71

دریا کا سمندر سے زمین حاصل کرنے کا عمل

ہم پہلے لکھ چکے دریا سمندر سے زمین حاصل کرتے اور قدیم زمانے میں دریائے سندھ کا ڈیلتا پنجند کے مقام پر تھا ۔ دریا جیسے جیسے ڈیلٹا بناتے ہوئے سمندر کی سمت بڑھتا ہے دریا کا ڈھال اور پانی کی سطح بلند ہوتی رہتی ہے ۔ کیوں کہ سمندر کا چڑھاؤ دریا کے پانی کو روک کر اسے کناروں پر باہر نکلنے پر مجبور کردیتا ہے اور دریا کا پانی سمندری پانی کی مزاحمت کی وجہ سے پنکھے کی شکل اختیار کرکے نیم دائرے میں پھیل جاتا ہے اور جو مٹی کیچر کی صورت میں اس کے پانی میں موجود ہوتی ہے اور اسے وہاں تہہ میں پھیلتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ دریا کی تہہ بلند ہوجاتی اور وہاں زمین وجود میں آجاتی ہے جو آہستہ آہستہ سطح سمندر سے بلند ہوجاتی ہے ۔ اس طرح جو زمین وجود میں آتی ہے وہ بہت نرم ہوتی ہے ۔ کیوں کہ وہ ایسے باریک زرات سے بنتی ہے جو آخری مرحلے میں دریا کے پانی میں ملے ہوتے ہیں ۔ بھاری زرات ابتدائی مراحل میں ہی نیچے بیٹھ چکتے ہوتے ہیں ۔ ان وجوہات کی بدولت اور دریائے سندھ کے معاملے میں سمندری پانی کے چڑھاؤ کی وجہ سے جس مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے اس کی وجہ سے دریا کا پانی شاخوں میں بکھر جاتا ہے اور یہ شاخیں خود بھی چھوٹی چھوٹی شاخوں میں مستقیم ہوجاتی ہیں اور یہ سب مل کر باریک مٹی کا ایک ذخیرہ سمندر میں جمع کرتی رہتی ہیں ۔ اس طرح ایک بڑے محیط ڈیلتا کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے دیلٹے وجود میں آتے رہتے ہیں ۔ اس عمل سے پنکھے نما زیر آب مٹی کا ٹیلا بڑھتا رہتا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ حصہ رفتہ رفتہ پانی کی سطح سے بلند ہوکر باہر نکلتا رہتا ہے ۔ جب کہ نئی شاخوں کا ڈیلٹا جو ابھی نمود کی حالت میں مسلسل سیلاب کی زرد میں رہے گا اور طغیانی کے موسم میں مکمل طور پر پانی سے ڈھک جائے گا ۔ چنانچہ ڈیلٹا وہ علاقہ ہے جو دریا اور سمندر کی باہمی کشمکش کے لیے اکھاڑے کا کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے نئی زمین پیدا ہوتی ہے ۔ 
شاخوں کے درمیان کا نشیبی علاقہ وہ قدرتی ذخیرہ آب ہے جو سمندر کے اترنے کے بعد خود بخود خالی ہوجاتا ہے ۔ پانی کی خاصی مقدار شاخوں کی آبی گزر گاہوں میں واپس ہوکر تیزی سے بہتی ہے اور راستہ کو گہرا کرتی رہتی ہے اور یہ گزرگاہیں عارضی ثابت ہوتی ہیں ۔ چنانچہ ڈیلٹا کا نقشہ جو آج بنایا جائے وہ چند سال بعد بالکل غلط ثابت ہوتا ہے ۔ 
دریائے سندھ کے لیے طبعی طور پر ممکن ہے کہ اس میدانی علاقے کے خاص کر شمال میں وہ دو شاخوں میں تقسیم ہوجائے اور عہد عتیق میں جب کہ سمندر موجودہ میدان کے کافی حصے پر پھیلا ہوا تھا یہ دریا یقینا دو شاخوں میں تقسیم ہوکر بہتا تھا ۔ ہم تاریخی زمانے میں داخل ہوتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ دریائے سندھ اب جس جگہ دو شاخوں میں تقسیم ہوتا ہے اس سے ایک سو میل شمال میں ہی دو شاخوں میں بٹ گیا تھا اور اس زمانے کے ساحل سمندر سے شاخوں کے جدا ہونے کا مقام تقریباً اتنے ہی فاصلے پر تھا ۔ دونوں شاخیں اور ڈیلٹا اس قدیم عمل کی نشادہی کرتی ہیں جو کسی وقت زیادہ فاصلہ پر شمال سے شروع ہوتا تھا اور رفتہ فتہ ساحل کے سمندر کے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے خود بھی آگے بڑھتا رہا اور اب موجودہ دہانہ کے قریب دونوں شاخوں کے دہانوں پر جاری ہے ۔ اس طرح ایک بڑے محیط ڈیلتا کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے ڈیلٹے وجود میں آرہے ہیں ۔ دونوں سابقہ شاخوں کا درمیانی ڈیلٹا اپنے بالائی میدان سے کسی طرح سطحی طور پر مختلف نہیں ہوتا ہے ۔ 
اس لیے ڈیلٹا کی تخلقی پیش قدمی کے متعلق یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کہ دریا کے دہانہ کے سامنے جتنا سمندر ہے وہ ہر مقام پر تھوڑا تھوڑا آگے بڑھ رہا ہے ۔ صحیح صورت حال یہ ہے کہ مرکزی دہانہ کے سامنے زمین تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے ۔ جب کہ شاخوں میں یہ پیش قدمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس کے علاوہ جتنا ساحلی حصہ ہے اور یقینا بیشتر وہی حصہ ہے ۔ وہ اپنی جگہ قائم ہے یا مقامی طور پر زمین کے اندر تھوڑا بہت گھس جاتا ہے ۔ اس کے بعد دریا اپنی مٹی کو اگلنے کے لیے دوسرا دھانہ استعمال کرنے لگتا ہے ۔ دہانے کی اس تبدیلی سے پیش قدمی کا محل بدل جاتا ہے ۔ 
اٹھاویں صدی کے وسط میں دریائے سندھ کے بہاؤ میں تبدیلی کے نتیجے میں کلری شاخ ہمیشہ کے لیے معدوم ہوگئی ۔ اس کے فوراً بعد بگھاڑ شاخ جس سے دریائی پانی کا بڑا حصہ گزرتا تھا ریت اور کیچر سے بھر کر پایاب ہوگئی اور جنوبی بہاؤ کی صورت اختیار کرلی اور بہت سی ایسی شاخیں جو بگھاڑ کے بائیں کنارے پر نکلتی تھیں انہیں کاٹتا ہوا بہتا تھا ۔ یہ واضح نہیں آبی صورت حال میں یہ تبدیلی کیسے واقع ہوئی ۔ شاید اس کا سبب 1819؁ء کا زلزلہ تھا جس نے کچھ کے علاقے میں بڑی تباہی مچائی تھی ۔ اس کے نواحی علاقے میں بہت سی تبدیلیاں پیدا ہوگئی تھیں ۔ کوری کریک جو کہ پران اور ہاکڑ کے گرنے کی جگہ تھی اور بہت عرصہ سے پانی سے محروم تھی ۔ لیکن زلزلہ نے اسے کافی گہرا اور چوڑا کردیا تھا اور رن کچھ کا مغربی حصہ ایسی حثیت اختیار کرگیا کہ اس میں پہلے کی نسبت سمندری پانی زیادہ مقدار میں پہنچنے لگا ۔ 
نرم زمین کے استحکام میں اور اسے دریا کے کٹاؤ اور مون سونی سمندر کے عمل سے محفوظ رکھنے میں نباتاتی پیداوار اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ شمالی حصہ میں خار دار جھاڑیوں کا ایک جنگل پھیلا ہوا ہے ۔ زیریں حصہ میں لمبی پتیوں والی گھاس دور تک پھیلی ہوئی جڑوں کی وجہ سے مٹی کو تھامے رکھتی ہے ۔ اس علاقہ کی قدرتی پیداواری صلاحیت سندھ کے تمام علاقوں سے بدتر ہے ۔ یہ علاقہ مضر صحت ہونے کی وجہ سے غیر آباد ہے اس لیے زراعت سے خالی ہے ۔ ہر طرف زمینی سطح اور نباتاتی پیداوار ایک جیسی نظر آتی ہے ۔ جس سے منظر میں ایک عجیب قسم کی یکسانی پیدا ہوجاتی ہے ۔

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں