67

دریائے سندھ کےمنبع کی تلاش

مان سرور جھیل تک پہچنے والے ابتدائی یورپین پرتگالی مشنری تھے ۔ انہوں نے عیسائیت کی تبلغ کے سلسلے میں سترویں اور اٹھاویں صدی میں یہاں کا سفر کیا تھا ۔ اس کے بعد آنے والا پہلا یورپین ایک انگریز مورس کرافٹ جو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں جانوروں کا سرجن تھا ۔ اسی نے اس جھیل کی تفصیلات سے یورپیوں کو آگاہ کیا ۔ اس نے یہ سفر انیسویں صدی کی ابتدا بھیس بدل کر کیا تھا ۔ کیوں کہ اس کے پاس تبت کے سفر کا اجازت نامہ نہیں تھا ۔ اس نے اس جھیل کو بغور جائزہ لیا ۔ مگر اسے اس جھیل سے کسی دریا کے نکلنے آثار نظر نہیں ملے ۔      

مورس کرافٹ نے واپس آکر برٹش حکام کو اس کی رپوٹ دی ۔ مورس کرافٹ کی رپوٹ سے پہلے بھی یورپی جغرافیہ دان تبتوں کی اس روایت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ جھیل مانسرور چار بڑے دریاؤں کا منبع ہے ۔ مورس کرافٹ کی معلومات کافی حد تک درست تھیں ۔ اس نے دریائے سندھ کا منبع کیلاش کے پہاڑی علاقے میں کوہ کیلاش کے شمال میں قرار دیا ۔ چنانچہ جب 1858ء میں جب  برصغیر کے شمال مغرب کے علاقے میں ریلوے لائین تیار کی جارہی تھی تو اس کے لیے جو نقشہ تیار ہوا اس میں دریائے سندھ کو کوہ کیلاش سے نکلتے ہوئے دیکھایا گیا تھا ۔ بہرحال بیسویں صدی کی ابتدا تک اس کا منبع مخفی رہا اور سطح مرتفع کے پیچیدہ اور وسیع علاقے کی وادیوں اور چوٹیوں کی نشادہی محض اندازے سے ہوتی رہی ۔

 بیسویں صدی کے آخر تک کئی یورپین نے جھیل مانسرور کا سفر کیا اور دریائے سندھ کے منبع کو تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ تبتی احکام کسی یورپین کو اس جھیل کا سروے نہیں کرنے دیتے تھے ۔ پھر بھی بہت سے یورپین بھیس بدل کر وہاں پہنچ گئے اور انیسویں صدی کے اختتام تک ستلج (ہاتھی دریا) اور کرنالی (مور دریا) کے منبع تلاش کرلیے گئے ۔ یہ پندرہ میل دور جنوب مغرب کی طرف شیطانی یا راکش جھیل سے نکلتے ہیں جو ایک جھوٹی سی ندی کے ذریعہ مانسرور جھیل سے منسلک ہے ۔ مگر گھوڑا دریا اور شیر ببر دریا ( برہما پتر اور سندھ ) کے منبع کا اب تک پتہ نہیں چلا تھا ۔ جغرافیہ دان محض اندازاً جانتے تھے کہ یہ دریا کہاں سے نکل رہے ہیں ۔ مگر انہیں ان کے درست منبع کا ابھی تک پتہ نہیں تھا ۔ 

یہ اعزاز ایک سویڈش سیاح سیون ہیڈن کو ملا ۔ وہ اس سے پہلے مانسرور سے ساٹھ میل مشرق کی جانب برہما پتر کی ابتدائی ندی دریافت کرچکا تھا ۔ وہ سنگی کباب یعنی شیر دریا کے دہانے کی تلاش میں 1907ء میں دوبارہ مانسرور جھیل پہنچا ۔ اس ساتھ ملازموں کا ایک بڑا قافلہ کے علاوہ ایک یورپین بھی ساتھ تھا ۔ اس کے ساز و سامان میں گھوڑوں ، خچروں ، یاکوں اور بھیڑوں کا ایک ریور بھی تھا ۔ اس کے سامان میں سروے کا مختلف سامان ، دوائیں اور خوراک کے علاوہ ایک بادبانی کشی بھی تھی ۔

تبتیوں نے سیون ہیڈن کو جھیل میں کشتی رانی سے روکنے کی پوری کوشش کی اور اسے دریاؤں میں رہنے والے دیوتاؤں کے قہر سے بھی ڈرایا کہ دیوتا نارض ہوگئے تو وہ سب ڈوب جائیں گے ۔ مگر ہیڈن نہیں بعض نہیں آیا اور اس نے کشتی جھیل میں ڈال دی اور ہیڈن نے اس جھیل کا سروے کیا اور اسے ایک طشتری کی طرح گول پایا ۔ اس جھیل کی گہرائی 200 سے 250 فٹ تک تھی ۔ اس نے وقفہ وقفہ سے درجہ حرارت نوٹ کیا اور اس نے دیکھا مانسرور جھیل اور راکش جھیل کے درمیان ایک تنگ خشک ندی تھی ۔ اس کے علاوہ اس جھیل میں نکاس کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ دریائے سندھ کا منبع جھیل کے کہیں شمال کی جانب ہے ۔ اس لیے ہیڈن نے اپنا سامان مع کشتی کے پیک کیا اور وہ شمال مغرب کی طرف جانا چاہتا تھا ۔ لیکن اس کے پاس تبت میں سفر کرنے کا اجازت نامہ صرف مخصوص علاقہ کے لیے تھے ۔ وہ دریائے سندھ کے پہلے معاون دریا گارتگ کی وادی سے گزر کر صوبہ گارتگ کے دالحکومت گارٹک پہنچنا چاہتا تھا ۔ امید کے مطابق احکام نے اسے اجازت نہیں دی اور اسے جلد سے جلد تبت سے چلے جانے کہا ۔ ہیڈن دریائے سندھ کے منبع کے اس قدر قریب پہنچ چکا تھا اور اسے تلاش کئے بغیر جانا نہیں چاہتا تھا ۔ تبتی افسر نے اسے ڈرایا اور ڈھمکایا مگر ہیڈن نے اجازت پر اصرار کرتا رہا اور وہ جھیل مانسرور کے کنارے ہی خیمہ زن ہوگیا تھا ۔ آخر تبتی افسر نے اسے اس شرط پر اجازت دی کہ قافلہ اپنے راستہ پر گامزن رہے اور ہیڈن چند آدمیوں کے ساتھ وہاں جائے گا اور کسی قسم کے حادثہ کی ذمہ واری خود ہیڈن پر ہوگی ۔ ہیڈن کے لیے یہ کافی تھا اور پانچ قلیوں کے ساتھ ضروری ساز اور سامان لے کر شمال کی طرف روانہ ہوگیا ۔

ہیڈن کوہ کیلاش کے دامن میں چلتا ہوا کیلاش کے پہاڑی سلسلے کو غبور کیا اور دوسری طرف سرسبز وادی تھی ۔ اس وادی میں خانہ بدوش چرواہوں کے کالے خیمے اور ان کی بھیڑوں کے ریوڑ بکھرے ہوئے تھے ۔ ہیڈن نے چراہوں سے سنگی کباب کے بارے میں معلوم کیا تو اس کی قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور چراہوں نے بتایا ہاں وہ سنگی کباب کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ان چراہوں میں سے ایک چرواہا اسے وہاں لے جانے کے لیے راضی ہوگیا ۔

وہ پانی کی ایک غیر اہم ندی کے ساتھ اس کے بہاؤ کے مخالف سفر کرتے ہوئے پتھریلی وادی میں اوپر کی جانب بڑھتے چلے گئے ۔ جہاں ندی مچھلیوں سے بھری ہوئی تھی ۔ ندی کے ایک تالاب میں اس قدر مچھلیاں تھیں کہ ان کی کالی کالی پشتوں کی وجہ سے پانی سیاہ رنگ کا نظر آریا تھا ۔ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اس تالاب میں سے مچھلیاں پکڑیں ۔ بہت عرصہ بعد اسے تازہ گوشت میسر آیا تھا جس سے وہ بھر پور لطف اندوز ہوا ۔ تقریباً 17000 ہزار کی بلندی پر یہ ندی ایک نالے میں تبدیل ہوگئی تھی ۔ وہ چڑھائی پر چڑھتے رہے جس پر گندگی بکھری ہوئی تھی ایک ہموار وادی میں پہنچے ۔ پہاڑ کے پہلو سے سل کی شکل میں ایک سفید چٹان باہر کو نکلی ہوئی تھی ۔ اس چٹان کے نیچے بہت سے چھوٹے چھوٹے چشمے ابل رہے تھے جن کا پانی گھانس سے بھرے ہوئے تالابوں میں جمع ہو رہا تھا ۔ یہاں پر منت کے چھوٹے چھوٹے اہرام اور پتھروں کی ڈھیریاں بنی ہوئے تھیں ۔ چٹانوں پر کچھ تحریریں بھی لکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک دوسرا مقدس مقام تھا ۔ وہ فخر اور عاجزی کے ساتھ اس نے سوچا کہ میں پہلا سفید آدمی ہوں جو سندھ اور برہم بترا کے منبع کے مقام تک پہنچ سکا اور وہ یہاں دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے پھوٹتے ہوئے دیر تک دیکھتا تھا ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہیڈن نے دریائے سندھ کے منبع کو دریافت کرلیا تھا ؟ مگر یہ اگرچہ ایک بحث طلب امر ہے ۔ کیوں کہ مختلف سمتوں میں آنے والی چھوٹی چھوٹی ندیاں مل کر دریائے سندھ کی ابتدا کرتی ہیں ۔ ان میں کس ندی کو دریائے سندھ کا منبع تسلیم کیا جائے ؟ یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا اس ندی کو جسے مقامی لوگ دریائے سندھ مانتے ہیں ؟ یا سب سے لمبی ندی کو ؟ یا اس ندی کو جس میں پانی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے اس دریا کے کئی منہ ہیں اور اس میں سے کس کو دریائے سندھ کا منبع مانا جائے ؟ لیکن چونکہ روایات سنگی کباب کے حق میں اس لیے اسے دریائے سندھ کا منبہ تسلیم کیا جاتا ہے اور ہیڈن نے اسی رواتی منبہ کو تلاش کیا تھا ۔

اگرچہ سنگی کباب جھیل مانسرور سے صرف تیس میل دور ہے ۔ لیکن تبتی احکام کو یقین تھا کہ دریائے سندھ جھیل مانسرور سے نکلتا ہے ۔ کیوں کہ ایک بڑا طاقتور دریا کو اسی مقدس جھیل سے نکلنا چاہیے ۔ اگرچہ یہ چاروں دریا اس جھیل سے نہیں نکلتے ہیں مگر اس جھیل سے زیادہ فاصلے پر نہیں نکلتے ہیں ۔ اس طرح یہ روایات بہت زیادہ غلط بھی نہیں تھیں اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دریا ایک ہی مقام سے پھوٹ کر مختلف سمتوں میں رخ کرتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں