33

دین زرتشت کی ترقی و توسیع

زرتشت اپنے دین کی تبلیغ اوستا کے یشت سے کرتے تھے اور گشتاسپ کے ایمان لانے سے پہلے مٹھی بھر آدمی ہی ایمان لائے تھے ۔ یہ زیادہ تر زرتشت کے رشتہ دار تھے ۔ اس میں زرتشت کی پیاری بیٹی پوروشتا جس کی شادی جاماسپ سے ہوئی تھی ۔ گاتھا میں خاص کر اس کا ذکر آیا ہے کہ اس لڑکی کو عصمت و عفت اور ماں باپ کی محبت اور شوہر کی اطاعت کی ایک مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے ۔ میدیو مانو زرتشت کا چچازاد بھائی ۔ فرشو ستر گشتاسپ کا وزیر جس نے اپنی بیٹی کی ہودئے کی شادی زرتشت سے کردی تھی اور فرشوستر کا بھائی جاماسپ جو گشتاسپ کا اہم وزیر تھا اور دوسرے لوگوں کے نام بھی گاتھا میں آئے ہیں مگر یہ زیادہ اہم ہیں ۔

دین کرت میں ہے کہ ارجاسپ کی پہلی جنگ سے فارغ ہوکر گشتاسپ نے پہلے تمام حکام اور قلعہ داروں کو اپنے مذہب کی دعوت پیش کی اور چند سال کے عرصہ میں یہ دین نے حیرت انگریز ترقی کی ۔ حتیٰ گشتاسپ کی زندگی میں اور زرتشت کی موت کے دس برس کے اندر یہ مذہب ساتوں ولایت میں پھیل گیا اور غیر ممالک سے لوگ جوق در جوق آتے تھے اور زرتشتی مذہب کو قبول کرتے جاتے تھے ۔ ان میں دو شخصوں اسپتی اور ایرزراسپ کے نام اوستا میں محفوظ ہیں ۔  

گشتاسپ کے قبول مذہب کے زرتشتی مذہب کیا تو درباریوں اور عوام میں بھی تیزی سے پھیلنے لگا ۔ گاتھا کے مطابق خسرو خسروان اور بانوے بانوان کے ایمان لانے کا یہ اثر ہوا کہ ارکین سلطنت نے بھی زرتشتی اختیار کرلیا تھا ۔ ایمان لانے والوں میں گشتاسپ کا بیٹا اسفندیار اور اس کا بھائی زریر ۔ زریر کا بیٹا فرشوستر اور وزیر سلطنت جاماسپ قابل ذکر ہیں ۔ بقول ابن الاثیر کے گشتاسپ نے زبردستی لوگوں کو اس مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا اور قبول نہ کرنے پر بہت سے لوگوں قتل کر ڈالا تھا ۔ یہ بات غلط نہیں معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن بادشاہ کے بھائی زریر اور اسفندیار کا ذکر گاتھا میں نہیں آیا ہے لیکن پہلوی کتابیں ان کی تعریفوں بھری ہوئی ہیں ۔ اسفند یار زرتشتی مذہب کو پھیلانے میں بڑا پرجوش تھا اور اس نے تلوار کے زور پر لوگوں کو زرتشتی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا ۔ شکند گمانیک دجار کے مطابق اسفندیار ، زریر ، فرشوستر اور جاماسپ اور دیگر اراکین سلطنت ان میں سے ہر شخص نامور ، مہذب اور رہنما نسل سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہرمزد اور فرشتگان مقرب کی مرضی اور دنیا کے مذہب کماحقہ کو معلوم کیا اور اسی مذہب کو اختیار کیا ۔ اسفندیار ، زریر اور دوسرے لوگوں نے سخت مقابلوں کے بعد اور بھی بہت سے اراکین سلطنت کا خون اہنے سر لے کر روم و ہند میں زرتشتی مذہب کو پھیلایا ۔

لہراسپ کو بھی زرتشتی بتایا جاتا ہے لیکن اوستا اس کے متعلق خاموش ہے ۔ البتہ فردوسی نے شاہنامہ شہ پیر گشتہ سے ذکر کیا ہے ۔ یعنی جو بیٹے کو تخت و تاج دے کر گوشہ نشین ہوچکا تھا ۔ دبستان مذہب کے مطاق لہراسپ اور زریر گشتاسپ کا بھائی ایسا بیمار ہوگئے تھے کہ طبیبوں نے جواب دے دیا تھا اور یہ زرتشت کے علاج سے تندرست ہوگئے تو زرتشت پر ایمان لے آئے ۔ یہاں علاج دعا کے ساتھ دوا بھی ہوسکتا ہے ۔ ویسے زرتشت کو طبیب ارواح کا خطاب بھی ملا ہے ۔  

اوستا کے مطابق زرتشتی مذہب ایران کے علاوہ توران میں بھی پھیل گیا اور ایک تورانی اسونت پسر دراز کا دین کرت میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ روز قیامت میں عدل کی کرسی صدارت پر بیٹھے گا ۔ یہ شخص فریانہ کی نسل سے تھا اور گاتھا میں اس نسل کو نیکی کی نسل کہا گیا ہے ۔ وخشور (پیغمبر) یزدان نے کہا تھا کہ جب نیکیاں ان لوگوں کی طرف آئیں گیں جو خود کو فریانہ تورانی کی اولاد کہتے ہیں اور زمین دار ہیں اور جب کہ بہمن بھی ان میں آ شامل ہوا تو اہورا مزد ان کی آسایش (حفاظت) کا اعلان کر دیتا ہے ۔

یہ شخص جس نے انسانوں میں زرتشت اسپنتمان کو مانا مستحق تعریفات ہے ۔ ہرمزد نے اس کو زندگی دی اور بہمن نے اس کی معاش کا فکر کیا اور ہم اس کو نیکی کے لحاظ سے اچھا رفیق سمجھتے ہیں ۔ اس مبارک تورانی خاندان میں ایک شخص بواستویو فریا کی اوستا میں بہت تعریف کی گئی ہے جس نے ایک جادوگر اختبا کو قتل کیا تھا ۔

فردوسی نے شاہنامہ میں لکھا ہے کہ اسفندیار کی تلوار نے دور دور تک زرتشتی مذہب کو پھیلایا تھا اور اس نے خود مختلف مقامات پر موبدوں کو بھی بھیجا تھا ۔ روم و ایشیا اور کوچک میں اس نے اپنی آنکھ سے اس مذہب کو پھیلتا ہوا دیکھا ۔ شکند گمانیک دجار جو نویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے اس میں لکھا ہے کہ دین زرتشتیی کو پھیلانے کی کوشش میں زریر ، اسفندیار اور گشتاسپ کے دوسرے بیٹوں نے اس کوششوں میں روم اور ہندوستان میں مذہب پھیلانے کے لیے خون خرابہ کیا تھا ۔

ٍ کہا جاتا ہے کہ جب پارسی نقل مکانی کرکے ہندوستان میں آئے تو انہوں نے یہاں بہت سے اپنے ہم مذہبوں کو یہاں پایا جو یہاں کے قدیم زرتشتیوں کی باقیات تھے ۔
تاہم قدیم زمانے سے زرتشتیوں کی ہندوستان میں مختلف وجوہ کی بنا پر ہندوستان نقل مکانی کرتے رہے ہیں اور ان کی نقل مکانی کے بارے میں بہت سی شہادتیں ملیں ہیں اور ہم اس بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئے زرتشتیوں کو اگر یہاں زرتشتیوں کو پایا تو یہ وہ قدیم زرتشتی تھے جو ان سے پہلے یہاں آباد ہوئے تھے ۔ یہاں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہاں زرتشتی مذہب کو پھیلانے کی کوشش کی گئی ۔ البتہ یہاں سورج کی پوجا کو متعارف کرانے اور بہت سے سورج اور آگ کے مندر انہوں نے خاص کر گجرات کے ساحلی علاقوں میں بنوائے تھے ۔ ان میں پارتھی پیش پیش تھے اور انہوں نے مغربی اور شمالی ہندوستان پر دو سو سال حکومت کی تھی ۔
ہندوستان کے جس شخص کو بڑے زور سے پیش کیا جاتا ہے وہ ایک برہمن سنگرنکاچہ ہے جو کہ دخشور یزدان (زرتشت) سے مناظرہ کرنے آیا تھا اور خود بھی زرتشت کا قائل ہوکر زرتشتی مذہب قبول کرلیا تھا ۔ یہ داستان سنگرچہ نامہ میں بیان کی گئی ۔ ایک یورپین انکوٹل ڈی پیرن کی تحقیق ہے کہ یہ کتاب تیرویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے ۔ دبستان مذہب میں بھی مختصر اس قصہ کو بیان کیا ہے ۔ بعض لوگوں کا گمان ہے یہ شنکر اچاریہ تھا ۔ مگر شنکر اچاریہ کا زمانہ بہت بعد کا یعنی دسویں صدی عیسویں کا ہے اور یہ الحاقی قصہ معلوم ہوتا ہے ۔ دساتیر میں بیاس کے بارے میں بھی درج ہے کہ یہ زرتشت سے مناظرے کے لیے ہندوستان سے آئے تھے اور انہوں نے زرتشت سے کہا کہ سنگرچہ جیسا فاضل و عالم تمہارا معتقد ہوگیا ۔ لیکن تم میرے دل میں چھپی باتیں بتادو تو میں بھی تمہارا مذہب قبول کرلوں گا ۔ چنانچہ زرتشت نے انہیں اوستا کا ایک نسک پڑھنے کے لیے دیا ۔ جسے پڑھ کر بیاس جی نے زرتشت کا دین قبول کرکے وطن واپس چلے گئے ۔
کہا جاتا ہے کہ یونان میں اس دین کی اشاعت ایک شخص توتیانوش کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ پہلوی کتاب شکندگمانیک دجار اور شاہنامہ کے مطابق زرتشتی مذہب روم و ایران میں پھیل گیا تھا ۔ حمزہ اصفہانی بھی یونانیوں میں زرتشتی مذہب کا یونان میں پھیلنے کا ذکر کرتا ہے ۔ جس کی شاہنامہ تائید کرتا ہے ۔ دین کرت کے مطابق اوستا کا ترجمہ یونانی زبان میں بھی کیا گیا تھا اور یہ روایت درج کی گئی ہے کہ زرتشت بابل گئے اور وہاں سے کفر کو دور کیا تھا اور وہاں کے لوگوں کو جادوگروں کے سحر سے نجات دلائی ۔ ضحاک نے جادوگروں کے ذریعے وہاں بہت سے فریب کیے ۔ جس سے کے دھوکے میں بہت سے لوگ بت پرست ہوگئے تھے ۔ جو زرتشت نے ہرمزد کو جادوگروں کی مخالفت میں کی اور ان کے اثر کو ختم کیا ۔ کہا جاتا ہے زرتشت گشتاسپ کے ہمرا استخر بھی گئے تھے ۔
زرتشت بھی اپنے مذہب کی شاندار کامیابی دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے تھے ۔ یہ دنیا کی رسم ہے کہ بڑے کام شروع کرنے والے اپنے لگائے ہوئے درخت کا پھل نہ کھائیں اور اس رسم کی پابندی دخشور یزدان کو بھی کرنی پڑی ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں