36

راجاؤں کی قربانیاں

زمین کی قربانیوں کی رسوم اور مختلف اشکال کے متعلق جو آریائی ہندوستان کی ممتاز خصوصیت ہے اور جسے برہمنوں نے انتہائی ترقی دی ۔ رگ وید میں اس بارے میں معلومات کم ہیں اس اور اس کے لیے بعد کی کتابوں برہمنوں اور ستروں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ سوما کی کشید کی تفصیل رگ وید میں آئی ہے ۔ قدیم اور رزمیہ نظموں کے زمانے کی سوما کی قربانی گو اتنی مقدس نہ تھی بلکہ عملاً بالکل مختلف تھی ۔ کیوں کہ اس کے لیے اعلیٰ پیمانے پر تیاریاں ہوتیں اور ابتدائی رسوم میں کئی دن صرف ہوجاتے تھے ۔ اس رسم میں سینکڑوں پجاری شریک رہتے تھے ۔ جس میں سے ہر رسم میں اس قدر زر صرف ہوتا تھا کہ عام لوگ اسے ادا کرنے کی جرات نہ کرسکتے تھے ۔ بلکہ خاص خاص موقعوں پر بادشاہوں کی تخت نشینی یا عظیم انشان فتوحات کی خوشی میں ادا ہوتی تھی ۔ اس موقع پر گھوڑے کی قربانی (اِشُو میدھ) ادا ہوتی تھی ۔ گھوڑے کی قربانی علحیدہ ہوتی تھی ۔ اس قربانی کو وہ راجہ عموماً کرتے تھے جو اولاد کی خواہش مند ہوں ۔ یہ رسم نہایت شان و شوکت سے ادا ہوتی تھی ۔ وہ رگ وید کی سادگی کے خلاف ہے جس کے مفصل تذکرے رزمیہ نظموں میں موجود ہیں ۔ رگ وید میں اس کی معلومات مکمل ملتی ہیں اور رسوم پرستی کو جو ترقی ہوچکی تھی اس کی معلومات بھجنوں (اول ۱۶۲،۱۶۳) میں موجود ہیں ۔ جس میں قربانی کے گھوڑے کی توصیف ہے ۔ ان بھجنوں میں کہیں تو گھوڑے کو ذبح کرنے اور جلانے کا ذکر ہے اور کہیں رمز و کنائے کے ساتھ اس میں دیوتاؤں کے خواص پیدا کیے گئے ہیں ۔ جس سے شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان مقامات میں گھوڑے سے مراد ہے یا شاہ سوما سے ۔ گھوڑے اور سوما کو مشابہ یکساں قرار دینا غالباً بالقصد ہے اور اس میں وہی تخیل موجود ہے ۔ یعنی زمین کی تمام اشیا آسمانی اشیا کی نقل ہیں ۔ کیوں کہ اگنی (برق اور آفتاب کی شکل میں) اور سوما دونوں آسمانی گھوڑے ہیں اور زمین کا گھوڑا ان کی نقل یا نشانی ہے اور جب ان کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے تو گویا ان سے متحد ہوجاتا ہے ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی تین شکلیں ہیں ۔ اس کی 

جائے پیدائیش وارن کے مسکن میں ہے ، اس کا پروں والا سر جس کے نتھنوں میں سے آواز نکلتی ہے ، زور سے آسمان کے بے گر اور آسان راہوں سے گزرتا ہے ۔ اس کے جسم پر ہیں ، اس کی روح ہر چیز میں سرایت کرجاتی ہے جیسے کہ ہوا ۔
’’تیز رفتار گھوڑا مقتل کی طرح جارہا ، اس کی روح ہمہ تن دیوتاؤں کی طرف متوجہ ہے ۔ بکری اس کے آگے ہے اور گائے عقل مند والے اس کے پیچھے ہیں ۔ گھوڑا باپ اور ماں (دیاؤس اور ادیتی) کے عظیم انشان مسکن کو جارہا ہے ۔ آج وہ دیوتاؤں کے پاس جائے گا اور وہاں اس کا خیر مقدم ہوگا’’۔
قربانی کی تفصیل اور مکمل طریقے پر بھجن ۱۶۲ میں موجود ہے ۔ ’’جب وہ آراستہ کیے ہوئے گھوڑے کو لگام پکڑ کر لیجاتے ہیں ، کئی شکلوں والی (وِش وَروپَ) بکری چلاتی ہوئی اس کے آگے رہتی ہے جو پون کا حق ہے ۔ توش تار اسے اعلیٰ اعزاز کو پہنچائے گا ۔ جب حسب رواج گھوڑا تین دفعہ قربان گا کے ارد گرد پھرایا جاتا ہے ۔ بکری اس کے آگے رہتی اور پہلے ذبح کی جاتی ہے تاکہ دیوتاؤں کو گھوڑے کی قربانی کی اطلاع ہو ۔ پجاری اور اس کے مددگار لاش کو کاٹنے والے ، آگ جلانے والے ، چکی پیسنے والے اور بھجنوں کو گانے والے سب اپنے شکم اس قربانی سے بھریں گے ۔ جو عمدگی کے ساتھ ہوئی ہے ۔ ان لوگوں کی امداد میں کمی نہ ہو جو اس ستون کو بناتے ہیں ۔ جس میں بھینٹ کا جانور باندھا جاتا ہے ، جو ستون کو لاتے ہیں اور اس کے اوپر کے سرے کو بناتے ہیں جس میں بھینٹ کا جانور باندھا جاتا ہے ، جو ستون کو لاتے ہیں اور جو پکانے کے برتن جمع کرتے ہیں ۔ نرم چمڑے والا گھوڑا اب میری دعاؤں کے ساتھ دیوتاؤں کے عظیم انشان مسکن کو جارہا ہے ، دیوتاؤں کی آشیر اس کے ساتھ ہیں ۔ یہ دعوت اسے دیوتاؤں کا ہم عصر کردیتی ہے’’۔
ان قربانیوں میں بکری ہمیشہ پوشن کا مقررہ حق ہے اور تجہیر و تکفین کی رسوم میں بھی جو ایک قسم کی قربانی ہیں ۔ کیوں کو مردہ آدمی کو اگنی کی نذر چڑھایا جاتا ہے ۔ جو اس کو دیوتاؤں کے پاس لے جاتا ہے ۔ اس لیے پوشن کی رتھ میں ہمیشہ ایک بکری جتی رہتی ہے ۔ جس سے زراعت پیشہ لوگوں سے اس کا تعلق بھی ہوتا ہے ۔
اس کے بعد دعاؤں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس میں ہر ایک چیز کو جو گھوڑے سے کسی قسم کا تعلق رکھتی ہے اور اس کے جسم کے تمام اجزا کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ جائیں گے اور دیوتاؤں کے پاس بھی اس کے ساتھ رہیں گے ۔ مثلاً بال جو ستون یا کلہاڑی میں لگے رہیں ، قربانی کرنے والے پجاری کے ناخون ، چربی جو گوشت کے ٹکروں ، گھوڑے کی لگام ، کمبل ، ساز و سامان ، کھانے کی گھاس ، برتن اور رکابیاں وغیرہ جو اس کے گوشت کے پکانے اور کھانے میں استعمال میں آتی ہیں ، رسم کے دوران یہ فضول خواہش بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ اس کے جسم کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس سے اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی ۔ یعنی آگ یا دھوئیں یا اس برتن سے جس میں اس کا گوشت پکتا ہے ۔ بھجن کا ختم بھی اسی طریقہ پر ہوتا جیسا کہ اس کا آغاز ۔
’’جب تو دیوتاؤں کے پاس جائے تو جان کنی سے تجھے تکلیف نہ ہو ۔ کلہاڑی سے تیرے جسموں کو تکلیف نہ ہو ، تیرے اعضا کو کوئی جلد باز ناتجربہ کا کاٹنے والا برے طریقے سے نہ کاٹے ۔ نہ تو مرتا ہے ، نہ تجھے کوئی تکلیف ہوتی ہے بلکہ تو آسان راستوں کے پاس چلاجاتا ہے ۔ (اندر کے) دونوں ہارت اور ابلق ہرن (ماروت) اس کے رفیق ہوں گے’’۔ برگین کا خیال ہے کہ تین جسموں سے مراد ہے کہ اگنی اور سوما کی تین شکلوں کا جن سے قربانی کا مشابہ ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں