر پہنچنے سے گریز ممکن نہیں ہے ۔ گو کہ سمندر میں چڑھاؤ اور اتار کا عمل جاری رہتا ہے ۔ لیکن اس کے اثرات ہمیشہ زمین کے لیے تباہ کن نہیں ہوتے ہیں ۔ اس کی لہریں جو مسلسل زمین سے ٹکراتی رہتی ہیں وہ یقناً دریا کی نرم مٹی کو سخت اور مظبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ کا میدان مجموعی طور پر دریائے سندھ کے عمل سے کس رفتار سے بلند ہوتا رہا ہے ۔

 دریائے سندھ جب سمندر میں گرتا ہے تو یہ کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سمندر میں پھیل کر گرتا ہے ۔ اصل میں دریا کا ڈیلٹا بننا وہ عمل ہے جس میں دریا سمندر سے زمین حاصل کرتا ہے ۔ دریا کی شاخیں ڈیلٹا کے اس عمل کی نشادہی کرتی ہیں جو کسی وقت زیادہ فاصلہ پر شمال سے شروع ہوا تھا اور رفتہ فتہ ساحل کے سمندر میں آگے بڑھ جانے کی وجہ سے خود بھی آگے بڑھتا ہے رہا اور اب موجودہ دہانہ کے قریب جاری ہے ۔

قدیم زمانے میں سمندر کافی آگے تک پھیلا ہوا تھا ۔ مگر دریا نے اپنی مٹی کو پھیلانے کے عمل سے ساحل سمندر کی زمین اونچی کر کے سمندر کو پیچھے دکھیل دیا ہے ۔ یہ دریا کا مٹی کو پھیلا نے کا تیسرا مرحلہ ہے جو ڈیلٹائی علاقے میں ہوتا ہے ۔ چنانچہ سندھ کا پورا میدان ہی اس عمل سے وجود میں آیا ہے ۔ سندھ دریا ڈیلٹا کی نمود اس وقت شروع کرتا ہے کہ جب سمندر کا پانی دریا کے پانی کے بہاؤ کی رفتار سست کو دیتا ہے اور جس کی وجہ سے دریا ساحلی علاقے میں شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔ خیال رہے یہ سست رفتاری کا اثر ایک سو میل لمبی شاخوں سے زیادہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ میدانی علاقوں کی طرح دریائے سندھ ڈیلٹا کے علاقہ میں بھی اپنی گزرگاہوں کو بلند کرنے کا عمل جاری رکھتا ہے ۔ یعنی یہ اپنی مٹی کو آخری مرحلہ میں کناروں پر پھیلاتا رہتا ہے اور یہ عمل خاصی تیزی سے جاری رہتا ہے ۔ یہ عمل صرف سیلاب کے زمانے میں نہیں عام موسم میں بھی جاری رہتا ہے ۔

جیسے جیسے ڈیلٹا سمندر کی سمت بڑھتا ہے دریا کا ڈھال اور پانی کی سطح بلند ہوتی رہتی ہے ۔ کیوں کہ سمندر کا چڑھاؤ دریا کے پانی کو روک کر اسے کناروں پر باہر نکلنے پر مجبور کردیتا ہے اور دریا کا پانی سمندری پانی کی مزاحمت کی وجہ سے پنکھے کی شکل اختیار کرکے نیم دائرے میں پھیل جاتا ہے اور جو مٹی کیچر کی صورت میں اس کے پانی میں موجود ہوتی ہے اور اسے وہاں تہہ میں پھیلتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ دریا کی تہہ بلند ہوجاتی اور وہاں زمین وجود میں آجاتی ہے جو آہستہ آہستہ سطح سمندر سے بلند ہوجاتی ہے ۔ اس طرح جو زمین وجود میں آتی ہے وہ بہت نرم ہوتی ہے ۔ کیوں کہ وہ ایسے باریک زرات سے بنتی ہے جو آخری مرحلے میں دریا کے پانی میں ملے ہوتے ہیں ۔ بھاری زرات ابتدائی مراحل میں ہی نیچے بیٹھ چکتے ہوتے ہیں ۔ ان وجوہات کی بدولت اور دریائے سندھ کے معاملے میں سمندری پانی کے چڑھاؤ کی وجہ سے جس مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے اس کی وجہ سے دریا کا پانی شاخوں میں بکھر جاتا ہے اور یہ شاخیں خود بھی چھوٹی چھوٹی شاخوں میں مستقیم ہوجاتی ہیں اور یہ سب مل کر باریک مٹی کا ایک ذخیرہ سمندر میں جمع کرتی رہتی ہیں ۔ اس طرح ایک بڑے محیط ڈیلتا کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے دیلٹے وجود میں آتے رہتے ہیں ۔ اس عمل سے پنکھے نما زیر آب مٹی کا ٹیلا بڑھتا رہتا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ حصہ رفتہ رفتہ پانی کی سطح سے بلند ہوکر باہر نکلتا رہتا ہے ۔ جب کہ نئی شاخوں کا ڈیلٹا جو ابھی نمود کی حالت میں مسلسل سیلاب کی زرد میں رہے گا اور طغیانی کے موسم میں مکمل طور پر پانی سے ڈھک جائے گا ۔ چنانچہ ڈیلٹا وہ علاقہ ہے جو دریا اور سمندر کی باہمی کشمکش کے لیے اکھاڑے کا کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے نئی زمین پیدا ہوتی ہے ۔

شاخوں کے درمیان کا نشیبی علاقہ وہ قدرتی ذخیرہ آب ہے جو سمندر کے اترنے کے بعد خود بخود خالی ہوجاتا ہے ۔ پانی کی خاصی مقدار شاخوں کی آبی گزر گاہوں میں واپس ہوکر تیزی سے بہتی ہے اور راستہ کو گہرا کرتی رہتی ہے اور یہ گزرگاہیں عارضی ثابت ہوتی ہیں ۔ چنانچہ ڈیلٹا کا نقشہ جو آج بنایا جائے وہ چند سال بعد بالکل غلط ثابت ہوتا ہے ۔

اب بھی دریائے سندھ کے لیے طبعی طور پر ممکن ہے کہ اس میدانی علاقے کے خاص کر شمال میں وہ دو شاخوں میں تقسیم ہوجائے اور عہد عتیق میں جب کہ سمندر موجودہ میدان کے کافی حصے پر پھیلا ہوا تھا یہ دریا یقینا دو شاخوں میں تقسیم ہوکر بہتا تھا ۔ ہم تاریخی زمانے میں داخل ہوتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ دریائے سندھ اب جس جگہ دو شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے اس سے ایک سو میل شمال میں ہی دو شاخوں میں بٹ گیا تھا اور اس زمانے کے ساحل سمندر سے شاخوں کے جدا ہونے کا مقام تقریباً اتنے ہی فاصلے پر تھا ۔ دونوں شاخیں اور ڈیلٹا اس قدیم عمل کی نشادہی کرتی ہیں جو کسی وقت زیادہ فاصلہ پر شمال سے شروع ہوتا تھا اور رفتہ فتہ ساحل کے سمندر کے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے خود بھی آگے بڑھتا رہا اور اب موجودہ دہانہ کے قریب دونوں شاخوں کے دہانوں پر جاری ہے ۔ اس طرح ایک بڑے محیط ڈیلتا کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے ڈیلٹے وجود میں آرہے ہیں ۔ دونوں سابقہ شاخوں کا درمیانی ڈیلٹا اپنے بالائی یا افرافی میدان سے کسی طرح سطحی طور پر مختلف نہیں ہوتا ہے ۔

یہ امر پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ موجودہ دور میں دریائے سندھ کے بہاؤ کی حالت اس کی طبعی حالت سے مختلف ہے ۔ دریا کے کناروں پر حفاظتی بند اور پشتے زیریں ڈیلٹا کے سرے کے علاقہ تک بنا دیئے گئے ہیں اور پرانے زمانے میں جس طرح سیلاب کا پانی کناروں سے نکل کر سارے علاقے میں پھیل جاتا تھا اب ان پشتوں کی وجہ سے نہیں پھیلتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں سیلابی پانی صرف پشتوں کے درمیان سمندر کی طرف بہتا ہے اور اس تنگ راہداری کی سطح بلند کر رہا ہے ۔ یہ سطح اس قدر بلند ہوسکتی ہے کہ اگر پشتوں میں بڑا رخنہ پڑ جائے تو دریائے سندھ اپنا بہاؤ کا راستہ تبدیل کردے گا ۔

نرم زمین کے استحکام میں اور اسے دریا کے کٹاؤ اور مون سونی سمندر کے عمل سے محفوظ رکھنے میں نباتاتی پیداوار اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ شمالی حصہ میں خار دار جھاڑیوں کا ایک جنگل پھیلا ہوا ہے ۔ زیریں حصہ میں لمبی پتیوں والی گھاس دور تک پھیلی ہوئی جڑوں کی وجہ سے مٹی کو تھامے رکھتی ہے ۔ اس علاقہ کی قدرتی پیداواری صلاحیت سندھ کے تمام علاقوں سے بدتر ہے ۔ یہ علاقہ مضر صحت ہونے کی وجہ سے غیر آباد ہے اس لیے زراعت سے خالی ہے ۔ ہر طرف زمینی سطح اور نباتاتی پیداوار ایک جیسی نظر آتی ہے ۔ جس سے منظر میں ایک عجیب قسم کی یکسانی پیدا ہوجاتی ہے ۔

اس لیے ڈیلٹا کی تخلقی پیش قدمی کے متعلق یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کہ دریا کے دہانہ کے سامنے جتنا سمندر ہے وہ ہر مقام پر تھوڑا تھوڑا آگے بڑھ رہا ہے ۔ صحیح صورت حال یہ ہے کہ مرکزی دہانہ کے سامنے زمین تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے ۔ جب کہ شاخوں میں یہ پیش قدمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس کے علاوہ جتنا ساحلی حصہ ہے اور یقینا بیشتر وہی حصہ ہے ۔ وہ اپنی جگہ قائم ہے یا مقامی طور پر زمین کے اندر تھوڑا بہت گھس جاتا ہے ۔ اس کے بعد دریا اپنی مٹی کو اگلنے کے لیے دوسرا دھانہ استعمال کرنے لگتا ہے ۔ دہانے کی اس تبدیلی سے پیش قدمی کا محل بدل جاتا ہے ۔

سمندر میں دور تک بعض اوقات دس میل کے فاصلے پر بھی دریائے سندھ کا پانی سرخی مائل بھورے پانی کی وجہ سے بحرہ عرب کے سبزی مائل نیلگوں پانی کا رنگ بدلا نظر آتا ہے ۔ پانی کے نیچے ساحلی ریت کی دیواروں کے فوراً بعد ایک کھائی جسے سواچ کہا جاتا ہے وہ دریا کی گزرگاہ کو تقریباً پچاس میل براعظمی تہہ کے اختتام تک جاتی ہے ۔ اس کے دونوں طرف اتھلا سمندر ہے جو اس کی ابتدا میں صرف 100 فٹ گہرا ہے اور بتدریح گہرا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ سواچ کا پیندا تقریباً 2000 نیچے ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کسی زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو ۔ لیکن اس سے ملحقہ ہمالیائی علاقوں میں بھی زلزلے آتے رہتے ہیں ۔ وہاں کوئی ایسا اثر دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس ساحل پر یہ سواچ ایک منفرد حثیت رکھتی ہے ۔ دریائے سندھ جو کہ دنیا کہ عظیم پہاڑوں کو کاٹ کر ہے اس نے سمندر کی تہہ میں ایک بڑی گہری گھاٹی کھود ڈالی ہے ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں