56

دیوتا

اس کلمہ کا ماخذ دیو ہے جس کے لغوی معنی چمکنے کے ہیں ۔ جدید زبانوں میں ڈیوڈیوس ڈیو وغیرہ اور ڈیو‘س Dious ڈیوائن Divine وغیرہ اسی مادے سے ماخوذ ہیں ۔  ویدوں میں ابتدا میں اسور نیک ہستیوں کے لیے مخصوص تھا مگر بعد کے زمانے میں خبیث ہستیوں ، شیاطین اور بھوت پریت کے لیے مخصوص ہوگیا ۔ جو ہمیشہ ہندوؤں کے افسانوں میں دیوتاؤں سے لڑتے رہتے تھے ۔ اگرچہ رگ وید میں یہ کلمہ دونوں قسم کے دیوتاؤں کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ جن شلوکوں میں یہ کلمہ نیک دیوتاؤں کے لیے استعمال کیا گیا ہے وہ قدیم تر خیال کیے جاتے ہیں ۔ جب اسور کا کلمہ خبیث قوتوں کے لیے مستعمل ہوگیا تو نیک قوتوں کے لیے ایک دوسرا لفظ دیو تراشا گیا جو اسی مادے سے ماخوذ ہے جس سے دیاؤس ماخوذ ہے ۔ جس کو برصغیر کے آریا ابتدا میں درخشاں ہستیوں کا استعمال عام طور پر کرتے تھے ۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ دیوتاؤں کا تخیل پیدا ہوگیا ۔ اس کے برخلاف ایرانیوںنے اسور کے نام کو اصل معنوں میں برقرار رکھا اور زرتشت اور اس کے پیروؤں نے خالق کے نام میں اس کو شریک کرکے اہور مزد کردیا اور غالباً اپنے ہندی بھائیوں کے خیالات پر نفرت کا اظہار دیو کا اطلاق انہوں نے شیاطین پر کردیا ۔ جن کو وہ دائی وا کہتے تھے جو فارسی دیو ہوگیا اور اہریمن کے خدام تھے ۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ آریاؤں کی ہندی اور ایرانی شاخوں علحیدیگی کا سبب مذہبی اختلاف تھا ۔ حالانکہ آریاؤں کی دیگر شاخوں کے مقابلہ میں یہ دونوں زیادہ مدت تک ایک ساتھ رہے ۔ 
یہ کلمہ یونانی اور رومن دیوتاؤں کے معنوں سے الگ ہیں جو ویدوں میں آئے ہیں اور یہ دیو آسمان ، ستاروں ، سورج ، دن ، صبح شفق ، موسم بہار ، دریاؤں اور زمین کے لیے آیا ہے اور جب کوئی رشی انہیں پکارتا تو وہ ان کو دیو کہتا ۔ اس طرح دیو کے معنوں میں وہ تمام صفات شامل ہوگئیں جو آسمان ، آفتاب اور صبح میں پائی جاتی ہیں ۔ یعنی اس طرح دیو کے معنی چمکنے سے بدل کر آسمان ، مہربان ، طاقتور ، نہ دیکھائی دینے والا اور فانی کے ہوگئے اور یہاں یہ معنی یونانیوں کے دیوس اور روما ے ڈائی کی طرح ہوگئے ۔ اس طرح ویدوں کے قدیم مذہب میں زمین اور آسمان سے ہٹ کر ایک اور لوک (عالم) بن گیا جس میں دیو ، سروسو اور آدیتہ آباد ہیں اور یہ چمکیلے ، آسمان ، فطرت ، موسم ، دنوں کی تبدیلیوں یا طاقتوں کے نام ہیں ۔ اس میں اندھیری رات ، سیاہ بادلوں ، موسموں کی شدد وغیرہ یعنی نقصان دہ طاقتیں بھی شامل ہیں اور وہ ان مخالف طاقتوں کو مغلوب یا منانے کوشش کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ان رشیوں نے دیکھا یہ طاقتیں انہیں نفع و نقصان پہنچانے والی ہیں ۔
ویدوں میں بہت سی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو نہایت ہی بوسیدہ بھدی اور ناقابل فہم معلوم ہوتی ہیں اور ان ناموں اور لفظوں کا قدرتی نشو و نما یا ارتقاء یعنی سے قدرتی حالت سے کسی خاص شخصیت کا کسی خاص حالت سے بڑھتے بڑھتے پہونچتا عام ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس لیے ویدوں کے حقیقی تصورات و خیالات کا ترجمہ کرنا مشکل بلکہ ناممکن سمجھا جاتا ہے ۔ مثلاً ویدوں میں ابتدا میں دیوتا کے لیے دیو آیا ہے ۔ لیکن جب ہم ویدک رچاؤں میں دیو کا ترجمہ ہر جگہ دیوتا کریں تو یہ ویدک رشیوں کے خیالات کے برعکس ہوگا ۔ قدیم زمانے میں دیوتا نہ تو جاندار ہیں اور نہ ہی جسم رکھتے ہیں ۔ دیو دراصل ایک صفت ہے جو آسمان اور زمین ، سورج ، چاند ، صبح شفق اور سمندر میں پائی جاتی تھی ۔ یعنی روشن اور دیوتا کا خیال صرف چمکیلے وجودوں سے تھا ۔
اگرچہ یہ صرف نام ہی ہیں اور کوئی نام محض نام ہی نہیں ہوتا ہے ۔ ہر نام میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہوتی ہے ۔ مگر اکثر ناموں سے مطلب و مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے ۔ اس لیے ویدی دیوتا کے نام اس کو ظاہر کرتے تھے جو دیکھائی نہ دیتا ہو ۔ مثلاً لامحدود ، پرماتما ، ہر جگہ موجود اور طاقت کل جو تشریح (ادیکت) سے ہٹ کر ہے ۔ اس کے باوجود وہ قدیم فلسفیوں اور رشیوں کے دل سے ان دیکھی قوتوں کا خیال کبھی دور نہ ہوا اور وہ اس کے نئے نئے نام رکھتے رہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ 
ہر نام کے کچھ معنی رکھتا اور اکثر ان سے مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے اور ویدک دیوتا بھی اس وجود کو ظاہر کرتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے ہیں ۔ بلکہ ہم محصوص یا خیال کرتے ہیں اور وہ اس کی تشریح بھی نہیں کرسکتے تھے ۔ مثلاً لامحدود ، پرماتما ، ہر جگہ موجود اور ایشور وغیرہ اور اس لیے انہیں ہستیاں ماننے پر مجبور ہوئے اور اس کی ہستی منوانے کے لیے (کتھائیں) داستانیں لکھیں اور ان کی بنیاد داستانوں (کتھاؤں) پر رکھی گئی اور یہ سلسلہ اب جاری ہے ۔ اس لیے قدیم زمانے میں تمام مذہب کی بنیاد یہی کھتائیں تھیں اور آریاؤں میں یہ کھتائیں اس وقت بھی مروج تھیں جب کہ قدیم زمانے میں جب وہ اپنے قدیم وطن میں رہتے تھے اور وید لکھی نہیں گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے قدیم آریاؤں سے لے موجودہ دور تک کسی ایک دیوتا کی خدائی دائمی نہ رہی اور یہ وقت گزرنے کے ساتھ نئے ناموں کی صورت میں آتے رہے ہیں ۔ ویدی دیوتاؤں کا سلسلہ دیاؤس پر شروع ہوا اور اندر پر ختم ہوا ۔ اس کے بعد برہمنی دیوتاؤں کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کے عروج و ذوال کا سلسلہ جو وید سے شروع ہوا اور پرانوں میں اس کے لیے نئی نئی کتھائیں لکھی جاتی رہیں ہیں ۔
یہ دیوتا اپنے مرتبہ امور کے لحاظ سے بہت ناموں سے مشہور ہیں ۔ یاسک منی نے ویدوں کے دیوتاؤں کی تقسیم خاکی ، ہوائی اور آسمانی میں کی ۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ یہ تقسیم تمام دیوتاؤں پر عائد نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس لیے وہ لکھتا ہے کہ تمام دیوتا الگ اپنا وجود رکھتے ہیں اور جو پراتھنا ان سے کی جاتی ہیں وہ بھی مختلف ہیں اور ان میں اختلاف بھی ہے ۔ ان کے مختلف ناموں کا مقصد بھی یہی ہے کہ قدرت کی طاقتوں اور مظہروں کو الگ نام ، خصوصیت اور شخصیت دی جائے ۔ بعض رشییوں و منیوں اور فلسفیوں کا خیال ہے یہ وجود فرضی ہیں اور یہ سب ایک ہی پرماتما کے روپ ہیں جنہیں الگ الگ نام دیا گیا ہے ۔ مذہب کا یہ عجیب پہلو ہے جو ویدوں میں ملتا ہے کہ پرماتما کو مختلف روپوں الگ الگ فرائض کے ساتھ دیوتاؤں کا شریک کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کی ترتیب خیال نہیں رکھا گیا ہے کہ ان کی خصوصیات اور کار کی بدولت ان کی درجہ بندی کی جائے ۔
آریاؤں کے دیوتا بھی اصل میں انسانوں کی مرتفع شکلیں ہیں یہ آسمانی وجود میں انسان کی شکل میں ہیں یا ان میں خدائی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ان دیوتاؤں میں انسانی خصوصیات کے ساتھ ان میں فوق البشر صلاحیتیں ہیں اور وہ ازل سے موجود نہیں ، ان کے ہاتھ پیر بازو اور ٹانگیں موجود ہیں ، ان میں حواس خمسہ موجود ہیں ، کھاتے پیتے ہیں ، لذات سے بہرور ہوتے ہیں ، نذر و نیاز وصول کرتے ہیں ، ان کی بیویاں اور نوکر چاکر موجود ہیں اور وہ اسلحہ باندھتے اور زیورات پہنتے ہیں گویا حکمران طبقہ کے عظیم افراد ہیں جنہیں آسمانوں پر پہنچایا گیا ہے ۔ ان سب کی خصوصیات اور آسمانی فرائض آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان میں بعض اوقات ان میں تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ رگ وید میں ایک جگہ ہے کہ کل ۳۳ دیوتا ہیں (تین مرتبہ گیارہ) ۔ (رگ وید ۳۔۶۔۹) ایک اور جگہ ۳۳۳۹ دیوتاؤں کا ذکر ہے ۔ (رگ وید ۳۔۹۔۹) تین مرتبہ سو دیوتا اور تین مرتبہ دس پھر نو دیوتا تھے اور انہوں نے اگنی کی پوجا کی تھی ۔ دیوتاؤں کے تین جگہ یا خطہ یعنی زمین ، آسمان اور فضا کے ہیں ۔ 
 یہی وجہ ہے رگ وید میں کسی بڑے دیوتا کی صفات کو بعد میں کسی دوسرے دیوتا کے حوالے سے بیان کیں گئیں ۔ اس کے لیے میکس ملر نے توحید ناقص Henotheism کہا ہے ۔ اصل یہ دیوتا مختلف قبائل یا علاقوں یا زمانوں کے دیوتا ہوں گے ۔ جہاں جس کا زور زیادہ ہوگا اس کے پروہتوں نے اپنے دیوتا کا رتبہ بڑھا دیا ۔ پھر جب طاقت کا توازن تبدیل ہوا تو دوسرے دیوتا کو وہی رتبہ دے دیا گیا ۔ یہ متفرق قبائل کے ایک قوم میں ضم ہونے سے پہلے کا مرحلہ ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں