70

دریائے سندھ کے میدان کی تشکیل

کڑوروں سال پہلے جہاں اب ہمالیہ ، قراقرم و ہندکش کے پہاڑ ہیں وہاں ٹھا ٹھاٗیں مارتا سمندر تھا ۔ ارضیاتی تبدیلیوں کے کسی مرحلے میں افریقہ سے زمین کا ایک وسیع خطہ جدا ہوا اور کروڑوں سالوں کا سفر طہ کرتا ہوا ایشیاء سے پیوست ہوگیا تھا اور یہ خطہ زمین بعد میں برصغیر کہلایا ۔ مگر یہ سلسلہ رکا نہیں اور ارضیاتی تبدیلیاں مسلسل ہوتی رہی ہیں ۔ اب بھی وسط ایشیا کی سطح مرتفع کو جنوب کی جانب برصغیر کی طرف ڈھکیل رہی ہے اور ایک ٹھوس گہری جڑوں والی چٹان جو شاید دنیا کی سب سے قدیم چٹان ہے برصغیر کے نیچے دبی ہوئی ہے ۔ لاکھوں سال تک شمال کی جانب سے ایک ناقابل مزاحمت قوت اس مسلسل روکاٹ پر ڈباؤ ڈالتی رہی ہے اور اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ ان کے درمیان کی زمین کی سطح بلند ہونا شروع ہوئی اور اس طرح قراقرم اور ہمالیہ کے سلسلے وجود میں آئے گئے ۔ اس دباؤ مسلسل کے نتیجے میں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندو کش کے علاقہ میں ہمالیہ کے علاقہ میں اکثر زلزلے اور لینڈ سلایڈنگ آتی رہتی ہیں اور علاقہ کی سطح اب بھی مسلسل بلند ہورہی ہے ۔ 
جہاں اب بلند و بالا ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑ واقع ہیں یہاں قدیم زمانے میں سمندر تھا ۔ مگر اس تصادم کے نتیجے میں یہاں کی زمین بلند ہوگئی اور یہ تمام تبدیلیاں یہاں علاقے میں بہت واضح نظر آتی ہیں ۔ ارضی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ علاقے کئی مرتبہ زیر آب ہوئے اور بلند ہوتے رہے ہیں اور یہاں جانوروں ۔ اس لیے سمندری نباتات اور جانوروں کے مجہرات (فوصلز) زمین کے اوپر اور نیچے دونوں طرف پائے گئے ہیں جو اس تبدیلیوں کا واضح ثبوت ہیں ۔ موجودہ پہاڑی سلسلے جن میں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندو کش شامل کوئی ایک ہزار ملین سال پہلے وجود میں آئے ہیں ۔ جب یہاں پہاڑ بلند ہوئے تو برصغیر کے شمال میں اس وقت سمندر تھا جو دریاؤں کا راستہ بناتے ہوئے مشرق و مغرب کی طرف بہہ گیا اور تقریباً پانچ لاکھ سال پہلے سلسلہ ہمالیہ اور قراقرم کے درمیان کیلاش کا پہاڑی سلسلہ ابھرنا شروع ہوا ۔ جس نے پہلوں سے نکلنے والے آبی راستوں کو روک کر جنوب اور مشرق کی جانب گنگا اور برہم پتر اور شمال و مغرب کی طرف سندھ اور ستلج دو علحیدہ علحیدہ دریائی نظاموں کو جنم دیا ۔ اس کٹاؤ کے عمل نے دریاؤں ئے قراقرم اور ہمالیہ کے بلندیوں پر ایسے نشانات چھوڑے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت بلند سطح پر بہتے تھے اور جب یہاں تو یہاں کی سطح بلند ہوگئی ہے تو دریاؤں اور گلیشروں نے مسلسل کٹاؤ کے عمل سے ان پہاڑوں میں وادیاں اور دریاؤں کا راستہ گہرے نشیب میں بنالیا ہے ۔
سندھ اور گنگا کے منبع صرف ساٹھ میل کے فاصلے پر ہیں اور دونوں دریا مخالف سمتوں میں بہتے ہوئے دو مختلف سمندورں میں گرتے ہیں جن سے درمیان برصغیر کی سرزمین کو مثلث بن جاتی ہے ۔ یہ ثبوت ہے کہ یہاں کبھی سمندر تھا اور یہاں دریاؤں میں دو ایسے عجیب و غریب جانور ملتے جو کہ دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے ہیں ۔ ایک دریائے سندھ کی اندھی ڈلفن اور دوسرا گھڑیال جو کہ دریائے گنگا کا باسی ہے ۔ وسط ایشیا کی سطح اب بھی ابھر رہی ہے اور وہ پہاڑ جنہوں نے دریائے سندھ کو گھیر رکھا ہے وہ اب بھی آہستہ آہستہ بلند ہو رہے ہیں اور جنوب کی سے طرف کسک رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے یہاں زلزلے اکثر اور لینڈ سلائڈنگ ہوتی رہتی ہے ۔  
وقت کے ساتھ کسی علاقہ میں جو ارضی تبدیلیاں واضح ہوتیں ہیں اس کی ایک بہت بڑی مثال دریائے سون ہے جو اب پوٹھوار کا ایک چھوٹا سا دریا ہے ۔ جسں کی وادی سے ماقبل تاریح حجری زمانے کے پتھر کے اوزار اور سمندری فاسلز کثرت سے ملے ہیں (جس کا ہم کسی اور موقع پر ذکر کریں گے) اور خودنی نمک کی دنیا میں سب سے بڑی کان ہے ۔ یہ ایک جھوٹا سا دریا ہے جس میں پانی بہت کم ہوتا ہے اور اب بارشوں کے زمانے میں کچھ زیادہ پانی آ جاتا ہے ۔ مگر اس کے پانی گزرنے کے راستہ کی وسعت اور وادی میں سے کٹاؤ کے عمل کو دیکھ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی زمانے میں ایک بہت بڑا دریا تھا اور جہاں کثرت سے گلیشر بھی تھے اور یہ علاقہ کبھی زیادہ بلند تھا ۔ ارضیاتی میں کسی مرحلے پر اس علاقہ میں بڑے بڑے پہاڑ وجود مین آگئے تھے ۔ جس نے سمندری پانی کے وسیع ذخیرے کو روک لیا تھا اور لاکھوں سالوں میں یہ پانی خشک ہوگیا اور اس طرح یہاں نمک کی کان وجود میں آگئی ۔ اس وقت ہمالیہ قراقرم اور ہندو کش کے پہاڑی سلسلے وجود میں نہیں آئے تھے ۔ مگر بعد جب یہ عظیم پہاڑی سلسلے وجود میں آئے تو یہاں کے پہاڑ پست ہوگئے اور گلیشر پگھل گئے ۔ جس نشانات اور فاصلز اب بھی نظر آتے ہیں ۔       
ہمالیہ جس کا مطلب برف کا مسکن اور قراقرم کا مطلب ہے کالی مٹی اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی بلندی نے سمندری ہواؤں یا مون سون کے بادلوں کو روک رکھا ہے ۔ اس لیے بارش کی کثرت ہمالیہ کے مغربی پہلو ٹکراتی ہے اور یہاں کے بلند پہاڑوں کو سبزہ نے دھانپ رکھا ہے ۔ اس کی نسبت شمال کی جانب پہاڑ اور علاقہ میں بارش نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں سالانہ تین انچ سے بھی کم بارش ہوتی ہے ۔ یہاں پہاڑ بنجر اور کچھ کھلے میدان ریت سے بھرے ہیں , ہوا خشک اور گرد آلودہ ہے ، برف باری چھوٹے دانے چنوں کی طرح ہوتی ہے ، سطح کی چٹانیں ٹوٹی پھوٹی اور راڑوں والی ہیں اور زمین کی سطح رتیلی ہے یا ڈھیلوں کی صورت میں ہے جس کی میں مٹی میں سنگریزے ہیں ۔ بارش کی کمی کے نتیجے میں یہاں صحرائے گوبی جیسے وسیع ریگستان وجود میں آئے ہیں ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں