87

ذرخیز مٹی کا پھیلاؤ

دریائے سندھ کے سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے پشتوں کو تعمیر کیے گئے ۔ اس سے دریا اپنے سیلابی پانی کو وسیع پیمانے پر پھیلانے سے محروم ہو گیا ہے ۔ پھر بھی نکلنے والی نہریں جتنا دریائی پانی کھنچتی ہیں اس کی وجہ سے کسی حد تک دریا کام کرتی ہیں ۔ یعنی سیلابی مٹی کو پھیلا کر زمینی کی ذرخیزی اور اس کی سطح اونچی کرتی ہی ۔ یہ نہریں اپنی گنجائش سے زیادہ پانی کی متحمل نہیں ہوسکتی ہیں ۔ جب کہ صورت یہ ہے کہ عام حالات میں جتنی زیادہ سے زیادہ اوسط مقدار پانی کی سکھر بیراج پر موجود ہوتی ہے ۔ سیلاب کے زمانے میں دگنی ہوجاتی ہے ۔ ایسے حالات میں پانی کی زیادہ مقدار کا دباؤ بہرحال اثر دکھائے گا ۔ 1942ء میں سکھر کے اوپر بند میں دونوں طرف شگاف پڑگئے اور سیلاب نے آس پاس کے علاقوں کو گھیر کر وہی قدیم ڈرامہ پیش کیا ۔ سکھر اور شکار پور کے شمال میں پانی کا ایک سمندر داخل ہوگیا اور تین چار میل چوڑے علاقے پر مغرب کی طرف پیش قدمی کرتا رہا ۔ اس کے بعد جنوب کی طرف مڑ گیا اور اس طرح 180 میل کا سفر طے کرکے منجھر جھیل میں داخل ہوگیا ۔ سکھر کے بیگاری بند کی تعمیر سے پہلے یہ سیلاب کا مخصوص علاقہ تھا ۔ یہ سیلابی پانی راستہ کا نصف حصہ سارو ڈھنڈ سے آگے وادی کا نشیبی راستہ اختیار کرتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے سندھ کے پانیوں میں پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والی مٹی ملتی ہے ۔ مزید شمال کی طرف قدیم زمانے میں جو سیلاب دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے شروع ہوتے تھے وہ بھی قریب قریب ایسا راستہ اختیار کرتے تھے ۔ یہ کشمور سے تھوڑا نیچے کی طرف شروع ہوتے تھے ۔ یہ عام طور پر ضلع کی سرحد کے مغرب میں بہتے تھے اور تقریباً اسی جگہ سے جہاں دریائی اور پہاڑی مٹی کا میل ہوتا ہے یہ سیلاب گزرتے تھے ۔ موہل کے نذدیک سیلاب اپنا راستہ قدرے تبدیل کرلیتا تھا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اسی راستے سے باگودیرو اور دوستالی کے درمیان جاملتا تھا ۔ وہ نشیب جو سیلاب کا آخری نصف کہلاتا تھا کچھ عرصہ پہلے نشیب سندھ کے نام سے مشہور تھا ۔ شمالی مغربی سندھ کے یہ دونوں سیلاب شمال اور مغرب میں واقع بہاڑیوں سے بہہ کر آنے والے پانی کے ریلے کی وجہ سے اور بھی وسعت اختیار کرلیتے تھے ۔ شدید باریشیں بھی سندھ میں پانی کے کثیر ترین اخراج میں شامل ہوجاتی تھیں ۔ 
1942ء کے انتہائی طغیانی نے روہڑی کے اوپر قاسم پور کے بائیں پشتے میں شگاف ڈال دیا تھا اور نارا وادی کے بالائی حصہ کے تمام علاقے میں سیلاب کا پانی پھیل گیا تھا ۔ پہلے وقتوں میں یہ علاقہ بھی کثرت آب کے زمانے میں کنارے سے بہنے والے پانی سے بھر جاتا تھا ۔ تمام روہڑی ڈویژن جو دریائے سندھ اور ریگستان کے درمیان واقع ہیں ۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ماضی میں مسلسل سیلاب کی زرد میں رہا ہے ۔ ماضی میں یہ حقیقت علاقہ کی طبعی شکل سے آج بھی بخوبی عیاں ہے ۔ ماضی کے ان سیلابی حادثات میں سب سے اہم اور سب سے دیرپا وہ سیلاب تھا جو دریائے سندھ کو بھاولپور میں غوث پور کے مقام پر ایک ایسے نشیب میں منتقل کردیا جس میں ایک سو بیس میل تک پانی بہتا رہا ۔
آج دریا سندھ کی وادی میں ذرخیر اور بنجر زمینوں میں جو اب تناسب ہمیں نظر آتا وہ ہزاروں سال میں بہت بدل چکا ہے ۔ْ پہلے سر سبز و زراعتی زمینیں بہت کم تھی اور بنجر زمینیں اور ریگستان زیادہ پھیلے ہوئے تھے ۔ کیوں کہ زراعت کے لیے پانی چاہیے اور پانی بارش دریا کے سیلاب پر منحصر ہوتا ۔ بارشیں سندھ میں کم ہوتی تھیں اور سیلاب دریائی علاقوں اور اس کی شاخوں کی نشیبی میں گزر چکا ہوتا تو زراعت کی جاتی تھی ۔ اگرچہ دریا سندھ ایک بڑے درخت کی طرح اپنے شاخیں ہر طرف پھیلائے ہوئے تھا اور وہ اپنی شاخوں کے ذریعے زمینوں کو سیراب کرتا تھا ۔ مگر پھر بھی بہت جگہیوں دریائی پانی کی پہنچ سے دور تھیں ۔ سیلابی علاقے میں دریائے سندھ کے پشتوں کی وجہ سے اس سے ملحقہ جنگلات میں زیر زمین کی سطح خاصی اونچی رہیتی تھی ۔ جہاں سیلابی پانی جمع رہتا تھا وہاں کنڈی وغیرہ کے پودوں کی زیادتی اور اونچائی سے سیلاب کے دورانیے اور مدت کی معلومات ہوجاتی تھیں ۔ جن علاقوں سے سیلابی پانی سیلاب گزرتا تھا وہاں سبزہ کی زیادتی اور فاصلے پر بتدریخ کم ہوتی جاتی تھی ۔ اس سے بھی سیلاب کے بارے معلومات ہوتی تھیں کہ اس کی وسعت اور دورانہ کتنا تھا ۔ کیوں کہ جو مقامات دریا سے دور ہیں وہاں بتدیخ دریا سے دور ہوتے ہوئے سبزہ اور درختوں میں کمی ہوتی جاتی ہے ۔ دریا کے قریبی علاقوں میں سبزہ کو پورا سال پانی ملتا رہتا ہے ۔ مگر جیسے جیسے دریا سے فاصلہ بڑھتا جاتا ہے پانی کا دورانیہ بھی کم ہوتا جاتا ہے ۔ قدیم زمانے میں جہاں سے کبھی سیلابی پانی پہنچتا تھا اگر ہم ان گزرگاہوں کا مشاہدہ کریں تو ایہ ایک ایسا نشیبی علاقہ معلوم ہوگا جس کی مٹی میں کنڈی اور بیر کی جھاٹیاں جو کہ کم پانی میں زندہ رہ سکتی ہیں اور خشکی کا طویل زمانہ برداشت کرسکتی ہیں نظر آئیں گیں اور نشیب اس بات کی علامت ہے کہ پیاسے ریگستان کی وسعتوں کے درمیان اس مقام تک کبھی کبھی پانی پہنچتا رہتا ہے ۔ 
یہ سمجھنا کہ سیلاب کے موسم میں کناروں سے بہنے والا پانی ایک وسیع چادر کی شکل میں سے گزرتا ہے غلط ہے ۔ اکثڑ و بشتر یہ پانی معروف سیلابی شاخوں میں سے گزرتا ہے ۔ جو اپنا آبی راستہ کاٹ لیتی ہیں اور زمانہ گزرنے کے ساتھ جب ان کی تہہ بلند ہوجاتی ہے تو کثرت آپ ان کناروں سے باہر نکل کر مزید چھوٹی چھوٹی شاخوں میں پھیل جاتا ہے ۔ یہاں صدیوں پرانی آبی گزرگاہیں ہیں جو آبپاشی کے لیے خاص طور پر کلہوڑا ، تالپور اور برطانوی عہد میں استعمال ہوئیں آج بھی پہچانی جاسکتی ہیں ۔ گھاڑ اور غربی نار ایسی ہی نہروں میں شمار ہوتی ہیں ۔ حفاظتی پشتوں کی عدم موجودگی نیز ان کے بل کھاتے ہوئے راستے آج بھی ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ قدرتی آبی گزرگاہیں تھیں ۔ ان آبی گزرگاہوں کی قدامت کا اندازہ اس ہوتا ہے کہ ان کے راستے ملحقہ وادیوں ، بلندیوں اور نشیبوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ یقیناً ماضی بعید میں ہوگا اور ان کی وجہ صرف یہ ہے کہ دریائے سندھ کی طرح ان آبی گزرگاہوں نے بھی اپنے اطراف نئی زمینوں کی تخلیق کی ہے ۔ ان کے برعکس دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر واقع موسمی نہروں جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی زمانے میں دریائے سندھ کی سیلابی شاخیں رہی ہوں گیں ۔ علاقے کے سب سے نشیبی علاقے میں اپنے بہاؤ کا راستہ کئے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ عمر کے لحاظ سے نئی ہیں ۔ 
پشتوں کے باہر کی زمین کو دریائے سندھ کا پانی اب نہروں کے توسط سے مل رہا ہے ۔ ایک مقام پر دریا کا پانی ممکن ہے دو سو میل کا نہری فاسلہ طہ کرنے کے بعد پہنچتا ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ مقام دریاے صرف دو سو گز کے فاصلے پر واقع ہو ۔ بیراج والے علاقے میں نہریں ان بلند مقام پر کھودی گئیں جو سندھ کے قدیم بہاؤ کی نشانیاں ہیں اور اس طرح درمیان کی تمام نہری پانی کی رسائی میں آجاتی ہے ۔ اس طرح نہروں کا بتدریح ڈھال بھی اتنا ہے کہ جس کی وجہ سے پانی میں دریائی مٹی کی مقدار اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ کھیتووں میں پہنچ کر اسے وہاں پھیلا نہیں دیتا ہے ۔ اس طرح مصنوعی آبپاشی میدانی علاقہ کے لیے باقیدیگی اور مکمل طور پر وہ کام سر انجام دے رہی ہے جو بے قید سیلابی بہاؤ کسی کی مرضی کے بغیر اپنی مرضی سے جب چاہتا انجام دیتا تھا اور جیسے جیسے زمانہ گزر رہا ہے دریائے سندھ کے بہاؤ کے قدیم راستے اور شاخوں کے نشانات معدوم ہوتے جارہے ہیں ۔ اس قدیم راستوں اور شاخوں میں لوگوں نے قبضہ کرکے زراعت کرنی شروع کردی ہے ۔ علاقے کے لوگوں کو عام طور پر یہ قدیم راستے گزر گاہیں اب بھی خوب معلوم ہیں ۔ کیوں کہ زمین کی سطح میں ایک یا دو فٹ بلند ہوجائے تو کاشتکاروں کے لیے یہ کوئی معمولی ہے اہمیت کی بات نہیں ہے ۔ 
دریا کے کناروں پر جنگل کی جو پٹی پھیلی ہوئی ہے اس میں کہیں کہیں مٹیالے رنگ کے ریت کے نصف تودے نصف درائرے کی شکل میں کئی مربع میل کے علاقے میں پھیلے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یہ علامت ہے کہ پانی کا سیلابی ریلا اس مقام سے حال میں بہہ نکلا ہے ۔ ممکن ہے یہ بہاؤ صرف مختصر وقت تک ہی قائم رہا ہو ۔ اسی طرح بہت سی دریائی شاخوں کے راستے بدلتے ہیں تو کثیر مقدار میں ایسی مٹی کی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں جس میں قوت نمو نہیں ہوتی ہے ۔ تضاد منظر دیکھیے بڑے بڑے نشیبی قطعات انہیں شاخوں سے ملحق ملتے ہیں ۔ جن میں سرکندوں کی جھاڑیاں جگہ جگہ اگی ہوگی نظر آئیں گیں اور ذیلی شاخوں کے بہاؤ سے راستہ کے جو مقامات گہرے ہوگئے ہیں وہ پانی سے بھرے ہونے کی وجہ چھوٹی چھوٹی جھیلیں معلوم ہوں گیں ۔ گو یہ تمام خشک پڑی ہوگی اور ان جھیلوں کے کنارے گھنی نباتات گھنی شر و شاداب نظر آئیں گے ۔ ایسی بے شمار جھیلیں (ڈھنڈیں) چھوٹی بھی بڑی بھی بمعہ ایسے نشبوں کے جس سے سیلابی ریلوں کا پانی جمع ہو کر سال کے بیشتر حصے میں باقی رہتا ہے ۔ ماضی میں سندھ کے طبعی منظر کا نقشہ یہ تھا اور ان سب جھیلوں میں منچھر جھیل کو قدیم زمانے سے ایک ممتاز مقام حاصل رہا ہے ۔ اس جھیل میں دریائے سندھ کا سیلابی پانی اور اور مغربی پہاڑی علاقے کا پانی جمع ہوتا ہے ۔ غربی نارا قدیم زمانے سے سندھ کے سیلابی پانی کی مستقل گررگاہ تھی ۔ دریا کا پانی ڈیڑھ سو میل کا چکر کاٹ کر اس جھیل میں پہنچتا تھا ۔ گو خط مستقیم پر یہ فاصلہ صرف اسی میل ہے ۔ جھیل کا زائد پانی نہر اڑل کے ذریعے نکل کر پھر دریائے سندھ میں جاگرتا تھا ۔ لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہوتا تھا جب دریا میں طغیانی کم ہوکر معمول کی مطابق اس کی سطح نیچی ہوجائے ۔ اس طرح یہ دریا ایک عجوبہ ہے جو کبھی کبھی اپنے بہاؤ کے خلاف الٹا بہنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
اس میں آمد و رفت کے لیے کئی قدیمی راستوں کے علاوہ تجارتی شاہراہیں منچھر جھیل کے نواح سے شروع ہوتی ہیں ۔ ایک مغربی سمت ناری اور انگئی ندیوں کی وادیوں کی طرف جاتی ہے اور کھیر تھر کے بڑے دروں میں سے گزرتی ہوئی پٹھانی واٹ پر دوسرے راستوں سے مل جاتی ہے جو جھالوان کی طرف جاتے ہیں ۔ 
دوسرے راستوں میں لکی پہاڑ کے نوائی علاقہ سے جنوبی سمت جارہی ہے جو باران ندی کی وادی سے گزر کر کئی شاخوں میں مستقیم ہوکر جنوبی پہاڑی علاقوں میں چلی جاتیں ۔ یہ تجارتی سامان کی گزر گاہیں تھیں ۔ کیوں کہ اس علاقہ میں کوئی تجارتی منڈی نہیں ہے ۔
یہ راستے ہزاروں سال سے آنے والے قبائل کی دست اندازیوں کو بھی برداشت کرتے رہے ہیں اور مقامی قبائل کی باہمی لڑائیوں کو بھی ۔ جس کے نشانات بہت سے مقامات پر اب بھی موجود ہیں ۔ لیکن سندھ کے کوہستانی علاقہ میں سندھ کی تاریخ کا کوئی اہم واقع ظہور پریز نہیں ہوا اس علاقہ کی معیشت کا صدیوں سے ڈھنگ ایسا ہی رہا ہے اور بہت کم اس بدلاؤ آیا ہے ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں