56

دریائے سندھ کی بالائی وادی

    بالائی سندھ کی وادیوں اور اس کی ابتدائی ندیوں کے ساتھ شمال مغرب کی طرف جانے والے کاروانوں کی بڑی بڑی گزر گاہیں واقع تھیں ۔ جہاں پہلو میں چلنے والے پہاڑ آہستہ آہستہ درے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ گزر گاہیں شمال کی طرف ایشیا کے قلب میں اور ہندوستان کی جانب جاتی ہیں ۔ تاجر ان راستوں پر خچروں پر سفر کرتے تھے ۔ ان کا سامان یاکوں اور گدھوں پر بندھا ہوتا تھا ۔ یہاں دریائے سندھ پر کوئی پل نہیں تھا اور تند و تیز لہروں میں انسان اور جانور تیر کر یا چل پار کرتے تھے ۔ تند و تیز لہروں میں چکنے پتھروں پر چلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا تھا ۔ گہرے پانی کی صورت میں یاک اور ٹٹو قدتی تیراک ہیں اور وہ تیر کر دریا پار کرلیتے ہیں ۔ لیکن بعض اوقات ان کو دھکیلنا پڑتا ہے اور انسان ان کی دم پکڑ کر دریا کو پار کرتے تھے ۔ بکریاں تیر نہیں سکتی ہیں البتہ بھیڑیں لہروں کے مطابق ترچھے رخ سے تیر کر دریا کو پار کر لیتی ہیں ۔ تاجر اور مسافر یہاں دریا کے کنارے تیزی سے سفر کرتے تھے ۔ کیوں کہ یہاں اکثر ڈاکوں کا خطرہ موجود رہتا تھا ۔ وہ راستہ میں کسی گاؤں کے متلاشی رہتے تھے کہ جہاں وہاں رک سکیں ۔

لداخ کی سرحد کے قریب پہاڑ دریائے سندھ کے قریب آجاتے ہیں اور شمال کا رخ کرتے ہوئے اس کی ڈھلان میں تیزی سے اضافہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ عمودی چٹانوں کے درمیان بہتا چٹانوں کو کھوجتا ہوا اپنا راستہ جنوب میں ہمالیہ اور شمال میں قراقرم کے درمیان کھائی بناتا ہوا گزرتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عظیم انشان سلسلہ ہمالیہ اور سلسلہ قراقرم قریب آجاتے ہیں ۔ اس کے اس 350 میل کے سفر میں اس میں بے شمار نالے اور ندیاں گرتے ہیں ، نقشہ میں اس کی شکل ایسی ہوتی ہے کہ دریائے سندھ کی نیلی لکیر میں بے شمار دھاگہ شامل ہورہے ہیں اور ارغونی رنگ کی دیواروں سے گزرتا ہوا نظر آتا ہے ۔

دریائے سندھ کی اس بلند و بالا وادی میں بھی بہت کم تبدیلی واقع ہوئی ہیں ۔ یہاں قدرت کے بہت سے خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہاں ہر چیز نمایاں ہے کیوں کہ ہر منظر کا رنگ جدا ہے ۔ یہاں کی تیز لطیف ہوا میں برگ و بار چٹانوں کا رنگ عموماً بھور ہوتا ہے جن پر کہیں پیلے ، ارغونی اور گہرے سرخ رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں ۔ کھیتوں کا ہلکا سبز رنگ دلدلوں کو ارد گرد کے صاف پانیوں میں سے الگ ہی نظر آتا ہے ۔ خالی بیابانوں کے پار نوک دار چوٹیوں والے پہاڑ قطار در قطار اپنے بھورے خاکسٹری رنگ کی چٹانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ جن پر سارا سال برف کی تہہ جمی رہتی ہیں ۔ سطح مرتفع جو کہ لگ بھگ اٹھارا ہزار فٹ بلند ہے اس کے مشرق سے مغرب ڈھلان معمولی ہے اور یہاں دریائے سندھ کا پانی بہت اتھلا ، شفاف اور نیلگوں بہتا ہے ۔ سوائے موسم گرما میں ظغیانی کے باعث جب برف پکھلتی ہے تو اس کا پانی گدلا اور گہرا ہوجاتا ہے ۔ موسم سرما میں پانی جم جاتا ہے اور زمین پر برف کی چادر بجھ جاتی ہے ۔

اس خاموش مقام پر ہر موسم میں ہوائیں سیٹیاں بجاتی ہوئی گزرتی ہیں ۔ یہاں پرندے بھی کم ہیں اور جو ہیں وہ پہاڑی ڈھلانوں کے ارد گرد اڑتے نظر آتے ہیں ۔ کبھی کبھار فضاء میں کوئی عقاب اڑتا نظر آتا ہے ، یہاں کہیں کہیں گھاس اور جڑی بوٹیاں نظر آتی ہے جو کہ خرگوشوں ، گلہریوں اور ہرنوں کی خوراک بنتی ہیں ۔ یہ جانور بھیڑیوں اور اکا دکا چیتوں کا لقمہ بنتے ہیں ۔ جب کہ نیچے کھلی وایوں میں جنگلی گدھوں کے ڑیوڑ گھوم رہے ہوتے ہیں ۔ اس وادی میں یاک ، پھڑیں اور بکریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہاں کی سب سے خوبصورت بھیڑ کا نام مارکو پولو کے نام سے رکھا گیا ہے ۔ جس کے خوبصورت شاخ دار سینگ ہوتے ہیں اور مارکو پولو بھیڑ کا شکار کرنا ہر شکاری کی خواہش ہوتی ہے ۔

ان خانہ بدوشوں کی زندگی میں یاک بہت اہم ہوتے اور ان کے روزگا کا انحصار ان یاکوں پر ہوتا ہے ۔ یہ یاک کے بالوں سے خیمے اور بچھونے ، گوبر سے ایندھن اور اس کے گاڑھے دودھ سے چائے کے لیے مکھن اور چراغوں کے لیے تیل حاصل ہوتا ہے ۔ اگر کوئی یاک کسی حادثے میں مر جائے ۔ کیوں کہ یہاں حادثے اکثر پیش آتے رہے ہیں تو ان خانہ بدشوں کو کھانے کا بہترین گوشت میسر ہو جاتا ہے ۔ اس کی موٹی کھال سے زینیں ، بیگ اور چھوٹی کشتیاں بناتے ہیں ۔ اس لیے یاک کو یہاں کے باشندوں کی زندگیوں میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔ چینی سفیر سند کے طور پر اس کی دم ہاتھ میں پکڑے رہتے تھے ۔ چنگیر خان جس نے آدھی دنیا فتح کرلی تھی اس کے پرچم میں سفید یاکوں کی نو دمیں ہوتی تھیں ۔ یاک بہت عظی الجثہ جانور ہے اور عام گائے اس کے سامنے کتے کی طرح نظر آتی ہے ۔ سر کے قریب اس کا قد چھ فٹ کے قریب ہوتا ہے ۔ جو بتدریخ کم ہوتا جاتا ہے ۔ بہت بڑے سینگ نیم گولائی میں پھیلے ہوئے ، جلد موٹی اور گندھی ہوئی ہے اور یوں دیکھائی دیتی ہے کہ زرہ بکتر کی طرح لوہے کو موڑ کر بنائی گئی ہو ۔ نیچے لٹکے ہوئے دو دو فٹ لمبے بال کھروں کو چھو رہے ہوتے ہیں ۔ اس علاقہ میں بہت سے دیہاتوں میں اسے گائیوں سے ملاپ کے لیے بطور سانڈ کے رکھا جاتا ہے کہ طاقتور اور زیادہ دودھ دینے والی گائے کی نسل حاصل ہوسکے ۔ اس کی بے پناہ طاقت ، قوت ، برداشت ، برف اور پہاڑی راستوں کا جبلی علم اور پہاڑوں پر پیر جما کر چلنا اسے قابل تعریف جانور بنا دیتا ہے ۔ پہاڑی علاقوں میں یہ باربرادی کے لیے انمول جانور ہے ۔ لیکن یہ بڑا غصیلا ، متلون مزاج اور خچر کی طرح ضدی ہوتا ہے اور یہ نیم سدھایا ہی جاسکتا ہے ۔ جنگلی یاک بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں ۔ یاک نرم برف میں پہاڑی ڈھلانوں سے اترتے ہیں تو انہیں گہرے سمندر میں طوفانی لہروں کے خلاف سفر کرتے بحری جہاز سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔ کیوں کہ جب وہ سینے تک برف میں ڈھنسے ہوئے جب نیچے آرہے ہوتے ہیں تو ان کے آگے برف ایک طوفانی پھوار سی اڑ رہی ہوتی ہے ۔

سردیوں میں اس بلائی سندھ کی وادی میں ہر طرف برف باری ہونے سے اس کا نظارا دلکش ہوجاتا ہے ۔ دریا جم جاتا ہے لیکن برف کے نیچے پانی رواں بلکہ تیزی سے بہہ رہا ہوتا ہے ۔ اس لیے برف جمے ہوئے ہونے کے باوجود دریا کو پار جانے والے احتیاط سے دریا کو پار کرتے ہیں ۔ تنگ گھاٹیوں سے برف کے تودے دنداتے ہوئے آتے ہیں اور نوکیلی چٹانوں سے ٹکرا ان کے بڑے بڑے برف کے ٹکرے اڑتے ہوئے دور جاکر گرتے ہیں ۔ جن میں اکثر پتھر کے چھوٹے اور بڑے ٹکرے پھنسے ہوتے ہیں ۔ گرمیوں میں جب پہاڑوں پر برف اور گلیشر پگھلنا شروع ہوتے ہیں تو دریا کے بہتے ہوئے پانی کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس سے دریا کی رفتار میں اضافہ کے ساتھ اس کے شور میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دریا چیختا چھنگارتا ہوا گزرتا ہے ۔ وہاں ننگی چٹانیں سورج کی گرمی کو جذب کر بھٹی بن جاتی ہیں ۔ لیکن جن جگہوں پر سورج کی روشنی نہیں پہنچتی ہے وہاں شدید ٹھنڈ بدستور رہتی ہے ۔ اس لیے بہت سی ندیاں صرف چند گھنٹوں کے لیے پگھلتی ہیں ۔ وہاں کوئی بھی شخص جو ننگے سر دھوپ میں ہو اور اس کے پیر سائے میں وہ بیک وقت ہیٹ اسٹروک اور فراست بائیٹ کا شکار ہوسکتا ہے ۔ یہاں تقریباً ہر موسم میں وادیوں کی سمت میں دن کے کچھ حصہ میں تیز ہوائیں چلتی ہیں جو ریت کے گرداب کو اوپر اٹھاتی ہیں ۔ اوپر کے حصے یعنی دریا کے پرنالے کی چھت کا موسم خوشگوا ہو تو ہوا شفاف ہیرے کی مانند سخت ہوتی ہے اور وہاں دور تک نظارا صاف نظر آتا ہے ۔ ایسے میں فاصلے کا تناسب بگڑ جاتا ہے اور دور کی چیز نہایت قریب نظر آتی ہے ۔ یہ نظارہ کئی کئی دن تک تک چلتا رہتا ہے اور دور کے پہاڑ کے سامنے صاف نظر آتے ہیں ۔ ان ہیبت ناک پہاڑوں کی چٹانوں کے درمیان کہیں کہیں دریا اور معاون ندیوں سے پیدا ہونے والی سرد و شاداب نخلستان ایسے نظر آتے ہیں جسے کسی نے سبزے کو وہاں رکھ دیا ہوا ۔ دریائے سندھ کی گہری کھائی کی دیواریں تقریباًً ہر دس میل کے فاصلے پر ایک تنگ گھاٹی کی صورت میں پھٹ جاتی ہیں ۔ جہاں سے گرمی میں بہنے والا پانی کے دھارے میں سیلابی مٹی کا ایک پنکھ سا بن جاتا ہے ۔ جو بلند و بالا پہاڑوں سے پگلی برف اپنے ساتھ بہاکر لاتے ہیں ۔ ان ذرخیز خطوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں جن کے سامنے سیڑھیوں کی طرح بنے ڈھلوان کھیتوں میں کسان مٹی کی کمی پورا کرنے کے لیے جس کو ہوا اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتی ہے ٹوکریاں بھر کر بڑی محنت سے ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ انہیں اپنی مختصر سی زمینوں کو قائم کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑھتی ہے ۔ یہاں جانوروں کا فضلہ جلانے کے لیے اور انسانی فضلہ کھاد میں استعمال ہوتا ہے ۔ بہار کے موسم میں پاپولر ، شاہ بلوط ، اخروٹ کے درخت اور جو کے جھوٹے چھوٹے کھیت ان بنجر پہاڑوں کے سامنے سبز رنگ میں ٹمٹماتے نظر آتے ہیں ۔ مختصر اور شدید گرما کے مختصر موسم میں جو کی فضل عموماً دو ماہ میں پک جاتی ہے اور شروع گرمیوں میں بعض خوشبوار جڑی بوٹیوں پر شوخ رنگ کے پھول کھلتے ہیں ۔ جن میں کلی میٹس ، وچز ، آئرس اور جنگلی گلاب جو انتہائی پیلے گلابی رنگ سے سرخ رنگ کے ہوتے ہیں ۔ لیکن سال کے زیادہ تر حصے میں سندھ کی اس وادی میں کھیتوں کے علاوہ جو دیہاتیوں نے سخت محنت سے بنا رکھے ہیں اور کسی قسم کی نباتات دیکھنے میں نہیں آتی ہے ۔            

دریا کے ساتھ ساتھ پگڈنڈیاں جاتی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ جو عام طور پر دریا سے بہت بلند ہوتی تھیں ۔ لیکن بعض مقامات پر اس کے ساتھ چلتی تھیں اور بعض مقامات پر بل کھاتی ہوئی اس سے دور نکل جاتی تھیں ۔ کیوں کہ یہاں کی ڈھلانیں اس قدر خطرناک ہیں کہ اس پر بکریاں بھی نہیں چل سکتی تھیں ۔ ان نام نہاد پگڈنڈیوں جو کہ گھاٹیوں پر سے گزرتی تھیں بعض مقامات پر عمودی چٹانوں پر لکڑیوں کی میخیں گڑھی ہوئی تھیں ۔ جن پر سے گزرنا پڑتا تھا یا پھر ایک تنگ راستے سے دوسرے تنگ راستے تک جانے والے تنے سے چمٹ کر جانا پڑتا تھا ۔ جہاں ذرا سا بھی پیر لڑکٖھڑانے یا غلط پڑنے کا مطلب ہے سیکڑوں فٹ گہری کھائی یا دریا میں جا گرنا تھا ۔ جگہ جگہ دریا پر جھکی ہوئی عمودی ڈھلوان چٹانوں سے بچنے کے لیے پگڈنڈی چھ ہزار فٹ یا اس سے بھی زیادہ بھی اوپر چڑھائی شروع ہوجاتی تھی اور رکاوٹ غبور کرنے کے بعد اتنا ہی نیچے اتر رہی ہوتی تھی ۔ سیکڑوں سالوں سے شمالی ہندوستان کوہ ہندو کش سے برہم پترہ جانے کے لیے پہاڑوں میں گزرنے والے تاجر اور مذہبی زائرین اسی راستے کو استعمال کرتے رہے ہیں ۔ راستے میں آنے والے دیہات ان کے لیے عارضی قیام گاہ اور منڈی کی سہولت کا کام انجام دیتے رہے ہیں ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ بدھوں کی خانقاہیں ان گزرنے والوں کو قیام گاہیں اور تجارتی مراکز کا کام بھی کرتی تھیں ۔ یہ خانقاہیں دشوار گزار چٹانوں یا دریائے سندھ کے اندر ٹیلوں پر واقع تھیں ۔ بلتستان جو کہ ایک خشک اور غریب علاقہ ہے یہاں مسلمانوں کے دیہات بھی مسافروں اور تاجروں کو قیام اور منڈی کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں ۔ وقفے وفقے سے مختلف علاقوں سے آنے والے راستے دریائے سندھ کے ساتھ چلنے والے راستوں سے مل جاتے تھے ۔ اس طرح وسط ایشیا اور جنوب سے آنے والوں کو راستہ مہیا کرتے تھے ۔

اگرچہ دریا سندھ کی بالائی وادی میں زندگی بہت سخت تھی لیکن بے کیف نہیں تھے ۔ کیوں کہ پگڈنڈیاں اور راستے اس وادی سے گزرتے تھے وہ مختلف علاقوں اور اقوام تعلق رکھنے والے تاجروں اور مذہبی زائرین کی گزر گاہیں تھیں ۔ جن کی وجہ سے ان راستوں پر واقع قصبوں اور دیہاتوں کی زندگی میں رنگ بھرا رہتا تھا ۔ یہ راستے قراقرام اور ہمالیہ کے اوپر جن دروں سے گزرتے ہیں ان میں چند ایک بہت ہی خطرناک ہیں اور سال میں بہت کم عرصے کے لیے کھلتے ہیں ۔ لیکن مشکلات کے باوجود یہ درے کبھی بند نہیں ہوتے تھے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں