75

دس راجاؤں کی جنگ

رگ وید میں داش راجیہ کے عنوان سے دس راجاؤں کی لڑائی کا ذکر ہے ۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی جس میں بھرت قبیلے کے راجہ سُداس کے خلاف دس راجاؤں نے متحدہ ہوکر جنگ لڑی تھی ۔ جس کا فیصلہ سداس کے حق میں ہوا اور دس راجاؤں کو شکست ہوئی ۔ 
اس کا پست منظر یہ ہے کہ بھرت ایک آریہ قبیلہ تھا ۔ جو طویل عرصہ سے اس علاقہ پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے دوسرے قبائل سے جنگ کرتا رہتا تھا ۔ بھرت قبیلے کا ایک راجہ دیو داس جس کا لقب اتی تَھگوا (انتہائی مہربان) دیوداس اول تھا ۔ اس کی دوسرے آریا قبائل پُورو ، تروش اور یادو سے جنگ ہوئی جن کو اس نے شکست دی تھی ۔ دیوداس اول کی ایک سے زیادہ داس قبائل کے محاذ جس کی قیادت شامبرا کر رہا تھا کو شکست دی ۔ اس کے علاوہ اس کی پنیوں سے بھی لڑائیاں ہوئیں تھیں اور انہیں بھی شکست دی تھی ۔ دیوداس آریہ تھا ، بھرت تھا اور ترسو بھی تھا ۔ لیکن اس کا نام دیوداس ظاہر کرتا ہے کہ وہ مقامی تھا اور آریوں میں ضم کرلیا گیا تھا ۔ اس لیے اس کی جنگیں آریاؤں سے بھی ہوتی رہیں اور مقامی لوگوں سے بھی ہوئیں ۔ دراصل اس پورے آریائی دور میں صرف ابتدا کے مختصر علاقہ کے علاوہ تمام جنگیں سیاسی اقتدار اور بالادستی کے لیے ہوئیں ۔ اور ان کی صف بندی کبھی بھی مقامی بمقابلہ آریا کے حساب سے نہیں ہوتی تھیں ۔ لہذا یہ کہنا بعید قیاس نہیں ہے کہ بھرت قبیلہ کی گوت ترسو مقامی الاصل تھی جو آریاؤں میں ضم ہوگئے تھے ۔
دیوداس کے اولاد میں سے ایک بادشاہ سداس ہوا اس کا رشی وِشوامتر تھا ۔ یہ نسلی اعتبار سے آریہ کشتری تھا اور رشی کے عہدے پر فائز تھا ۔ اس نے کئی جنگوں میں سداس کی فوجوں کو کامیابی سے ہمکنار کرایا تھا ۔ لیکن بادشاہ نے ایک اور پروہت وسشتھ جو مقامی النسل تھا مگر علم و فضل اور ریاضت میں وِشوامتر سے بڑھا ہوا تھا شاہی پروہت مقرر کردیا ۔ بھارت اور ترِت سُو کے درمیان بالادستی کے لیے مخالفت تھی ۔ وِشوامتر نے ناراض ہوگیا اور اس نے پنجاب ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے راجاؤں اور سداس کے مقابلے میں میدان  جنگ میں لے آیا ۔ اس جنگ میں پانچ بڑے قبائل پُورو ، یادو ، تُروش آنو اور وہیو اور پانچ چھوٹے قبائل شامل اَلین ، بَھلان ، شمِ یو اور وشانی شامل تھے ۔ ان کے راجاؤں کے نام زیادہ تر قبائل کے ناموں پر ہیں ۔ شکست خوردہ بادشاہوں کے نام رگ وید میں تُروش ، ورہیو ، الین ، پکھتا ، بھلان شِم یو ، یکشوُ ، بَھرگو اور مستی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کسی جگہ قبیلے کا نام لکھا ہے کسی جگہ سردار کا ۔ یہ جنگ دریائے پَرُشتی (راوی) کے کنارے لڑی گئی ۔ لڑائی کے دوران سیلاب آگیا ۔ جس کی وجہ سے آنو اور دروہیو قبیلے کے راجہ اور پُورو قبیلے کے سردار مارے گئے یا گرفتار ہوئے ۔ باقی ماندہ لڑائی دریائے یمنا کے کنارے لڑی گئی ۔ یہاں گھمسان کی فیصلہ کن جنگ ہوئی ۔ اس میں سُداس کے مقابل شِگرو اور یکشو کا لشکر جس کا مشترکہ رہنما بھیدا تھا ۔ یہاں سداس کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ۔ رگ وید کے مطابق یہ لڑائی پانی کے تنازعے پر ہوئی تھی ۔ دس قبائل دریائے روای کا رخ تبدیل کرنا چاہتے تھے ۔ جب کہ سداس اس کو سابقہ راستہ پر بحال رکھنا چاہتا تھا ۔ بھرت قبیلہ راوی کے مشرقی کنارے سے کورو کشیتر تک آباد تھا ۔ جب کہ مخالف قبائل اس لڑائی میں شریک ہونے کے لیے بلوچستان ، خیبر پختون خواہ اور پنجاب سے آئے تھے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑائی کا سبب صرف پانی نہیں تھا ۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ دس قبیلے شکست کھاگئے مگر ان کا مشن کامیاب ہوا ۔
وشو منتر کے مجموعہ میں ایک بھجن میں اس واقع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب وشو متر راجہ سداس کا پروہت تھا اندر اس پر رشی کی برکت سے مہربان تھا اور راجہ اور اس کے گھوڑے کو دعا دی گئی ہے اور جس مہم پر جا رہا تھا اس میں بھی کامیابی کی دعا کی گئی ۔ مگر یکایک وشو متر کہتا ہے کہ اس کی دعائیں بھارت قبیلہ کے لیے ہیں اور بھجن کے آخری چار اشلوکوں میں بعض دشمنوں کو سخت بدعا دی گئی ہے ۔ کسی کا نام نہیں اور متواتر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ وشٹھا اور اس کے خاندان کو بدعا دی گئی ہے ۔ 
بعد کے زمانہ میں اس خاندان کے لوگ ان اشلوکوں کو زبان پر نہیں لاتے تھے اور اگر دوسرا برہمن انہیں پڑھتا تو یہ اپنے کام بند کرلیتے ۔ غالباً ترت سو کے شاہی خاندان کے پروہت مقرر ہوگئے ہوں اور اس لیے وشو متر کی اولا ان کے دشمنوں یعنی پور اور بھارتوں سے جاملے ہوں ۔ ترت سو اور ان کے حلیف اس جنگ میں فتحیاب ہوئے جو دس راجاؤں کی جنگ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس جنگ کی آخری لڑائی پرشنی ندی کے کنارے ہوئی ۔ جس کو دونوں بھاٹوں نے پرجوش بھجنوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ ان کی حثیت سے غالباً تاریخی ہے ۔ بعد کے زمانے میں وسشٹھا اور اس کی اولاد کے پیروں کی جگہ برہمنوں کی تنگ خیال جماعت نے لے لی ۔ جو رسم و رواج کی پابندی چاہتی تھی ۔ یہ جماعت غالباً ذات کی رسم کے موجد ہیں اور اب تک اس کے محافظ ہے ۔ 

؎؎؎ ’’دس بادشاہوں کی جنگ کا ذکر وشومتر اور وسشٹھا دونوں کے مجموعوں میں ملتا ہے اور اس معرکہ آرائی اور آخری فیصلہ کن لڑائی کے حالات منتشر عبارتوں سے جمع کیے جاسکتے ہیں ۔ بہت سے بھجنوں میں اس جنگ کا ذکر موجود ہے یا اس کے اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کی قوم کی مدد کرے ۔ جیسے کہ اس نے ایک زمانے میں سو داس اور ترت سو کی مدد کی تھی اور دونوں رشیوں کے مجموعوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق اندر اور وارُن سے ملتجی تھی کہ ــ’’وہ دشمنوں کو ہریمت دیں ، خواہ وہ آریا ہوں یا داسیو’’۔ یہ ایک معمولی دعا ہے اور اکثر کتابوں میں موجود ہے ۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھگڑے خود آریا قبائل کے درمیان تھے اور دوسرے یہ کہ آریا دیوتاؤں کو بہت سے دیسی قبائل بھی مانتے تھے ۔ قبیلہ آنو کے متعلق بیان کیا گیا ہے یہ کولاری نسل سے تھے اور اگنی کی پرستش کرتے تھے اور اندر نے کئی مرتبہ پورو کی مدد کی تھی ۔ اس امر کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ قدیم زمانے کی اقوام غیر مذاہب کی متعقدات کو اپنے مذہب میں داخل کرنا برا نہ سمجھتے تھے ۔ بلکہ اپنے دیوتاؤں سے منہ موڑنے کے بغیر غیر اقوام کے دیوتاؤں کی بھی پرستش کرنے لگے تھے ۔ جن کے متعلق مشہور ہے کہ ان کی پرستش سے فلاح و برکت یا جنگ میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ چونکہ اندر کے متعلق مشہور ہوگیا تھا کہ وہ لڑائی میں پرستش کرنے والوں کو فتح دیتا تھا ۔ اس لیے غیر آریا اقوام بھی اس کی مدح سرائی کرنے لگی تھیں اور اس سے امداد کی طالب ہوتی تھیں ۔ اس لیے غیر آریا اقوام بھی اس کی مدح سرائی کرنے لگی تھیں اور اس سے امداد کی طالب ہوتی تھیں ۔ جسے کے نیچے دیئے گئے بھجنوں سے معلوم ہوتا ہے ۔
ٍ اتحادیوں نے اپنی معرکہ آرائی کی مناسب تذبیزیں سوچ لیں تھیں اور انہیں کامیابی کی قطعی امید تھی ۔ ترت سو کا بھاٹ بھی اس خطرے کو کم نہیں خیال کرتا بلکہ اس نے صاف صاف بیان کیا ہے کہ سو داس پر طرف گھر گیا تھا ، مگر وہ اندر سے دست بدعا ہوا ۔ جس نے اپنے دوستوں یعنی سفید پوش وسشٹھا پجاریوں کی دعاؤں سے موثر ہوکر سو داس کے لیے اس کے دشمنوں کی صفوں کو چیر کر راستہ کردیا ۔ متحدین کی چال یہ تھی کہ ترت سو پر یکایک حملہ کر دیں جن کی آبادی سرسوتی تک پہنچ گئی تھی اور وہ خود پرشنی (راوی) کے شمالی کنارے پر صف بستہ تھے ۔ دونوں افواج کے درمیان دو ندیاں وِپاش (بیاس) اور شتادر و یا شوتودری (ستلج) ۔ وش وَ متر کے مجموعہ کے ایک بھجن سے معلوم ہوتا ہے کہ اتحادیوں کا ارادہ تھا کہ ان ندیوں کو غبور کرکے اپنے دشمنوں پر حملہ کر دیں ۔ یہ بھجن اپنی تاریخی حثیت سے ایک گوہر نایاب ہے اور اس میں متضاد بیانات نہیں ہیں ۔ یہ بھجن شاعر اور ندیوں کے درمیان ایک مکالمے کی صورت میں ہے ۔ اس میں شعر ندیوں کی زبانی بیان کیا گیا ہے ۔ اس کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں ۔
’’کھیلتی کودتی ہوئی اور کلیلیں کرتی ہوئی مثل دو گھوڑیوں کے جو چھوٹ گئی ہوں یا دو گایوں کی طرح جو کہ کھیل رہی ہوں ۔ وپاش اور شتادرو پہاڑ سے پانی لے کر اترتی ہیں جو دودھ کی طرح سفید ہے’’۔
’’اندر کے حکم سے تیز رو رتھوں کی طرح تم پانی کے ذخیرہ کی طرف دوڑتی ہو ۔ تم ایک دوسرے کے قریب قریب بہتی ہو ۔ تمہاری موجیں بلیوں اوپر اٹھتی ہیں’’۔
’’میں وپاش کے پاس گیا جس کا پاٹ چوڑا اور منظر دلفریف ہے ۔ یہ دونوں ندیاں گایوں کی طرح ہیں ، جو اپنے بچوں سے کھیل رہی ہوں ، دونوں بہتی چلی جاتی ہیں اور ایک ہی ندی میں جاکر ملتی ہیں’’۔
’’ہم میٹھے پانی سے لبریز ہیں ہم اس مقام کو جارہے ہیں ۔ جو خدا ہمارے لیے بنایا ہے ۔ ہمارے بہاؤ کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ اے شاعر تو یہاں کیوں آیا ہے ، تو کیا چاہتا ہے’’؟
’’میری درخواست کو سنو اور اے مقدس ندیوں ! اپنے بہاؤ کو کچھ دیر کے لیے روک دو ، میں کشیکا بیٹا بڑی آرزو سے تمہاے پاس آیا ہوں اور تم سے التجا و درخواست کر رہا ہوں’’۔
’’بجلی ڈھانے والے اندر نے ورت را کو مار کر جو پانی بند کیے ہوئے تھا ہمارا راستہ کھول دیا ۔ خوبصورت سوتیار دیوتا ہماری رہبری کرتا ہے اور ہمارا پاٹ چوڑا ہے’’۔
’’اندر نے سانپ (ورت را) کو مار کر اپنی بہادری کا ثبوت دیا ۔ یہ اس کا کار نمایاں ہمیشہ قابل یادگار رہے گا ۔ برق سے اس نے ڈاکوؤں کو نیست و نابود کر دیا اور ندیاں آزاد ہوگئیں’’۔
اے شاعر ! اپنی نظموں کو نہ بھولنا ، زمانہ مابعد کی نسلیں بھی اسے سنیں گیں ۔ اپنی نظموں میں ہمارا بھی ذکر خیر کردے تاکہ لوگ ہمیں بھولیں نہ اور ہمای عزت کرتے رہیں’’۔
ٍ ’’اے بہنوں ! سنو کچھ شاعر کہتا ہے ۔ میں تمہارے پاس دور سے لدی ہوئی گاڑیاں لے آیا ہوں ۔ تم ذرا جھک جاؤ مجھے عبور کرنے دو تاکہ تمہارے پانی سے میری گاڑیوں کے پیئے نہ بھیگیں’’۔
’’اے رشی ! تو دور سے لدی ہوئی گاڑیاں لے کر آیا ہے ، ہم تیری بات کو سنیں گے ۔ ہم تیرے آگے جھک جائیں گے ، جسیے کہ فرمانبردار غلام اپنے غلام کے سامنے یا دلہن اپنے شوہر کے’’۔
’’مگر جب بھارت کی فوج جو جوش سے بھری اور اندر جس کا رہبر ہے عبور کرجائے تو تیر کی تیزی کے ساتھ بہنا شروع کردو ، یہی تم سے میری درخواست ہے’’۔
’’بھارت جو نشہ جنگ سے سرشار تھے تیزی سے عبور کرگئے ہیں ، شاعر کی بات کو ندیاں مان گئیں ، اب پھر سے بڑھ جاؤ تیزی کے ساتھ بہو تمارا پاٹ چوڑا ہوجائے’’۔ (رگ وید سوم ۳۳)
شاعر نے آخری شعر میں اپنی آرزو کو اس طور پر بیان کیا ہے گویا کہ وہ پوری ہوگئی ۔ حالانکہ واقع اس کے برعکس تھا ۔ یعنی ترت سو نے پیش قدمی کی اور وپاش اور شتادرو کو عبور کرکے یکایک پرشنی کے جنوبی کنارے پر آدہمکے ۔ جس سے ان کے دشمن گھبرا اٹھے اور یکے بعد دیگرے متحدہ اقوام مع اپنے سرداروں کے ندی میں کود پڑے ۔ ’’ان احمقوں نے یہ خیال کیا کہ ندی بھی خشکی کی طرح ہے’’۔ گھوڑے اور رتھ پانی میں پھنس گئے اور جو لوگ دوسرے کنارے پر پہونچ گئے ۔ وہ بھاگے ہوئے مویشی کی طرح تھے ، جو اپنے چرواہوں سے الگ ہوگئے ہوں ۔ بہت سے سردار اور چھ ہزار کے قریب سپاہی پانی میں ڈوب گئے ۔ اندر کی طاقت کے زور سے قتل ہوئے ، سداس کو مال غنیمت بکثرت ملا اور جو لوگ بچ گئے انہیں خراج دینا پڑا ۔ تر سو کو پوری فتح حاصل ہوئی اور جمنا کی طرف پڑھنے میں اب کوئی امر مانع نہ رہا’’۔ (رگ وید ہفتم ۱۸) ۔
’’اے انسانوں ! اندر وہ ہے جس جنگ میں دونوں فریق اس طرف کے بھی اور اس طرف کے بھی جنگ کے دن مخاطب کرتے ہیں ’’۔ (رگ وید دوم ۱۲،۸) ’’وہ جنگجو ہمارے خلاف متحد ہوگئے ہیں ۔ خواہ ہمارے ہم نسل ہوں یا غیر ہوں اپنا پورا زور لگا رہے ہیں’’۔ (رگ وید ششم ۳۳،۳) ’’وہ اندر اور اگنی مارتے ہیں دشمنوں کو خواہ وہ آریا ہوں یا داسیو’’(رگ وید شش ۶۰،۶) اور وہ دیوتاؤں کو نہیں مانتے ہیں خواہ وہ داسیو ہیں یا آریا اور ہم سے لڑتے ہیں ، اے باعظمت اندر تو ہمیں آسانی سے ان پر فتح دے’’۔ (رگ وید دہم ۳۸،۳) تو نے اے اگنی ! پہاڑوں اور میدانوں (کے رہنے والوں) کا مال و متاع لے لیا اور تو نے دشمنوں کو مارا ہے ، خواہ وہ آریا ہوں یا داسیو’’۔ (رگ وید دہم ۶۹،۶)
دس بادشاہ کی جنگ خالص آریہ اور خالص داسیو قبیلے کو شکست ہوئی اور مخلوط بھرت قبیلہ فتحیاب ہوا ۔ لیکن شکست خوردہ قبائل ختم نہیں ہوگئے مگر سداس کو اپنی بالادستی موقع ملا ۔ رگ وید کے مطابق اس جنگ میں اکیس راجہ قتل ہوئے اور متحدہ قبائل کا سربراہ راجہ بھیدا بھی قتل ہوا ۔ میدان جنگ میں قتل ہونے والوں کی تعداد چھیاسٹھ ہزار چھ سو ساٹھ تھی ۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ سیلاب کی نظر ہوئے ۔ جن کی گنتی نہیں ہوسکی ۔ دس بادشاہوں کی لڑائی میں بھرت فاتح بن کر ابھرا اور اس نے ایک نسبتاً وسیع سلطنت بنائی ۔
رگ وید کے شاعروں کے کلام میں ترت سو اور ان کے بادشاہ سوداس کے حلفا اور دشمنوں کے نام محفوظ ہیں ۔ ان کے مخالفین کے اتحاد میں دو سربرآور قبائل شامل تھے ۔ یعنی پورو جن کا سربرا کت سا تھا اور بھارت جن کو وش وَمتر نے آریا بنا لیا تھا اور وہ آریا تمدن سے اس درجہ متاثر ہوگئے تھے کہ بھارت ورش آریائی ہندوستان کا مترادف ہوگیا ۔ اس جنگ کی آخری فیصلہ کن لڑائی میں بہت سے سردار کام آئے ۔ جن کے نام رگ وید میں موجود ہیں وہ ترت سو کے اتحادی تھے ۔ جن میں دو قبائل پرتھو اور پارسو (پارتھی اور پارسی) ایرانی آریاؤں کی شاخیں تھیں اور ہمالیہ کے جنوب تک آباد ہو گئی تھیں ۔ وَِشاَنِن (پیران وشنو) نام کی ایک قوم کا بھی ذکر ملتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وشنو کا فرقہ قدیم ہے ۔ اس طرح ترت سو کے حلیفوں میں وشانن کے ساتھ شیو کا بھی نام آیا ہے ۔ یہ غالباً قوم تگرا ہے جو ڈراویڈی قوموں میں قدیم تر ہے ۔ روس کے فسانوں میں سورماؤں کا ایک دشمن تگارن سانپ ہے ۔ ممکن ہے کہ تگرا اور تگارن میں کوئی تعلق ہو ۔ کیوں کہ آریا انہیں سانپ کے بچے کہتے تھے اور یہ شیو کو سانپ یا اس کے خواص میں پوجتے تھے ۔ یہ تمام اقوام غالباً آپس میں اور آریاؤں کے ساتھ مخلوط گئیں تھیں ۔ یعنی موجودہ زمانہ کے ہندو دھرم کے تین اجزا ترکیبی یعنی برہمن دھرم ، وشنو مت اور شیو مت رگ وید میں ترت سو ، وشانن اور شیو کی شکل میں تھے ۔
پورو قوم کے سورما پورا کت سا کے انجام کا کہیں ذکر نہیں ۔ مگر ایک مقام پر ضمناً کچھ ذکر ہے اور یہ بھی مذکور ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قید ہوگیا تھا ۔ اس شعر میں اس کی پریشانی کا ذکر ہے اور یہ بھی مذکور ہے کہ اس کا نواسا تراسا داسیو اس کی بیٹی پورو کتسی کے بطن سے پیدا ہوا جو دیوتاؤں نے اسے مصائب کے صلے میں دیا تھا ۔
ترا دسا داسو ایک زبردست بادشاہ ہوا ۔ اس نے ہندوستان کے بادشاہوں میں سب سے پہلے سم راج (شہنشاہ) کا لقب اختیار کیا ۔ پرشنی کے کنارے تباہ کن جنگ کے بعد مدت دراز کے لیے صلح ہوگئی ہوگی ۔ کیوں کہ ترادسا داسیو ہمیشہ آریوں کا دوست اور حلیف تھا ۔ اس کے جانشینوں کی کئی پشتوں کا نہ صرف زرمیہ نظموں بلکہ خود رگ وید میں ذکر ہے ۔ لیکن اس قوم نے اپنا نام بدل دیا اور کورو کے نام سے مشہور ہوئے اور زرمیہ نظموں میں ممتاز حثیت رکھتے تھے ۔ تبدیل نام کے لیے ایک قصہ گھڑ لیا گیا ہے ۔ یعنی بیان کیا گیا ہے کہ کورو کت سا کا پوتا تھا اور اس کی عظمت کی وجہ سے اس کی قوم اسی کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ ترت سو بھی اس طرح صفحہ ہستی سے غائب ہوجاتے ہیں ، مگر بیان کیا گیا ہے کہ ان کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور جمنا کا بھی انہی کے ضمن میں ذکر آیا ہے اور ان کی طرح ان کے پجاریوں یعنی وسشٹھا کی قدامت پرست جماعت معدوم نہ ہوئی بلکہ جس ملک میں ترت سو کے قدم جم گئے تھے ۔ وہ ان غالی برہمنوں کا جائے پناہ ہوگیا ، جہاں شخص ان کے آگے سر تسلیم خم کرتا اور ذات پات کے قیود کی بھی نہایت سختی سے پابندی کی جاتی تھی ۔ منو دہرم شاستر میں اس ملک کو برمھ سرت کا لقب بخشا گیا ہے ۔ جس کے علاوہ کسی اور ملک میں راسخ العقیدہ برہمنوں کا رہنا جائز نہیں ہے ۔ منو کا قول ہے ’’وہ دیوتاؤں کا پیدا کیا ہوا ملک جسے عقلاً برمھ ورت کہتے ہیں ۔ سرسوتی اور دِریِ شدوتی ندیوں کے درمیان واقع ہے’’۔
’’اس ملک کی ذاتوں اور مخلوط اقوام میں جو رسم و رواج جاری ہے اسی پر تمام پاک باز لوگوں کو عمل کرنا چاہیے’’۔
’’اس سرزمین سے جو برہمن پیدا ہوا ہو اس سے تمام دنیا کے لوگوں کے اپنے اپنے رسم و رواج سیکھنا چاہیے’’۔ شمال میں ہمالیہ سے جنوب میں وندھیا اور مشرق اور مغربی سمندروں کے درمیان جو ملک تھا وہ آریا ورت کے نام سے موسوم تھا ۔ اس میں رہنا جائز تھا ۔ مگر یہ برمھ ورت کے خطہ کے برابر متبرک نہ تھا ۔ باقی ماندہ حصہ ملک میں دو جنم والوں کو رہنے کی اجازت نہ تھی ۔ کیوں کہ یہ ملیچھوں کا ملک تھا ۔ جس میں صرف شودر رہ سکتے تھے اور دو جنم والوں کو وہاں سے دور رہنے کا حکم تھا ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں