105

دیو

ویدوں میں تین قسم کے مذہبی مسلک ہیں جو تین دائروں کی طرح ہیں ۔ ان دائروں کو بنانے والے کوی (شاعر) ، رشی اور منی ہیں ۔ یہاں آپ ان تینوں کھنچی ہوئی تصویروں کو دیکھیں تو سخت قاعدوں ، ناقابل فہم رسومات یا قصے کہانیوں ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ انسانی ارتقاء کی عمدہ تعبیریں ہیں کہ کس طرح انسان تمام تر وحشیانہ پن سے نکل کر بتدریح سنجیدگی اور انسانیت کی مکمل معراج تک پہنچنا ہے ۔ تمام مذہبی کتب سے زیادہ یہ خصوصیت ویدوں میں پائی جاتی ہے ۔ ویدوں اور ویدک رسومات میں بہت سی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو نہایت ہی بوسیدہ بھدی اور ناقابل فہم معلوم ہوتی ہیں ۔ لیکن کئی حالات میں ناموں اور شبدوں کا نشو و نما قدرتی حالت سے اعلیٰ قدرتی حالت تک ان کا پہونچنا اور خاص شخصیت سے بڑھتے بڑھتے عام تک پہونچتا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اس لیے ویدوں کے خیالات کا ترجمہ کرنا مشکل بلکہ ناممکن سمجھا جاتا ہے ۔ مثلاً ویدوں میں ابتدا میں دیوتا کے لیے دیو آیا ہے اور یہ لاطینی دیوس آیا ۔ لیکن جب ہم ویدک رچاؤں میں دیو کا ترجمہ ہر جگہ دیوتا کریں تو ہم ویدک رشیوں کے خیالات کے برعکس ہوگا ۔ 
اگرچہ یہ صرف نام ہی ہیں اور کوئی نام محض نام ہی نہیں ہوتا ہے ۔ ہر نام میں کچھ نہ کچھ اصلیت ضرور ہوتی ہے ۔ مگر اکثر ناموں سے پورا مطلب و مفہوم ادا نہیں ہوتا تھا ۔ اس لیے ویدک دیوتا کے نام اس وجود کو ظاہر کرتے تھے جو دیکھائی دینے والی اشیا کی پشت پر دیکھائی نہ دیتا ہو ۔ مثلاً لامحدود ، پرماتما ، ہر جگہ موجود اور طاقت کل جو ادیکت (تشریح) سے ہٹ کر ہے ۔ اس کے باوجود وہ قدیمی بدہیمانوں اور رشیوں کے دل سے ان دیکھی قوتوں کا خیال کبھی دور نہ ہوا اور وہ اس کے نئے نئے نام رکھے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہی جب تک دنیا قائم ہے ۔ 
آریاؤں کے دیوتا بھی اصل میں انسانوں کی مرتفع شکلیں ہیں یہ آسمانی جود میں جو انسان کی شکل میں ہیں یا انسان ہیں جن میں خدائی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ دیوتا کے کے لیے دیو کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ رگ وید کے دیوتاؤں میں ساری انسانی خصوصیات موجود ہیں اور اس کے ساتھ ان میں فوق البشر صلاحیتیں ہیں ۔ وہ ازل سے موجود نہیں ، ان کے ہاتھ پیر بازو اور ٹانگیں موجود ہیں ۔ ان میں حواس شمسہ موجود ہیں ۔ کھاتے پیتے ہیں ، لذات سے بہرور ہوتے ہیں ، نذر و نیاز وصول کرتے ہیں ۔ ان کی بیویاں اور نوکر چاکر موجود ہیں ۔ وہ اسلحہ باندھتے اور زیورات پہنتے ہیں ۔ گویا حکمران طبقہ کے عظیم افراد ہیں ۔ جنہیں آسمانوں پر پہنچایا گیا ہے ۔ ان سب کی خصوصیات اور آسمانی فرائض آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان میں بعض اوقات ان میں تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ رگ وید میں ایک جگہ ہے کہ کل ۳۳ دیوتا ہیں (تین گیارہ) ۔ (رگ وید ۳۔۶۔۹) ایک اور جگہ ۳۳۳۹ دیوتاؤں کا ذکر ہے ۔ (رگ وید ۳۔۹۔۹) تین مرتبہ سو دیوتا ، تین مرتبہ دس پھر نو دیوتا تھے ۔ جنہوں نے اگنی کی پوجا کی تھی ۔ دیوتاؤں کے فرائض کے تین خطہ ہیں ۔ آسمان کے دیوتا الگ ، فضا کے الگ اور زمین کے یا پانی کے الگ ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں