86

دنیا کا عظیم نہری نظام

کافی عرصہ آبپاشی کے ماہرین آبپاشی اور زراعتی مقاصد کے بجائے سیلابوں پر قابو پانے پر زور دیتے رہے ۔ دریائے سندھ کے مشرقی معاون خاص طور پر دریائے راوی پر نکالی جانے والی نہروں کے اثرات نمایاں طور پر نظر آنے شروع ہوگئے تھے اور یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ان دریاؤں سے ایک حد تک پانی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان میں قحطوں کے ایک لمبے سلسلے کے پش نظر زیادہ غذائی پیداوار کی ضرورت کو زیادہ محسوس کیا جانے لگا اور برطانوی احکام نے ہندوستان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پنجاب کا انتخاب کیا ۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر آب پاشی کی سہولیات کا ہونا ضروری تھا ۔

1909ء میں منتظمین اور انجینرؤں نے پہلی مرتبہ زیریں سندھ طاس کے منصوبے پر مجموعی طور پر غور کرنا شروع کیا ۔ ایک نیا تصور جو کہ اس وقت مکمل طور پر طبع زاد تھا اپنایا گیا اور اس پر عمل درآمد شروع کیا ۔ جس کہ مطابق ایک دریا کے پانی کو دوسرے دریا تک پہنچایا جانا تھا ۔    جہلم کو ایک نہر کے ذریعہ چناب سے ملا دیا گیا ۔ اب انہیں زیادہ تجربہ اور زیادہ موثر مشنری کی مدد حاصل ہوگئی تھی ۔ نہروں اور پنجند اور معاون دریاؤں پر بہت سے بند اور بیراج باندھے گئے ۔ یہ دونوں دریاؤں کو یا نہروں کو قطع کرتی ہوئی دیواروں کی صورت میں تھے ۔ لیکن بند زیادہ اونچے نہیں ہوتے تھے اور ان کا مقصد خشک موسم میں پانی کو روک کر ضرورت کے مطابق اس کا رخ بدلنا تھا ۔ سیلابی پانی ان کے اوپر سے گزر کر ضائع ہوجاتا تھا ۔ بیراجوں پر عمودی گیٹ تھے جن کی بلندی کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا تھا ۔ اس طرح یہ سیلاب کے وقت پانی کا ذخیرہ کرلیتے تھے ۔ اس طرح جہاں سیلابوں پر کسی حد تک قابوں پایا جاسکتا تھا اور ان میں جمع شدہ پانی کو سردیوں کے خشک موسم میں استعمال کیا جاسکتا تھا ۔ 1932ء میں سکھر کے مقام پر دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا پہلا بیراج کھول دیا گیا اور دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی کے نظام نے کام کرنا شروع کردیا ۔ تقسیم سے کچھ عرصہ پہلے دوسرا بیراج کالا باغ کے مقام پر تعمیر کیا گیا ۔ جس وقت یونین جیک اتارا گیا اس وقت تک برطانوی انجینیر سندھ طاس کو دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام مہیا کرچکے تھے ۔ یہاں انہوں نے جو فارمولے تشکیل دیئے وہ دنیا میں ہر جگہ نہروں کی تعمیر اور ان کو چلانے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں ۔       

اگرچہ یہ علاقے نہروں کی وجہ سے اتنے بھی ذرخیر نہیں ہوئے کہ ان ہیں برصغیر کے غلے کا گودام کہا جاسکے ۔ تاہم پنجاب اور سندھ ہندوستان کی وسیع آبادی کے لیے کم از کم اتنی زیادہ خوراک پیدا کرنے کے قابل ہوچکے تھے جتنی اس سے پہلے ممکن نہیں تھی ۔ یہاں نہروں کی تعمیر سے قبل زراعت ایک غیر یقینی کاروبار تھا ۔ جب نہروں کی تعمیر کے بعد ہر موسم میں پانی میسر آنے لگا تو بہت سارے میدانی علاقوں میں فضلیں پیدا کی جانے لگیں ۔

بہار کے موسم میں کسان کپاس ، چاول ، باجرہ اور گناہ کاشت کرتے ہیں جو کہ خزاں میں پک کر تیار ہوجاتے ہیں ۔ یہ خریف کی فضلیں کہلاتی ہیں ، خزاں کے موسم میں ایسی فضلیں بوئی جاتی ہیں جنہیں کم نمی کی ضرورت ہو اور گرمی کو برداشت کرسکیں ۔ ان میں گندم ، جو اور روغنی بیج شامل ہیں ۔ نئی نہروں کے آس پاس آباد کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی اور زمینیں باٹی گئیں ۔ کپاس اور گندم کے کھیتوں کے ساتھ مالٹوں ، سنگتروں آموں ، ناشپاتیوں اور آلو بخاروں کے باغات نظر آتے ہیں ۔ یہ اس قدر گھنے اور پھلوں سے لدے ہوتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے انہیں انہیں گوپھن اور غلیلوں کے ذریعہ طوطوں اور دوسرے پرندوں کو اڑاتے ہیں ۔ آبپاشی کے نتیجے میں کھجور کے باغات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ۔ جن کی بہت سی اقسام ہیں اور ان کے بڑھے انوکھے اور نرالے نام رکھے گئے ہیں ۔

آب پاشی کو فروغ دینے کے ساتھ سیلابوں کو کنٹرول کرنے کے پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا گیا ۔ نازک مقامات پر حفاظتی پشتے تعمیر کئے گئے اور نئے بیراج بیک وقت دو اغراض پوری کرتے تھے ۔ دریا کے پانی کو روک کر سیلابوں کو قابوں میں کرنے میں مدد دیتے تھے اور پانی کے ذخائر مہیا کرتے تھے ۔ جن سے نہریں نکالیں جاسکتی تھیں ۔ 1870ء کی ڈھائی میں برطانویوں نے مختلف مقامات پر جہاں سے یہ بڑے دریا پہاڑوں سے نکلتے تھے مشاہداتی اسٹیشن قائم کئے اور یہاں کے پانی کے اخراج کا تفصیلی ریکاڈ مرتب کرنا شروع کیا ۔ صرف اس قسم کے کئی سالوں پر محیط ریکاڈ کی مدد سے ہی دریاؤں میں ہونے والی مستقل تبدیلیوں کے بارے میں وثوق کے ساتھ کسی قسم کی پیشنگوئیاں ممکن ہیں ۔

آبپاشی کے لیے کئے گئے انتظامات کئی قسم کے اثرات کے     حامل ہوتے ہیں ۔ نہروں کا جال جو برطانوی انجینئروں نے بڑے اعتماد کے ساتھ بچھایا تھا اس نے سیم تھوڑ کا مسلہ پیدا کردیا ۔ یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ صحرا سیم کا شکار ہوجائے ۔ لیکن پنجاب اور سندھ میں ریت کے نیچے جو کہ اکثر گہرائی میں نہیں ہوتا ہے پانی کی ایک تہہ پائی جاتی ہے ۔ جس کا کسانوں کو علم ہے اور ہزاروں کنوؤں کے ذریعے یہاں سے پانی نکالا جارہا تھا ۔ کیوں کہ آبپاشی کے بغیر زمین بے کار ہوتی ہے ۔ اس لیے زمین کی پیمائش تقریباً پچیس ایکڑ عام طور پر ایک کنویں سے کی جاتی ہے ۔

ایک مرتبہ جب نہریں تیار ہوگئیں اور پانی آسانی سے میسر آنے لگا تو کسانوں نے بڑی فراخدلی سے اس کا استعمال شروع کیا ۔ نہریں بھی زیادہ تر کچے کناروں والی تھیں ۔ لہذا پانی جذب ہوتا رہتا تھا ۔ بتدیح پانی کی سطح بلند ہوتی چلی گئی اور بعض جگہوں پر یہ صرف زمین کی سطح سے پانچ فٹ نیچے ہے ۔ دہکتا سورج بھی پانی کو کھیچ کر سطح پر لے آتا ہے ۔ بدقسمتی سے یہ پانی اوپر آتے ہوئے اپنے ساتھ زہریلے نمکیات بھی لے آتا ہے اور پانی خود تو بخارات بن کر اڑ جاتا ہے ۔ لیکن سطح زمین پر اپنے پیچھے نمکیات چھوڑ جاتا ہے ۔ سب سے پہلے کپاس کی فضل متاثر ہوئی اور پھر دیگر دوسری فضلیں متاثر ہونے لگیں ۔ اب تمام میدانی علاقے سفید نظر آنے لگے اور یہ مکمل طور پر بنجر ہوگئے ۔ بہت سے ٹیوب ویل جن کے کھوکھلے پائپ جن کے ساتھ پمپ فٹ تھے زمین کے اندر پہنچائے گئے تاکہ تازہ پانی حاصل ہوسکے اور پانی کی سطح کو نیچے لے جایا جاسکے اور زہریلے نمکیات سے زمین کی سطح سے صاف کیا جاسکے ۔ لیکن یہ عمل مہنگا اور بہت جلد ذوال پزیر ہوجاتا ہے ۔ 1948ء میں ایک برطانوی انجینر نے لکھا ہے کہ اگر پنجاب کو بچانا ہے تو جرات مند اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان نے مدد کے لیے غیر ملکی ماہرین کو بلوایا ، بہت سے علاقوں میں ٹیوب ویل پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا ۔ لیکن جلد ہی عیاں ہوگیا کہ اس پر قابو پانے کے لیے ایک بڑے اجتماعی حملے کی ضرورت ہے ۔ چھوٹی چھوٹی سکیمیں عملی طور پر ناکام ہیں ۔ 1963ء میں 2000 ایک خاص وضع کے ٹیوب ویل راوی اور چناب کے درمیان 1.1200.000 ایکڑ کے علاقے میں نصب کئے گئے ۔ ایک سال کے بعد پانی کی سطح نیچے چلی گئی اور فضلوں میں عمومی بہتری کے آثار پیدا ہونے لگے ۔ لیکن اس مہم پر تقریبا 35 میلن امریکی ڈالر خرچ ہوئے اور ٹیوب ویل کے ذوال پریز ہونے کے عمل پر صرف ضروری حد تک قابو پایا جاسکا تھا ۔ اس کے علاوہ جنوب میں کچھ علاقے ٹیوب ویلوں کے لیے موزوں نہ تھے اور پانی کی نکاس کے لیے دوسرے طریقوں کا استعمال ضروری تھا ۔

سیم تھوڑ کی زمین میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ پنجاب و سندھ میں عام ہے ۔ یہ زمین سیاہ اور چکنی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی سبزہ نہیں اگتا ہے ۔ لیکن زیریں سندھ میں اس میں پیلو اور دوسرے خود رو پودے ملتے ہیں ۔ خاص طور پر وہ پودے جن سے نیلا رنگ حاصل کیا جاتا ہے ۔ یہ قطعات آنکھوں کو بھلے نہیں لگے ہیں ۔ بعض مقامات پر زیر زمین پانی کی سطح اتنی بلند ہوجاتی ہے کہ اوپر آجاتا ہے اور بہنے لگتا ہے ۔ اس میں نمک شامل ہوتا ہے ۔ جب یہ پانی دھوپ کی تمازت سے اڑجاتا ہے تو ایک چمکدار مادہ زمین پر جما ہوا چھوڑ جاتا ہے ۔ جو پودوں کے لیے سخت نقصان دہ ہوتا ہے ۔ اسے بجا طور پر برف کی شیطانی نقل کہا جاسکتا ہے ۔ زمین کی یہ کیفیت کی نشادہی کرتی ہے کہ نہری پانی دستیاب ہوجائے تو یہاں چاول کی کاشت کی جاسکتی ہے ۔ یہاں نمکیات زمین کی خاصی گہرائی تک موجود ہوتی ہیں اور اسے مکمل طور پر کار آمد نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔       

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں