66

دیوسائی کی بریانی

ہم گلگت سے براہ استور چیورٹ پہنچے ۔ چیورٹ ناگا پربت کے دامن میں ایک خوبصورت سا گاؤں ہے ۔ جس کے سامنے کی طرف نگاپربت سے نکلنے والا نالہ شور مچاتا ہوا گزرتا تھا ۔ جس کا مٹیالا پانی اس قدر تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا جسے دیکھ کر ہمیں بخوبی اندازہ ہو رہا تھا اس میں ہاتھ ڈالا تو پانی ہاتھ کو پھینک دے گا اور اس کا پانی بھی برف کی طرح یخ ہوگا ۔ نالہ تقریباً دس فٹ پندرہ فٹ نیچے بہہ رہا تھا ۔ اس اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بارشیں ہوتی ہیں تو یہ وسیع و عریض راستہ پانی لب لیز ہوجاتا ہوگا اور اس کا جاہ و جلال ناگاہ پربت سے کم نہیں ہوگا ۔ کیوں کہ یہ عظیم ناگاہ پربت کے دامن سے جنم لے رہا تھا اور اس کا سرد برفیلا پانی اپنے ساتھ لا رہا ہے ۔ جب اس کی شورشدیگی یہ عالم ہے تو اس وقت کتنی تباہی مچاتا ہوگا ۔ لیکن وہاں کے باسی اس کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ یہاں صرف چار ماہ کے لیے یہاں آتے ہیں ۔ باقی آٹھ ماہ گلگت میں گزارتے ہیں ۔ کیوں کہ یہاں آٹھ ماہ تک یہ علاقہ برف کی گہری چادر سے ڈھک جاتا ہے اور یہ علاقہ اس قابل نہیں رہتا ہے کہ یہاں رہا جائے اور یہ علاقہ مکمل طور پر دوسرے علاقوں سے کٹ جاتیں ہیں ۔ جب برف پگھل جاتی ہے تو یہاں لوگ آتے ہیں ، ان میں کچھ کھیتی باڑی کرتے اور دوسرے کام کرتے ۔ اس دوران دنیا بھر سے کوہ پیماہ ناگاہ پربت کو سر کرنے اور زیادہ تر ناگاہ پربربت کو قریب سے دیکھنے کی خواہش مندوں کی وجہ سے غیر ملکیوں کا تانتا بن جاتا ہے ۔ اس لیے یہاں بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں کو ریسٹ ہاؤس میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ جو اس علاقہ کو دیکھتے ہوئے بہت غنیمت معلوم ہوتی ہیں ۔ 
نالہ ساتھ ہی ایک ہموار کی پٹی تھی جس پر گھیت لگے تھے ۔ مگر علاقہ کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین تھا اس مختصر سی زمین کو ہموار کرنے کے لیے ان کے مالکوں کو ہر سال مسلسل محنت کرنی پڑتی ہوگی ۔ کیوں کہ برف اور گلیشر پگھلتے وقت مٹی اور پھتروں کو ساتھ لیجاتے ہی اور زمین میں گہری ڈراریں اور اتھل پتھل کردیتے ہوں گے ۔ جن پر اس وقت تک دوبارہ زراعت نہیں ہوسکتی ہے کہ ان ڈراروں کو بھر کر زمین کو ہموار نہ کرلی جائے کھیتوں ساتھ کچی سڑک تھی اور اس کے بعد ایک ٹیلے کی رو دیوار کی طرح ساتھ چل رہی تھی ۔ اس طرح یہ دیوار دیکھ کر ایسا لگتا ہے یہ دیوار پربت کی حد بندی کر رہی تھی ۔ جس کے پیچھے ناگاہ پربت سر اٹھائے کھڑا دوسری چوٹیوں درمیان کھڑا تھا ۔ جس کی چوٹی بادلوں سے نکلتی ہوئی صرف اس وقت نظر آتی تھی جب بادل چھٹ گئے ہوں ۔ یہ اپنی دوسری چوٹیوں کے درمیان ایسا معلوم ہوتا تھا ۔ کوئی ذی وقار ہستی اپنے خادموں کے درمیان کھڑی ہوئی ہو ۔ کیوں کہ ننگا پربت کوئی واحد پہاڑ نہیں بلکہ پے درپے بلند ہوتی چوٹیوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ اس کی چوٹی برف کی گہری تہہ میں چھپی ہوئی ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی ننگا پربت کہلاتی ہے ۔ جو ہمیشہ برف سے ڈھکی رہتی ہے ۔ اس کی ڈھلانوں پر برف کی گہری تہہ لکیروں کی طرح نیچے اترتی ہوئی نظر آرہی تھیں ۔ اس پہاڑ کے بشتر مقامات دھندلے نظر آتے ہیں خاص طور پر جب سورج کی مخالف سمت میں ہو ۔ جب بادل چھائے ہوئے ہوں تو اوپر بادل اور نیچے گہری دھند چھائی ہوتی ہے اس لیے مشکل سے اس چوٹی نظر آتی ہے ۔
ہماری خوش قسمتی تھی کہ جب ہم چیورٹ پہنچے تو شام ہو رہی تھی اور بادلوں کے درمیان اس کی چوٹی ابھری ہوئی نظر آرہی تھی ۔ ناگاہ پربت کو دیکھ ہم سحر زدہ ہوگئے اور ہم سب نے کہا گاڑی روک لو ہم پیدل آرہے ۔ شام کا وقت تھا اور سورج ڈھل رہا تھا ۔ جس کی پیلی ڈھوپ میں ننگا پربت کی چوٹی سونے کی طرح چمک رہی تھی ۔ ہمارے آس پاس سبزہ اور اس کے پار پتھریلی چٹانیں تھیں ۔ عجیب سحرہ زدہ منظر تھا ۔ چیورٹ سے دوگھنٹے کے پیدل سفر کے بعد ناگاہ پربت کا پہلا بیس کیمپ آتا ہے ۔ جب کہ چیورٹ کے لیے استور اور وہاں سے گوری کوٹ ، پھر وہاں سے ایک کچا راستہ چیورٹ اور اس کے آگے چترنگ تک جاتا ہے ۔ 
گوری کوٹ سے چیورٹ اور اس سے ّآگ چمڑنگ تک یہ کچا راستہ زگ زیگ کی شکل بل کھاتا ہوا جاتا ہے ۔ جس کے ایک طرف ایک نالہ بہہ رہا تھا اور جس کے دوسری جانب پہاڑیاں تھیں ۔ اس علاقہ کی دلفریبی کا کیا کہنا ۔ سامنے ناگاہ پربت کی برف پوش چوٹی نظر آرہی تھی اور سبزہ بہت دلفریب لگ رہا تھا ۔ ساتھ ہی نالے کا شور مچاتا ہوا پانی بہہ رہا تھا ۔ ہماری وین کے درائیور نے اس خطرناک راستہ پر سفر کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا ۔ چیورٹ پہنچنے کے بعد وہ ہمارے گائیڈ مناف پر خوب برسا کہ یہ گاڑی اس راستہ پر آسکتی تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ راستہ ہم میدانی علاقوں کے رہنے والوں کے لیے خطرناک تھا مگر یہاں کے باسیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگئی تھی ۔ بقول حبیب کہ یہ راستہ تو ہمارے لیے ہائی وے ہے ۔ کیوں کہ اس راستہ کی بدولت یہاں گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہوگئی ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے ہمیں گوری کوٹَ تک پیدل جانا پڑتا تھا ۔ 
جب ہم چیورٹ پہنچے تو دن دھل رہا تھا اور شام ہورہی تھی ۔ دریائے استور کے کنارے بل کھاتے راستہ اور گوری کوٹ کے کچے راستہ کی وجہ سے سارا بدن ہل چکا تھا ۔ مگر چیورٹ پہنچ کر ساری کلفت دور ہوچکی تھی ۔ کیوں کہ ہر طرف خوبصورت نظارے بکھرے ہوئے تھے ۔ اگرچہ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا ، مگر روشنی اس کی پھیلی ہوئی تھی اور سامنے ناگاہ پربت سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا ، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں مکان اوپر نیچے بنے ہوئے تھے جو بڑے خوبصورت لگ رہے تھے ۔ گاؤں سے پہلے کھیت تھے جن میں سبزہ چمک رہا تھا اور کھیتوں کی منڈیر کے ساتھ خورد رو پھول کھلے ہوہے تھے ۔ آس پاس جو پہاڑ تھے ان میں بعض ننگے تھے مگر برے نہیں لگ رہے تھے ، اکثر پہاڑوں پر سبزہ اپنی بہاریں دکھلا رہا تھا ۔ چیورٹ ساڑھے سات ہزار فٹ کی بلندی پر ناگاہ بربت کے دامن میں آباد ہے اس لیے یہاں جولائی کے موسم میں بھی خاصی سردی تھی اس لیے سب نے گرم کپڑے پہن لیے ۔ 
ہم مناف کے گھر کے مہمان خانے میں اتارے گئے ۔ جس تین طرف کمرے اور بیچ میں لان تھا ۔ مغربی جانب تقریبا چار فٹ کی دیوار تھی ۔ جس کے سامنے چیوڑٹ کی واحد سڑک گزر رہی تھی ۔ کمرے زمین سے دو فٹ اونچی کرسی پر بنے ہوئے تھے اور کمروں کے آگے چار فٹ چوڑا برامدہ تھا ۔ جس کی سامنے کے حصہ میں ٹرانسپرنٹ پلاسٹک پڑا تھا کہ بارش اور برف اندر نہیں آئے ۔ ہمیں وہاں ایک مستطیل کمرہ جو ڈائینگ روم اور ڈرائنگ روم کا کام دیتا تھا لے جاکر بیٹھایا گیا ۔ اس میں چند کرسیاں پڑی تھیں ۔ البتہ کمرے میں دیوار کے ساتھ تین جانب دروازے کو چھوڑ کر پختہ چبوترا بنا تھا اور جس پر گدیاں پڑی تھیں ۔ کمرے کے بیچ میں تقریباً دو فٹ چوڑی اور پانچ فٹ چوڑی ٹیبل تھی ۔ جس پر رنگین پلاسٹک پڑا ہوا تھا ۔ سامنے کی دیوار پر ایک چھوٹی کھڑکی تھی جو باہر کی جانب کھلتی تھی ۔ کھڑکی کی سطح باہر کی زمین سے چند انچ اونچی تھی ۔ 
گاؤں میں ابھی بجلی نہیں آئی تھی لیکن ہم نے باہر ٹرانسفارمر پڑے دیکھے اور لگتا تھا جلد یہاں بجلی آجائے گی ۔ کمرے میں گیس روشنی کی ہورہی تھی ۔ جو خاصی کم تھی اس لیے کمرے میں خاصہ اندھیرا تھا ۔  
ہم تقریباً آٹھ گھنٹے کا سفر طہ کرکے گلگت سے آرہے تھے ۔ اس لیے سب کو بھوک اور اس زیادہ چائے کی شدید طلب ہورہی تھی ۔ ہم وہاں بیٹھے تو باہر کھڑکی پر بچوں کا جمگھتا لگ گیا اور بچوں کی تعداد کو دیکھ کر لگتا تھا گاؤں کے سارے بچے جمع ہوگئے ہیں اور چھوٹی سی کھڑکی میں اندر جھانکنے کے لیے ڈھکم پیل اور شور کر رہے تھے ۔ ان بچوں کے اس طرح جھانکنے کی وجہ سے ہم خاصے الجھ رہے تھے ۔ جب مناف آیا تو نائلہ نے کہا مناف ان بچوں کو منع کرو ۔ مناف نے مسکراتے ہوئے بچوں منع کیا ۔ مگر بچے کہاں ماننے والے تھے ۔ میں مناف سے پوچھا کیا یہاں باہر سے لوگ نہیں آتے ہیں ؟
نہیں بہت لوگ آتے ہیں ۔ مناف نے جواب دیا ہے ۔ 
پھر یہ بچے ہمیں دیکھ کر جمع کیوں ہیں ؟ میں نے سوال کیا  
مناف کچھ نہیں بولا اور مسکرا کر خاموش ہوگیا ۔        
یہ تو مجھے بیگم نے بعد میں بتایا کہ بچے کیوں ہمیں دیکھنے کے لیے جمع ہوگئے تھے ۔ کیوں کہ ہم لوگ اردو بول رہے تھے اور اس علاقہ میں اردو بولنے والے پہلی دفعہ آئے تھے اور یہ بات بچوں کو حیرت زدہ کر رہی تھی ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ ان کی اردو کتنی اچھی ہے بالکل ڈراموں اور فلموں والی ۔ یہ بات میری بیگم اور اس کی بہن نے سنی ۔ باہر اندھیرا پھیل چکا تھا ۔
تھوڑی دیر میں گرما گرم پر تکلف ناشتہ لگایا گیا ۔ ہم سب اس قدر بھوکے تھے کہ اگر اسٹیشن والی چائے اور سوکھی روٹی بھی میسر آتی تو اسے بھی نہیں چھوڑتے ۔ مگر چائے کے کے ساتھ انڈے فرائی پراٹھے اور بسکٹ ، کیک اور دوسری بہت سی چیزیں ہمیں پیش کی گئیں ۔ 
ہم انچے نیچے طویل خم دار پہاڑی راستے آٹھ گھنٹے کا سفر طہ کرکے آئے تھے اس لیے سب کو بھوک لگ رہی تھی ۔ اس لیے سب نے ڈٹ کر ناشتہ سے انصاف کیا اور ہر ایک نے چائے کے کئی کپ پیئے ۔ جس سے سب فریش ہوگئے ۔
باہر اندھیرا پھیل چکا تھا ۔ کچھ تھکن ، سردی اور باہر گھپ اندھیرا تھا اس لیے کسی نے بھی باہر جانے کی ہمت نہیں کی ۔ البتہ باہر برآمدے تک سب جھانک کر آئے ۔  
چائے سے فرست پائی تو کچھ نوجوان ملنے آئے ۔ ان کے ساتھ سلام دعا ہوئی اور انہیں بھی بیٹھنے کو کہا تو وہ بیٹھ گئے ۔ دیر تک ان سے علاقہ موسم حالات پر اور دوسرے مضوعات پر باتیں ہوتی رہیں ۔ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ سب لوگ پڑھے لکھے تھے اور ان میں بشتر گریجوٹ تھے ۔ چیوٹ کے سارے باسی آپس میں رشتہ دار ہیں ۔ یہ سب اس دوران نائلہ اور بیگم مناف کی والدہ سے ملنے چلی گئیں اور کچھ دیر کے بعد ہی آگئیں ۔
ان لڑکوں سے مختلف موضعات پر جن اس علاقہ اور دیوسائی پر باتیں ہوتی رہیں ۔ کیوں کہ ہم چیورٹ دیوسائی جانے کے لیے آئے تھے ۔ پتہ چلا کہ اس راستہ پر پر صرف جیب جاسکتی ہے اور ایک جیب ہے جو ابھی گوری کوٹ گئی ہوئی ہے اور آنے والی ہے ۔ ان نوجوانوں میں جو ہم سے ملنے آئے تھے ان میں ایک حبیب جو گوری کوٹ میں پی ڈبلیو ڈی میں اکاونٹینٹ تھا ۔ وہی زیادہ تر باتیں کر رہا تھا ۔ باقی سب خاموشی سے سن رہے تھے ۔ تقریباً گیارہ بچے جیب کا ڈائیور آیا اس سے شعیب نے بات کرلی اور یہ طہ پایا کہ جیپ پانچ بجے آجائے اور ہم اعلیٰ صبح چلیں گے ۔ 
جیب کی بات ہونے کے بعد فارغ ہوئے کہ رات کا کھانا لگ گیا ۔ کھانا لگنے پر لڑکے چلے گئے ۔ رات کھانا بھی ناشتہ کی طرح خاصہ اہتمام کیا گیا ۔ بھوک اگرچہ نہیں تھی مگر سب نے کچھ نہ کچھ کھایا ۔ کھانے سے فارغ ہوئے تو رات کے بارہ بج چکے تھے ۔ لحاظہ ہمارے سونے کا بندوست کیا گیا ۔ میں اپنے بستر کا جائزہ لینے چلاگیا ۔ باہر باتوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ میں باہر نکلا تو باہر بیگم اور نائلہ مناف سے باتیں کر رہی تھیں ۔
نائلہ مناف سے کہہ رہی تھی میں دیوسائی پر بریانی پکاؤں گی ۔
مناف کچھ نہیں بولا ۔ مگر میں نے پوچھا کس طرح پکاؤ گی ۔
 اور میں اس کی تیاری کرکے آئی ہوں ، سارا سامان تیار ہے ، صرف چاول ابال کر پسانے ہیں ۔ اصل میں نائلہ نے بہت سی ڈشیں پکا کر انہیں ٹن پیک کروالیا تھا ۔
نائلہ کی بات سن کر مناف نے پوچھا آپ کے پاس چولھا ہے ؟
ہاں گیس کا چولھا ہے ۔ نائلہ نے جواب دیا ۔   
گیس کا چولھا پندرہ ہزار کی بلندی پر کیسے کام کرے گا ؟ میں نے سوال کیا ۔ کیوں کہ سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر گیس کسی کھلے برتن میں بھی انڈیل سکتے ہیں اور وہاں سگریٹ منہ سے لگا کر سلگائیں اور جب دوسرا کش لیں گے تو پتہ چلتا ہے ۔ سیگریٹ بجھ چکی ہے ۔   
اس پر نائلہ نے مناف کی طرف دیکھا اور تو مناف بولا ہاں وہاں گیس کے چولھے کے شعلے نہیں ہوں گے ۔
وہاں لکڑی مل جائے گی ؟ نائلہ نے مناف سے پوچھا 
وہاں لکڑی کہاں سے ملے گی یہیں سے لے جانی ہوگی ۔ مناف نے جواب دیا ۔
لیکن وہاں آگ جلانی آسان نہیں ہوگی کیوں کہ وہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے ۔ میں نے جواب دیا 
آگ تو کسی نہ کسی طرح جل جائے گی ۔ مناف نے جواب دیا 
مگر تمہاری بریانی کا بیڑا غرق ہوجائے گا ۔ میں مسکرا کر کہا
پھر کیا کیا جائے ؟ میری بیگم نے سوال کیا 
میں نے کہا ایسا کرو چاول یہیں ابالو ، اس طرح کہ ایک کنی کے رہے جائیں تو وہاں جا کر بریانی کو دم لگا لینا ۔ 
مناف نے میری بات کی تائید کی اس لیے نائلہ نے بھی اسی طرح بریانی پکانے کا فیصلہ کرلیا ۔
میں واپس جاکر لیٹ اور فوراً ہی نیند میں ڈوب گیا ۔ آنکھ کھلی تو ساڑھے چار بج رہے تھے ۔ باہر سے بیگم اور نائلہ کی باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی ۔ میں باہر نکلا تو دیکھا براندے میں چاول ابل رہے تھے اور وہیں بیگم اور نائلہ کھڑی باتیں کر رہیں تھیں ۔ مجھے دیکھ کر نائلہ نے مجھے دیکھ کر پوچھا معین بھائی چائے پیئں گے ؟ 
اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے اور میں یہ کہتا ہوا غسل خانے کی طرف چل دیا اور بیگم بچوں کو اٹھانے چلدی ۔ میں باتھ روم سے نکلا تو بچے اٹھ چکے تھے اور گرما گرم چائے میرا انتظار کر رہی تھی ۔ ابھی میں چائے پی رہا تھا کہ مناف ناشتہ لے کر آگیا ۔ اتنی دیر میں نائلہ چاول ابال چکی تھی اور ان تہہ دیگچے میں لگا رہی تھی ۔ پھر ہم سب نے ناشتہ کیا اور جیپ میں بیٹھ کر دیوسائی روانہ ہوئے ۔ مناف نے بتایا دیوسائی یہاں سے تقریباً چار گھنٹے فاصلہ پر ہے ۔ 
شمالی علاقہ ، کشمیر اور کاغان وغیر میں جب کسی مقامی باشندے سے فاصلہ پوچھو تو وہ میلوں یا کلومیٹر کے بجائے گھنٹوں یا دنوں میں فاصلہ بتاتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے وہاں بستیاں پہاڑوں کے درمیان واقع ہیں جہاں پیدل ہی جایا جاسکتا ہے ۔ بہت کم علاقہ ایسے ہیں جہاں کسی طرح کا کچا یا پکا راستہ ہے ۔ یہ پیدل جاتے ہیں اور اس لیے وقت کو فاصلہ کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔  
ہمارے بیٹھتے ہی جیب کے پیچھے کچھ افراد لٹک گئے ۔ ان میں حبیب بھی شامل تھا ۔ انہیں دیکھ کر میں سمجھا کہ یہ گوری کوٹ آفس یا اپنے کام کاج کے لیے جارہے ہوں گے ۔ جیب ڈرائیور بہت مشاق ڈرائیور تھا اور وہ کچے اور بل کھاتے کیچر آلودہ راستہ پر نہایت چابکدستی سے جیپ ڈورا رہا تھا اور ہم تقریباً آدھے گھنٹے میں پکی سڑک پر پہنچ گئے ۔ ہماری جیب دیوسائی کی طرف جانے کے بجائے گوری کوٹ کا رخ کیا ۔ جو کہ غالباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا ۔ میں نے توجہ نہیں دی میرا خیال تھا کہ یہ لٹکے ہوئے لوگ گوری کوٹ اپنے کام کاج پر جارہے ہوں گے ۔ 
ساتھ ہی وہی نالہ بہہ رہا تھا اور یہ نالہ دریائے استور میں اپنا پانی ڈالتا ہے ۔ اس نالہ کو ایک پل کو پار کرتے ہی پیٹرول پمپ تھا ۔ صبح کا وقت ، پل ، سبزہ اور پانی ۔ اس طرح خوبصورتی کے سارے لوزمات تھے ۔ پیٹرول بھرنے اور آئل چیک کرنے میں تقریباً پندرہ منٹ لگے مگر گاڑی کھڑی رہی ۔ معلوم ہوا حبیب اپنے آفس گیا ہے اور اس کا انتظار ہے ۔ اصل حبیب اپنی چھٹی کی درخواست دینے گیا تھا ۔ اس لیے ہم سب لوگ گارٰی اتر کر پل پر پہنچ گئے اور تصویریں کھنچنے لگے ۔  
کچھ دیر کے بعد حبیب آگیا ۔ میں حبیب کو کہا اندر بیٹھ جاؤ ۔ وہ اندر بیٹھ گیا اور پھر ہم دیوسائی روانہ ہوئے ۔ مگر دوسرے لڑکے اندر نہیں آئے وہ باہر ہی لٹک گئے ۔ اب مجھے اندازہ ہوا یہ سب ہمارے ساتھ دیوسائی جا رہے ہیں ۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے نظارے حسین سے حسین تر ہوتے گئے ۔ ایسا لگ رہا تھا ہم تصویر کے اندر داخل ہوگئے ہیں ۔ کچھ آگے چلنے کے بعد سڑک کے ساتھ ساتھ ایک چشمہ چل رہا تھا اور چشمہ کے دوسرے سمت کچھ آگے پہاڑ تھے ۔ جن کو سبزے نے دھانک رکھا تھا ۔ سڑک کے کنارے اور ہماری طرف درخت لگے تھے ۔ وہیں میں نے دیکھا کچھ بچیاں اسکول جارہی تھیں ۔ وہ نیلی فراکوں اور سپید شواروں میں ملبوس تھیں ۔ وہ اس ماحول میں بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں ۔ ہم جیسے جیسے بڑھتے جارہے تھے وادی کے حسن میں انتا ہی اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور وادی پھیل کر وسیع ہو رہی تھی ۔ پہاڑ بھی دور ہو رہے اور سڑک بھی بلند ہوتی جارہی تھی ۔ ۔ جگہ جگہ برف کے تودے نظر آرہے تھے ۔ سبز پہاڑوں کے دامن میں جگہ جگہ برف کے نیچے اترتے گلیشر لکیروں کی طرح نظر آرہے تھے ۔ سڑک کی بلندی میں میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ بیچ وادی میں چشمہ بہہ رہا اور سبز ہر طرف زمرد کی طرح دھک رھا تھا ۔ جس میں دور دور تک مویشی گھانس چڑتے ہوئے نظر آرہے ۔ ان مویشیوں میں یاک نہیں تھے ۔ غالباً اس علاقہ میں نہیں ہوتا ہے ۔ بھیڑ بکریاں اور زو بھی نظر آرہے تھے ۔ زو جو بھینس سے ملتا جلتا تھا ۔ ایسا لگتا ہے زو بھینس کو کہتے ہیں ۔ بلندی کی جانب بڑھنے کے ساتھ ساتھ بادل چھاگئے اور ہلکی بارش شروع ہوگئی ۔ پتلی سڑک پر جگہ جگہ پانی کی دھاڑیں گزر کر نیچے جا رہی تھیں ۔ ایک جگہ جہاں پانی کی بڑی مقدار سڑک پر خاصے چوڑے علاقہ میں پھیل کر گر وادی میں جا رہا تھا ۔ وہاں پانی کے درمیان تقریباً تین بائی تین کے چوکور جھاڑیوں سے بنے ہوئے بہت سے کمرے نما بنے ہوئے تھے ۔ یوں لگ رہا تھا کہ بیت الخلا بنے ہوئے ہیں ۔ مگر بیت الخلا پانی کے درمیان کیوں بنائے گئے ؟ ۔ مگر میری مشکل مناف نے حل کردی اور اس نے بتایا یہ ہماری آٹا پیسنے کی چکیاں ہیں ہم ان میں پانی کی مدد سے آٹا پیستے ہیں ۔ 
کچھ آگے بڑھے تو بوندا باندی شروع ہوگئی اور باہر لٹکتے لڑکے بھیگنے لگے ۔ مجھے الجھن ہونے لگی اور گاڑی میں جگہ کافی تھی لہذا میں نے مناف کو کہا ان کو اندر بیٹھالو ۔ مناف نے پہلے تو ٹالا مگر پھر انہیں اندر بلایا ۔ ہم چلم چوکی پہنچے تو بارش رک چکی تھی اور وہاں ہم نے اپنی انڑی کروائی اور روانہ ہوگئے ۔ کچھ دیر کے بعد ہم دیوسائی کے میدان میں داخل ہوگئے ۔ جہاں ہر طرف سبز گھانس لگی ہوئی تھی ۔ دور مغربی جانب کشمیر کے پہاڑ نظر آرہے ۔ جہاں سے دریائے کشن گنگا نکلتا ہے جسے پاکستان بننے کے بعد ہم نیلم کہتے ہیں ۔ یہاں سے پہاڑوں کے درمیان میں گزتا ہوا پیدل کا راستہ دیوسائی تک آتا ہے ۔ اس راستہ کو عموماً گوجر اور یہاں کے باسی استعمال کرتے ہیں ۔ اگر اس علاقہ میں سڑک بن جائے تو استور والوں کا پنڈی سے سفر دس گھنٹے کا کم ہوجائے گا اور ناران کے راسے لوگ آیا کریں گے ۔   

دیوسائی کے دوسری جانب فائر بندی لائین ہے اور دیوسائی سے سری نگر بہت ہی قریب ہے ۔ اگر کشمیر آزاد ہوتا تو پنڈی سے آنے والے سری نگر کے راستہ کو استعمال کیا کرتے ۔ مناف نے بتایا کہ میرے والد اس راستہ سے پیدل سری نگر چوبیس گھنٹے میں پہنچ جاتے تھے ۔ اگر سری نگر سے اسکردو تک سڑک بن جائے تو بدی ناتھ کے یاتریوں کا پیدل کا سفر کا بڑا حصہ بھی ختم ہوجائے گا ۔
دیوسائی کا میدان جو کہ پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ آٹھ ماہ تک برف سے ڈھکا رہتا ہے اور یہ سکردو تک پھیلا ہوا ۔ جیسے جسیے برف پگھلتی جاتی گوجر اپنی بھیڑ بکریوں چراتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور جب یہ سکردو پہنچ جاتے ہیں تو وہاں کے لوگ جان لیتے ہیں کہ اب برف پگھل چکی ہے اور اپنے جانوروں چرانے کے لیے وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔ دیوسائی میں پہلے لوگ نہیں بستے تھے ۔ مگر اب کافی لوگ رہنے لگے ہیں ۔ اگرچہ وہاں ریچھوں کا خطرہ رہتا ہے کہ کہیں ریچھ حملہ نہیں کردیں ۔ ریچھ دن میں نظر نہیں آتے ہیں ۔ لیکن لیکن جگہ جگہ ان کا فضلہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں ریچھ کی آمد ورفت رہتی ہے ۔ البتہ چوہے کی نسل کا زرد رنگ کا جانور مارموٹ جگہ جگہ نظر آتا ہے جو اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوکر شور مچاتا رہتا ہے ۔
دیوسائی وہ مقام ہے جہاں سے ہم تین عظیم سلسلوں ہمالیہ ، قراقرام اور ہندوکش کا دلکش نظارا کرسکتے ہیں ۔ یہاں پر ان پہاڑی سلسلوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ حبیب نے کیل کی طرف بلند ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کرکے بتایا ہے کہ وہاں سے کے ٹو کی چوٹی نظر آتی ہے ۔
کچھ دیر کے سفر کے بعد ہماری جیب ایک پیالے میں داخل ہوئی جہاں ایک خوبصورت جھیل سورج کی روشنی میں چمکتی نظر آرہی تھی ۔ جھیل میں چمکتے سورج کو دیکھ کر احساس ہوا کہ بادل جھٹ چکے ہیں اور سورج نکل آیا ہے ۔ جھیل کے چاروں طرف سبز گھاس لہرارہی تھی اور آس پاس پہاڑیوں نے اس کی حد بندی کی ہوئی تھی ۔ تاہم ہماری پشت کی پہاڑی زیادہ بلند تھی اور وہاں زرد رنگ کے ماملوٹ دو ٹانگوں پر کھڑے ہمیں دیکھ کر شور مچا رہے تھے ۔ وہاں جگہ جگہ ریچھوں کا فضلہ نظر آرہا ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں ریچھ آتے رہتے ہیں اور مقامی لوگوں نے بھی بتایا کہ یہاں رات کے وقت ریچھ آتے ہیں ۔
یہ جھیل جس کا نام راما بتایا گیا ۔ یہ جھیل زیادہ بڑی نہیں تھی اور یہ نصف کلو میٹر لمبی ہوگی اور اس کی چوڑائی اس سے کم تھی ۔ یہ گول پیالہ کی طرح تھی ۔ اس کے پس منظر میں پہاڑ اور سبزہ تھا جو اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھی ۔ جھیل کے پاس ہماری جیب رکی تو سب اتر گئے اور ہم لوگ خاص کر بچے بے خود ہوکر جھیل کے کنارے کی طرف گئے ۔ مگر جھیل میں ارد گرد کی زمین سے پانی نکل کر جھیل میں جا رہا تھا اس کی وجہ سے جھیل کے ارد گرد کی زمین میں کیچڑ اور دلدل ہوگئی تھی ۔ جس کی وجہ سے جھیل کے پانیوں میں پہنچنا دشوار تھا ۔ لہذا جھیل کے پانی میں اپنے پیروں بھگونے کا فیصلہ ملتوی کر دیا اور وہیں تصویریں کھنچنے لگے ۔
اس جھیل کر پاس سڑک کے بجائے کچا ٹریک تھا ۔ میرا خیال ہے یہاں اگر روڈ بنائی جائے تو صرف ایک موسم کے لیے کار آمد ہوگی اور برف جب پگھلے گتی تو اسے بہا کر لے جاتی ہے اور رہی سہی کسر گزرتی گاڑیاں اس کو نست و نابود کردیں گیں ۔ کیوں کہ پانی ڈامر کو سخت کر دیتا ہے اور جب گاڑیاں گزرتی ہیں تو ڈامڑ ان وزن برداشت کرتا ہے ٹوٹ جاتا ہے ۔ یہ علاقہ بے آباد نہیں ہے ۔ یہاں سے مختلف اقسام کی گاڑیاں اور مقامی لوگ پیدل مسلسل گزر رہے تھے ۔ ان گزرنے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ لہذا اس سے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا دیوسائی کے علاقہ میں لوگ کسی نہ کسی صورت میں آباد ہیں ۔
دیوسائی میں جس چیز نے مجھے حیرت زدہ کیا وہ وہاں اگنے والے کچھ پھولوں کے پودوں نے ۔ ان میں ایک پودے پر گہرے جامنی رنگ پھول کا پودا تھا ۔ دوسرا ہلکا جامنی رنگ کے پھول کا پودا اور تیسرا پہلے رنگ کے پھول کا پودا تھا ۔ یہ چھوٹے پھولوں کے پودے تھے اور تقریباً سدا بہار کے پھول کے برابر پھول تھے ۔ یہ جنگلی پھول میرے لیے اجنبی نہیں تھے اور میں انہیں پچپن سے دیکھ رہا ہوں اور اسے سندھ کے خشک اور پھٹریلی زمین پر اگتے دیکھتا رہا ہوں ۔ اس لیے میں ہمیشہ انہیں صحرائی پھول سمجھتا تھا جو کہ تپتی ڈھوپ میں جہاں درجہ حرارت پچاس سینٹی گرید پر پہنچ جاتا ہے زندہ رہتا ہے ۔ مگر پندرہ ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر جہاں آٹھ ماہ تک برف رہتی ہے ۔ وہاں انہیں دیکھ کر شدر رہے گیا کہ کتنا سخت جان پودے ہیں جو نقطہ انجماد سے زیادہ اور تپتے صحرا میں پر زندہ رہتے ہیں ۔ واقعی یہ مجھے حیرت زدہ کرنے والی بات تھی ۔
خوش گپیوں اور تصویروں میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزرا ہوگا ۔ اس وقت تک بریانی کو دم لگانے کا نہیں سوچا تھا ۔ کیوں ابھی کسی کو بھوک نہیں لگ رہی ۔ کیوں ہم ناشتہ کرچکے تھے لہذا لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ جب کہ ہماری ساتھ آئے ہوئے مقامی لڑکے ایک جانب بیٹھے آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے اور آتے جاتے مقامی باشندوں سے سلام دعا بھی کر رہے تھے ۔ ا
پہاڑوں پر چلنے کا اصول ہے وہاں ایک ایک قدم جماکر قدم رکھے جاتے ہیں ۔ کیوں کہ وہاں آکسیجن کم ہوتی ہیے اس لیے بھاگنے کی صورت دل کو زیادہ آکسیجن نہیں ملتی ہے اور حالت خراب ہوجاتی ہے ۔ نائلہ کی بڑی بیٹی اور چھوٹی بیٹے نے بھی یہی حرکت کی اور بھاگنا شروع کیا ۔ مگر چند قدم بھاگنے سے ان کی حالت خراب ہوگئی ۔ ان کی حالت ان کے ماں باپ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ وہاں بیابان اور ویرانے میں آکسیجن کا سلنڈر کہاں ملتا ۔ البتہ مناف نے کہا ہمیں معلوم ہوتا تو آکسیجن کی گولیاں لے آتے ۔ خدا معلوم وہ کن گولیوں کو آکسیجن کی گولیاں کہہ رہے تھے ۔ تام ان بچوں کو آرام کرنے کے لیے کہا گیا اور کچھ دیر میں حالت کچھ بہتر ہوئی تو وہ دونوں خوفزدہ تھے اس لیے ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس طرح ہم دو گھنٹے بجے کے بعد روانہ ہوگئے ۔
اس طرح دیوسائی پر بریانی کھانے کا خواب پورا نہیں ہوسکا ۔ چیوڑٹ پہنچتے پہنچے مغرب ہورہی تھی ۔ لہذا واپس مہمان خانے میں آئے اور مغرب کی بعد بریانی کھانے کو ملی ۔
تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں