90

دہریت ، صوفیت اور اسلام

دہریت کے معنی انکار خدا کے لیے جاتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ صوفیت اور دہریت کو ایک دوسرے کے متضاد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور دونوں مذہب کی پابندی کے خلاف رہے ہیں ۔ جو لوگ بظاہر خدا کو نہیں مانتے ہیں ، ان کے اندر صداقت کی جستجو ، علم کی چاہت اور انسان دوستی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ وہ مذہب پرستوں سے زیادہ نرم خو اور نیک ہوتے ہیں اور صوفی بھئ صداقت کی جستجو رکھتا ہے اور انسان دوستی بھی پائی جاتی ہے ۔ خدا پرستوں کا ایمان اندھی عقیدت کی بنیاد پر میکانکی نوعیت کا ہوتا ہے ، ان میں روحانی گہرائی اور وسعت نہیں پائی جاتی ہے ۔ دہریت کے لیے کائنات اور انسانی زندگی کا گہرا سائنسی علم بنیادی شرط ہوتی ہے کہ ، تاکہ ان کے سوال مل جائیں ۔ دوسری طرف زماں و مکاں میں لامحدود کائنات کا گہرے شعور کی وجہ سے ان میں شعور کی لطیف ترین صفت یعنی روحانی حساسات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ چنانچہ وہ خدا کا نام لیے بغیر خدا کی بنیادی شرط لامحدودیت سے زیادہ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ بہ نسبت خدا پر زبانی ایمان رکھنے والوں کے ۔ کیوں کہ خدا پر ایمان رکھنے والوں کا تعلق خدا کے اس حصے سے ہوتا ہے جو شخصی اور محدود ہوتا ہے ۔ ان کی عظمت اور بڑا پن یہ ہے کہ وہ دنیا کی بڑائیوں اور جہات کے خلاف جہاد کرتے ہیں ۔ اس حقیقت کے پیش نظر ان کو صوفیوں کہ قریب قرار دیا جاسکتا ہے ۔

صوفی کی وسیع قلبی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ وہ بظاہر جس مذہب کا پیرو ہوتا ہے اس کے نظریات اس مذہب سے مختلف ہوتے ہیں ۔ جس میں قدیم فلسفہ اور مذاہب سب کے نظریات پیوست ہوتے ہیں ۔ اگرچہ وہ خود کو اس مذہب سے الگ کرنا نہیں چاہتا ہے ۔ اس لیے وہ ظاہر اور باطن کی بات کرنے لگتا ہے اور اس کی قران و سنت سے دلیلیں اور تاویلیں پیش کرتا ہے جو بظاہر مختلف ہوتی ہیں ۔

جب صوفی کی نظر مذہب سے پرے لامحدود ہوتی ہے ۔ وہ لامحدود کے بحر بے بیکراں میں خود کو گم کردیتا ہے ، جس میں ’نہ میں رہتی ہے نہ تو‘ ۔ صوفی کی فکر و نظر پوری کائنات کو محیط کرلیتی ہے ۔ اس میں مادہ و روح ، جمادات و نباتات ، ارض و سماء اور حیات و کائنات کی تمام شکلیں ایک ہی رنگ کے مختلف روپ پن جاتے ہیں ۔ چنانچہ اس کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ انہیں خدا ہر ذرہ میں نظر آتا ہے اور ہر ذرہ خدا ہوجاتا ہے ۔

  میرے دل کی نظر درد ٹہری کس پہ

جدھر دیکھتا ہوں تو ہی روبرو ہے

ایسے میں وحدت الوجود کا فلسفہ ایجاد ہوا ۔ خدا جس پر مروجہ مذہب اپنے حقوق ملکیت محفوظ کرچکے تھے اور اسے مختلف نام اور روپ دے کر آپس میں باٹ لیا تھا ۔ ایسے میں صوفی آگے بڑھتا ہے اور خدا کو انفرادی اور گروہی ملکیت کے شکنجے سے نکال لاتا ہے ، اب خالق اور مخلوق الگ الگ ہستیاں نہیں رہتی ہیں ۔ خدا ہی کائنات بن جاتا ہے اور کائنات ہی خدا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگرچہ صوفی ازم خدا کے نام پر دوکانداریوں پر ضرب کاری ثابت ہوتا ہے اور مذہبی بنیادوں پر مستقیم اور فرقوں میں بٹی ہوئی انسانیت کو یکجا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مگر وہ خود بھی ایک نئ دوکان کی بنیاد رکھ دیتا ۔ اگرچہ صوفی کا مذہب بظاہر ایک ہی ہوتا ہے ۔ مگر وہ اس کا پوری طرح الگ نہیں ہوتا ہے اور جب وہ اس کے بظاہر خلاف بغاوت کرتا ہے ۔ مگر اس کے جواز کے اس کے لیے ظاہر و باطن اور تاویل پیش بات کرتا ہے ۔

اگرچہ صوفی کے نذدیک خالق و مخلوق جب دو الگ الگ وجود نہیں رہتے ہیں ۔ مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پوجا کس کی اور پجاری کون ؟ خدا لامحدود ہوا تو ساری انسانیت ایک ہوگئی ۔ جب اپنے اندر خدا پالیا تو نام و نمود ، بڑائی ، خود غرضی مال و حشم سب ہیچ اور ثانوی چیزیں بن گئیں ۔ چنانچہ صوفی نے خود کو تمام جبلی اور غیر جبلی مفادات سے مبرا کرلیا ۔ جب کے اس مقابلے میں روایتی پیشوایت نام نہاد جاہ و جشم مال و متاع اور انا و تکبر میں ڈوبی ہوتی ہے اور یہ ہمیشہ حکمرانوں کے ساتھ رہتے ہیں اور مذہبی تاویلات پیش کرنا ان کا شیوہ رہا ہے ۔ صوفی کی عبادت مروجہ عبادات سے الگ ہی رہتی ہے اور وہ ظاہریت کو چھوڑ کر باطن کی بات کرتا ہے ، وہ الہام کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس کے نذدیک سب خدا کے بندے نہیں بلکہ خدا کی وجود کا حصہ ہوتے ہیں ، اس لیے سب اس کے نذدیک واجب احترام ہوتے ہیں ۔

دہریہ اور میں فرق یہ ہے صوفیت حالات سے سمجھوتہ اور راضی بہ رضا رہنے کا درس دیتی ہے جب کہ دہریت پسند لوگ کسی دعا پہ بھروسہ کیے بغیر عمل پر توجہ دیتے ہیں ۔ یہاں ان کے ذہنی رویے مختلف ہوجاتے ہیں ۔ اگرچہ دونوں ہی مذہب سے بغاوت ہے مگر یہاں ان کے راستے جدا ہو جاتے ہیں ۔اور دہریہ اپنی بقا کے لیے جدو جہد کا راستہ اپناتا ہے ۔ جب کہ صوفی توکل کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ دونوں ہی اگرچہ ترقی یافتہ مذہب میں پروان چڑھتے ہیں ۔ مگر دہریت ترقی یافتہ معاشرے میں پروان چڑھتی ہے۔ اور صوفیت پسماندہ معاشرے میں ۔

تصوف کے جو بنیادی افکار تھے ، ان کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں تھی ، ان کی تعلیمات کی بنیاد قدیم مذاہب یعنی ہندو ، بدھ ، بابلی ،عیسایت یہودیت یونانی اور مصری مذاہب تھے ۔ ان مذاہب کی تعلیم اسلام میں پیوست کرنا مشکل تھا ۔ صوفیت نے اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے شیعت سے حضرت علی اور اہل بیت کی فضیلت کا عقیدہ لیا اور ان کی طرح اہل بیت اور حضرت علیؓ فضیلت میں کثرت سے حدیثیں اور روایتں گھڑیں ۔ اس طرح تصوف نے یعنی اسمائیلوں سے ظاہر اور باطن کی اصلاح حاصل کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اس کی تعلیم آنحضرت ﷺ نے معتدد صحابہ کو دی تھی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ سے یہ تعلیمات سے حسن بصریؒ نے حاصل کی تھی ۔ حسن بصری سے کسی صحابہ کی ملاقات بھی ثابت نہیں ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اہل تصوف نے اپنی صداقت یا سچائی کے لئے اپنے الہام ، انکشافات اور تجربات کو معیار بنایا ۔

صوفیہ کی تعلیمات کا یہ اثر ہوا کہ تیسری صدی ہجری تک قران اور حدیث کو جو حجت حاصل تھی وہ بالکل ختم ہوگئی اور اس کی جگہ وضح کردہ حدیث کی روشنی میں خرافات اور روایت کو اہمیت حاصل ہوگئی اور قران بالکل پشت پر چلا گیا اور اس کی حجت ختم کردی گئی ۔ اس طرح کسی بھی روایت کو جانچنے کا طریقہ قران نہ رہا بلکہ اس کی جگہ ان وضح کردہ روایات اور حدیث ہوگئیں ۔ حضور ﷺ نے خطبہ حج الودع میں فرمایا تھا کہ میری کوئی بات قران کے خلاف دیکھو تو جان لو وہ میری بات نہیں ہوگی فراموش کردی گئی ۔

ان وضح کردہ روایت کی حقیقت کا اس طرح اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، حدیث کی پہلی کتاب ، امام مالکؓ کی موطا میں اہل بیت کی حرمت میں ایک بھی حدیث نہیں ہے ۔ اس طرح امام ابو حنفیہ نے صرف سترہ احادیث کو مانا ہے ۔ یہ اور بات ہے بعد کے دور میں امام مالکؓ کی موطا میں درود ابراہیمی کی روایت کو شامل کردیا گیا اور امام ابو حنیفہؓ سے منسوب ایک کا مستند منسوب کردیا گیا جس میں دنیا بھر کی خرافات شامل کی گئیں ۔ 

صوفیت کی تعلیمات کا نقصان یہ ہوا کہ دین میں عقل کا استعمال بالکل ممنوع ہو گیا اور اس کے بجائے توکل کی تعلیم دی گئی اور تقدیر کا نظریہ گھڑا گیا ۔ متعزلہ جو کہ عقل کے قائل تھے اور دوسری صدی ہجری میں ان کی تعلیمات کو مقبولیت ہوئی تھی اور اس وجہ سے علم اور انکشافات میں بہت کچھ ترقی ہوئی تھی ، ان کے خلاف سخت رد عمل ہوا اور ان کی تعلیمات ممنوع قرار پائیں اور کیوں کہ عقل کا استعمال جرم بن چکا تھا ۔

صوفیہ کی تعلیمات کے نتیجہ میں اعشریہ کی تحریک اٹھی اور اس سے مسلمانوں کی علمی تحریک کو بہت نقصان پہنچا اور مختلف فرقہ جات وجود میں آگئے ، جن کی بنیادی تعلیمات بجائے قران و سنت کے مختلف قسم کے ملحدانہ نظریات خرافات پر تھی ۔ دوسری طرف چوتھی اور پانچوی صدی ہجری میں صوفیہ کے مختلف سلسلے وجود میں آگئے اور پوری اسلامی دنیا صوفیہ ان کے زیر تسلت ہوگئی ۔ ان کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہوگیا کہ بادشاہ اور حکمران ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے اور ان کو بادشاہوں اور حکمرانوں سے بے تحاشا مراعات ملنا شروع ہوگئیں اور صوفیہ جو قناعت اور توکل کی تعلیم دیتے تھے نہایت عیش و آسائش کی زندگی بسر کرنے لگے ۔ اب وہ نہ صرف دینوی بلکہ دنیاوی حکمران بن گئے ۔ 

جب کسی صوفی کی شہرت اس کی زندگی میں ہوجاتی ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کو الوہی درجہ مل جاتا ہے ۔ ان کے مزاروں اور ان کے سجادہ نشینوں کا جو احترام ہوتا ہے ، وہ الوہیت کے درجہ سے کسی طرح بھی کم نہیں ہوتا ہے ۔ اس کے مزار پر لوگ عقیدت سے حاضر ہوتے ہیں ۔ جو ان کے مزار پر حاضر نہیں ہوسکتا ہے تو بھی غائبانہ منتیں مانگتے ہیں ۔ ان سے ہر قسم کے دنیاوی کام و اولاد کی التجا کی جاتی ہے ۔ بلکہ یہ بھی توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ صاحب مزار روز قیامت ان کی مغفرت کروا کر انہیں جنت میں اعلیٰ مقام بھی دلوائیں گے ۔ اس طرح اس مقدس ہستی کا مزار کسی بھی طرح مقدس مذہبی مقام سے کم نہیں ہوتا ہے ، وہاں جانا بڑا کار ثواب سمجھا جاتا ہے ۔ وہاں پر جو بیش قیمت نذرانے آتے ہیں وہ بھی سجادہ نشین کی زنبیل میں جاتے ہیں ۔ اس طرح صوفی کے جانشین جو پیر کہلاتے ہیں ان کو بھی الوہی درجہ حاصل ہو تا ہے ، ان کی رضامندی بھی دین و دنیا دونوں کے لئے ضروری سمجھی جاتی جو کہ عموماً مدفون صوفی کی اولاد یا قریبی عزیز ہوتا ہے ۔ اسے بھی وہی روایتی پیشوایت اور نام نہاد جاہ و جشم مال و متاع سب حاصل ہوجاتی ہے ، جس کے خلاف صوفی نے تمام زندگی جہد کی ، جب کہ اس کی شخصیت انا و تکبر میں ڈوبی ہوتی ہے اور ان کی شخصیت اس جاہ وجشم والی ہوتی ہے ، کیوں کہ حکمران بھی ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان پیروں اور سجادہ نشینوں کی زندگی اس قدر شاہانہ ہوتی ہے کہ شاہوں کو ان جیسی آسائش میسر نہیں ہوتی ہے ۔ ان کے عقیدت مند ان کے آگے پلکیں بچھاتے ہیں اور ان کے آگے بیش قیمت نذرانے پیش کرتے ہیں ۔ غرض ہے وہ نہایت پر آسائش زندگی گزارتے ہیں ، ان کے غریب عقیدت مند جو اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو نذرانہ پیش کرتے ہیں ، کہ پیر صاحب کی رضامندی حاصل کریں ، وہ بیچارے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس طرح صوفیت شکست کھا جاتی ہے اور پیشوایت کو عروج حاصل ہوجاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں