59

دو بہنیں

اسی بھجن میں چند اشعار میں ان تعلقات کو بیان کیا گیا ہے جو سپید صبح (اُشاس) کے اپنی بہن رات کے ساتھ ہیں ۔
’’وہ چمکدار سرخ رنگ والی مع اپنے چمکدار بچھڑے (سوریا) کے پاس پہنچ گئی ہے ۔ اس کو سیاہ رنگ والی (رات) نے اپنے گھر بسرد کردیئے ہیں ۔ دونوں ایک ہی جوہر سے ہیں ، دونوں غیر فانی ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے بعد آتی ہیں ۔ دونوں بہنوں کا یہ راستہ ہے جس میں کبھی تغیر نہیں ہوتا اور جس پر وہ دیوتاؤں کے حکم سے سفر کرتی ہیں ۔ نہ وہ لڑتی جھگڑتی ہیں ، نہ آرام کرتی ہیں ، باعظمت رات اور اُشاس ایک ہی ہیں گو صورت میں مشابہ نہیں ہیں’’۔ (رگ وید اول ۱۱۳،۲،۳) 
’’ایک دو مقامات پر چمکنے والی (اُشاس) کو سیاہ رنگ والی (رات) کی بیٹی کہا گیا ہے ۔ مگر زیادہ تر دونوں کو بہنیں بتایا گیا ہے ۔ دونوں آسمان کی حسین بیٹیاں ہیں ، دونوں نیک دل ہیں ، ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے اور یکے بعد دیگر حیوانوں کو طاقت اور طاقت بخشتی  ہیں ۔ ’’جیسی آج ہیں ویسی ہی کل ہیں اور وارن کے مقررہ قانون کی پابندی کرتی ہیں’’۔ کبھی اس قانون سے تجاویز نہیں کرتیں اور مناسب وقت پر مقام مقررہ پر موجود رہتی ہیں ۔ ظاہر ہے رات کو اس مقام پر انسان کا موذی دشمن یا کھا جانے والا درندہ یا تاریکی کو سمندر نہیں کہا گیا ہے بلکہ ایک مہربان دوست ہے جو راحت اور خشکی بخشتا ہے اور تر و تازہ کرتا ہے ۔ بیان کیا گیا ہے دونوں بہنیں بڑی بننے والیاں ہیں اور ہر وقت قبا اور نقاب بنتی رہتی ہیں ۔ ہر ایک اپنے خواص کے مطابق سنہری ، چمکنے والی یا سیا قبا بنتی رہتی ہے ۔ اُشاس سیاہ پردے کو اٹھا کر آسمان کے گوشے میں چمکتی ہوئی نظر آتی ہے اور اپنے خوبصورت رتھ کو ہانکتی ہے ۔ جس میں سرخ گھوڑے جتے ہوئے ہیں’’ ۔ (رگ وید اول ۱۱۳،۱۴)
’’سوریا اس کو اس کھال کی طرح لپیٹ دیتا ہے’’۔ (رگ وید اول ۶۳،۱) اس کے تار تار الگ کر دیتا ہے اور پھر اسے چھپا دیتا ہے’’۔ (رگ وید چہارم ۱۳،۴) مگر دونوں بہنیں اپنا کام یک جہتی سے انجام دیتی ہیں ’’پھیلے ہوئے پردے کو وہ دونوں مل کر بنتی ہیں’’۔ (رگ وید دوم ۴،۶) دونوں کا تعلق نہایت قریبی ہے ۔ گو ایک کے آتے ہی دوسری چلی جاتی ہے اور اشاس ’’اپنی بہن کو دور ہنکا دیتی ہے’’۔ دونوں بہنیں اس محبت و موانست کے ساتھ کام کرتی ہیں کہ شاعر تعجب سے پوچھتا ہے ’’ان میں سے کون بڑی اور کون سی چھوٹی ہے ؟ کون بتاسکتا ہے اسے عقلاً ! وہ دونوں تمام مخلوقات کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ایک پئیے کی طرح گردش کرتی ہیں’’۔ (رگ وید اول ۱۸۵،۱)

ٍٍ اُشاس کے تعلقات سوریا کے ساتھ قدرتی مگر مختلف بیان کیا گیا ہے کہ ’’وہ اپنے عاشق سوریا کی روشنی سے چمکتی ہے جو اسی طرح اس کے تعاقب میں رہتا ہے ۔ جیسے کوئی عاشق کسی دوشیزہ کے پیچھے ، مگر اس کے آگے بھاگی چلی جاتی ہے اور وہ اس کے وصال سے محروم رہتا ہے ۔ آفتاب کا قرب اس کے لیے مضر ہے ۔ کیوں کہ وہ نازک بدن کبھی اپنے عاشق کی چمک برداشت نہیں کرسکتی ہے ۔ یہاں تک ایک شاعر اسے مشورہ دیتا ہے کہ بھاگ جائے ورنہ سوریا اسے چور یا دشمن کی طرح جلا دے گا’’۔ (رگ وید پنجم ۷۹،۹) مگر بعض مقامات پر اسے سوریا کی بیوی بیان کیا گیا ہے ۔ گو وہ اس کا بھائی بھی ہے ۔ کیوں کہ دونوں دیاؤس (آسمان) کی اولاد ہیں ۔ بعض مقامات پر اشاس کو سوریا کی ماں قرار دیا گیا ہے ۔ جس کو وہ چمکدار بچھڑا ہے اور حسین اور درخشاں اشاس اس مقام پر گائے بن جاتی ہے ۔
ویدوں کا آسمانی علم حیوانات عجیب و غریب اور حیرت افزا ہے ۔ لیکن اگر ہم اس کے بنیادی اصول پر گہری نظر ڈالیں تو بہ حثیت مجموعی سمجھ میں آنے لگتا ہے ۔ مناظر بہت سے ہیں اور جانور کم ۔ اس لیے ایک جانور سے بہت سے کام نکالے جاتے ہیں ۔ گویا وہ ہم آواز الفاظ ہیں ۔ جن کے معنی مختلف ہیں ۔ مثلاً گھوڑا سوریا کے لیے مخصوص ہے ۔ ایک مقام پر اس سے آسمان کو تشبیہ دی گئی ہے ۔ ’’پتریوں نے سیاہ گھوڑے کو موتیوں سے سنوارا ہے’’۔ یہاں گھوڑے سے مراد آسمان ہے اور موتیوں سے مراد ستاروں سے ہے ۔ سانپوں سے مراد ہمیشہ خشک سالی کے بادلوں سے نہیں ہے ۔ کیوں کہ تاریکی کے سانپ بھی ہوتی ہیں ۔ گایوں سے مراد بارش کے بادلوں سے نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ روشنی کی چمکتی ہوئی گائیں ہیں اور تاریکی کی سیاہ گائیں ۔ ایک خیال یہ ہے کہ رات ایک تاریک اصطبل سے جس میں چمکنے والی گائیں بند رہتی ہیں ۔ اشاس اصطبل کو کھول دیتی ہے اور گائے خوشی خوشی اس کے ارد گرد کودنے لگتی ہیں ۔ ان گایوں سے مراد سپدی صبح کی کرنوں سے جو ہر طرف پھیل جاتی ہیں ۔ ان اشاس گائے چرانے والی بن جاتی ہے ۔ مگر وید کے شعرا کا تخیل یہاں نہیں رکتا ہے ۔ اشاس گائے چرانے والی ہونے کے بعد وہ گایوں کی ماں بن جاتی ہے اور پھر خود ایک خوبصورت اور چمکتی ہوئی گائے بن جاتی ہے جس کا بچھڑا سوریا ہے ۔ مگر اس پر بھی اپنی بہن رات سے اس تعلق ختم نہیں ہوتا ہے ۔ کیوں مخاطب کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے ’’دونوں گائیں اپنی تھنوں سے مختلف اقسام کا دودھ دیتی ہیں’’۔ اس سے دقیق شعر کی بھی توضیح ہوتی ہے ۔ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ اندر نے سیاہ گایوں کے تھنوں میں سیاہ دودھ ڈال دیا گیا ہے اور سرخ گایوں کے تھنوں میں سفید دودھ ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں