84

دین زرتشت

زرتشت
زرتشت کے سال پیدائش و حالات میں سخت اختلاف ہے ۔ کسی نے چھ ہزار سال ، کسی نے دوہزار سال مسیح بتایا ہے ۔ زمانہ حال کے علماء کی تحقیق کے مطابق ۶۶۰ ق م میں ہوئی تھی ۔ اس طرح زرتشت کی جائے پیدائش میں بھی اختلاف ہے ۔ اکثر روایات میں باخترکو مولد بتایا ہے ۔ طبری اور ابن کثیر نے فلسطین بتایا ہے ۔ مگر دوسرے مسلم مورخین اور جدید محققین اردمیہ آذربئیجان کو جائے پیدائش بتاتے ہیں ۔ 
زرتشت کے والد کا نام پورشسپ یا پوروشاسپ Pourushaspa بتایا گیا ہے ۔ زرتشت نے تین شادیاں کیں اور اولاد میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں بتائی جاتی ہیں ۔ 
زرتشت کے حالات زندگی تحقیقاً نہیں معلوم ہیں ۔ عام روایات میں بیس سال کی عمر میں گوشہ نشین ہوگئے اور عبادت میں مشغول رہے اور تیس سال کی عمر میں نبوت ملی پھر اپنے دین کی تبلغ میں کوشاں رہے ۔ مختلف آبادیوں کی طرف گئے مگر ہر طرف ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایک شخص بھی زرتشت پر ایمان نہیں لایا ۔ آخر نبوت کے بارویں سال باختر کے حکمران وشتاسب یا گشتاسب نے زرتشتی مذہب قبول کرلیا اور اس کے ساتھ اس کے وزیر جاماسپ Zamsp اور اس کے بھائی فراششترنے رسالت کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد زرتشتی دین تیزی سے ایران و توران میں پھیل گیا ۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ سنتالیس سال تک تبلیغ کرتے رہے اور اس سلسلے میں آپ کو جنگیں بھی لڑنی پڑھیں ۔ ایک جنگ میں توران کے بادشاہ ارجاسب Arejaspa نے باختر پر حملہ کرکے ایرانیوں کو شکست دے کر آتشکدہ میں داخل ہوکر زرتشت اور اس کے متعقدین کو قتل کردیا ۔ قتل کے وقت زرتشت کی عمر ستتر سال بتائی جاتی ہے ۔ 
اوستا Avesta
اوستا جو دین زرتشتی کے مطابق زرتشت پر نازل ہوئی تھی ۔ اسے ایستاغ Aystaghe ، ایستاق Aystaka یا الپتاک Alapataka بھی کہتے ہیں ۔ دوسری قدیم کتب کی طرح یہ بھی زمانے کی دستبرو سے بچ نہیں سکی ۔ اس لئے یہ بتانا مشکل ہے کہ اس میں کتنی تخریبیں اور کتنا اضافہ و حذف ہوا ہے ۔ بہر کیف آج جو بھی زرتشت کی تعلیمات ہیں وہ اسی اوستاسے ماخوذ ہیں اور اسی کے ذریعہ زرتشتی مذہب کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے ۔ اوستاکا ایک مختصر ساحصہ گاتھاGatha  کہلاتا ہے اور اس کی زبان دوسرے حصوں سے مختلف ہے ۔ شاید اس کی زبان وہی ہے جو زرتشت کی تھی ۔ بقیہ کی زبان اوستا ہے ۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ اوستا کا اصل نسخہ ہخامنشی خاندان کے زمانے میں برباد ہوگیا تھا ۔ پھر تقریباً چارسو سال کے بعد اشکانی بادشاہ بلاش اول کے دور میں اس کی تدوین ثانی کی کوشش کی گئی ۔ مگر تکمیل ساسانی بادشاہ ارد شیر اربکان کے زمانے میں ہوئی ۔ غالباً گاتھا کے علاوہ بقیہ حصہ کی تصنیف محض حافظہ پر اعتماد کیا گیا ۔ 
زرتشتی روایات کے مطابق قدیم اوستا ایک ہزار باب اور اکیس نسکوں Nasks or Naski (صیحفوں) پر مشتمل تھی ۔ تدوین ثانی کے وقت اس کے کل ۳۴۸ ابواب دستیاب ہوئے ان کو اکیس صیحفوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جدید محقیقین کا کہنا ہے یہ دوسرا نسخہ بھی باقی نہ رہا ۔ ساسانی نسخہ میں کل تین لاکھ کلمات تھے مگر موجودہ اوستا میں کل چوراسی ہزار کلمات ہیں ۔ اس طرح دوسرے نسخہ کا بھی چوتھاْئی حصہ باقی بچا ہے ۔ اس موجودہ اوستا کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ (1) یسن Yasna (2) ویسپیرد یا ویسپرت Vaspred (3) وندیداد Vendidad (4) یشت Yasht ۔ یہ مناجاتوں یا مذہبی ترانوں اور دوسرے خرافاتوں مثلاً زمین و کائنات کی تخلیق ، جمشید کی داستان ، ارواح خبیث بچنے کے طریقہ ، کفارہ ، توبہ اور تزکیہ نفس پر مشتمل ہے ۔
اوستا خردAvesta Karda or Avesta Little  
مذکورہ چار حصوں کے علاوہ ایک مختصر سا حصہ بطور ضمیہ بھی اوستا میں شامل ہے ۔ جس کو اوستا خرد کہتے ہیں ۔ اس کو آذربد مہرا سپند Adharapadh Mahraspand نے جو ایک موید مویدان تھا شاپور کے عہد میں مدون کیا تھا ۔ اس کے موضوعات مذکورہ بالا کی طرح ہیں ۔ 
ژند و پاژند Zand & Pazend
اوستاکے بعد دو اور کتابیں ہیں ۔ جو ژند اور پاژند کے ناموں سے مشہور ہیں ۔ ژند حقیقتاً اوستا کی پہلوی تفسیریں ہیں ۔ مگر اصل کتاب کے ساتھ اس حد تک خلط ملط ہوگئیں ہیں کہ عام طور پر اس کو اوستا کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور لوگ اوستا کو ژند اوستا کہنے لگے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ژند کی تصنیف اشکانی بادشاہ بلاش کے عہد میںہوئی تھی اور اس کو اصل کتاب میں شامل کردیا گیا ۔ یعنی اوستائی عبارت کے ساتھ اس کی تفسیر و ترجمہ بھی درج کردیئے گئے ۔ مگر اشکانی عہد کی تفسیر باقی نہیں رہی ہے ۔ موجودہ ژند ساسانی عہد کی تدوین ہے ۔ پاژند یا پانیتی ازنیتیPazend or Paiti Zanti  ژندکی تفسیر ہے اس کی زبان پہلوی کہتے ہیں ۔ مگر حقیقتاً پہلوی اور فارسی کے درمیان کی زبان ہے ۔
تعلیمات زرتشتی دین کو مزدیسز بھی کہتے ہیں ۔ یہ اوستائی کلمہ ہے اور دوالفاظ مزدہ یعنی دانا اور یسنا یعنی حمد وستائش کے ہیں اور یہ کلمہ اوستا میں بار بار آیا ہے ۔ زرتشت کا فلسفہ شر ہے مگر حقیقتاً یہ فلسفہ اضداد ہے ۔ یہ بہت دقیق ہے زرتشت نے اہورا مزدہ کی صفات کے بعد یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اہورا کی ایجابی صفات اس کی سلبی صفات سے متصادم ہیں ۔ واضع الفاظ میں اس کی نورانیت تاریکی سے ، حقانیت کذب سے ، ملکیت عجر سے ، قدوسیت نجات سے ، سا لمیت شگتگی سے اور ابدیت عارفیت کے مدمقابل ہیں ۔ یہ کشمکش ایک ہی ذات کی ایجابی اور سلبی سفات کے اندر جاری ہے ۔ زرتشت نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ کشمکش بلا ارادہ یا اہورا کے ارادے کے مطابق ہے ۔ شاید کے نزدیک یہ تصادم بلا ارادہ ہے اور اسی کے اندر کائنات کے وجود انسان کی حیات و ممات اور خیر و شر کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔ انسان کی دو متعضات کفیت و حالات کے اندر رکھ کر اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اہورا کی حفاظت کی طرف قدم بڑھائے ۔ 
زرتشت کے مطابق کائنات کا ایک خدا ہے ، جس کا ذاتی نام اہورا ہے ۔ چونکہ یہ بری عظمت والا ہے اس لئے اسے اہورا مزدہ یعنی خدائے متعان یا دانا سرور کہنا چاہیے ۔ ارواح مجرد اور فرشتگان اس کی مخلوق ہیں ۔ وہ قادر و علیم ہے ۔ وہ خیر کا چشمہ ہے ۔ وہ تقوایٰ اور پاکیزگی راستی اور سخاوت کا منشا اور معدد ہے ۔ اہورا کی ہر صفت کے ساتھ یزدان وابستہ ہیں ۔ یہ اہورا کی مخصوص صفت جس سے یزدان وابستہ ہیں پھیلاتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں تاریکی دور کر تے ہیں ۔ جبکہ یزدان کے مد مقابل ہرمن کے ساتھی ہیں جو دیوا کہلاتے ہیں ۔ 
زرتشتی تعلیمات کے دو پہلو ایجابی اور سلبی بتائے گئے ہیں ۔ نیز یزدان (ملائکہ) کے مقابلے میں دیوا (ارواح خبیثہ) کا ذکر کیا گیاہے ۔ مگر زرتشت کے متعین ایک ہی ذات واحد پر ایمان نہیں رکھتے ہیں بلکہ ثنویت یعنی دو خداؤں کے قائل تھے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق اہورا ہرمن دو ازلی ہستیاں ہیں ۔ ایک خیر کا منشاد اور مصدر ہے اور دوسرا شر کا ۔ نیز تمام اشاسہندان (صفتیں) اہورا سے علحیدہ اور مستقل ہستیاں ہیں ۔ ان کی ارواح مجر یا فرشتگان مقرب کی ہے اور یہ یزدان سے بلند مرتبے کی ہیں ۔ نیز اہورا ان کا محتاج ہے اور ان کی مدد سے وہ اہریمن اور اس کے کماریکان و دیوائے کے خلاف جنگ کرتا ہے ۔ نیز یہ جنگ بلا قصد ہے اور اس میں اہورا کے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہے ، دوسرے الفاظ میں ثوین کشمکش لازمی ہے اور اس کا سلسلہ لامتناہی ہے ۔ آخر اہورا کو اہریمن پر مکمل فتح ہو جائے گی اور وہی قیامت کا دن ہوگا ۔
زرتشت کے ماننے والے مذکوۃ ہستیوں کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں اور انہیں قابل پرستش سمجھتے ہیں ۔ پرستش کے لئے آتش پرستی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ چونکہ آتش سراسر نور ہے اور اہورا کا بیٹا اتار اور اہورا کی صفت اول کا مظہر ہے ۔ یہی وجہ ہے زرتشتیوں کو آتش پرست بھی کہتے ہیں ۔ ان کا قبلہ بھی آتش ہے اور آتش کو ہمیشہ روشن رکھنا فرض اولین میں داخل ہے ۔
زرتشتی تعلیمات میں حیات بعد الموت ، آخرت ، جہنم ، بہشت کے مطلق عقیدے بھی پائے جاتے ہیں ۔ اخلاقی تعلیمات میں زرتشت کے پندرار نیک ، گن نیک اور طہارت و پاک دامنی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ سود خوری منع اور چھوٹ و وعدہ خلافی سخت گناہ قرار دیا ہے ۔ کسب معاش پر زور دیا ہے ۔ کاشتکاری کو بہترین پیشہ قرار دیا ہے ۔ تجرد کی زندگی سے نفرت اور تاہل کی زندگی کو پسند کیا گیا ہے ۔ سخاوت و امداد سلوک کا بہترین اعمال میں شمار کیا جاتا ہے ۔
زرتشتی تعلیمات میں عناصر کو پاک رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس وجہ سے اس دین کے ماننے والے لاشوں کو دفن کرنے یا جلانے کے بجائے کسی بلند مقامات پر ڈال دیتے ہیں کہ شکاری پرندے کھا جائیں ۔
فرقے 
دوسرے ادیان کی طرح زرتشتی اوائل میں ہی فرقوں میں بٹ گئے ۔ شہرستانی نے اپنی کتاب المل و انحل میں ان کے تین فرقوں کا تذکرہ کیا ہے جو حسب ذیل ہیں ۔
(۱) زرتشیتان راسخ ۔یہ فرقہ جس نے اپنے خیال میں دین میں کسی بدت کو جاری نہیںکیا ہے بلکہ سختی کے ساتھ زرتشتی شتیعت پر قائم ہے ۔
(۲) زرؤانیان ۔اس فرقہ کا عقیدہ ہے کہ اہورا اور اہریمن سے بالا تر ایک ہستی ہے جس کا نام زروان یعنی لامتناہی ہے ۔ اس لئے وہ زروان ہی کو رب اعلیٰ مانتے ہیں ۔ 
(۳) گیومرثیان ۔ یہ فرقہ بھی توحید کا قائل ہے اور صرف اہورا کو ہی اذلی و ابدی مانتا ہے اور اہریمن کی قدامت پر یقین نہیں رکھتا ہے بلکہ اس کو اہورا کی مخلوق سمجھتا ہے ۔ 
دین زرتشت کی توسیع
زرتشتی مزہب کو ایران کی سرزمین میں خاطر خواہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ہخامنشی فرمانروا اس مذہب کے ماننے والے تھے ۔ اشکانی مذہب کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی ۔ مگر کچھ ایسے شواہد ملے ہیں کہ وہ اپنے قدیم مذہب پر اردان دوم کے عہد تک قائم تھے ۔ بلاش اول کے دور میں یہ سرکاری مذہب بنا نیز اوستاکی تدوین ہوئی اور اس کی تفسیر لکھی گئی ۔ ساسانی عہد میں باضابطہ زرتشتی کو شاہی مذہب کو تسلیم کرلیا گیا اور اس کی اشاعت و تبلیغ کی طرف توجہ دی گئی ۔ اردشیر اربکان کے عہد میں اوستا اور ژند کی تدوین ہوئی اور آتش کدہ تعمیر کیا گیا ۔ دوسرے ساسانی بادشاہوں نے بھی مختلف شہروں میں بڑے بڑے آتش کدے بنوائے اور ان کے اخراجات کے لئے جاگیریں وقف کیں ۔ ساسانی آخیر تک دین زرتشتی کو سرکاری حثیت حاصل رہی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں