74

دلاژاک

نعمت اللہ ہروی کودی بن کڑانی کے دوسرے لڑکے کا نام دلاژاک تھا ۔ عام طور پر اس قبیلہ کو ہندوی یعنی ہندوستان کے رہنے والے کہتے تھے ۔

ہندآریائی میں ’اج‘ بکری کو کہتے ہیں اور اس کلمہ سے برصغیر کے بہت سے شہروں اور لوگوں نام بنتے ہیں ۔ مثلاً اج + میر = اجمیر اور اجے سنگھ غیرہ ۔ جب کہ کشمیری میں بکری کو ’ژاَج‘ کہتے ہیں اور اجن نام کا سندھ میں قبیلہ آباد ہے ۔

کلمہ دلاژاک دوحصوں پر مشتمل ہے ۔ دل+اژ+ک=دلاژاک ۔ دل کے معنی ہجوم یا گروہ کے ہیں ۔ جب کہ ’اژ‘ ’اج‘ کی ایرانی شکل ہے ۔ کیوں کہ ایرانی ’ژ‘ کی جگہ ہند آریائی میں ’ج‘ استعمال ہوتا ہے ۔ جب کہ ’ک ‘ اضافی ہے ۔ کیوں کہ ایرانی میں لفظ کے آخر میں حروف علت لمبا ہوجائے تو ایک حروف صحیح کا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس طرح اس کے معنی بکریوں کا قبیلہ یا بکریوں کے پجاری کے ہیں ۔ اس کی تصدیق کشمیری میں ’ژاَج‘ سے ہوتی ہے کہ اس قبیلے کے نام کا دوسرا حصہ ‘ژاک‘ سے قریب المخرج ہے ۔  

قدیم زمانے میں آریاؤں میں رواج تھا کہ وہ اپنا انتساب کسی جانور سے کرتی تھیں اور وہ اکثر اسے اپنا جد امجد تصور کرتی تھیں اور اس کی پوجا کیا کرتی تھیں اور ’اژاک‘ اسی زمانے کی یادگار ہے اور غالباً یہ قدیم زمانے میں افغانستان اور شمالی برصغیر میں بکری کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کی پوجا بھی کی جاتی تھی ۔ یہ مسلمان ہونے کے بعد اس کی اصلیت بھول گئے اور روایتوں میں یہ کلمہ زندہ رہا اور اس کی اصلیت کچھ سے کچھ ہوگئی اور شجرہ نسب ترتیب دیتے اس کو اپنے مورث کی حثیت سے پیش کیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں