99

ذکری

اکثری مکران میں رہتے ہیں ، لیکن وہ جھالان اور لس بیلہ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں بھی آباد ہیں ۔ براہوئی ذکریوں کو وائی ، واہ بمعنی پیغام سے ماخوذ ہے ۔ ذکری قران کو داعی کہتے ہیں ۔ یہ قابل ذکر ہے کہ داعی ، سگتائی اور ساکی سب قدیم سیٹھی قبائل تھے اور یہ بموجب دلچسپی ہے کہ براہوئی قبیلہ ساجدی کے بہت سے طائفے داعی یا ذکری ہیں ۔ یہ نکتہ مزید تحقیق کا طالب ہے کہ گو ذکری خود کو مسلمان کہتے ہیں ۔ تاہم ان کے عقائد توہمات اور کافرانہ خیالات سے مملو ہے ۔ صرف قران ذکریوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان قدر مشترک ہے ۔ عملی طور پر ذکریوں اور مسلمانوں میں بہت فرق ہے اور ذکریوں کے عقائد اسلام کے اہم اصولوں پر نظریات سراسر مختلف ہیں ۔ 
تاریخ
ذکریوں کا نام ذکر سے ماخوذ ہے جو دوران عبادت کرتے ہیں ۔ ان کے مخالفین اور معتصب مبصرین نے ان کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے ۔ تاہم یہ فرقہ خود کو ہندی ماخذ بتاتا ہے اور دانا پور (جون پور) کے محمد نے اس کی بنیاد رکھی تھی ۔ جسے کوئی افغان اور کوئی سید بتاتا ہے ۔ اس نے مہدیت کا دعویٰ کیا تھا ۔ اسے جون پور سے نکالا گیا ، دکن گیا وہاں کے حکمرانوں نے اس کی آؤ بھگت کی لیکن اس کی شدید مخالفت کی وجہ سے وہاں سے نکالا گیا ۔ ہو چند پیروں کے ساتھ گجرات ، صحرائے بیکانیر اور جسلمیر سے سندھ آیا ۔ یہاں ٹھٹھ سے بھی نکالا گیا تو وہ قندھار گیا ۔ جہاں شاہ بیگ ارغون اس کا مرید بنا ۔ لیکن ملا اور عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے فرح (وادی ہلمند) میں دھکیل دیا گیا ۔ جہاں وہ مرگیا ۔ مکران کے ذکریوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے غائب ہوا اور مکہ ، مدینہ ، حلب وغیرہ سے ہوکر ایران آیا اور لار (لارستان) کے راستے کیچ آیا ۔ اس نے کوہ مراد پر ڈیرہ جمالیا اور دس سال تبلیغ کے بعد پورے علاقے کو ذکری بنا کر فوت ہوا ۔ 
یوں ذکری فرقہ مہدویت کا حصہ معلوم ہوتا ہے ۔ جس نے پندرویں صدی کے اواخر میں ایک واضح شکل اختیار کرلی تھی اور اس تحریک کا آخری ذکر 1628 ء میں ملتا ہے ۔ اغلباً یہ مذہب اس علاقے میں مہدی کے مریدان باصفا کے ذریعے آیا ہو ۔ بہر کیف مکران میں بلیدی حکومت کی آمد اور ذکری مذہب کا آغاز بیک وقت ہوا ۔ اس سے پہلے اس سے پہلے مکران میں اس کی موجودگی کی کوئی تاریخی یا روایتی شہادت موجود نہیں ہے ۔ بلیدیوں کے ساتھ اس کی آمد ہوئی ۔ شاید اس لئے پہلا بلیدی حکمران بو سعید وادی ہلمند کے علاقہ گرم سیل نذد فرح کا رہنے والا تھا اور جس کا دور بھی مہدی کا دور تھا ۔ 
بلیدیوں کے دور میں اسے خوب عروج حاصل ہوا اور یہ علاقہ بھر میں پھیل گیا ۔ بلیدیوں کو ملا مراد گچگی نے اٹھارویں صدی کے اوائل میں نکال باہر کیا ۔ اس نے کوشش کی کہ اس کو مذہب کا درجہ حاصل ہوجائے ۔ ملا مراد نے اس فرقے کو نئے خطوط پر ڈھالا ۔ ذکری کیلنڈر کا آغاز کیا ۔ زمین پیرو کاروں میں تقسیم کی اور ان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے پوری پوری کوشش کی ۔ اس نے اعلان کیا کہ کوہ مراہ ذکریوں کا کعبہ ہے اور حج کی رسومات ادا یہاں ادا کی جائیں ۔ قلعہ تربت کے سامنے اس نے ایک کنواں کھدایا اور اس کو اس نے چاہ زم زم کا نام دیا ۔ اس کا شمار ذکری اولیا میں ہوتا ہے ۔ لیکن ایسے اسلام آزار مذہب کے پھیلاؤ نے بالآخر میر نصیر خان اول والی قلات کو متوجہ کیا ۔ خان قلات نے ذکریوں کے خلاف مکران میں خوب کشت و خون کیا اور ملک دینار بن ملا مراد کو اذیت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارہ ۔ 
عقائد 
ذکریوں کے اہم عقائد مندرجہ ذیل ہیں ۔ 
(1) دستور محمدی ختم ہوچکا ہے اور مہدی نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔ 
(2) آنحصور ﷺ کا مقصد قران کریم کے لفظی معافی کی تبلیغ تھی ، لیکن مہدی کے سپرد اس کی تاویل تھی اور وہ صاحب تاویل ہے ۔ 
(3) نماز مترک ہے اور اس کی جگہ ذکر نافذ ہوا ہے ۔ 
(4) روزہ رکھنا فرض نہیں ہے ۔ 
(5) کلمہ شہادت لا الہٰ الا اللہ محمد مہدی رسول اللہ نافذ ہونا چاہیے ۔ 
(6) زکوۃ کے بجائے 1/10 عشر دینا چاہیے ۔ 
(7) اس دنیا اور اس کی چیزوں سے گریز کرنا چاہیے ۔ 
قابل اہم یہ ہے کہ ان کے اکثر عقائد باطنیوں سے اخذ کئے گئے ہیں اور مہدیوں سے مختلف ہیں ۔   
عمل 
ان کی عبادات عمل کہلاتی ہیں ، یہ ذکر اور کشتی مشتمل ہیں ۔ ان ہاں نماز کی جگہ ذکر لے لی اور یہ روزانہ مقرر وقفوں پر ہوتا ہے اور کشتی مخصوص تواریخ پر ہوتی ہیں 
ذکر 
ذکر دو طرح کے ہیں یعنی ذکر جلی جو ذکر جو زبان سے کیا جائے اور ذکر خفی جو صرف دل میں کیا جائے ۔ ذکر بہت سے ہیں اور ہر ذکر دس بارہ سطور کا ہے ۔ ذکر چھ دفعہ روزانہ مندرجہ ذیل طریقہ پر ہونا چاہیے ۔ 
(1) لا الہٰ الا اللہ کا ذکر ۔ ذکر خفی جو ہر ایک صبح کاذب سے پہلے گھر پر تیرہ دفعہ دہرائے ۔ یاد رہے ہر ذکر اسی کلمہ سے شروع ہوتا ہے ۔ 
(2) گورہام یا صبح سویرے کا ذکر ۔ سبحان اللہ جو ذکر جلی ہے اور سجدہ پر ختم ہوتا ہے ۔ سجدے کے بعد ذکر خفی لا الہٰ حسبی اللہ اور جل اللہ جل اللہ دہرائے جاتے تھے اور طلوع پر ایک اور سجدہ کیا جاتا ہے ۔ 
(3) نمروجء ذکر ۔ یعنی دوپہر کا ذکر ایک دفعہ ذکر جلی اس میں سبحان اللہ دہرائے جاتے ہیں ۔ کوئی سجدہ نہیں ہے ، صرف سبحان اللہ کلمہ سے ہی مخصوص ہے ۔ 
(4) روچ زرہ ء ذکر ۔ یعنی قبل غروب آفتاب کا ذکر خفی جو کلمہ سبحان اللہ پر ختم ہوتا ہے ، غروب آفتاب کے بعد سجدہ ۔ 
(5) سر شب ء ذکر یعنی آغاز شب کا ذکر ایک ذکر جلی قریباً قریباً دس بجے رات جس میں تمام ذکر دہرائے جاتے ہیں ، سوائے سبحان اللہ کے ۔ 
(6) نیم ہنگام ء ذکر ۔ یعنی ذکر نیم شبی ، ایک ذکر خفی جسے افراد دہراتے ہیں ، اس ذکر کے لئے لا الہٰ ایک ہزار دفعہ ہونا چاہیے اور ہر سو کے بعد ایک سجدہ ۔
کشتی
کشتی جمعہ کی کسی رات کو ہوسکتی ہے ۔ جو مہینہ کی چودویں تاریخ کو آئے اور ماہ ذی الحج کی پہلی دس راتوں میں بھی اور عید الاضحیٰ کے اگلے دن بھی ۔ بڑی کشتی ذی الحج کی نویں رات کو ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ پیدائش ، خطنہ اور شادی کے مواقع پر اور قسمیں اتارنے کے لیے بھی منائی جاتی ہے ۔ کشتی منانے والے عام لوگ ناچ کی طرح دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ڈھول وغیرہ استعمال نہیں ہوتے ہیں لیکن ایک یا زیادہ عورتیں دائرے کے وسط میں کھڑی ہوجاتی ہیں اور مہدی کی تعریف میں منظوم تعریفیں گاتی ہیں ۔ جب کہ آدمی گھومتے ہیں اور کورس کو دہراتے ہیں ، گانے والی گاتی جاتی ہیں اور آدمی کورس پڑھتے جاتے ہیں ۔ جب گانے والیاں لفط ہادیا پر آتی ہیں تو آدمی پکارتے ’گل مہدیا‘ گویا سیدھے راستے کا رہنما کون ہے ؟ ‘ جواب ہوتا ہے کہ ’ہمارا پھول مہدی‘ ۔ جب سب تھک جاتے ہیں تو کشتی ختم ہوجاتی ہے ۔ دیہات اور قصبات میں عورتیں اور مرد علحیدہ علحیدہ ذکر اور کشی منعقد ہوتی ہیں ۔ لیکن پہاڑی بلوچوں کے ہاں مرد و عورتیں بلا امتیاز حصہ لیتے ہیں ۔ یہ کہنا کہ ان اجتماعات میں غیر اخلاقی بلکہ مباشرت جیے افعال رائج ہیں بے بنیاد ہیں ۔ یہ کہانیاں ان متعصب لوگوں کی تراشیدہ ہیں جو ان کشتیوں میں عورتوں کی موجودگی سے یقناً متاثر ہوتے ہیں ۔ 
ذکرانہ
ذکر کے لئے علحیدہ جگہیں مخصوص ہیں جنہیں ذکرانہ کہتے ہیں ۔ ذکرانہ کی کوئی خاص وضح نہیں ہوتی ہے ۔ یہ دیہات میں پیش کی ایک جھوپڑی ہوتی ہے ۔ اب تو پکے ذکرانہ تعمیر ہوچکے ہیں ۔ خانہ بدوشوں کی بستی میں ایک علحیدہ گدان اس مقصد کے لیے مخصوص ہوتا ہے ۔ ذکرانہ کے دروازے کا کوئی خاص رخ نہیں ہوتا ہے ۔
ذکریوں اور عام مسلمانوں کی تدفین میں فرق نماز جنازہ کا ہے ۔ ذکری نماز جنازہ نہیں پڑھاتے ہیں اس کے سوا اور کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ ذکری ملا بہت بااثر ہوتا ہے اور مذہبی پیشوایت کی حثیت سے وہ ماضی میں وہ اپنے اہل فرقہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔ موجودہ دور میں ذکریوں پر کئی پابندیاں عائد ہیں ۔ ان کی اکثر رسمیں خاموشی سے ادا ہوتی ہیں ۔ ذکری ملا اگرچہ اپنے پیرو کاروں پر پرانے رسم و رواج کو قائم رکھنے پر زور دے رہے ہیں ۔ تعویز گنڈے بھی رائج ہیں ۔ منت پوری ہونے پر خاص نذرانہ وصول کرتے ہیں ۔ ذکری ملا پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں ۔ ان کی مذہبی تصنیفاف بھی محدود ہیں ۔ وہ صرف روایات پر چل رہے ہیں جو سینہ بہ سینہ ان تک پہنچی ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ اب لوگوں میں علم بڑھ رہا ہے اور ملاؤں کا اثر کم ہو رہا اور اسلامی اصولوں کے ساتھ رابطہ ہو رہا ہے ۔ اس لیے یہ فرقہ انحاط پزیر ہے اور آثار بتا رہے ہیں یہ فرقہ جلد ہی فنا ہو جائے گا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں