60

دریائے سندھ کے تجارتی راستے

جنوبی اور دریائے سندھ کے بائیں جانب جانے والی دیوار ہمالیہ قراقرم کی نسبت زیادہ دور ہے اور اس میں قدر آسان درے موجود ہیں ۔ ان میں سب سے اہم درہ ذولا ہے جہاں کشمیر کے راستہ برصغیر تک رسائی ہوسکتی ہے ۔ اس کی اونچائی گیارہ ہزار فٹ بلند ہے اور سال کے آٹھ مینے کھلا رہتا ہے ۔ لیکن مون سون کے علاقہ کے کنارے واقع ہے اس لیے متلون اور بدمزاج ہے ۔ وادی سندھ کے خشک اور بنجر علاقے کو غبور کرنے کے بعد منظر ایک دم بدل جاتا ہے ۔ جہاں پہاڑوں کی ہر ڈھلان کو عظیم انشان جنگلات نے ڈھانپ رکھا ہے ۔ سدا بہار سرسبز جھاڑیا اور بلند قامت چیل کے درخت برف کی آخری حد تک کو ڈھانپے رہتے ہیں ۔

لداخ کے پاس دریائے سندھ کی گزرگاہ قابل دید ہے مگر یہاں زندگی بہت سخت ہے ۔ یہاں کی اوسط انچائی دس ہزار فٹ سے زیادہ ہے ۔ بلندی کی اس لطیف ہوا سے ہم آہنگ ہونے کے لیے لداخی باشندوں کے پھیپڑوں کی کار کردگی عام لوگوں سے زیادہ ہے ۔ وہ نشیبی علاقوں میں گرمی سے پریشان ہوجاتے ہیں اور ان کا سانس گھٹتا ہے ۔ یہاں رہنے والے یا تو ڑیوروں کی دیکھ بھال کرتے تھے یا مکئی کے چھوٹے چھوٹے کھیت کی پرواخت کرتے اور گزرنے والے تاجروں سے اشیاء کا تبادلہ کرتے تھے ۔ کچھ نوجوان زہرنی کا پیشہ بھی اپنا رکھا تھا ۔ جو تاجروں کو اور مسافروں کو لوٹا کرتے تھے ۔

لداخ کا دارلحکومت لہہ ہزاروں سال سے تجارتی جال کا مرکز رہا ہے ۔ یہ پہلے ایک معمولی قصبہ تھا اور اب یہ پھیل کر شہر بن چکا ہے ۔ اب یہ انڈین آرمی کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے وہ چین اور پاکستان پر نظر رکھتے ہیں ۔ یہیں سے وہ سیاچین کے محاذ جو دنیا کا سب سے بلند محاذ جنگ ہے فوج اور ساز و سامان روانہ کرتے ہیں ۔ یہ شہر دریائے سندھ کے شمالی کنارے پر گیارہ ہزار فٹ بلندی پر آباد ہے ۔ یہ شہر بنجر پہاڑوں کے نیچے سیلابی مٹی کے بڑے سے طاس جو چار میل تک پھیلا ہوا ہے کے کنارے آباد ہے ۔ قصبے کے مکانات پیلے رنگ کی مٹی کے بنائے گئے ہیں جن کے دروازوں ، کھڑکیوں کی چھوکھٹوں اور بالکنیوں پر مختلف کندہ کاری اور رنگ کئے ہوئے ہیں ۔ گرمیوں میں ان کی چھتوں پر پیلے رنگ کی گھانس کے گھٹے دھوپ میں خشک کرنے کے لیے جمع رہتے تھے اور وہ سردیوں میں جانوروں کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوتے تھے ۔ یہاں ایک بلند و بالا جگہ پر لداخ کے سابقہ فرمان روا کا نو منزلہ سفید محل اور بہت بڑی خانقا کی دیواریں شہر میں نمایاں ہیں ۔ مگر اب یہاں بہت سی نئی آبادیاں ، شاپنگ سینٹر وجود میں آگئے ہیں ۔ تاہم لداخ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ فوجی چھاؤنی ہے جو پہاڑی محاذ پر جنگ کی پشت پناہی کررہی ہے اور یہ اب کھلا شہر نہیں نہیں رہا ہے ۔ یہاں کے سفر اور قیام کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو بھارتی باشندوں کے لیے بھی ضروری ہے اور غیر ملکیوں کے لیے آسان نہیں ہے ۔  

لیہ کے ساتھ دریائے سندھ اور قدیم تجارتی اور مذہبی روابط کا ایسا تعلق ہے کہ اکثر اسے چھوٹا تبت کہا جاتا ہے ۔ مغربی تبت کی طرح لداخ زراعت کے لحاظ سے ایک پس ماندہ ملک ہے ۔ یہاں کی مقامی آبادی بدھی ہے اور بدھا ازم نے یہاں اس پہاڑ و صحرا میں ہر ممکن زراعت کو ترقی دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پہلے یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ خانقاہوں میں راہبانہ زندگی بسر کرتا تھا اور اب اس میں بہت بڑی کمی آگئی ہے اور ان خانقاہوں کے اثر و رسوخ میں پہلے والی بات نہیں رہی ۔ لیکن ان خانقاہوں نے اپنی دولت اور اقتدار کو آبادی کے دوسرے حصوں کے مفاد میں استعمال کی ہے ۔ انہوں نے تجارت کی حوصلہ افزائی کی اور برے موسموں کے باوجود راستوں کو کھلے رکھنے اور لیٹروں سے بچانے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور کسانوں کو فیضیانہ شرائط پر قرضے مہیا کئے ۔

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جو نہ صرف پتھریلا اور بنجر ہے بلکہ شدید طوفانوں ، چٹانوں کے پھسلنے اور گلیشر کے ٹوٹنے سے سیلابوں جیسی قدرتی آفات کا شکار رہتا ہے ۔ اس لیے یہاں کے باشندوں میں قوت برداشت ، تحمل مزاجی پیدا ہوگئی ہے ۔ لداخی منگول نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے قد چھوٹے جسم مظبوط اور سخت جان ہیں ۔ یہ بدصورت ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک طرح کی منفرد دلکشی رکھتے ہیں ۔ مختلف اشکال اور رنگوں کا حسین امتزاج ، قوس و قزہ جیسی رنگدار چٹانوں سے مختصر عرصے کے لیے پھوٹنیے والی شاخیں اور پھول اور ساتھ جڑی ہوئی ہوئی چھتوں پر پھٹے ہوئے پرانے پرانی دعائیہ پرچم ، دندناتے عظیم الحثہ یا پتلی اور جھری دار آنکھوں والے مسکراتے چھوتے قد کے لوگ سب مل کر ماحول کو سحر زدہ کر دیتے تھے ۔ مرد لمبے اونی چغوں کے ساتھ کانوں کو ڈھانپنے والی ریشم یا اون کی ٹوپیاں پہنے ہوئے اور عورتوں نے سروں پر پیراک کا پہنا ہوا ہوتا تھا ۔ جس کے ساتھ کانوں کو دھانپنے کے لیے اونی کپڑوں کے نیم گول ٹکروں پر مشتمل جڑی ہوئی پٹی ۔ پیراک کپڑے کی ایک چوڑی پٹی ہوتی ہے جس پر چاندی اور زمرد کے نگینے اور سرخ موتی ٹنکے ہوتے ہیں ۔ اسے ماتھے پر سے گزار کر پیچھے سر کی گدی میں باندھا جاتا ہے ۔ جب بیٹی کی پیدائش ہوتی ہے تو والدین اسی دن سے اس کے پیراک کے لیے قیمتی پتھر جمع کرنے شروع ہوجاتے ہیں جو کہ اس کے جہز کا حصہ بنتے ہیں ۔ مگر اب یہاں جدید لباس بھی مقبول ہو گئے ہیں ۔

 یہاں پہلے تبت کی طرح عورتوں کے کئی شوہر ہوا کرتے تھے ۔ جب بڑے بھائی کی شادی ہوتی تھی تو چھوٹے بھائی اس کی بیوی کو استعمال کرسکتے تھے یا بھائی خانقاہ میں داخل ہوجاتے تھے یا وہ کوئی اور عورت کو تلاش کرکے اسے پوری طرح خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے ۔ کیوں کہ وہ ناخوش ہونے کی صورت میں انہیں کوئی بھیڑ وغیرہ دے کر طلاق لے سکتی تھی ۔ اب یہ چند شوئی لداخ میں قانوناً ممنوع ہوچکی ہے ۔  

یہاں کے باشندے چوگان بازی میں بہت ماہر تھے اور کشمیری ان کو بوٹہ کہتے تھے ۔ لداخی مرد پانچ فٹ چار انچ اور عورتیں چار فٹ آٹھ انچ کی قد آور ہوتی ہیں ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے ہاتھوں سے کھانا کھالیتے ہیں ۔ یہ اپنے راجہ کو پاپو کہتے تھے اور سلام میں جو کہتے ہیں ۔ مردہ کو گلخن میں جو ایک صندوق کی طرح کا ہوتا ہے میں جلاتے ہیں ۔ یہ چینیوں کی طرح چوبی تختوں پر حروف کھود کر اپنی کتابیں چھاپتے تھے ۔ یہاں کے باشندوں کا مذہب بدھ مت ہے اور یہ اپنے مذہب کے پابند ہیں ۔ ان کے پیشو بھی لامہ کہلاتے ہیں اور ان کے بڑے لامہ کی خانقاء کو گلوارن پوچھہ لامہ کہتے ہیں ۔ یہ کوہ لداخ کے دامن میں ایک مندر ہے جس کو گونیہ کہتے ہیں ۔ یہاں بدھوں میں چار ذاتیں ہیں جروک (راجپوت) جیرکھ (جات) مہرہ (شودر) تولیہ رکھ (پست) اور بشتر رسوم کی کوہستان شملہ کے باشندوں کی طرح ہیں ۔ اس کے علاوہ میں کھمبا بھی رہتے ہیں جن کا اصل وطن لاسہ ہے ۔ 

سخت محنت سے حاصل کی گئی اپنی زمینوں پر زرعی پیداوار کے علاوہ لداخ کی معیشت کا انحصار دریائے سندھ اور اس سے منسلک تجارتی راستوں پر تھا ۔ درہ قراقرم اور زوجی لا جو کہ سندھ سے بالترتیب شمال اور جنوب کی جانب والے راستے ہیں لہہ کے قریب واقع ہیں ۔ لہہ کے بازروں میں تنگ اور اندھیری دوکانوں کے سامنے وسط ایشیا سے آنے والے پشم اور نمدوں کے ڈھیر لگے ہوتے تھے ۔ اس کے علاوہ چین سے آنے والا ریشم ، بروکیڈ ، چائے کے پیکٹ ، روسی کپڑے اور اون ، تبت سے آنے والی اون اور تانبے کا کام ، ہندوستان سے کپڑے اور چھوٹے موٹے زیورات ، بلتستان سے اخروٹ اور خشک میوں کی ٹوکریاں فروخت ہوتی نظر آتی تھیں ۔ دوکانوں کے پیچھے اندھیرے کمروں میں سونا ، چاندی اور کناری چمک رہا ہوتا تھا ۔ ترکستان سے آنے والے چھوٹے چھوٹے ٹٹو تیز چلنے والے ، سست گام ہلالی سینگوں والے یاک پاس گزر ہے ہوتے تھے ۔ سفید رنگت والے یارکندی ، پشم کے ڈھیلے ڈھلالے لباس پہنے تبتی نیچے کی جانب لٹکتی مونچھوں والے منگول ، صاف ستھرے لباسوں میں ہندوستانی کندھوں سے کندھے رگڑتے ہوئے چوڑی چوڑی سیڑھیوں والی گلیوں میں آ جا رہے ہوتے تھے اور ملی جلی زبانوں میں بات چیت کر رہے ہوتے تھے ۔ جب کہ لہہ کے باشندے کرم گسترانہ نگاہوں سے اس ہجوم کا جائزہ لیتے رہتے تھے کہ ان اجنبیوں کی وجہ سے اس بلند و بالا پہاڑوں میں واقع اس شہر میں ان کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں ۔ کبھی کبھار ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے ہجوم میں جہاں اختلاف معمولی بات سمجھی جاتی ہے ایک شخص نمایاں نظر آتا ہے جس نے ان جیسا لباس پہن رکھا ہو ایک مغربی باشندہ آن پہنچتا تھا ۔            

انیسویں صدی میں بہت سے یورپین باشندے لہیہ پہنچے ۔ وہ مختلف مہموں کے لیے یہاں ایک دو ہفتہ ٹھہرتے اور اپنی مہموں کے لیے قلی ، یاک اور کیمپنگ کا سامان خریدتے اور آگے بڑھ جاتے تھے ۔ ان میں بعض بڑے بڑے قافلوں کے ساتھ سفر کرنا پسند کرتے تھے اور بعض کم ساز و سامان کے ساتھ سفر کرنا پسند کرتے تھے ۔ پھر ایک دن یہاں سے شمال کی جانب قراقرم کی طرف یا مشرق کی جانب وادی سندھ اور تبت کی طرف یا دریا کے بہاؤ کے ساتھ شمال مغرب میں پامیر کی طرف نکل جاتے تھے ۔ وہ سب دریائے سندھ کی وادی اور اس کے بیابان کے سحر سے میں مبتلا رہتے تھے ۔ ان میں کچھ سیاح ، کچھ سرویئر اور کچھ جاسوس بھی ہوتے تھے ۔ ان مہم جو لوگوں میں کچھ لوگ محض شہرت حاصل کرنے یہاں آتے تھے ۔ ان آنے والے لوگوں پر اکثر ان بلند و بالا وادی کا سحر طاری رہتا تھا اور انہوں بہت کم اپنی مہم کے بارے میں دنیا کو بتایا ہے ۔ مگر کچھ لوگوں نے سفر کے رونگٹے کھڑے ہونے واقعات ، جذبات و خیالات بیان کئے ہیں ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں